کیا اسلامی نظام کی سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے؟ خورشید ندیم کے جواب میں — مراد علوی

1
  • 1.5K
    Shares

پچھلے ہفتے ملک کے معروف کالم نگار نے ایک کالم لکھا, جس میں پیش کیا گیا مقدمہ بیش تسہیلی کا عظیم شاہکار تھا۔ تاہم انھوں نے فرانسس فوکویاما کی یاد تازہ کردی۔ فرانسس فوکویاما نے 1989 میں ” The End of History” کے نام سے ایک مضمون لکھا تھا، بعد میں اس پر ایک مبسوط کتاب بھی لکھی جو بحث و مباحثہ کا موضوع رہی۔ اس کا بنیادی تھیسز یہ تھا —جیسا کہ عنوان سے عیاں ہے— کہ تاریخ کا خاتمہ ہوچکا ہے، سرمایہ دارنہ نظام فطری اور غیر متنازع نظام کی حثیت حاصل کرچکا ہے، سرمایہ دارنہ تصورِ خیر عالمی اور مسلمہ ہے، یہی دانائی کا نکتہ عروج ہے یا کالم نگار کے الفاظ میں ”انسانیت اب اس نظام کے رحم پر ہے”۔ انھوں نے اس عظیم فتح کا اعلان تین تاریخی واقعات کے بعد کیا: انہدام روس، انہدامِ دیوارِ برلن اور Tienanmen Square massacre۔ یہ تینوں واقعات 1989 میں پیش آئے، فوکویاما نے بھی اسی سال لبرل جمہویت کی فتح کا اعلان کردیا۔ انھوں نے خود اس فتح کو کوئی rational ground نہیں دی کہ سرمایہ دارانہ نظام کس تاریخی جدلیات کا نتیجہ ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس کے لئے عالم گیر جنگیں لڑی ہیں۔ چناچہ لکھتے ہیں:

“The ruins of the Reich chancellory as well as the atomic bombs dropped on Hiroshima and Nagasaki killed this ideology on the level of consciousness as well as materially, and all of the proto-fascist movements spawned by the German and Japanese examples like the Perónist movement in Argentina or Subhas Chandra Bose’s Indian National Army withered after the war.” (Fukuyama, The End of History, 1989,10)

فوکویاما کس قدر بے باکی سے اقرار کررہے ہیں کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرا کر اس نظریہ کو مادی اور نظریاتی سطح پر زمین بوس کردیا۔ یہ تو ”مغربی دیانت” ہے کہ وہ خود تسلیم کررہے ہیں، بلکہ اس پر اگر شہادتیں جمع کردی جائیں تو صفحوں کے صفحے کالے ہوجائیں گے۔ لیکن تیسری دنیا میں سرمایہ دارنہ نظام کے دم چھلے اس کو نیلم پری سمجھتے ہیں۔ اہل مغرب تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے ‘مخالف’ نظریات کو ایٹم بم کے ذریعے پناہ کے گھاٹ اتار دیے، قتل عام کیا۔ یہ وہ عقلی بنیاد ہے جو فوکویاما اپنے نظریے کو دے رہا ہے۔ مذکورہ عبارت میں انھوں نے Perónist اور Subhas Chandra Bose کو proto-fascist کہا ہے۔ اجیت کمار رائے نے اس پر اعتراض اٹھایا ہے کہ فوکویاما تاریخ سے قطعی ناواقف ہیں۔ اس ضمن میں دوسری اہم بات یہ ہے کہ فوکویاما پرونسٹ تحریک کا ذکر اپنے مقدمے کو ثابت کرنے کے لئے کر رہے ہیں حالانکہ اس سے لبرل ڈیموکریسی دیوِ اسبتداد ثابت ثابت ہوتی ہے۔ چوں کہ فوکو یاما ان تاریخی واقعات سے اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے اس لئے وہ پرونسٹ تحریک کو بھی فاشسٹ ثابت کر رہے ہیں کیوں کہ ان واقعات کا براہ راست تعلق اشتراکیت سے تھا۔ یہاں پر فوکویاما کے پیشِ نظر اشتراکیت ہے۔

مراد علوی

پیرونیسٹ تحریک 1945 (یعنی ایٹم بم پھینکے) کے بہت بعد شروع ہوئی تھی۔ Juan Perón پہلی دفعہ 1946ء میں بھاری اکثریت سے ارجنٹینا کے صدر منتخب ہوئے۔ 1951ء میں انھوں نے پارٹی کی بنیاد رکھی اور دوبارہ بھاری اکثریت سے صدر منتخب ہوئے، لیکن 1955ء میں جمہوریت کے چیمپئن امریکہ کے حمایت یافتہ فوجی انقلاب کے ذریعے پیرون کو برطرف کرکے جلا وطن کردیا۔ یعنی یہ جمہوریت کے چیمیئن کا پرانا حربہ ہے، ترکی کی فوجی بغاوت اس کی تازہ مثال ہے عرب بہار کے بعد تو ایک سیریز ہے۔ تاہم جمہوریت صرف وہی قبول ہے جو Pro imperialist ہو ورنہ یہ کمی آمروں سے پوری کی جاتی ہے۔ تاہم ارجیب کمار اس سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر پیرونیسٹ تحریک 1951ء میں شروع ہوئی ہے تو فوکویاما کی بات کی کیا توجیہ ہے کہ ہم نے تمام فاشسٹ تحریکوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا؟ مارکسسٹ فوکویاما کے خلاف اپنا مقدمہ رکھتے ہیں چناچہ فوکویاما پر ایک جان دار تنقید مشہور فرانسیسی فلسفی ژاک دریدا کی ہے، جو انھوں نے اپنی کتاب “Specters of Marx: The State of the Debt, the Work of Mourning, and the New International”. میں پیش کیا ہے۔
دردیدا فوکویامامہ کی The End of Hisroty بہت بنیادی سوالات اٹھاتے ہیں:

If liberal democracy and free market economy appears to be as final to him , then where is that realized state? Unless Fukuyama ignores the evidence that bears massive witness “to the fact that neither the US nor the EC has attained the perfection of the universal State or of liberal democracy, nor have they even come close” – how liberal democracy finally triumph over socialism? How can one minimize “all the contradictions at work within the trade between the wealthy countries and the rest of the world”?What final answer they have found against the phenomena of pauperization and the ferocity of the “foreign debt,” ?How they have overcome the crisis of “the epidemic of overproduction” that had been pointed out in the Manifesto? What about the effects of what the Communist Manifesto (1848) called the “state of momentary barbarism” that can induce in so-called civilized societies?

The inability to master the contradictions in the concept, norms, and reality of the free market’. In which way the market is free? Where that market exists which is free? What is the essence of ‘freeness’ of market? How it is achieved? Every country expresses its respect towards free market economy, solemnizes good faith on non-barriers and against protectionism, pledges to follow truthfully the time schedule, meticulously and unanimously designed in international fora, of removing all insofar imposed tariff and non-tariff barriers for free movement of factors of production, and then seeks protection of the domestic economy from the consequences of free movement of labour. How this dichotomy is resolved before being reached at the end of history?

Why the very existence of a liberal state within an environment of democracy requires so much of arms? In which sense the system is liberal? If it is liberal, why does it require piles of lethal weapons meant for coercion? No where is the answer to the elementary question as to how these serious contradictions have been resolved before arranging ‘the orgy of self-congratulations’ due to achieving the ultimate objective?

دریدا ایک اور بنیادی نکتہ اٹھاتے ہیں کہ آخر فوکویاما کس بنیاد پر دوسرے نظاموں کی ناکامی سے سرمایہ داری کو آخری عالمی مسلمہ نظام ثابت کرتا ہے۔ دوسرے نظاموں کی ناکامی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب قیامت تک کیپٹل ازم ہی راج گرے گا۔ البتہ یہ سوالات اپنی جگہ قائم ہیں کہ کوئی نظام موجود ہے جوFree Market Economy کو جڑ سے اکھاڑ سکے۔
اس طویل مقدمہ سے سے بتانا مقصود ہے کہ فاضل کالم نگار فوکویاما کا تھیسز دہرا رہے ہیں۔ یہ کالم بنیادی طور پر سرمایہ داری نظام کو اس کی عالمگیر فتح پر خراج تحسین اور خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔

اس میں یہ اعتراف شامل ہے کہ اس نظام نے نہ صرف اسلام کو گود لے لیا ہے بلکہ اسلام کے پاس اب کہنے کو اخلاقی وعظ کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ کالم کا عنوان کافی دلچسپ ہے، گویا اسلام اشتراکیت پر موقوف کوئی نظام تھا اشترکیت کے خاتمے سے اسلام بھی قصہ ٔ پارینہ بن گیا۔ فاضل کالم نگار سرمایہ داری اور اشترکیت کے علاوہ ایک ”تیسرا نقطۂ نظر” بھی ذکر کرتے ہیں، اور مولانا مودودی کو اس کا موجد قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں صرف اردو کتابوں پر گذارا کرنے والوں کی یہ بہت بڑی خرابی ہے، ان کی خود اپنی فکر کی بنیادیں بھی اٹھارویں صدی میں پیوست ہیں اور دوسروں کے بارے میں بھی یہی گمان رکھتے ہیں۔ یہاں پر تفصیلی بحث کی گنجائش نہیں ہے لیکن مولانا مودودی کو اس ”تیسرا نقطۂ نظر” کا مؤسِس قرار دینا کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ اسلام آغاز سے ہی ایک ںطام کا دعویٰ اور ایک universal claim رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے جدید فکر کے حامل حضرات کا مطالعہ صرف استعماری دور تک محدود ہے، اس کے پچھے ان کو کچھ نظر نہیں آتا۔ چناچہ مولانا مودودی نے اس کو ایک خاص انداز میں پیش کیا ہے، جو روایتی فکر سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہے۔ تاہم مولانا مودودی کی فکر سے جزوی اختلاف کا امکان موجود ہے۔ بیسویں صدی میں ”تیسرے نقطۂ نظر” میں مولانا کی contribution اپنے ہم عصر مفکرین میں سب سے زیادہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ”تیسرے نقطۂ نظر” کے بانی ہی مولانا مودودی ہیں۔

فاضل مضمون نگار نے اشتراکیت کو سرمایہ داری کے سامنے بے بس ثابت کرکے اسلام کو بھی اشترا کیت پر قیاس کیا ہے۔ روس اشتراکیت کی تجربہ گاہ تھا اور ایران اور افغانستان ”تیسرا نقطۂ نظر” کی، ایران کا تو فوکویاما بھی مثال میں ذکر کرتے ہیں لیکن افغانستان چوں کہ اس وقت “تیسرے نقطۂ نظر” کا حامل نہ تھا، اس لئے کالم نگار اس مثال پر داد کے مستحق ہیں۔ کالم نگار کے مطابق یہ دونوں ممالک کامیاب نہیں ہوسکے۔ ”تیسرے نقطۂ نظر” کو افغانستان یا اکیسویں صدی تک محدود رکھنا تجاہل عارفانہ ہے۔ فاضل کالم نگار کو چودہ سو سالہ تاریخ کیوں نظر نہیں آتی؟ کیا ”تیسرا نقطۂ نظر” پہلی بار افغانستان میں نمودار ہوا تھا؟ کالم نگار کا یہ خیال یکسر باطل ہے۔ اس پر مستراد یہ کہ ہے ”تیسرا نقطہ نظر عالمی سطح پر کوئی کردار ادا نہیں کرسکا۔” اس کی واقعاتی حثیت سے اتفاق ہے لیکن جمہوریت کے چیمپئن نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ سب سے اہم بات، کہ یہ نقطۂ نظر فکری سطح پر سرمایہ داری اور اشتراکیت کی valid critique بھی سامنے لا سکا یا نہیں؟

کالم نگار نے اشتراکیت اور سرمایہ داری میں جو فرق ظاہر کیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر دو نظام سے ان کا تعارف واجبی سا ہے۔ ہمارے نزدیک دونوں میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے، دونوں تنویری علمیت سے برآمد شدہ ہیں۔ کالم نگار اس فرق سے جو نتائج اخذ کرتے ہیں وہ درست نہیں ہیں۔ یعنی یہ بات کہ “ماؤ کی امت کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ آدم سمتھ کے دین پر ایمان لا چکی ہے” دونوں کے تعامل کے پیچھے جو اختلاف کالم نگار کو نظر آتا ہے کیا وہ کیپٹلسٹ بلاک کے اندر موجود نہیں ہے؟ امریکہ اور یورپ کے مابین تجارتی تعلقات کی کیا نوعیت ہے؟

آگے لکھتے ہیں: اگر میں یہ کہوں کہ سرمایہ داری پر اس وقت عالمی سطح پر اجماع ہو چکا‘ تو شاید اس سے اختلاف نہ کیا جا سکے۔”

عبرت ناک صورت حال ہے۔ یہ لوگ دینی روایت میں کسی قسم کے اجماع سے انکاری ہیں، اور یہاں ایک عالمگیر اور پوسٹ ماڈرن کنڈیشن کو اجماع قراردے رہے ہیں۔ اسے Pax Americana یا Pax Europana کہنا زیادہ مناسب ہے۔ یہ زبردست فکری التباس ہے کیونکہ یہ جبر کا مظہر ہے، آزادانہ اجماع وغیرہ ہرگز نہیں ہے۔

جس کو صاحب مضمون accommodation قرار دے رہے ہیں وہ دراصل appropriation ہے، جو طاقتور کی سیاسی حرکیات کا حصہ ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس سے محکوم کی مزاحمت کے فکری وسائل کا خاتمہ ممکن بنایا جاتا ہے۔

فاضل کالم نگار اصل فوقیت سرمایہ دارنہ نظام کو دیتے ہیں، ان کے نزدیک یہی supreme good ہے۔ اس لئے باقی نظاموں کی تشریح اس کی روشنی میں کرتے ہیں۔ بلا سود بنکاری سے وہ یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ یہ بھی اسلام پر سرمایہ درانہ نظام کا بہت بڑا احسان ہے۔

سرمایہ داری کی اسلام کاری کرنے والے ابھی تک سمجھا رہے تھے کہ ”بلا سود بنکاری” اس صدی کا سب سے عظیم ‘اجتہاد’ ہے۔

کالم نگار کی سادہ فکر کی کوئی انتہا نہ رہی کہ فرما رہے ہیں: چین روس اور امریکہ کے مابین کوئی لڑائی نہیں رہی اور نظریات کی سیاست کا دور ختم ہوچکا ہے۔” یہ محض ان کی کم علمی ہے۔ یہ سرمایہ داری کو نظریاتی طور پر کمزور کرنے کا دعویٰ ہے جو کالم نگار کے بنیادی ‘عقیدے’ سے متصادم ہے۔ ان ممالک کے باہمی تعامل سے جو نتیجہ اخد کیا ہے وہ صریح طور پر باطل ہے۔ طُرفہ یہ ہے کہ ”یہ طاقت کا کھیل ہے اس کا نظریات کا کوئی دخل نہیں”۔

اگر طاقت کے پچھے نظریہ نہ ہو تو اس کے سوا بھلا وہ کون سی چیز ہے، جو طاقت حاصل کرنے پر مجبور کردے؟ سرمایہ داری جو اہداف حاصل کرنا چاہتی ہے، وہ نظریہ نہیں ہے؟ جس چیز کو کالم نگار اصول کہ رہے ہیں، کیا وہ نظریہ نہیں؟ oversimplification کی اس سے اعلی مثالیں کہاں مل سکتی ہیں جو اس کالم میں ہیں۔

سیاست میں، میرا کہنا یہ ہے کہ نظریات کا دور ختم ہو چکا“۔ یہ عین وہی تھیسز ہے، جس کا اوپر ذکر ہوا، جو فرانسس فوکویاما نے پیش کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ کسی تصورِ حیات اور اس کے قائم کردہ نظام کی مکمل فتح سے یہی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ یہ آرزو تو ہے واقعیت نہیں ہے۔ سوویٹ روس کے سقوط کے بعد اکیسویں صدی کے آغاز ہی میں سرمایہ داری نظام کی داخلی جدلیات نے عالمگیر چولا پہن کر عود کیا ہے، جو انسانیت کے اس سے کہیں زیادہ بھیانک مضمرات اور امکانات رکھتی ہے جو سرمایہ داری کو بیسویں صدی کے نصف اول میں درپیش تھی۔

کالم نگار نے ”سامراج“ کی طفلانہ توجیہ پیش کی ہے، اور سرمایہ داری کی عالمگیریت میں استعماری تاریخ سے یوں اغماض برتنا سراسر علمی دیانت کے منافی ہے۔

کالم نگار آگے بڑھتے ہوئے عجیب سادہ فکری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انھوں نے نظام اور فلسفہ حیات کی جائز تفریق قائم کی ہے، لیکن اپنی خوش فہمی کے باعث وہ اس نظام سے ایک مختلف فلسفہ اخلاق اور نظام اقدار اپنانے کی توقع بھی باندھ رہے ہیں۔ جو تصور حیات اپنی فکر کو نظام بنانے میں کامیاب ہو جائے، وہ متبادل تصور اخلاق کو اپنانے کا قطعی کوئی امکان نہیں رکھتا۔ دوسرے لفظوں میں آدم سمتھ کا ”دین“ اپنی مکمل اخلاقیات بھی رکھتا ہے۔ اس ”دین“ کی تفصیلات کو سامنے لائے بغیر صرف اخلاقیات کی بات کرنا دیانتداری کے منافی ہے۔ کالم نگار سرمایہ داری سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ”دین“ پر قائم رہتے ہوئے اپنے راستے (صراط) کے انتخاب کا اختیار تو رکھتا ہے، جو ان کے خیال میں درست بھی ہے، لیکن اس کو کسی ”صراط مستقیم“ کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ ان کے نزدیک وہ ”صراط مستقیم“ ہی ہے۔ اس پر نادانی یہ ہے کہ وہ یہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ نظام اخلاقیات اسلام سے لینے پر راضی ہو گا۔ سرمایہ داری ایک مکمل نظام ہے، جس نظام نے یورپ میں عسائی اخلاقیات کو پیوند خاک کردیا، کالم نگار ان کو اسلامی اخلاقیات سمجھ بیٹھے ہیں۔ اور مسلمانوں کو تلیقن کر رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ تصور خیر کو بطور ”اسلامی عقیدہ” قبول کرلیں۔ کیسی نادانی کی بات ہے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کبھی بھی آدم سمتھ کے ”دین“ یا مغرب کے مجموعی تصور حیات پر معروف شرائط پر گفتگو کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

یہ مضمون مسلمانوں کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ سرمایہ داری نظام کو اس کی فکر سمیت قبول کر لیں، بس ذاتی دائرے میں اپنی اخلاقیات کے جھنجھنے سے کھیلتے رہیں، اور اہل سرمایہ داری کا دل بھی بہلانے کی کوشش کریں۔ سوال یہ کہ اگر اہل اسلام کا سرمایہ داری سے کوئی نظریاتی اختلاف باقی نہیں رہا، تو اخلاقی اختلاف کی کیا معنویت باقی رہ جاتی ہے؟ ان کی مراد یہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی سرمایہ داری کو بطور مظہر حق قبول کر لیا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اخلاقیات کی آڑ لیے بغیر اسلام سے دستبرداری کا اعلان کرنا چاہیے، اور یہی ان کی منشا ہے۔ یہاں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام ایک ہی مادی اصل سے پھوٹنے والے معاشی نظام کے دو متضاد تصور تھے۔ ہر بنیادی تہذیبی تصور اتنی وسعت ضرور رکھتا ہے کہ اس میں اس طرح کے تضادات بھی سامنے آ سکیں۔ لیکن اشتراکیت اور سرمایہ داری نظام دونوں ایک ہی مادی اور سیکولر تصور حیات کے دو متضاد مظاہر تھے۔ اور تاریخی سفر نے یہ تضاد دور کر دیا۔ کیا یہ بات اسلام اور سرمایہ داری کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔

فاضل کالم نگار نے جس طرح اسلام کو بطور نظام پیش کرنے والوں کو تہذیبی قافلے کے بچھڑے ہوئے لوگ قرار دے کر اہل حق پر طنز کیا وہ ان کی اپنی ناخواندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ سرمایہ داری نظام کی موجودہ حرکیات سے قطعی نابلد ہیں۔ سرمایہ داری بطور نظام قبول ہے لیکن اسلام نہیں۔ یہاں پر ان کی پوزیشن بالکل واضح ہے لیکن جب ان کو استعماری حاشیہ بردار کے معقول لقب سے نوازا جاتا ہے تو پھر ناراض ہوتے ہیں۔ ورنہ یہ کالم اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے۔

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. مشا اللہ فاضل کالم نگار زمانہ طالبعلمی اتنا خوبصورت مدلل بات کرتے ہیں جب استاد بنے گے تو کیا ستم ڈھاءینگے ۔۔۔۔۔۔ ماشا للہ لگتے ہیں کسی گہری فکری راہنماءی سے وابستہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بات کو رد کرنا اور اپنی بات کہنے کا سلیقہ خوب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔محسوس ہوتا مطالعہ میں بہت گہراءی ہے ۔ اور سب سے بڑی بات اسلامین ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: