جسٹن ٹروڈو اور ناکام پاکستانی سفارت کار ۔۔۔۔۔۔ مدثر سلیم میاں

0
  • 17
    Shares

جسٹن ٹروڈو آٹھ دن کے دورہ پر انڈیا موجود ہیں۔ جب کہ ابھی تک ان کی انڈیا کے وزیراعظم سے ملاقات نہیں ہوئی جو کہ ساتویں دن جمعہ کو طے ہے۔ جسٹن ٹروڈو کا دورہ تاج محل مقبرہ جہانگیر اور اکشر دھام مندر و غیرہ اورہماری سفارت کاری؟ پاکستان حکومت کے لیے مفت مشورہ ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کا نام بدل کر ناکام ٹورسٹ ڈیپارٹمنٹ رکھ دے۔

نرندر مودی اپنی مصروفیات کی وجہ سے پانچ دن سے جسٹن ٹروڈو، کو نہیں مل سکے یاپھر اور وجہ بہرحال یہ بات پوری طرح عیاں ہوگئی کہ انڈین سفارت کاری اور سفارت کار اپنی روزی روٹی حلال کرتے ہیں۔ بہ نسبت ہمارے ناکام ٹورسٹ ڈیپارٹمنٹ کے۔

ہمارے نزدیک تو سرکاری دورہ بہت سنجیدہ بزنس ہوتا ہے اور اس کا پروگرام کافی سوچ سمجھ کر طے کیا جاتا ہے۔ کیا جسٹن ٹر وڈ و بہت زیادہ فری ہیں؟ حلانکہ وہ کونسا پاکستان کے خاقان عباسی ہیں۔ جو عدالتی فاصلوں کے فوری بعد جاتی امرا پہنچ جاتے ہیں۔

پاکستانی وزات خار جہ کے بابوئوں کے ذاتی فوائد حاصل کرنے کے لیے کئیے جانے والے کارنامے جہاں قابل تشویش ہیں وہی پر ان کی نالائقی اور نا اہلی کا بھی کوئی ثانی نہیں۔ سفارت کار کی اہلیہ نے این جی او بنائی اور اسلام آباد میں موجود تمام سفارت خانوں سے چندہ وصول کیا۔ جو کہ کسی ریکارڈ، رسید اورکھاتے کے بغیر تھا۔ سفارت کاری کی بجائے اگر ایسے لوگ کمیشن مافیا بن جائیں تو زیادہ بہتر ہو۔ کیا امید کی جا سکتی ہے ایسے لوگوں سے اور یہ صاحب بد قسمتی سے آج کل واشنگٹن میں پاکستانی سفیر پائے جاتے ہیں۔ اور ان کی سفارت کاری کی اہلیت ٹرمپ کے بیانات سے عیاں ہیں۔

ہم یہ نہیں کہتے کے ساری زمہ داری سفارت کار کی ہوتی ہے۔ لیکن ساری زمہ داری حکومت کی بھی نہیں ہوتی۔ اگر انڈین لابی کو انڈین سفارت خانہ پرموٹ کر سکتا ہے۔ تو پاکستانی سفارت خانوں کو بھی ذاتی فوائد حاصل کرنے کے علاوہ کبھی کبھارملک و قوم کے لئے بھی سوچ لینا چاہیے۔

مہنگی سفارتی ٹریننگ یا کورس کروانے کی بجائے بہت بہتر ہے تمام سفارت کار بابوئوں کو اس وقت پاکستان میں متعین جرمن سفیر کے پاس ٹیوشن رکھوائی جائے، جو کبھی ملتان کے دورے پر ہوتے ہیں تو کبھی بہاولپور کے، کبھی علماء کرام سے ملاقات کر رہے ہیں تو کبھی کیلاش میلہ میں پائے جاتے ہیں۔ آرمی چیک پوسٹوںکے علاوہ وہ قبائیلی جرگہ میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں ان کے اور ان کی اہلیہ کے ذہن میں یہ کیوں نہیں آتاکہ وہ بھی این جی اوزبنا لیں۔ اور متفرق قسم کی کرپشن کی داستان رقم کرے یا شاید ان کی کبھی بھی ملاقات نہیں ہوئی ہو گی اس سفارت کار سے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: