انسانی علوم کی اسلامائزیشن کا چیلنج : اطہر وقار عظیم

0
  • 73
    Shares

انسانی (عقلی) علوم کی اسلامائزیشن کا براہ راست تعلق، اسلامی تصور جہاں اور اس سے جڑے سائنسی علوم کے مطالعے کے ساتھ ہے۔ باالفاظ دیگر؛ جب جب اسلام (مذہب) اور سائنس کے مابین مکالمہ کیا جاے گا، یا باہمی تعلقات کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کا بلواسطہ یا بلاواسطہ تعلق، علوم انسانی کی اسلامائزیشن کے ساتھ بھی ہو گا۔ اگر اس دلیل کے ساتھ آگے بڑھا جائے، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ مذہب اور سائنس اس باہمی ربط کا مطالعہ، علوم انسانی کی اسلامائزیشن کی طرف ایک قدم بھی ہے۔ لہٰذا علوم کی اسلامائزشن کو اس تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور جدید سائنس اور دین اسلام کے مابین؛ ہرعلمی بحث کو کھلے دل کے ساتھ خوش آمدید کرنے کی ضرورت ہے۔ تا کہ مختلف علمی اور عقلی شعبہ جات میں اسلامی تصور کو واضح انداز میں بیان کیا جا سکے اور یوں حق باری تعالیٰ کے ہر فطری (طبیعی) مظہر میں؛ متحرک کردار کی وضاحت ممکن ہو سکے۔ براہ راست موضوع پر بحث شروع کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ علوم انسانی کی اسلامائزیشن سے گزشتہ (40) چالیس سالوں کی جدوجہد کو مختصراً جائزے اور خلاصے کی صورت میں سامنے رکھا جائے تا کہ تناظر کو درست سمت رکھنے میں مدد کی جا سکے۔

علوم (انسانی) کی اسلامائزیشن کا تاریخی پس منظر:۔
اسلامائزیشن کے حوالے سے دبی دبی چنگاریاں تو دلوں میں ہمیشہ سے موجود رہیں ہیں، لیکن ان کی حدت میں اضافہ، ستر کی دھائی میں لندن میں ہونے والے اسلامی سائنسی میلے (فیسٹیول) اور لاہور میں ہونے والی، دوسری سربراہی اسلامی کانفرنس کے ذریعے ہوا۔ لیکن ان چنگاریوں نے شعلہ نوا کی مجسم صورت، اس وقت اختیار کی؛ جب علوم انسانی (تعلیم) کی اسلامائزیشن کے بارے میں، مسلم ممالک نے یکجا ہو کر سنجیدہ غور و فکر کرنا شروع کیا۔ پوری مسلم دنیا سے تعلمی و عقلی علوم سے آراستہ جید علماء نے اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس وقت سعودی عرب میں علمی فضا نسبتاً کھلی ڈھلی تھی۔ اس لیے ملائیشیا سے مشہور اسلامی سکالر سید نقیب العطاس، امریکہ سے اسماعیل الرجا الفاروقی اور ایران سے سید حسن نصر نے خصوصی شرکت کی۔ اس کانفرنس کے اعلامیے کے نتیجے میں ملائیشیا اور پاکستان میں بین الاقوامی جامعات برائے اسلامی علوم، اسلام آباد اور کوالالمپور میں قائم کی گئیں۔ جن کے ذمے سائنسی علوم کی اسلامائزیشن کے حوالے سے مزید کام کرنا تھا۔ اور اسلامی تصور جہاں کے مطابق مسلم نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کرنا تھی۔ چنانچہ علوم انسانی کی اسلامائزیشن کے حوالے سے؛ فکری و عملی کام کا آغاز؛ ان تین شخصیات کے ذریعے ہوا۔

اس سلسلے میں ملائیشیا کے مشہور اسلامی اسکالر؛ سید نقیب العطاس نے اپنی معروف کتاب ’’اسلام اور سیکولرزم‘‘ لکھی۔ انہوں نے 1987 نے اس مقصد کے لیے بین الاقوامی ادارہ برائے سائنس اور سیوالائزیشن (ISTAC) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد علوم کی اسلامائزیشن، سرگرمی کو آگے بڑھانا تھا۔ اس کے علاوہ پرجوش فلسطینی اسلامی سکالر اسماعیل الرجا الفاروقی نے؛علوم انسانی کی اسلامائزیشن کے حوالے سے سب سے زیادہ عملی کام کیا۔ انہوں نے بھی ایک بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف تھاٹ (IIIT) کے نام سے قائم کیا۔ اس ادارے کا بنیادی کام جدید سائنسی علوم کو اسلامی تصور توحید اور اسلامی تصور جہاں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنا تھا۔ بدقسمتی سے امریکہ میں موجود صیہونی لابی نے؛ انہیں اہلیہ سمیت 1985ء میں شہید کروا دیا۔ بہر حال ان کا ادارہ ابھی بھی امریکہ اور ملائیشیا میں اسلامائزیشن کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

علوم انسانی کی اسلامائزیشن کے حوالے سے اسی اور نوے کی دہائی میں فکری لحاظ سے سب سے معروف اور بلند آہنگ آواز؛ سید حسین نصر کی تھی۔ انہوں نے مکتب روایت کے تحت؛ اسلامی تصور جہاں کے مطابق علوم انسانی کی از سر نو تشریح کرنے کی پُرزور حمایت کی۔ ان کی معروف کتاب Knowledge and Secred میں بھی اسی موضوع پر بات کی گئی ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں پروفیسر نصر کی تحریروں نے جامع اور مدلل انداز سے؛ اسلام اور سائنس کے مابین تعامل کی مثبت راہیں تلاش کیں ہیں۔ نصر نے اگر جدید سائنس پر تنقید بھی کی ہے تو وہ بھی ٹھوس دلائل کی بنیاد پر کی ہے۔ وہ مسلسل اس امر پر زور دیتے آئے ہیں؛ کہ مسلمان جدید سائنس کا مطالعہ کریں اور اسلامی تصور جہاں، مشاہدہ کائنات اور تناظر عالم کے لحاظ سے جدید مغربی سائنس پر تنقید بھی کریں۔

اسی معاملے میں پروفیسر نصر کی سوچ کافی واضح ہے۔ جس کا خلاصہ درج ذیل الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:۔

  1. جدید (مغربی) سائنس اس کائنات میں موجود فطری نظم (Order) کی وضاحت کرنے والی واحد سائنس نہیں ہے۔ اس کے بجائے یہ محض فطری سائنس کی ایک ممکن اور جزوی تعبیر و تفسیر ہے جو کہ اپنی طرف سے طے کردہ مفروضاتی (Assumptions) نظام کے دائرہ کار میں ہی کام کرتی ہے۔
  2. اسلامی تہذیب، مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کی دوڑ میں اس وقت تک ہم پلہ نہیں ہو سکتی جب تک وہ خود کو تباہ و برباد نہ کرے۔ کیونکہ جو اہل فکر و نظر حضرات، اسلام کی مذہبی، فکری اور جدید سائنس کی فطرت سے واقف ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ جدید سائنس اور اسلامی تصور جہاں کے مابین براہ راست تصادم کی کیفیت موجود ہے۔
  3. جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نہ تو غیر جانبدار ہے اور نہ ہی کسی اقداری نظام سے آزاد (نیوٹرل) ہے۔ لہٰذا یہ سائنس بھی لازماً اپنے ماننے والوں اور استعمال کنندگان (وصول کنندگان) پر ایک مخصوص تصور جہاں اور اقداری نظام تھوپتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پروفیسر نصر کا اصرار ہے کہ مسلمانوں کو اسلامی فکر روایت کی حدود سے حاصل شدہ فکری و اخلاقی ہدایت کی روشنی میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کا سامنا کرنا چاہیے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان جدید سائنس میں مہارت حاصل کریں اور اس سے نظریں نہ چرائیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ جدید مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کو پرکھیں اور عام لوگوں پر واضح کریں کہ مغربی سائنس کی حقیقت کیا ہے؟ اور اس سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مسلمان سکالرز، دانشور (علماء) اور سائنسدان، معتبر اسلامی سائنس تخلیق کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

پروفیسر نصر کے علمی اور فکری کام کو ان کے نمایاں شاگرد عثمان بکر، ولیم چیتک اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے مظفر اقبال آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے 90 کی دہائی سے لے کر اب تک علوم انسانی کی اسلامائزیشن کے فریضے کو سائنس اور مذہب (اسلام) کے مابین کلیدی مباحثوں کے ذریعے زندہ رکھا ہوا ہے۔ سید حسین نصر مارچ 1995ء میں پاکستان بھی آئے تھے۔ یہاں اسلام آباد میں انہوں نے بین الاقوامی کانفرنس برائے (فروغ) سائنس میں شرکت بھی کی تھی۔ اور اپنا کلیدی (افتتاحی) خطبہ ’’اسلامی تصور جہاں اور جدید سائنس‘‘ کے عنوان سے پیش کیا تھا۔ جو کہ بعد میں پروفیسر مظفر اقبال نے اپنی کتاب ’’اسلام، مسلم سائنس اور ٹیکنالوجیا حصہ بھی بنایا تھا‘‘۔ یہاں اس کتاب کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ ’’اسلامی تصور جہاں اور جدید سائنس‘‘ کے عنوان سے کرنے کی توفیق اللہ کے فضل و کرم سے مجھے ملی ہے۔

اسلامی تصور جہاں اور جدید سائنس:
یہ کتاب، تین باہم متعلقہ اور مربوط اجزاء پر مشتمل ہے۔ ان تمام اجزاء میں اسلام، سائنس، مسلمان اور ٹیکنالوجی میں (باہمی متعاملات) کے حوالے سے مختلف پہلوئوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ کتاب کے پہلے دو ابواب (سیاق و سباق اور آفرئیسن عالم کے تعین کا مسئلہ) آگے بیان کردہ ابواب کے لیے (مزید چار گفتگوئوں کے لیے) بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں۔

اس کتاب کا دوسرا حصہ، ان مکالموں (گفتگوئوں و انٹرویوز) پر مشتمل ہے جو کہ سید محمد حسین نصر اور مظفر اقبال کے مابین (2003 تا 2007) کے درمیانی عرصے میں ہوے تھے۔ یہ مکالمے جہاں ایک طرف اسلام اور سائنس کے مابین تعامل کے حوالے سے جاری مباحثے کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں، وہاں مسلم دنیا میں؛ گزشتہ دو سالوں میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے اختیار کردہ رویوں کی بھی وضاحت کرتے ہیں، جس کے تحت نہ صرف دور جدید؛ بلکہ اس سے بھی بیشتر اسلامی تہذیب میں معتبر اسلامی سائنس کی وضاحت ملتی ہے۔

اس کتاب کا تیسرا حصہ، سید محمد حسین نصر کے ’’اسلامی تصور جہاں اور جدید سائنس‘‘ کے عنوان سے دیے جانے والے کلیدی اور افتتاحی خطبے کے متن پر مشتمل ہے۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو موضوعاتی اعتبار سے یہ کتاب ایک منفرد شان رکھتی ہے۔ کیونکہ اس کتاب میں تحقیقی مقالے (مضمون)؛ مکالموں اور ایک کلیدی خطبے (تقریر) کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔

کیا پروفیسرحیسن نصر کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
اسلامی تصور جہاں اور جدید سائنس کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے حوالے سے پروفیسر نصر کی فکر سے جزوی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اور مختلف وجوہات کی بنا پر ان کی فکر کو شعوری اور لا شعوری طو رپر مسترد بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم ان کی رائے کو یکسر نظر انداز کر دیں کیونکہ پروفیسر نصر نے جس انداز سے مسلمانوں میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو مرغوبانہ بلکہ غلامانہ ذہنیت کے تحت، اندھا دھند اپنانے کے؛ طرز عمل کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ وہ گہرے غور و فکر اور تدبر کا متقاضی ہے۔ بھلے ہم کلیتاً اسے رد نہ کر سکیں؛ لیکن یہ تو کم از کم ہمارے لیے ممکن ہے کہ ہم جدید سائنس او رٹیکنالوجی کو اسلامی تصور جہاں کی چھلنی سے گزاریں اور مفید چیزوں کو اخذ کریں اور غیر مفید چیزوں کو رد کریں۔

کیا پروفیسر نصر کی یہ بات غلط ہے کہ جدید مغربی انسان نے تسخیر فطرت کے نام پر فطرت (Nature) کو ذمہ داری سے برتنے کے بجائے، ایک رکھیل (طوائف) کے ساتھ جڑے تعلق کی طرح نبھایا ہے؟ کیونکہ ماضی میں روایتی انسان، فطرت کو اس طرح ذمہ داری سے استعمال کرتا تھا، جس طرح کہ؛ انسان کا اپنی زوجہ کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔ لیکن جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے تحت، فطرت کا استعمال ’’پہلے توڑ پھوڑ کرو، استعمال کرو اور پھر پھینک دو‘‘ کے اصول کے تحت کیا جا رہا ہے۔ جس کے انتہائی سنگین نتائج، ماحولیاتی آلودگی اور عالمی گرمائش (Globall Warming) کی صورت میں نسل انسانی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

کیا پروفیسر نصر اُس وقت غلط ہوتے ہیں؟ جب وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے اپنے مقامی ماحول کو نظر انداز کر کے مغرب کی نقالی میں، صحرائوں میں سینکڑوں منزلہ پلازے (عشرت کدے) کھڑے کیے ہیں جن کی مسلسل نگہداشت کے درکار مالی وسائل، مقامی لوگوں کی گاڑھے خون پسینے کی کمائی سے پورئے کیے جا رہے ہیں، تاکہ ان کے فاضل پرزہ جات کی خریداری کی مد میں کروڑوں اربوں روپے کی ادائیگیاں یورپی ممالک کو کیں جا سکیں۔ تا کہ ان بے فائدہ عمارات کو ٹھنڈا اور قابل استعمال رکھا جا سکے۔ کیا یہ مغربی ٹیکنالوجی کا بدترین استحصال نہیں، جو تیسری دنیا کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے۔

کیا پروفیسر نصر اس وقت غلط ہیں؟ جب وہ کہتے ہیں، کہ مغربی سائنس سے تخلیق کردہ وقت بچانے والے آلات نے؛ سب سے زیادہ انسانی وقت کو ہی ضائع کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ جدید سیل فونز کی مثال دیتے ہیں۔ جس کے تحت انسان اس روحانی احساس سے محروم ہو کر رہ گیا ہے، جس کے تحت؛ وہ اپنے خدا کے ساتھ؛ تنہائی میں مناجات میں مصروف ہوتا ہے۔ گویا اس مغربی ٹیکنالوجی نے انسان کو 24 گھنٹے ہنگاموں بھری زندگی سے جوڑ کر؛ اس کے سکون کو برباد کر دیا ہے۔

کیا پروفیسر نصر، اُس وقت غلط ہوتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ خالق کائنات نے اس کائنات کو تخلیق کر کے چھوڑ نہیں دیا۔ جیسا کہ کلاسیکی طبیعیات (نیوٹن عہد کی فزکس) کے ماننے والوں کا دعویٰ ہے، بلکہ اس نے اس کائنات کو مسلسل تھام رکھا ہے۔ اور وہ ہر لمحہ، اس میں موجود ہر ذرے کی تخلیق نو بھی کر رہا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ ذات باری تعالیٰ اس کائنات میں موجود ہر سائنسی (فطری) مظہر (Phenomenon) میں ہر لمحہ شریک ہے۔ اور اب یہ محض تصوراتی یا مفروضاتی دعویٰ نہیں رہا، آئن سٹائن کے نظریہ اضافت اور جدید کوانٹم طبیعیات کے اصولوں کے تحت، یہ آفاقی اصول مزید نکھر کر سامنے آ رہا ہے۔ جس کے تحت ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ حقیقت مزید واضح ہو رہی ہے۔ کہ کلاسیکی طبیعات پر مبنی سائنسی اصولوں اور ریاضیاتی کلیات (فارمولاجات) کے ذریعے، کسی فطری مظہر یا قانون فطرت کے مختلف خواص کی پیمائش قطعیت کے ساتھ حتمی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ ہم صرف اندازہ اور قیاس ہی لگا سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حواس خمسہ کی بنیاد پر پیمائش کرنے والے سائنسی آلات کے ذریعے حاصل شدہ معلومات قیاسی نوعیت کی ہے، جو صرف نیوٹن عہد کی مخصوص سائنسی تصور جہاں میں ہی قطعی دکھائی دیتیں ہیں۔ کوانٹم طبیعیات کے تحت قوانین عدم معینیّت (Law Of Indeterminate) اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں؛ کہ کوئی برتر جلیل القدر ہستی ضرور موجود ہے، جو ہر فطری مظہر و امر میں شریک اور متحرک ہے۔ اور ہر لمحہ اپنی مخلوقات کی تخلیق نو کے ذریعے سرگرم ہے۔ محترک ہے اور زندہ جاوید ہے۔

پس یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جس قدر موافق ماحول، اسلامی تصور جہاں کے مطابق، جدید سائنسی علوم کو ڈھالنے کا اب ہے وہ کبھی بھی انسانی تاریخ میں اس سے پہلے نہیں رہا۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اسلامی تصور جہاں کے تحت، جدید سائنسی علوم سے گہری واقفیت اور آگاہی حاصل کریں۔ اور جدید علم الکلام کے ذریعے سے، معتبر اسلامی سائنسی تخلیق کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: