جیسی عوام، ویسی جمہوریت ۔۔۔۔ سراج احمد تنولی

0
  • 14
    Shares

سر ونسٹن چرچل دوسری جنگ عظیم کے دوران اور اس کے بعد برطانوی وزیر اعظم رہے، جو جمہوریت کو بد ترین نظام حکومت کہتے تھے مگر ساتھ ہی آزمائے گئے نظاموں سے بہتر قرار دیتے تھے۔

مگر اس کے بعد آج تک دنیا میں سب سے ذیادہ مقبولیت جمہوریت کو ہی حاصل ہے دنیا میں آج بھی اکثریتی ممالک میں جمہوریت کا نظام رائج ہے۔

اقوام متحدہ اپنی ویب سائٹ پر جمہوریت کی تعریف کچھ یوں کرتی ہے کہ جمہوریت خود میں ایک منزل نہیں بلکہ مسلسل سفر کا نام ہے جو افراد اور اقوام کو معاشی اور سماجی ترقی کی راہ پر لے جاتا ہے اور بنیادی حقوق اور آزادیوں کا احترام سکھاتا ہے۔

پاکستان میں بھی ہر سیاسی جماعت جمہوریت کے گن گاتی ہے اور خود کو ہی جمہوریت کا علمبردار سمجھتی ہے۔ جبکہ یہ حقیقت کے بر عکس ہے اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا جمہوری نظام دراصل جمہویت کی بھونڈی نقل ہے جس میں جمہوریت محض نام کی حد تک ہے۔ جہاں کرپٹ لوگ اثرورسوخ، پیسہ و مال دھونس اور دھاندلی کی بنیادوں پر الیکشن جیت جاتے ہیں۔ خاندان کے خاندان جمہوریت میں نہیں بادشاہت میں ہوتے ہیں۔ باپ، بیٹا یا بیٹی سب کے سب جیتیں یا ہاریں پھر بھی اسمبلیوں میں انہیں ہی بیٹھنا ہے۔ یہی چہرے یہی بہروپئے اور ہم ہی بیوقوف عوام۔۔۔۔۔۔
یہی حال پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کا بھی ہے۔ پاکستان میں مخض انتخابات کے انعقاد کو ہی جمہوریت سمجھا اور مانا جاتا ہے۔آج بھی ملک کے ۵۸ فیصد فیصلے اسمبلیوں کے باہر کیئے جاتے ہیں۔

ملکی تاریخ کے کئی اہم فیصلے آج بھی عوام سے مخفی ہیں۔ کئی بڑے بڑے فیصلے اسمبلیوں تو دور کی بات ملک سے بھی باہر ہو رہے ہوتے ہیں۔ اسلام آباد کے بجائے دوبئی، ریاض، لندن اور واشنگٹن میں کیئے جاتے ہیں۔

 نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع نہ ہوں، تعصب کا نظام نافظ ہو، گیس بجلی نہ ہو، مہنگائی کا راج ہو، نظام حکومت چلانے کا شفاف نظام نہ ہو اور قانون کی حکمرانی نہ ہو تو ایسی جمہوریت سے لوگ بد گمان ہو جاتے ہیں۔

دوستو! پاکستانی جمہوریت مخض سروں کو گننے اور ذاتی مفادات کی حامل ہے یہا ں گالم گلوچ، الزام تراشی اور تہمت کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے۔ مفادات کی خاطر قتل و غارت گری شہر شہر گلی گلی جاری ہے یہاں بچوں کی قتل و غارت گری اوربچیوں کی عصمتوں کی لوٹ پر حکمران اپنی غلطی پر شرمندگی کے بجائے گندی سیاست کرتے ہیں۔ہمارے سیاست دانوں نے جس شدت سے ذاتی یا گروہی مفادات کا پیچھا کیا اس سے ملک میں صرف غیر جمہوری ہی نہیں بلکہ آمرانہ اقدار کو فروغ ملا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ذی شعور فرد ایسی جمہوریت کو ماننے سے قاصر ہے۔ جس ملک میں پینے کا صاف شفاف پانی نہ ہو، انصاف بہت مہنگا ہو اور غریب کی دسترس سے باہر ہو، جہاں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع نہ ہوں، تعصب کا نظام نافظ ہو، گیس بجلی نہ ہو، مہنگائی کا راج ہو، نظام حکومت چلانے کا شفاف نظام نہ ہو اور قانون کی حکمرانی نہ ہو تو ایسی جمہوریت سے لوگ بد گمان ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم جمہوریت کی بقا چاہتے ہیں تو گڈگورننس قائم کرنی ہو گی۔ پارلیمنٹ کو طاقتور اور فعال بنانا ہو گا اور سیاست میں پیسے کا بڑھتا ہوا عمل روکنا ہو گا۔

جب تک ہم عوام شعور کو اپنے اندر اجاگر نہیں کرتے تب تک ایسی جمہوریت میں ہمیں ایسے ہی حکمران ملیں گے جس کے ہم لائق ہیں کیوں جمہوریت ایک ایسا ہی عمل ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: