شیطان۔۔۔۔ رُوحِ انکار —– سلیم احمد

0
  • 234
    Shares

سلیم احمد اس طبقۂ ادبا میں سے ہیں جو وقت کے مقبول تصورات اور فیشن میں اوڑھے نظریات کی مخالف سمت میں بڑی جرأت اور اعتماد سے چلتے ہیں۔ انکے ادبی شعور کی نمو اور تربیت اپنی روایتی تہذیب کے زندہ احساس میں ہوئی تھی اور وہ اس فہم کو اپنے زمانے کے سلگتے مسائل کے پہلو بہ پہلو معاصر زبان، مگر ڈرامائی انداز میں پیش کرتے ہیں۔

چونکہ کچھ باتیں ہمارا ذوق و ذہن الٹ جانے کی وجہ سے اب ہمارے لیئے اتنی اجنبی ہوچکی ہیں کہ اب وہ ہمیں الٹی نظر آنے لگی ہیں۔ ایسی ہی ایک سیدھی سی بات یہ ہے کہ شیطان روحِ اقرار ہے۔ وہ انسان کو ہر لمحہ جبلی و جسمانی تقاضوں پر لبیک کہنا سکھاتا ہے۔ مگر ہمارے “الٹے ذہن” کو اب یوں نظر آتا ہے کہ شیطان روحِ انکار ہے۔

“شیطان ـ روحِ انکار؟” سلیم احمد کا ایک ایسا ہی مضمون ہے جسمیں وہ اپنے زمانے کے اس مقبول عام تصور سے اختلاف کر رہے ہیں۔ شیطان جس کو رومانوی تحریک کے زیر اثر روحِ انکار سمجھا جانے لگا ہے، سلیم احمد کہتے ہیں کہ، وہ اصل میں انکار کا نہیں اقرار کا نمائندہ ہے۔
سلیم احمد کا اسلوب اتنا چونکا دینے والا ہوتا ہے انکی بات سن کر شروع میں شدید جھٹکا لگتا ہے۔ ایک دفعہ تو نہ سمجھنے والا یا ان سے اختلاف رکھنے والا بھی ان کے اس جھٹکا کرنے والے اسلوب کے آگے ڈھیر ہوکر بات سننے پر مجبور ہوجاتا تھا۔

راقم نے یہ مضمون اول بار ۱۹۸۹ میں پڑھا تھا۔ بیچ میں مختلف موقعوں پر بھی کہیں کہیں سے اسکے اقتباسات دیکھے اور اکثر کشمکش کا شکار رہا لیکن آج ایک دفعہ جب پھر اسے جم کر پڑھا تو اپنے ذہن کے جالے بھی کچھ صاف ہوئے. اب میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مضمون کی روح تک پہنچ گیا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اسے راست ذہنی کے ساتھ پڑھیں اور سلیم احمد کے ڈرامائی صورتحال پیدا کرنے والے اسلوب کی داد دیں اور ان کی اس نکتہ خیزی کو دیکھیں کہ شیطان اصلاً روحِ اقرار ہے، انکار کا نمائندہ اصل میں انسان ہے جو جبلت کی زندگی اوپر اٹھنے کی خواہش کا نام ہے۔ شیطان اسے جبلت کے آگے جھکنا اور اسکا اقرار کرنے پر مائل رہتا ہے۔
عزیز ابن الحسن


یہ ایک عام عقیدہ ہے کہ شیطان نے خدا کے حکم کو ماننے سے انکار کیا اور راندۂ درگاہ ہوا۔ ہمیشہ سے شیطان کے اس کام کو نفسی کام سمجھتا جاتا تھا۔ اور شیطان پر لاحول کی بوچھار ہوتی تھی مگر خدا رومانیوں کا بھلا کرے انہوں نے اچھائی، برائی اور حسن و قبح کے سارے معیار ہی بدل ڈالے۔ چنانچہ طوائفوں، دلالوں، ڈاکوئوں اور اُٹھائی گیروں کے ساتھ شیطان کے دن بھی پھرے رومانیوں نے کہا شیطان نے تو بڑا اچھا کام کیا، شیطان خدا کا حکم کو ماننے سے انکار نہ کرتا تو حوّا کو نہ بہکاتا۔ وہ حوّا کو نہ بہکاتا تو آدم دانۂ گندم نہ کھاتے۔ آدم دانۂ گندم نہ کھاتے تو جنت سے نہ نکلتے۔ جنت سے نہ نکلتے تو دنیا آباد نہ ہوتی۔ اور دنیا آباد نہ ہوتی تو رومانی نہ پیدا ہوتے چنانچہ شیطان تو قصہ آدم کا ہیرو ہے۔ جہاں تک شیطان کے علامتی معنوں کا تعلق ہے۔ اس کی کئی تعبیریں ممکن ہیں اور اس میں شیطان کو سراہنے کا پہلو بھی نکلتا ہے مثلاً منصور حلاج نے اسے اہلِ فراق کا سردار کہا ہے جس سے اقبال بھی متاثر ہوئے۔ محی الدین ابن عربی کے وحدۃ الوجود میں بھی شیطان کا ایک خاص مقام ہے، یعنی کہیں اس کو موحد ہونے کی حیثیت سے قبول کیا گیا ہے اور کہیں خدا کے اسم ’’مضل‘‘ کے نمائندہ کی حیثیت سے۔ لیکن رومانیوں نے شیطان کو جس خوبی کی وجہ سے سراہا وہ اس کی بغاوت ہے۔ رومانی کہتے ہیں کہ شیطان ’’روح انکار‘‘ کا مظہر ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ سب سے ’’بڑا نہیں‘‘ کہنے والا ہے۔ اور تو اور ہمارے اقبال کے حرفِ آخر کا شیطان اقبال کے مفکر اور فیلسوف قسم کے شیطان کے مقابلے پر ایک دیہاتی جاگیردار معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ہے وہ بھی اس قبل سے۔ اس کی بھی سب سے بڑی خوبی انکار ہے لیکن حقیقت بالکل برعکس یہ ہے کہ شیطان کا انکار سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ ’’نہیں‘‘ کہنا تو جانتے ہی نہیں۔ اس کا تو کام ہی ’’ہاں‘‘ کہنا ہے۔

یقیناً یہ بات آپ کو اُلٹی معلوم ہو گی۔ عام عقیدہ کی رو سے بھی اور رومانیوں کے نقطۂ نظر کے اعتبار سے بھی۔ عام عقیدہ کی تو بات چھوڑئیے۔ لیکن رومانیوں کی غلطی ابھی ظاہر ہو جائے گی۔ میرے بارے میں کچھ لوگوں کا الزام یہ ہے کہ میں چونکانے والی بات کرنے کے لیے اُلٹی سیدھی ہانکتا رہتا ہوں۔ پہلے تو میں اس قسم کی باتوں پر دل کھول کر ہنسا کرتا تھا مگر حالات اب کچھ ایسے بگڑے ہیں کہ اردو کے پروفیسران تک سے خوف آنے لگا ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ میں اپنی ہانک کی تائید میں ایک معتبر قسم کے آدمی کو بھی شامل کر لوں۔ یعنی ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کے استاد جناب ارونگ بیبٹ کو جن کی کتاب ’’رُوسو اور رومانیت‘‘ بین الاقوامی شہریت رکھتی ہے بیبٹ نے اپنی اس کتاب میں کئی جگہ مثالیں دے کر دکھایا ہے کہ رمانیوں نے کس طرح تمام پچھلے تصورات کو مسخ کر دیا۔ اس کی ایک مثال ’’انکار‘‘ کا تصور ہے۔ بیبٹ کا کہنا ہے کہ کلاسیکی تہذیب میں ’’نہیں‘‘ کہنے کے وہ معنی نہیں تھے جو رومانیوں کے ہاں مانے جاتے ہیں۔ نہیں کہنا شیطان کا کام نہیں ہے بلکہ الوہی قوت کا کام ہے. مثلاً سقراط ایک الوہی قوت کا ذکر کرتا ہے جو کبھی کبھی اس میں کام کرتی ہے۔ یہ قوت سقراط کو ہمیشہ کسی کام سے منع کرتی ہے۔ کبھی کوئی کام کرنے کا حکم نہیں دیتی۔ انسان میں ضمیر کی آواز جو اخلاق کی بنیاد ہے، ہمیشہ کسی عمل پر ’’نہیں‘‘ کہتی ہے۔

سلیم احمد کی ایک یادگار تصویر

مسئلہ کی مزید وضاحت کے لیے میرے ایک مضمون ’’اردو شاعری میں جور و جفا کی روایت‘‘ کو ایک نظر دیکھنا چاہیے۔ اس مضمون میں میں نے انسان کی تعریف یہ کی ہے کہ یہ وہ حیوان ہے جو خود اپنی مخالفت سے وجود میں آتا ہے۔ یعنی انسان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ اپنے حیوانی وجود پر بندش لگاتا ہے اور اس کے داعیات اور مقتضیات پر ’’نہیں‘‘ کہنا سیکھتا ہے۔ چنانچہ ’’روح انکار‘‘ شیطان کا نہیں۔ انسان کا نام ہے۔ اس کے مقابلہ پر شیطان کیا ہے۔ فقط اقرار ہے، وہ حیوان کے ہر داعیہ کو لبیک کہتا ہے اور ہمیشہ جسمانی، جنسی اور جبلی تقاضوں کو بغیر روک ٹوک کے ’’ہاں‘‘ کہنے۔ قبول کرنے بلکہ انھیں میں کھو جانے کی کوشش کرتا ہے۔ شیطان کی کوشش یہ ہے کہ ’’انسان‘‘ پیدا نہ ہو۔ پیدا ہو تو اتنا کمزور ہو کہ شیطان کے مقابلہ پر نہ آ سکے۔ بس شیطان جو کہتا جائے، بِلا چون و چرا اس کو مانتا چلا جائے۔ اب اقبال ہوتے تو میں بصدِ ادب ان سے کہتا کہ قصۂ آدم کو رنگین کرنے کی سعادت تو بڑی بات ہے، شیطان کی چل جاتی تو آدم پیدا ہی نہ ہوتے۔ اقبال، رومانیوں کے ساتھ اس غلطی میں کیوں مبتلا ہوئے۔ یہ تمثیل آدم کی ایک غلط تشریح کا نتیجہ ہے۔ آدم دراصل خدا کی اس روح کا نام ہے جو اس نے مٹی کے پتلے میں پھونکی۔ قرآن میں اسے ’’امر رب‘‘ کہا گیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدم خود اپنے اوپر یعنی اپنے حیوانی وجود پر پابندی عائد کرے۔ شجر ممنوعہ اس پابندی کا نام ہے جو آدم کی روح نے آدم پر لگائی ہے۔ آدم کا حیوان جنت میں جہاں چاہے کھاتا پیتا پھرتا ہے۔ لیکن پھر وہ کسی ایک چیز کے کھانے سے انکار کرتا ہے اس کے تقاضے کو ’’نہیں‘‘ کہتا ہے۔ شیطان کا فریب یہ ہے کہ وہ اس کے اس انکار کو ختم کرا دے اور ’’نہیں‘‘ کی بجائے اس سے پھر ’’ہاں‘‘ کرائے۔ حوّا کی ترغیب یہی ہے وہ آدم کو جو اخلاقی یا روحانی وجود ہے، یہ بہکاتی ہے کہ جب اس کے حیوان پر کچھ اور کھانے کی پابندی نہیں ہے تو اسے شجر ممنوعہ کو بھی قبول کرنا چاہئے اور اسے کھانے سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ آدم کے حیوانی وجود میں خود یہ تقاضا موجود ہے اس لیے وہ حوا کی ترغیب میں آ جاتا ہے اور انکار یا پابندی کو ختم کر کے پھل کھا لیتا ہے۔ یہ آدم کا زوال ہے۔ مسیحیت میں ازلی گناہ کا عقیدہ یہ ہے کہ ہر انسان آدم کے زوال کی وجہ سے حیوانی وجود میں پیدا ہوتا ہے۔ اس میں ’’روح‘‘ نہیں ہوتی البتہ روح کا امکان ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو اپنے اندر روح پیدا کر سکتا ہے۔ یہ روح اس انکار سے پیدا ہو گی جو وہ اپنے حیوانی وجود سے کرے گا۔ رومانی جب اس حرف انکار کو شیطان سے منسوب کرتے ہیں تو دراصل سارے بنیادی تصورات کو الٹ دیتے ہیں ان تصورات کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ شیطان روحانی یا اخلاقی وجود کا نمائندہ ہے۔ لیکن یہاں پہنچ کر غالباً رومانی بھی جھینپ جائیں گے۔

…چنانچہ ’’روح انکار‘‘ شیطان کا نہیں۔ انسان کا نام ہے۔ اس کے مقابلہ پر شیطان کیا ہے۔ فقط اقرار ہے، وہ حیوان کے ہر داعیہ کو لبیک کہتا ہے اور ہمیشہ جسمانی، جنسی اور جبلی تقاضوں کو بغیر روک ٹوک کے ’’ہاں‘‘ کہنے۔ قبول کرنے بلکہ انھیں میں کھو جانے کی کوشش کرتا ہے۔

میں نے کہا شیطان انکار کا نہیں، اقرار کا نمائندہ ہے۔ وہ ’’نہیں‘‘ کہنے کا اہل نہیں صرف ’’ہاں‘‘ کہتا ہے۔ لیکن اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر اس عام عقیدہ کے کیا معنی ہیں کہ شیطان نے انکار کیا جس کی تصدیق قرآن بھی کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں اپنے پڑھنے والوں کی توجہ ایک بنیادی اصول کی طرف مبذول کرائوں گا جس کو فراموش کر دینے سے ہمارے لیے بہت سے مسئلے ناقابل فہم ہو گئے ہیں۔ وہ اصول یہ ہے کہ عالم ارواح کا حکم عالمِ اجسام میں اُلٹ جاتا ہے۔ جو بات عالم ارواح جنت یا آخرت کے لیے درست ہے وہ عالم اجسام کے لیے غلط ہے۔ شریعت کے ہمارے احکام اسی اصول پر ہیں۔ بات یہ ہے کہ عالم ارواح، روح کے حکم پر چلتا ہے۔ عالم اجسام جسم کے حکم پر۔ سارے مذاہب کی غایت یہ ہے کہ عالم اجسام پر روح کا حکم غالب آئے اور روح کو جو برتری عالم ارواح میں حاصل ہے وہ عالم اجسام میں بھی حاصل ہو جائے۔ اس اصول کی روشنی میں روزِ ازل شیطان کے انکار کے معنی یہ ہیں کہ اس نے روح کا حکم ماننے سے انکار کیا۔ اس کے مقابلے پر دنیا میں انکار کے معنی ہوں گے جسم کا انکار۔ ان معنوں میں شیطان عالم بالا میں انکار کرنے والا ہے۔ نہیں کہنے والا ہے اور عالم دنیا میں اقرار کرنے والا ہے۔ اس کے برعکس آدم عالم بالا میں اقرار کرنے والا ہے اور عالم دنیا میں انکار کرنے والا۔ عالم بالا میں وہ روح کا اقرار کرتا ہے، عالم دنیا میں جسم کا انکار۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ انسان کی تعریف وجود حیوانی کی مخالفت ہے۔ یعنی انسان عالم اجسام میں جسم کا انکار کر کے یا اس پر پابندی لگا کر یا اس کو ’’نہیں‘‘ کہہ کر اس میں ’’روح‘‘ پیدا کرتا ہے اور اپنی زندگی کو عالم ارواح کے مطابق بناتا ہے۔ یہی جنت کی بازیافت ہے کیونکہ جنت روح کا مقام ہے جبکہ دنیا جسم کا مقام ہے۔ اب ہم چونکہ عالم اجسام کی حقیقت بیان کر رہے ہیں۔ اس لیے شیطان سے اگر انکار کو منسوب کر سکتے ہیں تو ایک صورت میں، جب ہم اسے ’’انکار کا انکار کرنے والا‘‘ کہیں۔ لیکن یہ بات رومانیوں سے بالکل مختلف ہو گی۔ ہمارے زمانے میں رومانیوں کے تصور شیطان کی مقبولیت کے صرف ایک معنی ہیں، آدم یعنی انسان کی مکمل شکست بلکہ موت۔ یعنی ہمارے زمانے میں شیطان کی آرزو پوری ہو گئی ہے کہ آدم پیدا ہی نہ ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: