ہنگامہ ہے کیوں برپا ۔۔۔ چوری ہی تو کی ہے: معلمہ ریاضی

0
  • 1
    Share

بٹ صاحب نے نعمت خانے داخل ہوکر طعامی نشست سنبھالی۔ زوجہ نے ککڑ بریانی اور کباب انکے سامنے رکھے۔
ابھی بٹ صاحب نے پہلا لقمہ ہی اٹھایا تھا کہ بیرونی دروازہ زور زور سے پیٹنے اور پڑوسن کی چیخ و پکار کی آوازیں آنے لگیں، ’ارے باہر نکل حرافہ، چورنی! میرا پکایا سارا کھانا لیکر بھاگ گئی، باہر آ، بتاتی ہوں تجھے میں۔۔۔‘
’بیگم! یہ کیسی آوازیں ہیں؟‘ بٹ صاحب نے حیرت سے پوچھا
’ارے کچھ نہیں‘، بیگم نے ناک پہ سے مکھی اڑائی، ’دراصل فیس بک چلاتے ہوئے، میرے دل میں خیال آیا کہ بریانی اور کباب پکانا چاہیے، ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ پڑوسن نے اسٹیٹس ڈالا ’بریانی اور کباب بنائے ہیں‘ بس یہ پڑھا تو میں اٹھی اور پڑوس میں چلی گئی، عشائیہ میز پر بریانی اور کباب نکلے ہوئے تھے۔ پڑوسن میرے لئے چائے بنانے گئی تو میں نے بریانی کی قاب اور کبابوں بھری پلیٹ اٹھائی اور گھر آگئی، بس اتنی سی بات ہے۔۔‘
دروازے پہ پڑوسن کا شور جاری تھا
’ارے بیگم! پڑوسن کو بتا تو دیتیں‘ بٹ صاحب نے اطمینان سے ذائقے دار بریانی کا پہلا لقمہ چباتے ہوئے کہا
’واہ! بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ زوجہ صاحبہ چمک کر بولیں، ’میں نے بھی تو بریانی اور کباب ہی کا سوچا تھا، کوئی فرق تھوڑی ہے، ایک ہی بات ہے‘

ـــــــــــــــــــــــ
بٹ صاحب کی زوجہ کے بھائی اقرار صاحب اسی وقت بٹ صاحب کے دروازے پہ پہنچے، پڑوسن نے ان کو سارا ماجرا سنایا، بجائے دروازے کھلوا کراپنی بہن سے پوچھنے کے، انہوں نے پڑوسن سے حجت شروع کردی، ’باجی نے کھانا اپنا کہہ کر تھوڑی اپنے میاں کو کھلایا ہوگا‘
’باجی کو شاید معلوم نہیں ہوگا کہ آپ کو بھی کھانا کھانا ہے‘
’اتنی سی بات پہ اتنا غصہ!‘
’دیکھیے! جب سے پڑوسنیں بنی ہیں تب سے ایک دوسرے کے گھر سے اچھی چیز اٹھا کر چھپالی جاتی رہی ہے، بہتر ہوگا آپ اپنے گھر میں ہر پڑوسن کا داخلہ منع کردیں‘
پڑوسن کا پارہ ساتویں آسمان تک پہنچ گیا، ’ارے کس جاہل ہونیورسٹی سے جہالت کی ڈگری لی ہے تم نے؟ تم کو اس لئے بتایا تھا کہ تم بھائی ہو، اسکی غلط حرکت کا تم سے بھی تعلق ہے کہ تمہاری بہن ہوکر ایسا کر رہی ہے، تم اسے سمجھائو گے، مگر تم تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘

’دیکھیے وہ خود اپنے گھر کی ذمےدار ہے‘، اقرار صاحب نےہاتھ جھٹک دیے، ’اور ویسے بھی اصل ذمےدار تو علاقے کا تھانیدار ہے کہ اسکے علاقے میں ایسی واردات ہوئی، آپ کو اسے بولنا چاہیے‘ یا پھر آپ تحریک چلائیں کہ کوئی پڑوسن کھانے کے ٹائم پہ کسی کے گھر داخل نہیں ہوگی، میں بہت مصروف آدمی ہوں ہزاروں لاکھوں خواتین کو کھانے کے ٹائم ایک دوسرے کے گھر جانے سے نہیں روک سکتا، ایسا کرونگا تو مجھے اپنی نوکری چھوڑنی پڑ جائے گی‘۔

پڑوسن کا سر چکرانے لگا، اتنے میں محلے کی جگت آپا بھی نکل آئی، پڑوسن نے سوچا کہ یہ سمجھدار اور دیندار خاتون ہیں یہ بہتر بات کریں گی مگر جب انکو بتایا تو وہ بولیں، ’بڑے افسوس کی بات ہے پڑوسن! تم خود کو ماہرِ طعام کہتی ہو اور اگر کوئی تمہارے کھانا کھانا چاہے تو ایسے چیخ و پکار کرتی ہو؟ توبہ توبہ! ارے دل بڑا کرو، بلکہ تم کو تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہارا کھانا لوگ اٹھا کر بھاگتے ہیں، کسی کا بد زائقہ کھانا بھلا لے گا کوئی؟ ارے تمہارے پاس تو کھانا پکانے کی صلاحیت ہے ایک نے اٹھالیا تو کیا ہوا، تم اور بنا لو۔۔۔‘

گلی کا ایک نوجوان جو باتیں سننے قریب آگیا تھا، لقمہ دیتے ہوئے بولا، ’تو اور کیا، ہمارا مذہب ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ دانے دانے پہ لکھا ہے کھانے والے کا نام، بھابھی کے نام کا ہوگا، وہ اٹھا کر لے گئیں، بس!!!‘


بٹ صاحب نے بمعہ زوجہ بریانی و کباب صاف کر کے ایک زوردار ڈکار ماری اور کہا، ’بیگم! دروازہ کھول دو، سارا محلہ ہمارے حق میں کھڑا ہے، یہی تو حق پرستی ہے ہمارے لوگوں کی، ہمیشہ ‘مظلوم‘ کا ساتھ دیتے ہیں‘
زوجہ نے دروازہ کھولا، اسے دیکھتے ہیں پڑوسن نے کہا، ’لو آگئی چورنی‘

محلے کے چچا، میاں مشرف بھی احوال معلوم کرنے بٹ صاحب کے دروازے پہ آچکے تھے، پڑوسن کی بات سنکر برہمی سے بولے، ’غلط بات کی ہے آپ نے، فوراً معافی مانگیں بہو سے۔۔۔۔ ابھی وہ پلٹ کر آپ کو کچھ کہہ دیگی تو آپ رونا شروع کردیں گی کہ بڑوں کا لحاظ نہیں ہے یہاں۔۔۔‘
زوجہ نے اپنی حمایت میں سب کو گٹر کی طرح ابلتے دیکھا تو اکڑ کر بولیں،’کھانا کھاناعذاب کردیا تم نے، اتنی دیر سے تم کو برداشت کر رہی تھی، ارے اچھا کھانا پکاتی ہو تو سکون سے کھانے بھی تو دو۔۔۔ دوسروں کو بولتی ہو! تم خود کیا کر رہی ہو؟ میرے گھر کھانا مانگنے آگئی ہو۔۔۔ چلو دفع ہو۔۔۔۔‘

پڑوسن نے گھوم کر سب کو دیکھا، سب کی نظر میں وہ شدید ترین ’قصوروار‘ تھی۔ وہ سر جھکا کر واپس گھر آگئی، گھر میں ٹی وی چل رہا تھا جس میں تیس سال حکمراں رہنے والا کہہ رہا تھا، ’اگر میری دولت ناجائز ہے تو تمہیں کیا، بس یہ بتائو، مجھے کیوں نکالا؟


نوٹ: اس تحریر کو سوشل میڈیا پہ ہونے والی علمی چوری سے لیکر ملک کے حکمرانوں کی بدترین چوری اور انکے اندھے حمایتیوں کے تناظر میں دیکھا جائے۔۔۔۔
حاصلِ کلام یہی ہے کہ چور کو روکنا ہے تو اسکے بھائی گرہ کٹ کو پہلے روکو ورنہ یہ لوگ ایسی ہی رنگ برنگی حجتیں لاتے رہیں گے.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: