عمورہ ——- شاہین کاظمی کا نیا افسانہ

0
  • 53
    Shares

جلتا سورج اپنی تمام تر حدت لئے نیل کے پانیوں میں اتر چکا تھا۔ بجرے پر روشن مومی شمعوں کی لَو سے اٹکھیلیاں کرتی سبک روی سے بہتی ہوا، دھیرے دھیرے اترتے ہوئے اندھیرے میں مدغم ہوتا دن کا مدھم اجالا، مشرقی اُفق پر ٹوٹی ہوئی چوڑی کی شکل کا باریک جھلملاتا چاند، تندہی سے بجرا کھینے میں مصروف تنومند حبشی غلام، لہروں کا ہلکا شور، سب بہت بھلا لگ رہا تھا۔ خادماؤں نے اُس کا تخت آراستہ کیا تو وہ بڑي نزاکت سے اپنا سلکی کتان کا باریک لبادہ سنبھالتی عرشے پر آگئی۔ ایک خادمہ نے لپک کر اُس کا سنہری جام بھر دیا۔

خدّاموں نے”یرغول” اور”سسترم” ( قدیم مصری ساز) پر عامون کی ثنا کا گیت چھیڑ دیا۔ آدھے چہرے کو باریک نقاب سے ڈھانپے، مختصر لباس پہنے ایک رقاصہ بہت مہارت سے چوبی عرشے پر تھرک رہی تھی۔ اس کا سانچے میں ڈھلا بدن اور رقص کرنے کا دلکش انداز جذبات کو بر آنگیختہ کرنے کے لئے کافی تھا۔ لیکن خدّام ایک جذب کے عالم میں آنکھیں بند کئے خوبصورت گیتوں کا سحر بکھیر رہے تھے۔ اُن کی بھاری آوازوں کے زير وبم نے عجیب سا سماں باندھ دیا تھا۔

عمورہ کی نظریں بہت دیر سے اُس خدمت گار پر ٹکی ہوئی تھیں جس کے دیوتاؤں جیسے خوبصورت جسم پر شاہی خدمت گاروں کا لباس تھا۔ اُس کا چوڑا سینہ اور کھلتا ہوا گندمی رنگ سحر طاری کرنے کے لئے کافی تھا۔ اُس نے بھی شاید شہزادی کی توجہ بھانپ لی تھی اِس لئے کچھ زیادہ مؤدب ہو گیا تھا۔ عمورہ اپنے زمانے کے طاقت ور فرعون ”خوفو” کی بہن تھی اُسے ”عامون دیوتا” کی ہمسر ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔ ہوروس نے بارہا اُسے محل میں دیکھا تھا۔ ترشا ہوا بدن اور سلکی کتان کے حریری لبادے نگاہوں کو آزاد نہیں ہونے دیتے تھے۔ گندھے ہوئے بالوں میں پروئے مہین موتی جب ہولے سے دہکتے گالوں کو چھوتے تو ایمان ڈولنے لگتا۔

ہوروس عبرانی ماں کی اولاد تھا جو ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھی لیکن وقت نے اُسے غلاموں کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔ گو کہ اُس کا باپ مصری تھا اور خوفو کے ذاتی دستے میں اعلی عہدے پر فائز بھی لیکن ہوروس اپنے ماتھے پر لگا غلامی کا داغ کبھی نہ مٹا سکا۔ اُسے اُس کے باپ کی سفارش پر دستے میں شامل تو کر لیا گيا لیکن اُس کی شمولیت محض گھوڑوں کی دیکھ بھال تک محدود تھی۔

کہتے ہیں عشق پر زور نہیں۔ غلام زادہ ہونے کے باوجود وہ عمورہ پر مر مٹا تھا۔ اُس نے پہلی بار اُسے ”من دیوتا” کے تہوار پر دیکھا تھا۔

وہ شاہی خانوادے سے ہونے کے باوجود عوام الناس میں گھل مل گئی۔ اُس کی یہی خوبی ہوروس کو چت کر گئی۔ وہ جانتا تھا اگر کسی کو اِس بات کی بھنک بھی پڑی تو اُسے صحرا میں زندہ گاڑ کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے گا۔ اُس بھیانک موت کا تصور ہی لرزا دینے کو کافی تھا۔ لیکن اِس کے باوجود شہزادی کی محض ایک جھلک دیکھنےکے لئے وہ گھنٹوں محل کی غلام گردشوں میں بھٹکا کرتا۔ وہ یرغول اتنی خوبصورتی سے بجاتا تھا کہ کائنات وجد میں آنے لگتی۔ اُس کے بھرے بھرے ہونٹوں سے لگے یرغول سے اٹھنے والی مدھر لے روح میں سماتی ہوئی محسوس ہوتی۔

رات کا دوسرا پہر ڈھل چکا تھا، لیکن تھیبس کے گلی کوچے آباد تھے۔ عامن دیوتا کا تہوار منایا جا رہا تھا۔

خوفو اپنے نذرانے اور خون کی قربانی کے لئے مینڈھا معبدِعامن کی نذّر کر چکا تھا۔ یہ تہوار عامن دیوتا کو خوش کرنے، نیل کی روانی اور مصر کی خوشحالی کے لئے منایا جاتا تھا۔ شاہی خاندان کے تمام سرکردہ افراد قربانی کی رسم میں شریک ہوتے۔ رسم کے بعد عام شہری بھی تہوار میں شامل ہوجاتے۔

اب بھی کھجور اور جو کی شراب لنڈھاتے لوگ ٹولیوں کی شکل میں عامن کی ثنا کے گیت گا رہے تھے۔

تغارچوں میں روشن شعموں سے نکلتے گاڑھے دھویں اور چربی کی سڑاند نے فضا کو قدرے بوجھل کر دیا تھا۔ لیکن نیل کے ساحلوں سے آنے والی خنک اور معطر ہوا خمار میں اضافہ کر رہی تھی۔

چوبی عرشے پر ابھی تک محفل بپا تھی۔ خادموں کے چہرے پر دھیرے دھیرے نمودار ہوتے تھکن کے آثار اورگیت کی مدھم پڑتی لے دیکھ کر عمورہ نے محفل برخاست کرنے کا حکم دیا اور جھک کر خادمہ کے کان میں کچھ کہا۔

بجرا محل کے مشرقی گھاٹ سے آ لگا تھا۔ دو خادماؤں نے عمورہ کو اُس کی خواب گاہ میں پہنچا دیا۔مشرقی دریچے پر لٹکے حریری پردوں کو چھو کر اندر آتی خنک اور بھیگی ہوااور ہلکی روشنی میں خواب گاہ بہت پرسکون نظر آ رہی تھی۔ دونوں خاماؤں نے سرد پانی سے اُس کے پیر دھلائے اورچھوٹی سی چلم نما چیز میں بھری ہوئی آگ پر لوبان اور عود ڈال کر اُس کے بالوں کو معطر کرنے لگیں۔  بستر کے ساتھ لگے میز پر انواع و اقسام کے میوہ جات اور مشروب رکھے ہوئے تھے۔ اُس کی آنکھ کا اشارا بھانپ کر خادمہ الٹے قدموں کمرے سے باھر نکل گئی۔ چند لمحوں بعد جب وہ واپس آئی تو ہوروس اُس کے ہمراہ تھا۔

عمورہ عام شاھی خواتین سے بہت مختلف تھی ۔ اُسے اِس شاہانہ زندگی سے بہت چڑ تھی۔ جس میں خواتین کو خود زیبائی اور خود نمائی کے علاوہ کوئی اور کام نہ ہوتا تھا۔

وہ خوفو کی بہت لاڈلی تھی۔ تلواربازی اور گھڑسواری میں اُس کاکوئی ثانی نہ تھا۔ وہ پہلی خاتوں تھی جو امور سلطنت میں بھائی کی برابر کی شریک تھی۔ معبدِ عامن کے کاہن اِس بات کو بہت ناپسندیدہ نگاہ سے دیکھتے۔ باقی تمام شاہی خواتین کی طرح عمورہ بھی عامن کی ہمسر یا اس کی محبوبہ تصور کی جاتی تھی۔ اُس لئے عام لوگوں سے ملنا جلنا تو دور کی بات وہ اُن سے بات بھی نہيں کر سکتی تھی۔ لیکن اُسے اکثر عوام کے مسائل سنتے دیکھا گیا اور یہ بات معبد عامن کے کاہنوں کو بھڑکانے کے لئے کافی تھی۔

کاہنوں کی ناپسندیدگی کی دوسری بڑی وجہ عمورہ کا صدیوں سے چلی آ رہی رسومات سے انحراف تھا۔ شاہی خانوادے کے خون کو صاف اور خالص رکھنے کے لئے بہن بھائی کی شادی کا رواج عام تھا۔ اِس کے لئے عموماََ چھوٹی بہن کو تر جیح دی جاتی۔

لیکن عمورہ نے بلا تردد خوفو سے شادی سے کرنے سے انکار کردیا تو شاہی قصر کے ساتھ ساتھ معبدِعامن کے درودیوار بھی لرز اٹھے۔ ایسا آج تک نہیں ہوا تھا۔ اِس سے پہلے کہ شاہی خاندان کی عزت کپڑے کی پرانی دھجیوں کی طرح مصر کے گلی کوچوں میں رُلتی پروہتِ اعظم کے کہنے پر خوفو نے اپنی بڑی بہن سے شادی کر لی اور اسے” بیس” دیوتا کا خصوصی وردان کہہ کر اہلِ مصر کا منہ مذہب کے دھاگے سے سی دیا گيا۔ لیکن کاہنِ اعظم اپنے دل میں بھرا زہر کسی طرح بھی کم نہ کرسکا۔ اُس نےعمورہ کے معبد آنے کی پابندی عائد کرنا چاہی تو خوفو بھڑک اٹھا

“معزز آپھپھے عمورہ عامن کی ہمسر اور دیوتاؤں کی منظورِ نظر ہے۔ ایسی کوئی بھی حرکت اُن کے قہر کو آواز دے سکتی ہے”

“اے خداؤں کے عکس عمورہ نے اپنے غیر فطری عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ دیوتاؤں کی نظر سے گر چکی ہے”

آپھپھے کی پھسپھسی آواز اُبھری

“بس”

خوفو کی آواز میں غصہ تھا

“دیوتاؤں کا نائب ہونے کے ناطے عمورہ کی حیثیت کا تعین مجھے کرنا ہے معزز آپھپھے”

“میں اسے محترم گردانتا ہوں اور تمام حق دینے کو تیار ہوں”

“لیکن آپ جانتے ہیں وہ اِس حرکت کے بعد کسی کو اپنا نہیں سکتی”

اپھپھے پھر سے پھسپھسایا

“جانتا ہوں”

خوفو کی آواز میں دکھ تھا۔ عمورہ اُسے بےحد عزیز تھی لیکن مذہب کے جزدان میں لپٹی رسومات گلے کا طوق بنتی جا رہی تھیں۔

ہوروس کواُس نے کسی وقتی تسکین کے لئے نہیں بلایا تھا۔ وہ واقعی اُسے پسند کرنے لگي تھی۔ اُس کا خوبصورت بدن، نیلگوں آنکھیں لمبے اور سیدھے بال دل دھڑکانے کو کافی تھے۔ وہ جانتی تھی کہ جو راہ اُس نے منتخب کی ہے وہ بہت مشکل ہے شاہی خاندان کی کوئی بھی تقصیر قابل معافی نہیں ہوتی۔ لیکن اِس کے باوجود وہ اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹا سکی۔

کمرے کے خوابناک ماحول میں اُن کی ملاقاتیں جاری رہیں۔ ہر گذرتی شام اُسے بتا جاتی کہ اِس دیوتاؤں جیسی آن بان والے شخص سے الگ رہنا کتنا مشکل ہے۔

فضا میں عجیب سا سکوت پھیلا ہوا تھا۔ آسمان کی بیکراں وسعتوں میں تنہا چاند خاموشی سےچاندنی لٹا رہا تھا۔ محل سے متصل نیل کے ساحل پر بنی سنگي سیڑھیوں پر بیٹھی عمورہ ہوروس کے کندھے پر سر رکھے یرغول کی سریلی تانوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی کہ اچانک قدموں کی تیز چاپ اُبھری۔ وہ یکدم چونک گئی۔ اُس کے چہرے پر خوف اور پریشانی تھی۔ اتنی رات گئے اِس طرف آنے والا خوفو کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ اِس مطلب تھا اُس کی خادماؤں میں سے کسی نے غدّاری کی ہے۔ ہوروس بھی اٹھ کھڑا ہوا۔ اُس کے خوبصورت چہرے کے اعصاب تنے ہوئے تھے۔

“تم پریشان مت ہونا کچھ نہیں ہو گا” وہ آہستہ سے بولی

“راع کی قسم ہوروس کی جان بھی حاضرہے وہ اپنے لئے نہیں تمہارے لئے پریشان ہے”

“ہوروس مر تو سکتا ہے لیکن شہزادی کی عزت پر آنچ آئے یہ اُسے منظور نہیں”

اُس کا لہجہ محبت کی مٹھاس میں ڈوبا ہوا تھا

خوفو سیڑھیوں تک آ چکا تھا۔ اُس کے ساتھ معبدِ عامون کا کاہن اعظم بھی تھا۔

“سنینا یہ کون ہے اور اِس وقت یہاں کیا کر رہا ہے”

خوفو نے اُسے کبھی اُس کے نام سے نہیں پکارا تھا بلکہ اُسے سنینا یعنی میری طاقت کہہ کر پکارتا تھا۔

“یہ ہوروس ہے اور میں نے عامون کو گواہ ٹھہرا کر اسے اپنایا ہے”

عمورہ کی آواز میں ٹھہراؤ تھا

“یہ میری مرضی اور میرے کہنے سے یہاں آیا ہے”

“تم عامن کی ہمسر ہو کر اِس غلام زادے کو کسطرح یہاں بلا سکتی ہو”

کاہن اعظم کی آواز میں بر ہمی تھی اُس کے ساتھ ہی اُس نے اشارہ کیا مسلح سپاہی آگے بڑھے اور ہوروس کو پکڑ لیا

“ معزز اپھپھے اگر ہوروس کو کچھ ہوا تو یاد رکھیئےگا میں عامن کی عظمت سے منحرف ہو جاؤں گی اور یہ اعلان ہر معبد میں سنائی دے گا”

وہ تن کر کاہن اعظم کے سامنے کھڑی ہوگئی

کاہن جانتا تھا کہ عمورہ کا انحراف معبد عامن کی عظمت و شوکت کو مٹّی میں ملا دے گا۔ مصرسےعامن کی حکمرانی ختم ہو جائے گی اور عامن کی حکمرانی ختم ہونے کا مطلب وہ اچھی طرح سمجھتا تھا

“معزز آپھپھے تحمل سے کام لیں جلد بازی  کام بگاڑ سکتی ہے۔ سنینا کوئی عام خاتون نہیں اس نے بارہا مصر کو بہت مشکل وقت میں سنبھالا دیا ہے”

خوفو معاملے کی سنگینی کو بھانپ چکا تھا وہ جانتا تھا کوئی بھی دھمکی یا ڈراوا عمورہ کو روک نہیں سکتا۔ اِس گنجل کو سلجھانے کے لئے تدبر اور صبر کی ضرورت تھی

“یہ معاملہ میں دیکھ لوں گا آپ اطمینان سے جائیے اور چین کی نیند سوئیے مجھ سے زیادہ شاہی خاندان کا وقار کسی کو عزیز نہیں ہے”

آپھپھے نے سپاہیوں کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ اُس کے چہرے پر ذلت اور غصے کے آثار تھے اُسے کم ازکم خوفو سے اِس بات کی توقع نہ تھی۔ اُسے یقین تھاکہ خوفو عامن اور شاہی وقار کے لئے اُس کا ساتھ دے گا

“اِس غلام زادے کی مقدس خانوادے میں شمولیت عامن کے عتاب کو آواز دے گی مصر کی زمینیں بنجر اور نیل خشک ہو جائے گا”

آپھپھے پرانے ہتکنڈوں پر اتر آیا تھا

“ معزز آپھپھے عامن کی ہمسر ہونے کے ناطے میں عامن کے مزاج کو آپ سے بہتر جانتی ہوں اور شالمون اِس بات کے گواہ ہیں” وہ بھی خوفو کی طرح اُسے نام سے پکارنے کی بجائے شالمون یعنی میری روح کہہ کر بلاتی تھی۔

معاملہ وقتی طور پر دب گيا۔ لیکن عمورہ جانتی تھی کہ معبدِ عامن کے کاہن کبھی نچلے نہیں بیٹھیں گے۔ اُسے اپنی پروا نہیں تھی۔ اُسے ہوروس کی فکر تھی۔

جہاں خوفو کا نرم لہجہ اس کی ڈھارس بندھا رہاتھا۔ وہیں وہ اپنی ذاتی کںیزوں کی غدّاری پر پریشان تھی۔ ایسا کون ہوسکتا ہے ؟ وہ جانتی تھی معبدِ عامون نے کنیز کی کسی مجبوری کو خریدا ہوگا۔ اِس سے پہلے کہ کچھ مزید برا ہو وہ اس غدّار کو پکڑنا چاہتی تھی۔

خوفو اپنی حکمرانی کے تئیسویں سال میں داخل ہو چکا تھا ۔ہر سال کی طرح اِ س سال بھی جَو کی فصل کی پہلی شراب پی کر وہ صحرائی لومڑی کے شکار کے لئے نکل گيا۔ یہ اُس کا پرانا شوق تھا۔ پچھلے سال اِسی شوق کی وجہ سے وہ مرتے مرتے بچا۔ اُس کی جان تو بچ گئی لیکن داہنا پاؤں ہمیشہ کے لئے ناکارہ ہو گيا۔ زخم بھرتے بھرتے بہت وقت لگ گیا لیکن خوفو نے اُسے اپنی کمزوری نہیں بننے دیا۔ ہر سال کی طرح اِس سال بھی وہ پورے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار کے لئے روانہ ہوا لیکن اُس کی بد قسمتی کہ اِس بار بھی وہ پوری طرح لطف اندوز نہ ہو سکا۔ اُس کی آنتوں کی سوزش کی پرانی بیماری عود آئی تھی۔ شاہی اطباء لاچار ہو گئے ہر دوا الٹا اثر کر رہی تھی۔

ہوروس ابھی تک خوفو کی ہی تحویل میں تھا۔ آپھپھے نے بارہا اُس کا مطالبہ کیا لیکن خوفو ہر بار اُسے خاموش کرانے میں کامیاب ہو گيا۔ عموررہ بھی ایک قیدی کی سی زندگي گذار رہی تھی۔ اُسے ہوروس سے ملنے اور کہیں اور جانے کی اجازت نہ تھی۔ خوفو نے اُسے یہ کہہ کر چپ کرادیا تھا کہ اُسے معاملے کو سنبھالنے کے لئے وقت درکار ہے۔ لیکن قدرت کی دی ہوئی شاید اُس کی اپنے وقت کی مہلت ختم ہو رہی تھی۔

سہ پہر کو جب عمورہ اپنی کنیزوں کے ساتھ غسل میں مصروف تھی اُسے خوفو کی طرف سے بلاوے کا پیغام ملا۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خوفو سے ملنے چل دی۔ خوفو اپنے بستر پر تھا اطباء اُس کی زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔ وہ اُسے اِس حال میں دیکھ کر سسک اٹھی

“لباس بوسیدہ ہو جائے تو اتار دیا جاتا ہے سنینا”

خوفو اسے سسکتا دیکھ کر خوشدلی سے بولا

“میں بھی اپنی روح کا بوسیدہ لباس اتار کر نیا پہننے جا رہا ہوں۔ اِس راہ میں میرے پیشرو میرے ہمسفر ہیں۔ اداس مت ہونا دوسری دنیا کے اِس سفر میں، میں راستے میں تمہارا منتظر رہوں گا”

خوفو کی آواز میں نقاہت تھی

اُس نے اُسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔ بستر کے ارد گرد کھڑے خّدام اور طبیب الٹے قدموں کمرے سے باہر نکل گئے۔ خوفو نے اپنے لبادے سے شاہی خانوادے کے لئےمخصوص پپیروس پر لکھا ایک چھوٹا سا نوشتہ اُس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ عمورہ نے سرعت سے اُسے اپنے لباس میں چھپا لیا

اگلی شب خوفو نے اپنی روح کا بوسیدہ لباس اتار دیا۔ پورے مصر میں سوگ کی فضا تھی۔ خوفو اپنا اہرام اپنی زندگی میں ہی مکمل کروا چکا تھا جو اب تک تعمیر ہونے والے تمام اہراموں میں بلندو بالا اور پر شکوہ تھا۔ چالیس دنوں بعد انتہائی نرم ونفیس کتان کی باریک پٹیوں میں لپٹا ہوا اُس کا وجود دوسری دنیا کے سفر کے لئے تیار تھا۔ سورج طلوع ہونے سے پہلے سب کو اُس کے نام کا ایک آخری جام پینا تھا ۔ اُس کے بعد نیل کے مغربی کنارے کی طرف روانگی تھی ۔ خوفو کے ماتمی جلوس میں شاہی خاندان کے افراد کے علاوہ وہ خدّام اور خادمائیں شامل تھیں جنہوں نے سفرِ آخرت میں خوفو کے ساتھ ہمیشہ کے لئے اُس کے مقبرے میں رہنا تھا۔

عمورہ بھی اپنی کنیزوں کے ہمراہ معبد عامن کے خاص ایوان میں موجود تھی۔ شاہی دستے کے خدّام اپنے مخصوص لباسوں میں ملبوس آخری جام تقسیم کر رہے تھے۔ عمورہ جام ہاتھ میں لئے آپھپھے کی طرف بڑھی

“خوفو کے سفرِ آخرت کے لئے”

دونوں نے جام بلند کیا اور لبوں سے لگا لیا

“معزز آپھپھے ظاہر سراب ہوتا ہے۔ فرق ہوتا ہے تو کھال کے پیچھے ہڈیوں کے اُس پار۔ لیکن اُسے دیکھنے کے لئے آنکھ میں گیان کی لَو کا ہونا ضروری ہے”

اُس کی آواز بہت مدہم تھی

“شالمون خاموشی سے آپ کا وار سہہ گئےلیکن عمورہ کو خاموشی کا واعظ سننے کی عادت نہیں۔ راع کی قسم عامن بھلا دیا جائے گا۔ اُس کے معبدوں کے اندھیرے میں پڑی زدر دھات بھی اُسے بچا نہیں سکے گی” اِس نے فرعونِ مصر کی مخصوص چھڑی آپھپھے کے سامنے لہرائی

“یہ بحیثت فرماروائے مصر میرا آپ سے وعدہ ہے”

عمورہ کے اشارے پر خادم نے آگے بڑھ کر معزز آپھپھپے کے ہاتھ سے جام تھام لیا۔ تلچھٹ میں کالے صحرائی بچھو کا زہریلا ڈنگ صاف نظر آرہا تھا جس کے زہرکی ننھی سے بوند اعصاب کو عمر بھر کے لئے ناکارہ کرنے کو کافی تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: