سمندر بھی اگر روشنائی بن جایئں If Ocean were Ink : محمد اقبال دیوان

0
  • 69
    Shares

خیال تھا کہ یہ کالم نواز شریف کی دائمی نااہلی پر لکھیں گے۔ خیالات کی بہتی گنگا ہے سبھی ہات دھورہے ہیں۔ دشنام اور الزام تراشی کا موسم ہے۔ ودیا بالّن اور نصیر الدین شاہ کی ایک فلم ’’ڈرٹی پکچر‘‘ کا ڈائیلاگ ہے کہ جب شرافت کے کپڑے اترتے ہیں تو سب سے زیادہ مزہ شریفوں کو ہی آتا ہے۔

آپ خاندان کی اپنی آنکھ کے تاروں اور گفتار کے غازی وزراء کے تضادات بیان کی وجہ سے اعصاب شکن رسوائی، میڈیا میں بیان کردہ گھریلو لڑائی، بھائی کی حرکات و سکنات اور نومبر کی تبدیلیوں کا اسمائے بابرکات کے حوالے سے سوچیں تو پاکستان کے حالات پر یہ مکالمہ ہاتھ میں دستانے کی مانند فٹ آتا ہے۔  ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ کمزور اور بے نام لوگوں کو اہلیان اقتدار اور نام چیں افراد پر رسوائی کی کنکریاں اچھالنے میں مزا آتاہے۔ میڈیا اسی دودھ مُوت کرنے(پرانی دہلی کے محاورے میں آیا گیری) کی تو کمائی کھاتا ہے۔

محمد اقبال دیوان

گمنام اور عام افراد کی یہ جسارت ان کی حّس شراکت Sense of Participation کو بڑی تسکین بخشتی ہے۔ مصر کی اس ادھیڑ عمر عورت کی طرح جو چرخہ کات کر گزارا کرتی تھی۔

یوسفؑ کے حسن و جوانی کے ْقصے سنے تو نیلام میں خریدار والی بولی دینے اپنی سوت کی دو پونیاں (روئی کی جوف دار بتّی جو کاتنے کے لیے تیار کی جاتی ہے) لے کر پہنچ گئی۔ کسی من چلے نے اس کی بے مائیگی کا مذاق اڑایا۔ احساس دلایا کہ یہاں تو ایک سے ایک سرمایہ دار اور سردار کی بیوی سرمایہ دل و جاں اور ذخیرہء جواہرات لے کر آتی ہے تیرا کیا ہوگا۔ مسکرا کر کہنے لگی عمر ہوگی تو لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے تب میں بھی جتلا سکوں گی کہ حضرت یوسف ؑ جب متاع کوچہء و بازار بنے تھے تو ہماری نظر بھی خریدار کی طرح اٹھی تھی۔ بولی لگانے والوں میں ہم بھی وہیں موجود تھے۔

اسی ادھیڑ بن میں ہم لگے تھے کہ ایک کتاب ہاتھ لگ گئی اور پھر یوں ہوا کہ -ع- جانے یہ کون میری روح کو چھو کر گزرا اک قیامت ہوئی بیدار

خدا خیر کرےٍکچھ کتابیں آپ کو اپنے نام سے ہی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ سو یہاں بھی وہی معاملہ ہوا کہ کارلا پائور کی کتاب کا نام IF OCEAN WERE INK ہی دل و دماغ پر چھا گیا۔ یہ دراصل قرآن الکریم کی آیت کا انگریزی ترجمہ تھا۔ سورۃ ال کہف کی آیات نمبر 109 میں ہمارے نبی محمد ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ ’’کہہ دیجیے کہ اگر میرے رب کے اوصاف بیان کرنے کے لیے سمند ر روشنائی بن جاتا تو اس سے پہلے کہ میرے رّب کے اوصاف کا بیان ختم ہوتا سمندر ختم ہو جاتا اگرچہ اس میں ایک اور سمندر کا اضافہ بھی کردیتے‘‘۔

کارلا پائور کی اس کتاب کے بارے میں امریکہ کے مقتدر حلقوں کا ترجمان اخبار واشنگٹن پوسٹ کہتا ہے کہ یہ امریکہ کی اس غالب اکثریت کے لیے لازمی کتاب ہے جو اسلام سے قدرے ناواقف ہیں۔ امریکہ میں ہی ٹائم میگزین کی ایرانی نژاد رپورٹر آزادے معاونی جو ایرانی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر شریں عبادی کی شریک قلم کار بھی رہی ہیں اور جن کی کتاب Lipstick Jehad پچھلے دنوں خاصی مشہور بھی ہوئی۔ ان کی رائے ہے کہ جس رچائو، رکھ رکھائو سے یہ مکالمہ قرآن فہمی میں مدد کرتا ہے وہ اس کتاب کو مطالعے کے لیے ناگزیر بنادیتا ہے۔

انہیں کی مانند مشہور ہندوستانی صحافی فرید ذکریا کہتے ہیں کہ وہ تمام مغربی ا ذہان جو ہر وقت اسلام کو جنگ، امن، یہودی، غیر مسلم، عورت، مرد کے تناظر میں الجھائو کی نظر سے دیکھتے ہیں انہیں یہ دو خوش دل دوستوں کا مکالمہ دنیا میں ہونے والے واقعات کو سمجھنے کے لیے ذہانت، کشادہ دلی اور انکشافات سے لبریز دکھائی دے گا۔  یہ دو دوست کون ہیں؟ اس میں اول نام تو کتاب کی مصنفہ کارلا پائور کا ہے۔ ایک برطانوی شوہر کی بیوی، وہ دو بچوں کی ماں اور امریکی شہری ہیں۔ والدہ یہودی اور والد عیسائی تھے۔ پیشہ صحافت وہ بھی نیوزویک اور ٹائم میگیزین جیسے رسائل سے وابستگی اور افغانستان، ایران، ہندوستان، مصر میں تا دیر قیام اور دیگر ممالک کی باخبر پیشہ ورانہ سیاحت، یہ سب کوائف ان کا بھرپور پس منظر بیان کرتے ہیں۔

آپ اگر بہت متاثر ہوچکے ہیں تو جگر تھام کر بیٹھئے۔ اگلا نام مولانا اکرم ندوی کا ہے۔ آپ کو یہ جان کر بہت افسوس ہوگا کہ ان کے پائے کا کوئی عالم اس وقت پاکستان میں تو نہیں۔
مولانا ندوی جون پور بھارت کے مدرسے سے پڑھ کر دار العلوم ندوۃ پہنچے۔ یہ مدرسہ مولانا حضرت محمد علی منگیری نے سن 1894 نے لکھنو میں قائم کیا تھا۔ وہاں سے اسلامی سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد لکھنوء یونی ورسٹی سے عربی میں پی ایچ ڈی کیا پھر جامعہ الازہر اور بالآخر آکسفورڈ کے اسلامی ری سرچ سینٹر جاپہنچے۔ ان کو دنیا بھر میں مستند ترین محدث مانا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ علم الرجال پر سند کا درجہ رکھتے ہیں۔ دینی علوم میں یہ حدیث بیان کرنے والے افراد کا درست حوالہ دینے کا علم کہلاتاہے۔ مولانا ندوی کی ذہانت، ذکاوت اور یاداشت کا یہ عالم ہے کہ وہ روای کی شناخت حدیث کے آخری راوی تک کرسکتے ہیں اس معاملے میں سب سے چھوٹی اور مضبوط ترین سند جو امام اسمعیل بخاری تک پہنچتی ہے وہ بھی کم از کم 14 روایوں پر مشتمل ہے۔

وہ تقریباً 25 کتب کے مصنف ہیں جن میں وہ شہرہ آفاق 57 جلدوں کی ان خواتین کی سوانح عمری ہے جو احادیث کو روایت کرتی رہی تھیں۔ عربی زبان میں تحریر اس کتاب کا انگریزی میں ترجمہ محدثات کے نام سے ہوا ہے۔ ان کی اس تحقیق پر مغرب اور اسلام کے مشرقی حلقے سبھی ہی چونک کر رہ گئے ان سب کی یہ خام خیالی تھی کہ اسلام کی ترویج میں خواتین کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں۔

اس کے علاوہ ان کی سوانح عمری کا ابتدائی حصہ Madrasah Life : A Student’s Day at Nadwat Al-Ulama … بھی شائع ہوچکا ہے۔ ان کی ایک اور کتاب جو انگریزی زبان میں اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے وہ امام ابو حنیفہ ؓ کہ بیان کردہ فقہی نگارشات پر مبنی al-Fiqh al-Islami ہے جس میں حضرت نے نہ صرف ان فتاویٰ اور فقہی اصولوں کو جمع کیا ہے جو قانون کا درجہ حاصل کرسکتے ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اس بات کی تحقیق کی ہے کہ امام ابو حنیفہ ؓ نے اپنے فتاویٰ کی بنیاد کن شواہد پر رکھی۔

یہ دونوں ہستیاں کیسے اور کہاں ملیں کہ ایسی علم افروز تحریر وجود میں آئی۔ اللہ کے بھید بھی نرالے ہیں۔ ہم انسان تو بس اندازے ہی لگاتے رہ جاتے ہیں۔ گو یہ بات کتاب میں مذکور نہیں مگر ان کی دوست افغان کینڈین صحافی حمیدہ غفور نے اسے ایک مضمون میں بیان کیا ہے۔ ہوا یوں کہ میکسکو میں کارلا پائور کے والد کو جو وہاں یونی ورسٹی میں قانون کے پروفیسر تھے انہیں کچھ بدمعاشوں نے mistaken identity. کی بنیاد پر سن 1993 میںقتل کردیا تھا۔ کارلا کو اس کا بہت دکھ تھا۔

دل گرفتہ کارلا کی ملاقات اپنے ایک رفیق کار مولانا محمد اکرم ندوی سے ہوئی۔ یہ ان کے ساتھ جنوبی ایشیا میں اسلام کے پھیلاو پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک ریسرچ پروجیکٹ میں شامل تھیں۔ تسلی و تشفی کے کلمات کے دوران ہی مولانا ندوی نے انہیں علامہ اقبال کی نظم والدہ مرحومہ کی یاد میں کے کچھ حصے سنائے تو انہیں لگا کہ یہی جذبات ان کے اپنے دل کی آواز بھی ہیں۔ بہت دھاڑس بندھی۔ ایک علمی تعلق تو قائم ہوا مگر اس میں دو دہائی یعنی پورے بیس سال کی خلیج تھی۔

مولانا ندوی بدستور آکسفورڈ میں قیام پزیر تھے اسی پرانے ادارے سے وابستہ۔ اس دوران 9/11کا فتنہ بھی منظر عام پر آچکا تھا۔ مغرب میں ہر طرح کی آواز اسلام کے خلاف بلند ہورہی تھی جس میں اپنوں کا کردار بھی کچھ کم نہ تھا۔ ایان علی ہرسی جو ایک ولندیزی امریکی خاتون ہیں، صومالیہ سے تعلق ہے اور اسلام سے منحرف ہوچکی ہیں انہوں نے اپنی مشہور کتاب Heretic, جسے مغرب میں بہت پذیرائی ملی اس میں کھل کر اسلام دشمنی کا ثبوت دیا اور مصر رہیں کہ اسلام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کی بہت ضرورت ہے کیوں کہ وہ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔

کارلا پاور اور مولانا اکرم ندوی

دوسری جانب کارلا پائور تھیں۔ ان کے دل میں اللہ نے یہ خیال ڈالا کہ سترہ سال سے وہ ایسے واقعات اور حادثات کی شہ سرخیاں بنارہی ہیں، جن میں ہر بات کی تان قرآن اور اسلام پر ٹوٹتی ہے۔ انہیں اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ یہ قرآن آخر کیوں ان سب واقعات اور جرائم میں مورد الزام ٹہرایا جاتا ہے۔ کیوں نہ وہ شہ سرخیوں سے دو قدم پیچھے ہٹ کر اس مقدس تحریر کا خود مطالعہ کریں اور معاملے کی اصل روح تک پہنچیں بجائے اس کے کہ وہ اس کے بارے میں ایان علی ہرسی، دولت اسلامیہ اور دیگر دوست دشمن افراد اس کے بارے میں جو کچھ بیان کر رہے ہیں اس کو اپنے افکار کی اساس بنائیں۔ انہوں نے سوچا کہ وہ اگر اس طاقت ور اور مقدس پیغام کو نظر انداز کرتی ہیں تو یہ بالکل ایسا ہی ہوگا کہ جیسے لٹریچر کا پڑھنے والا ہومر اور ہیملیٹ کو نظر انداز کرے۔

کتاب میں چند باتیں ایسی بھی بیان ہیں جو افغانستان اور ایران میں سن1980 کے ہونے والے واقعات اور دین میں جبر اور جہاد بالسیف اور ڈالر کا جو پھیلائو آپ کو ضیا الحق کے دور سے عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان میں دکھائی دیتا ہے۔ جہاں باہمی رواداری اور انسانی تعلقات سے بڑھ کر مخصوص قسم کی فرقہ واریت اور عدم برداشت نے غلبہ پالیا ہے وہاں انہیں آسانی سے قبول کرنا مشکل ہو کیوں کہ یہ مروجہ خیالات سے تحقیق کی روشنی میں حقیقت کے قریب لیکن بادی النظر میں متصادم دکھائی دیں گی۔

مصنفہ کو ان کے پاس آنے والے بے شمار مغربی مسلمانوں سے جو سلمان رشدی کی Satanic Verses سے لے کر ڈنمارک اور فرانس میں شائع ہونے والے کارٹونز پر رائے اور ردعمل لینے آتے ہیں ان کا جواب سن کر حیرت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں اس طرح کی خرافات کو نظر انداز کرنے میں اسلام کا فروغ ہے۔ اس کی مثال وہ نبی کریم ﷺ کی اپنی حیات مبارکہ سے دیتے ہیں کہ انتہائی برے سلوک، تکالیف، دشنام طرازی پر آپﷺ نے کبھی احتجاج نہیں کیا، نہ کسی کا گھر جلایا، نہ کسی کو جواباً ضرر پہنچایا بلکہ اپنا دامن بچا کر دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے۔ طائف، مکہ کی زندگی اور فتح مکہ پر آپ کا دشمنوں سے سلوک اس کی واضح مثالیں ہیں۔

اللہ اور اسلام کو آپ کے دفاع کی ضرورت نہیں بلکہ اعمال صالح جو دوسروں کے لیے قابل تقلید ہوں وہی درست دعوت اسلامی ہے۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ کیا مدینہ اسلامی ریاست تھی تو وہ کہتے ہیں ہرگز نہیں۔ یہ انتہائی غلط تصور ہے جو عام ہوگیا ہے۔ نبی کریمﷺ نے مکہ بادل ناخواستہ اس لیے چھوڑا تھا کہ دشمن آپ کو دین کے کام سے روک رہے تھے۔ وہ ایک علاقے اور ریاست کے تلاش میں وہاں نہیں گئے تھے۔ ندوی صاحب کا خیال ہے کہ دنیا میں ہمارا قیام عارضی ہے جب کہ اسلام اس سے بہت بڑا تقاضا ہے اسے وقتی دنیاوی حصول میں گنوانا اس دین کی روح اساس سے بغاوت ہے بلکہ اسے اخلاق، کردار، خود احتسابی اور ادنیٰ و اعلیٰ کی انسانی تقسیم سے بڑھ کر تقویٰ اور جد و جہد کے لیے مشعل راہ بنانا چاہیے۔

مولانا ندوی سے جب کتاب کی مصنفہ کی ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ حضرت نے صرف ژان پال سارترے اور ارسطو جیسے جدید اور قدیم فلسفیوں کا دار العلوم ندوۃ میں اپنے نصاب میں مطالعہ کررکھا ہے بلکہ اردو، فارسی، کلاسیکی عربی، ہندی، اردو اور انگریزی کے بھی شناور ہیں۔ ایک اور بات جس نے انہیں مولانا اکرم ندوی کو اپنا شیخ اور درس قرآن کے لیے استاد ب بنانے کی جانب راغب کیا وہ ان کا خواتین کے بارے میں مختلف طرز عمل اور رائے تھی۔ چھ عدد صاحب زادیوں کے والد ہونے کے ناطے اور دین کی اس قدر سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود وہ عام طور پر مذہبی افراد اور علماء کی نسبت بہت کشادہ دل اور باعزت طرز عمل کے مالک تھے۔ اس کتاب میں اس کا اجمالی ذکر ان کے چند ابواب میں شامل ہے۔
یہ ابواب ان اعلی کردار خواتین کی علمی اور دینی خدمات کے بارے میں ہیں جن سے نہ صرف مغرب ناواقف ہے بلکہ اپنی اس ناواقفیت کو اپنا تفاخر اور نقطہء تضحیک بنا کر اسلام کو ایک پس ماندہ اور طرز بود و باش کے جدید تقاضوں سے ناآشنا خواتین پر ظلم کرنے والا دین ظاہر کرتا ہے۔

مصنفہ کے علم میں یہ بات تھی کہ مولانا اکرم ندوی نے پندرہ سال پہلے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں انہیں بتایا تھا کہ ان سے 2,210 احادیث کا تحفظ اور روایت منسوب ہے اور وہ اس کو سامنے رکھ کر ایک پمفلٹ لکھ رہے ہیں جو مسلم خواتین کی علم دوستی اور علم کے فروغ کا بیان ہوگا۔ مولانا ندوی کو اس وقت یہ محدود سا گمان تھا کہ یہ سارا تذکرہ ایک پمفلیٹ میں باآسانی سما جائے گا۔

کتاب کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دو ستوں کی ایک ایسی صبر آزما، انقلابی کاوش ہے جس میں دو مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے عقیدے کا ایک دوسرے کی نظر سے جائزہ لیتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔

تحقیق کا آغاز ہوا تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ پچھلے 1,400 سال میں9,000 کے قریب ایسی خواتین موجود رہی ہیں جو نہ صرف احادیث کی ترویح اور فتاویٰ کے اجرا میں مصروف رہیں بلکہ وہ کئی مسلمان خلفاء کی مجالس شوریٰ کا بھی حصہ رہی ہیں ان میں چند جلیل القدر خواتین تو ایسی تھیں کہ مدینہ منورہ میں انہی میں سے ایک خاتون تو مسجد نبوی میں جو درس دیتی تھیں اس میں حج پر آنے والے علماء اور عمایدین بھی استفادہ کرنے کے لیے شریک ہوتے تھے۔

یہ نیک اور باعلم خواتین علم کے فروغ کے لیے دور دراز کا ان دشوار دنوں میں سفر بھی کرتی تھیں۔ مولانا ندوی ان احادیث اور فتاویٰ کی روایت کو خواتین کے حوالے سے اس لیے مستند مانتے ہیں کہ ان خواتین پر بیرونی دبائو اور انتشار خیال بہت کم ہوتا تھا اور یوں بھی روایت کی صحت یاداشت کی بنا پر خواتین کے ہاں بہتر تسلیم کی جاتی ہے۔ اب یہ Biographic Dictionary جسے’’ال محدثات‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان کی یہ تصنیف جسے آپ بلا شبہ magnum opus (کسی عالم یا فنکار کا وہ شہ پارہ جو اس کا بہترین کام تصور کیا جائے) کا درجہ دے سکتے ہیں۔ یہ اب 57 جلدوں تک جاپہنچی ہے۔

کتاب کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دو ستوں کی ایک ایسی صبر آزما، انقلابی کاوش ہے جس میں دو مختلف مذاہب کے ماننے والے اپنے اپنے عقیدے کا ایک دوسرے کی نظر سے جائزہ لیتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ان تعصبات اور غلط فہمیوں کا بھی ادراک فراہم کرتے ہیں جو ایک عالم میں چند خاص واقعات اور شخصیات کی وجہ سے نفرت اور تشدد کی بنیاد بنیں۔ اس پورے عمل میں وہ کھلے دل اور دماغ سے، نرم لہجے اور باعلم طریقے سے ان تعصبات کو ایک ایسی آپ بیتی میں بدل لیتے ہیں جو آپ کو نہ صرف دھیمے دھیمے نیند کی مانند اپنی آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔

۔۔۔وہ یہ حیرت کن انکشاف کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کو کل سترہ احادیث یاد تھیں۔ فقہ کے یہ چار اسکول یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی جو نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد وجود میں آئے وہ نماز کی ادائیگی میں قیام و سجود سے لے کر جھینگا کھانے تک پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ یہ سب آئمہ اپنی سزائوں میں قرآن کے بیان کردہ معیار سے زیادہ سخت رویہ رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے ایام میں یونانی فلاسفہ بالخصوص ارسطو کے فلسفے سے بہت متاثر ہوچکے تھے جو عورت کو ایک لازمی گناہ مانتا تھا اور اسے ثانوی حیثیت دینے کا قائل تھا۔

ان کے پہلے درس کا آغاز بھی بہت دل چسپ اور معنی آفریں ہے۔ Nosebag Resturant جو شیخ اکرم کے دفتر کے نزدیک تھا وہاں کارلا پائور صاحبہ نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ قرآن الکریم کے نسخے موجود ہوتے ہوئے بھی کبھی انہوں نے سنجیدگی سے اس کا مطالعہ نہیں کیا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ اعتراف شاید شیخ کو گراں گزرے گا مگر وہ مسکرا کر کہنے لگے ’’یہ تو کوئی ایسی انوکھی بات نہیں مسلمانوں کی ایک غالب اکثریت بھی یہی کچھ کرتی ہے۔ قرآن کو پڑھتے ضرور ہیں سمجھتے بہت کم ہیں۔ یہ ان کے لیے اجنبی صحیفہ ہے۔ انہیں لگا کہ یہ بہت ہی اچنبھے کی بات ہے ان کا خیال تھا کہ وہ جو بے شمار حفاظ ہیں وہ تو اس کا لازماً فہم رکھتے ہوں گے۔ شیخ کہنے لگے جونپور کے مدرسے سے لے کر کسی بھی مدرسہ میں قرآن فہمی کا نصاب میں بہت ہی کم دخل ہے۔ احادیث اور فقہہ پر بہت زور ہے۔ اب فقہ کا معاملہ یہ ہے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا مذہبی ڈھانچہ ہے (یاد رہے کہ مولانا ندوی دنیا بھر میں امام ابو حنیفہ پر سند مانے جاتے ہیں اور ان کی کتاب Abu Hanifah: His Life, Legal Method & Legacy ان کی مستند ترین سوانح عمری سمجھی جاتی ہے۔ وہ آپ کو یہ بھی حیرت کن انکشاف کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کو کل سترہ احادیث یاد تھیں۔ فقہ کے یہ چار اسکول یعنی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی جو نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد وجود میں آئے وہ نماز کی ادائیگی میں قیام و سجود سے لے کر جھینگا کھانے تک پر ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں۔ یہ سب آئمہ اپنی سزائوں میں قرآن کے بیان کردہ معیار سے زیادہ سخت رویہ رکھتے ہیں اور ان کا خواتین کے بارے میں رویہ بھی بہت ہی کڑا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے ایام میں یونانی فلاسفہ بالخصوص ارسطو کے فلسفے سے بہت متاثر ہوچکے تھے جو عورت کو ایک لازمی گناہ مانتا تھا اور اسے ثانوی حیثیت دینے کا قائل تھا۔

کیا یہ لازم ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی فقہ کی پیروی کریں کیوں نہ براہ راست قرآن سے استفادہ کیا جائے؟ کارلا پائور نے پوچھا ’’عوام کی اکثریت ذہنی طور پر کاہل ہوتی ہے۔ علماء کی تقلید آسان ہے بجائے اس کے کہ خود کھوج لگایا جائے۔ دنیائے اسلام میں اب یہ چھوٹی باتیں غالب آگئی ہیں۔ اس سے عقیدے کا توازن بگڑ گیا ہے۔ قرآن الکریم اور نبی پاکﷺ تو ہر بار روح کی اصلاح، قلب کی پاکیزگی اور کردار کی عملی بلندی کی بات کرتے ہیں۔ اس کے برعکس چور کے ہاتھ کاٹنے کی سزا جو صرف ایک دفعہ بیان ہے وہ کچھ لوگوں کے لیے دین و ایمان کالازمی جز بن گئی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: