کیون کارٹر : بیسویں صدی کا عظیم فوٹو گرافر/ فوٹو جرنلیسٹ ۔۔۔ عادی علی

1
  • 50
    Shares

1960میں ساؤتھ افریقہ کے ایک شہر جوہانسبرگ میں انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوا۔ ہائی اسکول کے بعد کیون کارٹر کو فارمسسٹ بننے کا شوق ہوا۔ وہ کئی اسکولوں سے محض اس وجہ سے نکالا گیا کہ اس نے سیاہ فام لوگوں کے حق میں آواز بلند کی اور جلد ہی کیون کو یہاں بھی اس بات کا احساس ہو گیا کہ وہ فارماسسٹ نہیں بن سکے گا اور کیون نے فوج میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا صرف دو سال میں کیون کی خدمات کے بدلے میں اسے ائیر فورس میں شمولیت ملی۔

1980 میں وہ اپنے کچھ کولیگز کے ہمراہ کھانا کھانے ایک ریسٹورنٹ گیا جہاں پر موجود ایک سیاہ فام ویٹر نے کھانا پیش کیا اس کے تمام کولیگز ویٹر کا مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ اس سے بدتمیزی کرنے لگے۔

کیون کے دفاع پر اپنے ہی ساتھیوں میں ایک شدید جھگڑا ہوا جس سے کیون بری طرح زخمی ہوا اور اس نے ایئر فورس سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے بعد آنے والے تین سالوں میں کیون نے اپنا نام بدل کر خود کو ‘ڈیوڈ نام سے متعارف کروایا اور پھر ‘ریڈیو جوکی کے طور پہ منظر عام پر آیا۔ 1983 میں پریتوریا میں چرچ اسٹریٹ بم دھماکے کے بعد، اس نے ایک نیوز فوٹوگرافر اور صحافی بننے کا فیصلہ کیا۔

کارٹر نے تصویر لینے کے بعد کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید اس بچی کی ماں آجائے لیکن کوئی نہیں آیا کارٹر کافی دیر تک وہیں کھڑا رہا اور بالآخر ساتھیوں کے اصرار پر ان تمام مناظر کو بالائے طاق ڈالتا ہوا جہاز میں سوار ہوگیا۔ کارٹر کا یہی خیال تھا کہ اس بچی کی ماں بھی مر چکی ہوگی

مارچ 1993 میں کارٹر نے اپنے آپ کو ایک آزاد صحافی کے طور پر آپریشن لائف سوڈان کیلئے پیش کردیا۔ سوڈان اس وقت انتہائی سخت قحط سالی کی لپیٹ میں تھا۔ حکومت سے اجازت ملتے ہی کارٹر نے سوڈان کے لئے رخت سفر باندھا اس سفر میں اس کے ساتھ کچھ حکومتی عہدیدار اور فوجی حضرات بھی تھے جنہوں نے سوڈان میں موجود باغیوں کے ساتھ معاہدے طے کرنے تھے۔

کارٹر وہاں پر موجود قحط سالی سے مفلوک الحال لوگوں کی ڈاکومنٹری بنانے گیا تھا۔ کارٹر نے وہاں موجود لوگوں کی تصویریں بنانا شروع کردیں۔ واپسی کے سفر میں کارٹر اور اس کے بقیہ دوستوں نے جیسے ہی واپسی کا رخت سفر باندھا کارٹر کو ایک چھوٹی سی بچی نظر آئی جو ماں کے دودھ اور کھانے کو ترستی ہوئی اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ دوسری جانب کارٹر کی ٹیم جہاز میں اسکے بیٹھنے کی منتظر تھی۔ کارٹر نے جب تصویر لی تو منظر میں ترستی بلکتی بچی کے عقب میں ایک گدھ بیٹھا تھا جو اس بچی کے مر جانے کے بعد اسے اپنی خوراک بنانے کا منتظر تھا۔ کارٹر نے تصویر لینے کے بعد کچھ دیر انتظار کیا کہ شاید اس بچی کی ماں آجائے لیکن کوئی نہیں آیا کارٹر کافی دیر تک وہیں کھڑا رہا اور بالآخر ساتھیوں کے اصرار پر ان تمام مناظر کو بالائے طاق ڈالتا ہوا جہاز میں سوار ہوگیا۔ کارٹر کا یہی خیال تھا کہ اس بچی کی ماں بھی مر چکی ہوگی۔

گھر آنے کے بعد کارٹر کے نظروں میں وہی دلخراش مناظر ٹہر سے گئے، ہمہ وقت اب وہ روتا، چیختا، چلاتا رہتا مگر وقت کا دھارا بہت تیزی سے آگے کو بہہ چکا تھا۔
کارٹر کی ایک تصویر جو نیویارک ٹائمز میں چھپی تو اس نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی کیون کارٹر پوری دنیا میں مشہور ہوگیا۔

بہت سارے لوگوں نے کیون کارٹر پر تنقید بھی کی کہ اس نے اس بچی کی مدد کیوں نہ کی کیون کارٹر نے جس دن سے یہ تصویر عکس بند کی تھی اس دن سے راتوں کی نیندیں اس سے روٹھ چکیں تھیں۔ مسلسل شب بیداری کی وجہ سے وہ ڈپریشن کا مریض بن چکا تھا۔

اس تصویر کے بعد کیون کارٹر کے پاس پروجیکٹس کی لائن لگ گئی۔ کمپنیاں لاکھوں کڑوڑوں روپے کے پروجیکٹس لیے اس کے دروازے پر کھڑی رہتیں لیکن کیون کارٹر اس تصویر میں موجود دردناک منظر کی کیفیت میں مقید ہو چکا تھا۔ جس تصویر نےکیون کارٹر کو پوری دنیا میں مشہور کر ڈالا اس تصویر کی عکس بندی کے پورے ایک سال بعد انیس سو چورانوے میں دنیائے فوٹوگرافی کا سب سے بڑا ایوارڈ پیٹزر پرائز کا تاج بھی کیون کارٹر کے ہی سر پہ سجایا گیا۔

کیون کارٹر جب بھی ٹی وی یا اخبار دیکھتا ہے تو اس کے اور اسکی تصویر کے متعلق کچھ نہ کچھ موجود ہوتا۔ وہ عجیب و غریب تصویر، جس کی وجہ سے کیون کارٹر درد میں مبتلا تھا کیون کارٹر کو اس کی ٹیم کے لوگوں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اس تصویر میں موجود درد بھرے منظر سے کبھی باہر نکل ہی نہ پایا کیون کارٹر برملا اس بات کا اظہار کرنے لگا کہ اب مجھے ایک ہی چیز سکون دے سکتی ہے اور وہ ہے ‘میری موت۔

27 جولائی 1994 یہ وہ دن تھا جو کیون کارٹر نے اپنی موت کے لئے خود چنا اور محض 34 سال کی عمر میں وہ اپنی گاڑی میں اس مقام پر مردہ حالت میں پایا گیا جہا ں وہ اکثر بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔

اسطرح دنیا ایک بہترین فوٹو گرافر اور فوٹو جرنلسٹ سے محروم ہوگئی۔

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: