ہماری فتح بھارتی پروپیگنڈے کے سائے میں : زاہد نثار

0
  • 175
    Shares

میرے سامنے ایک تصویر ہے، جو بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر میں نے یہ بلاگ لکھنے کا سوچا۔ اس تصویر میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ایک بڑی آبادی والی تحصیل کے پررونق چوک میں ایستادہ یہ نمائشی سیبر F86 اسی نسل سے تعلق رکھتا ہے جس سے سلطان محمود غزنوی کی جرات و بہادری کے وارث ستارہ جرات پانے والے محمد محمود عالم نے 7 ستمبر 1965 کے دن ایک منٹ سے کم وقت میں میں 5 بھارتی جیٹ طیاروں کو دھول چٹائی تھی۔ اسی سیبرF86 کے اوپر ایک دیو ہیکل بل بورڈ پر وہی دوسرے درجے کے اوسط ہیرو ریتھک روشن کی ایک مشروب ساز ادارے کے اشتہار میں ایک سلوگن کے ساتھ چھپی تصویر ایک عام محب وطن پاکستانی کا دل دکھا دیتی ہے۔

یہ تصویر دیکھ کر مجھے ایک فلم کے ڈائلاگ یاد آگئے، صرف دو ڈائیلاگ، مگر میں بھارت کی پوری ذہنیت، مقاصد، عزائم اور ارادے چُھپے ہوئے ہیں۔ آپ بھی یہ ڈائیلاگ پڑھیے:
ولن :”اس وقت کا کتنا انتظار کیا ہے تو نے بچہ؟”
ہیرو: “ایک ہزار سال”

اتل تیواری کے لکھے یہ ڈائیلاگ جیکی شیروف اور ریتھک روشن نے ادا کیے، جو بھارتی فلم “مشن کشمیر” کے ہیں 27 اکتوبر 2000 کو ریلیز ہونے والی اس فلم کے یہ ڈائیلاگ بہت معنی خیز ہیں۔ یہ ہزار سالہ انتظار 1001 عیسوی کے اس سلطان محمود غزنوی کے ہندوستان آمد کے پہلے مرحلے کی یاد دلاتا ہے، جو 1001سے شروع ہوا اور1027 تک 17بار کی کوششوں کے بعد ہندوستان پر غزنوی حکومت کی بنیاد رکھ گیا۔ ہزار سالہ قدامت کے اس جملے کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بہت معنویت رکھتا ہے۔ بظاہر اس دوسرے درجے کے اوسط اداکار اور ہیرو ریتھک روشن کی مذکورہ فلم ہندوستانی مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے تناظر میں ہے۔ مشن کشمیر روایتی پاکستان مخالف زہریلے پراپیگنڈے کی کھچڑی نما فلم ہے۔ مشن کشمیر کے اس تین لفظوں پر مشتمل ڈائیلاگ کی جڑیں واقعی ہزارسال قدیم ہیں۔ سلطان محمود غزنوی کی ہندوستان آمد سے قبل محمد بن قاسم 712 عیسوی تک ہندوستان میں مسلم فتوحات کی بنیاد رکھ چکا تھا۔ اسی تناظر میں سلطان محمود غزنوی نے ہندوستان پر باقاعدہ مسلمان حکمرانی کا آغاز کیا۔ ہزارسالہ غلامی کا تصور ہندوانہ ذہن سے وقت کھرچ نہیں سکا اور گاہے بگاہے اس کا مختلف صورتوں سے بھارتی بیانیے میں اظہار ملتا رہتا ہے۔

جدید و موجودہ دور میں ملکوں کی باہمی دشمنیاں اور ان کے ٹکراو کی نوعیت اب صرف روایتی میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس کا پھیلاو¿ اتنا زیادہ ہوگیا ہے کہ رہن سہن اور ثقافت کے عوامی میدان بھی درپردہ میدان جنگ میں بدل چکے ہیں اور میڈیا اس میدان جنگ کا سب سے بڑا اور سرعت پذیر ہتھیار ہے، جس کے ذریعے معلومات اور تفریح کی آڑ میں وقتی و دیرپا اثرات پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اپنے مخالف نظریات کو دبانے ان کا اثر کم کرنے یا پھر ان کو یکسر مسترد کرنے اور اپنے نظریات تھوپے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جھوٹ، مکاری تاریخ کو مسخ کرنا اور مخالف قوم کی عظیم شخصیات کی کردارکشی پراپیگنڈا مہم کا اولین مقصد ہوتا ہے جس سے حریف و دشمن ممالک کے لوگوں میں تذبذب، شکوک اور مایوسی کی کیفیات پیدا کی جاتی ہیں۔ یہ بہت گہرا، صبرآزما، چالاکی و فطانت کا کام ہے جسے باربار دہرا کر مختلف انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور حریف ملک کی رائے عامہ اپنے نظریات کے حق میں تبدیل اور ہموار کی جاتی ہے۔ بظاہر بے ضرر سی تفریح کے پردے میں لوگوں کے دل و دماغ میں تسلسل سے آہستہ آہستہ زہر بھرا جاتا ہے اور اس زہر کی منتقلی کا عمل انتہائی سست مگر انتہائی موثر ہوتا ہے، کیونکہ یہ کسی ملک کی بنیادی نظریاتی سرحدوں کو اپنا نشانہ بناتی ہے، جس کا توڑ بھی سالوں کی محنت مانگتا ہے۔ پاکستان کے بارے میں تفریح کی آڑ میں پاکستان کی نئی نسل کو ان فلموں کا گرویدہ کرنے کا سارا مسالہ ان فلموں میں موجود ہوتا ہے کمزور سنسر شپ کی وجہ سےان فلموں میں ہیرو پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور گالیاں تک بکتے نظر آتے ہیں۔ 19 اکتوبر 2016 کو پیمرا نے طے کیا کہ 21 اکتوبر 2016 سے بھارتی مواد نشر کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس کے بعد کیا ہوا یہ سب جانتے ہیں۔ کتاب رسائل اخبار ٹی وی چینلز غرض ہر قسم کی دستیاب سہولت کو بھرپور استعمال میں لایا جاتا ہے۔ بھارتی بیانیے کے پیچھے ایک منظم و مربوط پراپیگنڈا مہم تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ بھارت نے اپنی آبادی کے تناسب سے ایک بڑی معاشی مارکیٹ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے نظریاتی و حقیقی حریف پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا جاری رکھا ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن پلیٹ فارم پر اس کی تشہیر کی جاتی ہے۔ پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے ہر سطح تک جایا جاتا ہے۔

نظریاتی جنگ میں فلم باقاعدہ پراپیگنڈا مہم کا اہم ہتھیار ہے جس کی وسعت اور اثرپذیری مسلمہ حقیقت ہے، ورنہ میدان جنگ میں تو نبردآزمائی خاص الخاص مواقع پر میسر آتی ہے، جیسے ایئر کموڈور محمد محمود عالم المعروف ایم ایم عالم ستارہ جرا¿ت کو فضائی جنگ میں عالمی ریکارڈ بنانے کا موقع ملا تھا اور انہوں نے سیبر F86 سے ناقابل شکست رہتے ہوئے ایک منٹ سے بھی قلیل ترین وقت میں 5 بھارتی ہاکر ہنٹر طیاروں کو تباہ کرکے عالمی فضائی ریکارڈ بنایا۔ بھارت تو خیر ہمارا دشمن ہے وہ ہمارے خلاف اور ہمیں نفسیاتی شکست دینے کے لیے پروپیگنڈا کرے گا ہی، لیکن افسوس تب ہوتا ہے جب ہم اپنے لوگوں کو یہ پروپیگنڈا بڑھانے میں بھارت کا ہم قدم پاتے ہیں۔

مذکورہ تصویر بھی بھارتی پروپیگنڈے کی ہم نوائی کرتی نظر آتی ہے، ایسے عام مشاہدے میں آنے والے متعدد مناظر ہیں جو پاکستان کی کسی نہ کسی انداز میں ثقافتی اقدار کو چیلینج کرتے ہیں۔ یہ سب ٹی وی اشتہارات سے پرنٹ میڈیا تک ہورہا ہے۔ پاکستان تخلیق اور خوب صورتی میں کبھی بانجھ نہیں رہا۔ فلم ہو ڈراما یا قومی شخصیات پاکستانی خوب صورتی اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں خوب صورت لوگوں کی کمی ہرگزنہیں ہے۔ یہاں تو ایک فٹ پاتھ ہوٹل پر چائے بناتا ارشد خان بھارت کے اندر تک دھوم مچا دیتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا میں ہندوستانی اشتہارات خصوصاً فلمی اداکار و ماڈلز کو اس درجہ پروجیکشن دی جاتی ہے جس کے وہ ہرگز مستحق نہیں۔ یورپی یا امریکی تقابل کو چھیڑے بغیر پاکستان اور بھارت کے مابین تقابل میں پاکستان شخصی خوب صورتی میں کہیں آگے ہے۔

پاکستان ٹیلنٹ کے معاملے میں کسی طور بھارت سے پیچھے نہیں۔ ثقافتی ذرائع کو گھناونے طریقے سے استعمال کرنے والے بھارتی اثرورسوخ کو عیاں کرتے ایسے اشتہار دراصل پاکستانی قوانین میں موجود سقم کو ظاہر کرتے ہیں۔ پیسے کی بے تحاشا ریل پیل اور بھارت کے اندر بھارتی اداکاروں کی مقبولیت ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے کشش کا باعث ہے۔ کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کا تو ایک الگ ہی باب ہے مگر بھارتی اداکاروں کو خاص طور پر ملٹی نیشنل کمپنیاں بھاری معاوضوں پر اپنی مصنوعات کی تشہیری مہم کے لیے ہائر کرتی ہیں، حالانکہ ان کمپنیوں کو اپنا بزنس پاکستان میں کرنے کے لیے پاکستانی اقدار اور پاکستانی عوام کی اپنے وطن سے اٹوٹ محبت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ پاکستانی ٹیلنٹ کو اس سے قبل بھی ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں، لیکن گذشتہ چند سالوں سے پاکستانی ٹیلنٹ اور اس سے جڑی انڈسٹری کو بھارتی ثقافتی یلغار کا سامنا ہے، جس سے ایک طرف تو پاکستانی ٹیلنٹ کی بے قدری ہورہی ہے تو دوسری طرف بھارتی اشتہاربازی کا درپردہ نقصان مقامی ثقافت و اقدار کی نفی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔کارٹون کرداروں سے لے کر ایسے اداکاروں تک ایک زنجیر ہے جو پاکستانی اقدار کو کم زور کررہی ہے۔ مقامی لوگوں کو بھی ان باریک باتوں کا خیال کرتے ہوئے قومی وقار و دبدبے کی علامتوں کو ان کی عظمت کے ساتھ قائم رکھنا چاہیے۔عام سی تصاویر بھی اپنے اندر بہت پیغام رکھتی ہیں۔

مذکورہ تصویر یوں تو بہت کچھ دکھاتی ہے لیکن دو نمائشی چیزیں بہت نمایاں ہیں۔ ایک محمود یعنی محمد محمود عالم کے مشہورعالم سیبر F86 نسل کے ایک نمائشی جہازپر جمی گرد بہت نمایاں ہے اور ساتھ ہی دوسرے محمود یعنی سلطان محمودغزنوی کے بعدایک ہزار سالہ انتظار کا ڈائیلاگ بولنے والے ریتھک روشن کے اشتہار کا جہازی پھیلاوہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: