انسانی حقوق پر بین الاقوامی کانفرنس اور رضیہ ‎۔۔۔ جیا شاہ

0
  • 25
    Shares

19 فروری سن 2018 شہر اقتدار میں انسانی حقوق پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس ’’منسٹری آف ہیومن رائٹس‘‘ کے زیر انتظامیہ جاری ہے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک اور اقوام متحدہ سے مندوبین آئے ہوئے ہیں۔ شہر کی بیشتر شاہراہیں رکاوٹیں لگا کر بند کی گئی ہیں تاکہ معزز مہمانان گرامی آرام سے کانفرنس کے مقام تک پہنچ سکیں اور جن پسے ہوئے نادار لوگوں کے لیئے یہ کانفرنس منعقد کی گئی ہے انہیں مزید اذیت دے کر بھرپور احساس دلایا جائے کہ یہ میلہ انہی کی بہبود کے لیئے سجایا گیا ہے۔ شرکاء کے خیالات اور جوش و ولولہ دیکھ سن کر تو ایسا لگ رہا ہے کہ انسانی حقوق کی ڈوبتی نیا پار لگا کر ہی اٹھیں گے سب۔ جیسا کہ کانفرنس مملکت خداداد میں منعقد کی گئی ہے سو تمغہ امتیاز پر صرف اور صرف میرے حکمرانوں کا حق ہے۔

چپ چاپ ایک کونے میں بیٹھ کر سنتے ہوئے مجھے یہ ساری کاروائی حقیقت سے صدیوں دور نظر آئی مگر کہیں لاشعور سے بار بار آواز آتی ہے کہ دنیا کے دستور اور موقع کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے شرکاء پر واجب و ملزوم ہے کہ تصویر کا ایک ہی رخ پیش کیا جائے۔ اعداد وشمار کو اس طرح پیش کیا جائے کہ کاروبار دکان مندی سے بچا رہے۔ مستقبل کی تصویر کشی اس خوبصورتی سے کی جائے کہ امید کی زندگی پھلتی پھولتی رہے ’’سو انسانی حقوق پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس‘‘ منعقد کرنے پر وہ سب لوگ داد کے مستحق ہیں جو اس کاوش کو مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔

یہ تو ہوگئی بڑی بات شہر اقتدار میں ہو رہی بڑی کانفرنس کی۔ اب بات ہوجائے ایک چھوٹی سی بچی سے جڑےبڑے واقعے کی جو کل مورخہ 18 فروری کو میری رہائش سے صرف 2 منٹ کی مسافت پر رونما ہوا اور ابھی تک انجام کو نہیں پہنچا۔ جس سانحے نے مجھے قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ گذشتہ 5 سالوں سے میں اس بچی رضیہ (فرضی نام) کو دیکھ رہی ہوں۔

قدرے بوڑھے میاں بیوی کے ساتھ رہتی ہے جن کے بچے بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں۔ رضیہ کو دیکھ کر کبھی احساس نہیں ہوا کہ وہ ایک ملازمہ ہے۔ صاف ستھری پیاری سی لڑکی انکل آنٹی کے ساتھ ایسے رہتی تھی جیسے اپنی سگی اولاد۔ رضیہ کی ایمانداری اور بلند حوصلے کے مجھ سمیت آس پاس رہنے والے کئی لوگ صدق دل سے قائل رہے ہیں۔ اکثر اوقات یہ ہوا کہ جب میں نے رضیہ کو پیسے دیئے کہ بیٹا اپنے کام سے جا رہی ہو یہ ایک دو چیزیں مجھے بھی لا دو! رضیہ ہنسی خوشی مجھے قریبی کینٹین سے مطلوبہ سامان لا دیتی اور باقی بچنے والے پیسے انتہائی ایمانداری سے واپس کر دیتی، چاہے وہ رقم 50 روپے کی ہو یا پھر 50 پیسے۔ میرے لاکھ کہنے کے باوجود کہ ’’رضیہ یہ تم رکھ لو‘‘ اس نے کبھی نہ لئے اور ہمیشہ واپس کرتے ہوئے کہتی کہ ’’باجی میں نے آپ کا کام خرچی کے لیئے نہیں کیا۔‘‘ یہ صرف میرا تجربہ ہی نہیں بلکہ آس پڑوس رہتے سبھی لوگ اس بچی کی ایمانداری سے واقف ہیں۔ سب کے کام کرتی، ادھر سے ادھر بھاگتی پھرتی رضیہ ہم سب کو اپنی اپنی سی لگی۔ کل شام گھر آتے ہوئے میں نے دیکھا آنٹی کے گھر کے باہر کافی بھیڑ جمع تھی اور اس بھیڑ میں مجھے پولیس اہلکار، نجی سیکیورٹی کمپنی کے لوگ اور علاقہ مکین نظر آئے۔

اتنے رش میں ان کے گھر جانا نا مناسب تھا سو گھر پہنچتے ہی کافی تشویش کے ساتھ آنٹی کو فون کیا کہ پتا کروں کیا ماجرا ہے۔ مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جب آنٹی نے کہا ’’گھر میں چوری ہوگئی ہے، لاکھوں مالیت کی نقدی چرانے والی رضیہ ہے، بازپرس کرنے پر اس نے اپنا جرم قبول بھی کرلیا ہے‘‘۔ یہ سب سن کر میں عجیب دکھ اور غم و غصے کا شکار ہوں۔ اس قدر ایماندار بچی، جو ہمیشہ کہا کرتی تھی باجی مجھے شوق ہے میرے چھوٹے بہن بھائی پڑھ جائیں اور اچھے روزگار پر لگیں تا کہ ہم اپنا گھر خرید سکیں، ابا کو موٹر سائیکل لے کر دیں۔ بہت افسوس ہے کہ رضیہ نے ایسا غلط کام کیا، اسے نہیں کرنا چاہیئے تھا۔

مگر اس سے کہیں بڑھ کر افسوس مجھے اس بات پر ہے کہ سب نے یہ تو پوچھا کہ تم نے چوری کی ہے یا نہیں (اور منوا بھی لیا) مگر کسی کو یہ خیال کیوں نا آیا کہ رضیہ سے پوچھیں آخر تم نے چوری کیوں کی؟ ایسی کیا بات، ایسی کیا ضرورت تھی جو تمہیں ایسا اقدام اٹھانا پڑا؟ رضیہ نے اپنی نیک نامی اور ایمانداری کا گلا آخر کیونکر گھونٹ ڈالا؟ کہیں رضیہ کے اس چھوٹے جرم کے بڑے مجرم بحیثیت معاشرہ ہم سب تو نہیں؟ کہیں اچھی رضیہ کو چور رضیہ بنانے والے ہم لوگ تو نہیں جو اپنے نام نہاد سوشل اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیئے عیش و آرام اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی زندگی گزارنے کی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں؟

کہیں اس سانحے کے اصل ذمہ دار انسانی حقوق پر لاکھوں / کروڑوں روپیہ خرچ کرکے عالمی کانفرنس کا انعقاد کروانے والے میری مملکت خداداد کے حکمران تو نہیں جو ایک غریب اور بنیادی انسانی حقوق اور ضرورتوں کو ترستی ہوئی معصوم رضیہ کی ضرورت پہچان کر اس کے دکھوں کا مداوا کرنے میں ناکام رہے؟ کاش میں کانفرنس میں شریک تمام شرکاء اور اپنے حکمرانوں کو کہہ سکوں کہ آئیں اس کانفرنس کے بعد ایک اوپن ڈے مناتے ہیں نادار اور غریب لوگوں کے ساتھ۔ جس طرح آج برطانیہ کی مسلم کائونسل نے مساجد میں اوپن ڈے کا انعقاد کیا گیا تا کہ لوگ خود آکر اپنے تجربے کی بنیاد پر رائے قائم کریں ہمارے مذہب اور کلچر کے بارے میں بجائے سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے کے۔ (اس اوپن ڈے میں برطانیہ کے وزیر اعظم نے بھی بھرپور شرکت کی)۔

ہمارے ہاں بھی مختلف تعلیمی ادارے اوپن ڈے منعقد کرتے رہتے ہیں تاکہ والدین اور طالبعلموں کو موقع ملے مشاہدہ کرنے کا۔ اسی طرح ہم سب کو بشمول حکمرانوں کو ضرورت ہے کہ جاکر اوپن ڈے بسر کریں ان لوگوں کے ساتھ جن کو بنیادی حقوق دلوانے کے لیئے سب جمع ہوئے ہیں۔ بھوک کی اذیت، دوائی نا ہونے کی وجہ سے درد میں سسکنا، سخت موسم کا مقابلہ کرنا ناموافق حالات اور وسائل میں، مالی تنگدستی کی بنا پر اپنی اولاد کو تعلیم اور معیاری تعلیم سے محروم رکھنے کا کرب اور زندگی کی چھوٹی بڑی خوشیوں کے لیئے ترسنا / بلکنا کیا ہوتا ہے؟ محرومی کس قدر اذیت ناک ہے؟

ان دکھوں کا اس قدر اندازہ اور مداوا شاید کانفرنس کے انعقاد پر نا ہوسکے جس قدر یہ ساری صعوبتیں چند لمحوں کے اپنی ذات پر جھیل کر ممکن ہو سکے گا۔
کاش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: