جناب خورشید ندیم کے جواب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدالمجید گوندل

0
  • 12
    Shares

جناب خورشید ندیم نے لکھا ہے:

“سرمایہ داری ایک مکمل نظام ہے، جس نظام نے یورپ میں عسائی اخلاقیات کو پیوند خاک کردیا، کالم نگار ان کو اسلامی اخلاقیات سمجھ بیٹھے ہیں۔ اور مسلمانوں کو تلیقن کر رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ تصور خیر کو بطور ”اسلامی عقیدہ” قبول کرلیں‘‘۔

کالم نگار کی سادہ فکر کی کوئی انتہا نہ رہی کہ فرما رہے ہیں: چین روس اور امریکہ کے مابین کوئی لڑائی نہیں رہی اور نظریات کی سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے۔” یہ محض ان کی کم علمی ہے۔ یہ سرمایہ داری کو نظریاتی طور پر کمزور کرنے کا دعویٰ ہے جو کالم نگار کے بنیادی ‘عقیدے’ سے متصادم ہے۔ ان ممالک کے باہمی تعامل سے جو نتیجہ اخد کیا ہے وہ صریح طور پر باطل ہے۔ طُرفہ یہ ہے کہ ”یہ طاقت کا کھیل ہے اس کا نظریات کا کوئی دخل نہیں”۔

سیاست میں، میرا کہنا یہ ہے کہ نظریات کا دور ختم ہو چکا“۔ یہ عین وہی تھیسز ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، جو فرانسس فوکویاما نے پیش کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ کسی تصورِ حیات اور اس کے قائم کردہ نظام کی مکمل فتح سے یہی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ آرزو تو ہے واقعیت نہیں ہے۔ سوویٹ روس کے سقوط کے بعد اکیسویں صدی کے آغاز ہی میں سرمایہ داری نظام کی داخلی جدلیات نے عالمگیر چولا پہن کر عود کیا ہے، جو انسانیت کے اس سے کہیں زیادہ بھیانک مضمرات اور امکانات رکھتی ہے جو سرمایہ داری کو بیسویں صدی کے نصف اول میں درپیش تھی۔

کالم نگار نے ”سامراج“ کی طفلانہ توجیہ پیش کی ہے، اور سرمایہ داری کی عالمگیریت میں استعماری تاریخ سے یوں اغماض برتنا سراسر علمی دیانت کے منافی ہے۔

یہ مضمون مسلمانوں کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ سرمایہ داری نظام کو اس کی فکر سمیت قبول کر لیں، بس ذاتی دائرے میں اپنی اخلاقیات کے جھنجھنے سے کھیلتے رہیں، اور اہل سرمایہ داری کا دل بھی بہلانے کی کوشش کریں۔ سوال یہ کہ اگر اہل اسلام کا سرمایہ داری سے کوئی نظریاتی اختلاف باقی نہیں رہا، تو اخلاقی اختلاف کی کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے؟ ان کی مراد یہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی سرمایہ داری کو بطور مظہر حق قبول کر لیا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اخلاقیات کی آڑ لیے بغیر اسلام سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہیے، اور یہی ان کی منشا ہے۔ یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام ایک ہی مادی اصل سے پھوٹنے والے معاشی نظام کے دو متضاد تصور تھے۔ ہر بنیادی تہذیبی تصور اتنی وسعت ضرور رکھتا ہے کہ اس میں اس طرح کے تضادات بھی سامنے آ سکیں۔ لیکن اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام دونوں ایک ہی مادی اور سیکولر تصور حیات کے دو متضاد مظاہر تھے۔ اور تاریخی سفر نے یہ تضاد دور کر دیا۔ کیا یہ بات اسلام اور سرمایہ داری کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔

فاضل کالم نگار نے جس طرح اسلام کو بطور نظام پیش کرنے والوں کو تہذیبی قافلے کے بچھڑے ہوئے لوگ قرار دے کر اہل حق پر طنز کیا وہ ان کی اپنی ناخواندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ سرمایہ داری نظام کی موجودہ حرکیات سے قطعی نابلد ہیں۔ سرمایہ داری بطور نظام قبول ہے لیکن اسلام نہیں۔ یہاں پر ان کی پوزیشن بالکل واضح ہے، اسی بنا پہ اگر انکو استعماری حاشیہ بردار کہا جائے شاید درست ہو۔ یہ کالم اس حقیقت کو ثابت تو کررہا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: