ہسٹیریا کیا ہے؟ ڈاکٹر عابدہ رحمان

0
  • 44
    Shares

ہسٹیریا نامی بیماری کے بارے یقیناً سب نے سن رکھا ہو گا عام طور پر تصور یہ ہے کہ اس بیماری کا تعلق عورت کے رحم (بچےدانی) سے ہے اور صرف خواتین ہی اس مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ اسے خواتین کے غیر شادی شدہ ہونے سے جوڑتے ہیں اور کہیں تو اسے جن بھوت اور آسیب کا سایہ تشحیص کیا جاتا ہے۔

ُجدید میڈیکل سائنس ان سب باتوں کی نفی کرتی ہے، بلکہ ہسٹیریا لفظ اب میڈیکل کی زبان میں استعمال نہیں ہوتا اور اس بیماری کو conversion disorder کہتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے اس کا عورت کے رحم سےکوئی تعلق نہیں یہ بیماری نا صرف خواتین بلکہ مردوں اور ٹین ایج بچوں میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ ہمارے ملک میں چونکے خواتین میں نفسیاتی بیماریوں کا تناسب مردوں کی نسبت زیادہ ہے اس لیئے اس بیماری کا شکار بھی زیادہ خواتین ہی ہوتی ہیں۔

انسان کی ذہن میں کاپی کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے اس لے یہ کسی ایسی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جو اس مریض نے کبھی دیکھ رکھی ہو۔ اکثر لوگ مرگی اور کنورژن ڈساڈر کو ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں۔

میڈیکل کی زبان میں میں ذہنی امراض کی ایک کیٹگوری کو somatization کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کی آپ کی ذہنی کشیدگی اور سٹریس جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ہو۔ اسی کیٹگوری میں conversion disorder بھی شامل ہے۔

عام طور پر اس مرض میں مبتلا مریض ذہنی دباؤ یا کسی پریشانی کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا ذہن نا حالات کو قبول کرتا ہے اور نا ہی اس صورتحال سے بچنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے۔ ایسے میں کوئی واقعہ یا کوئی اچانک جذباتی دھکچا اس بیماری کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی سادہ مثال یوں سمجھ لیں جیسے بہت تیز وولٹیج سے اچانک کسی مشین کا فیوز اڑ جائے۔ بظاہر مشین بھی اپنی جگہ ٹھیک ہو گی اور کرنٹ بھی متواتر آ رہا ہو گا ۔ بالکل ایسے ہی اس صورتحال میں نروس سسٹم یا جسمانی اعضاء میں کوئی خرابی نہیں ہوتی۔ اسکی وجہ ذہنی اور جذباتی ذباؤ ہوتا ہے۔ اور علاج بھی یہی ہے مریض کو اس ذہنی دباؤ سے نکالا جائے۔ مریض کسی ایسی ذہنی اذیت یا تکلیف دہ صورتحال سے گزر رہا ہوتا ہے جسے برداشت کرنے کی صلاحیت اس کے اعصاب میں نہیں ہوتی اور یوں یہ ذہنی کشیدگی جسمانی بیماری کی صورت میں ظاہر ھوتی ہے۔ انسان کی ذہن میں کاپی کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے اس لے یہ کسی ایسی بیماری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے جو اس مریض نے کبھی دیکھ رکھی ہو۔ اکثر لوگ مرگی اور کنورژن ڈساڈر کو ایک ہی بیماری سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں الگ ہیں ۔ان دونوں بیماریوں کی وجوہات اور علاج مختلف ہے۔ یہ سب ایک مستند معالج تشخیص کر سکتا ہے۔

یہ بیماری ہر مریض میں مختلف انداز سے ظاہر ہوتی ہے کچھ لوگوں کو جھٹکے لگتے ہیں۔ کوئی کھڑے کھڑے گر جاتا ہے اور بظاہر بیہوش لگتا ہے۔ اور کسی مریض میں اچانک کوئی جسمانی اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ کسی کی اچانک بینائی چلی جاتی ہے تو کسی کا جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔

یہ سب جاننے کے بعد ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا مریض اداکاری کر رہا ہوتا ہے؟؟ درحقیقت ایسا نہیں ہے اور یہ سب اس مریض کی بس میں نہیں ہوتا ایسے مریض کو علاج کی ضررت ہوتی ہے۔ دوسرا خیال یہ آتا ہے ایسے تو کوئی شخص بھی ڈرامہ کر کے دوسروں کو بیوقوف بنا سکتا ہے۔ ایسا ممکن ہے مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کے اس ایک فیصد کی وجہ سے حقیقی مریض نظرانداز نا ہوں۔

روزمرہ روٹین میں ارد گرد جو مریض نظر آتے ہیں ان میں سے چند مثالیں۔ ایک ایسا طالبعلم جو اسکول میں سزا سے خوفزدہ ہو اور ساتھ ہی اس کے والدین نے پوزیشن لینے کو زندگی موت کا مسئلہ بنا رکھا ہو گویا نا وہ اس خوف کی کیفیت میں پڑھ سکتا ہے اور نہ پڑھنے کی صورت میں والدین اور اساتذہ کی سزا سے اپنے آپ کو بچا بھی نہیں سکتا ہے اور کسی امتحان میں ناکامی کے بعد اس کا ذہن بیماری میں جائے پناہ ڈھونڈے گا یہ سب وہ غیر شعوری طور پر کرے گا۔

خواتین میں شادی نہ ہونے سے یہ بیماری نہیں ہوتی۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اس صورتحال میں لڑکیوں کو جس تکلیف دہ رویوں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ اکثر ان کا ذہن برداشت نہیں کر سکتا اور صرف معاشرتی رویوں کی وجہ سے ایک صحتمند شخص ایک مریض بن جاتا ہے۔

اگر مریض خود اور مریض کے گھر والے مرض کو اچھی طرح سمجھ لیں تو علاج کا مرحلہ آسان ہو جاتا ہے۔

ایسی کسی صورتحال میں پیروں فقیروں کے چکر میں پڑنے کی بجائے کسی اچھے معالج سے رابطہ کریں۔ ایک اچھا psychiatrist آپ کو دوا دینے کے ساتھ ساتھ counselling بھی کرے گا اور behavioural therapy کے ذریعے آپ کو مشکل صورتحال میں اپنے رویے کو مثبت رکھنے کی ٹریننگ بھی دے گا۔

علاج کی ذمہ داری معالج کی ہے لیکن بحیثیت ایک انسان ہمارا کام یہ ہے کہ اپنے ارد گرد رہنے والوں اور اپنے پیاروں کو اپنے الفاظ اور رویوں سے تکلیف نہ دیں کسی کے لئے زندگی اتنے مشکل نہ بنائیں کہ وہ بیماری میں جائیں پناہ ڈھونڈے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی ذہنی صحت کا بھی اتنا ہی خیال رکھیں جتنا جسمانی صحت کا رکھتے ہیں۔

اگر آپ والدین ہیں تو اولاد کی تربیت کریں لیکن انھیں بےمقصد مقابلہ بازی کی دوڑ میں نا ہانکیں زوجین ہیں تو ایک دوسرے کی جذبات اور احساسات کا خیال کریں ایک دوسرے سے بات کریں اپنے احساسات شیئر کریں۔ کوسش کریں اپنے ارد گرد کوئی اپنی ذہنی اذیت اور تکلیف میں جذباتی طور پر اتنا تنہا نہ رہ جائے کہ اسے ایسی کسی بیماری کا سامنا کرنا پڑے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: