میڈیا پہ خواتین کا کردار: کیا یہ تذلیل نہیں؟ شاہنواز فاروقی

0
  • 148
    Shares

جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کی تذلیل کو کلچر بنادیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جدید خواتین کی اکثریت کو اپنی تذلیل کا احساس نہیں۔ کوئی چیز جب کلچر بن جاتی ہے تو عام لوگ اس کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کلچر کیسے غلط ہوسکتا ہے؟ اس کی ایک مثال غلامی کی تاریخ ہے۔ اس تاریخ میں غلامی صدیوں کا سفر طے کرکے کلچر بن گئی تھی، چنانچہ غلاموں کو محسوس ہوتا تھا کہ غلامی ایک “فطری حالت” ہے، ایک ازلی و ابدی فطری حالت، جس سے نجات حاصل کرنے کا خیال بھی اکثر غلاموں کے ذہن میں نہیں آتا تھا۔

چونکہ غلامی کے ادارے کی پشت پر جدید ذرائع ابلاغ یا نام نہاد Mass Media کے پروپیگنڈے کا جادو نہیں تھا، اس لیے غلام بہرحال اپنی غلامی کا جشن نہیں مناتے تھے، اسے Celebrate نہیں کرتے تھے۔ مگر جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کی تذلیل کے کلچر میں اتنے بیل بوٹے اور شہرت و ترقی کے اتنے قمقمے لگا دیے ہیں کہ جدید عورتیں اپنی تذلیل کے کلچر کو Celebrate کرتی نظر آتی ہیں۔

انہیں محسوس ہوتا ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ ان کی تذلیل نہیں کررہے بلکہ انہیں ’’آزاد‘‘ کررہے ہیں، ان کی عزت افزائی کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں جدید ذرائع ابلاغ کا کمال یہ ہے کہ وہ عورت کی تذلیل کا کلچر بھی پیدا کرتے ہیں، اس کے خلاف معاشرے میں مجرمانہ ذہنیت کو بھی پروان چڑھاتے ہیں، اور پھر زینب جیسی مظلوم بچیاں Rape اور قتل ہوتی ہیں، خواتین پر مجرمانہ حملے ہوتے ہیں اور انہیں جنسی سراسیمگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو جدید ذرائع ابلاغ اس پر ماتم کرکے اسے بھی فروخت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے ہمیں رئیس فروغ کا شعر یاد آجاتا ہے۔

رئیس فروغ نے کہا ہے:

جی میں آتا ہے کسی روز اکیلا پا کر
میں تجھے قتل کروں پھر ترے ماتم میں رہوں

قصور کی مظلوم زینب کے قاتل نے بھی یہی کیا۔ جدید ذرائع ابلاغ بھی یہی کرتے ہیں۔ زینب پر ظلم کرنے والا بالآخر پکڑا جاتا ہے، مگر جدید ذرائع ابلاغ نہیں پکڑے جاتے۔ زینب پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے کو سزا مل جاتی ہے، مگر جدید ذرائع ابلاغ سزا سے محفوظ ہیں۔ لیکن ان باتوں کا مفہوم کیا ہے؟

ہندو ازم دنیاکا قدیم ترین مذہب ہے۔ ہندو ازم میں عورت دُرگا ہے، لکشمی ہے، سرسوتی ہے، کالی ہے… یہ سب ہندو ازم کی دیویاں ہیں۔ ہندو ان تمام دیویوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اس سے نیچے ہندو ازم میں سیتا ہے جو شوہر پرستی، صبر اور تقویٰ کی علامت ہے۔ ساوتری ہے جس نے ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق موت کے فرشتے سے اپنے شوہر کی روح واپس لے لی کیونکہ وہ اپنے شوہر کے بغیر زندہ رہنے کا تصور نہیں کرسکتی تھی۔ ہندو ازم میں عورت رادھا ہے، میرا ہے۔ دونوں شری کرشنا سے عشق کی علامتیں ہیں۔

عیسائیت کی تاریخ میں حضرت مریمؑ ہیں۔ اسلام میں عورت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہے۔ اسلام کی تاریخ میں حضرت عائشہؓ ہیں۔ حضرت عائشہؓ کا علم ایسا ہے کہ اکابر صحابہؓ ان سے مشورہ کرتے تھے۔ ہمارے فقہ کا ایک چوتھائی حضرت عائشہؓ سے فراہم ہوا ہے، اور دنیا کی تاریخ میں حضرت عائشہؓ کے جیسے علم کی مثال خواتین میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔

اسلام کی تاریخ میں حضرت فاطمہؓ ہیں۔ وہ ایک جانب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیٹی ہیں، دوسری جانب حضرت علیؓ کی شریکِ حیات ہیں، تیسری جانب حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ کی والدہ ہیں۔ اسلام کی تاریخ میں امہات المومنین ہیں، رابعہ بصریؒ ہیں۔

مذاہب کی تاریخ میں عورت ماں ہے جس کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔ عورت بیوی ہے جس کے بغیر خاندان کے ادارے کا، اور خاندان کے ادارے کے بغیر انسانی تہذیب کا تصور محال ہے۔ عورت بہن ہے، بیٹی ہے۔

عورت کے ان تمام کرداری نمونوں میں ایک تقدس ہے، ایک عظمت ہے، ایک وقار ہے، ایک تکریم ہے، ایک بے پناہ حسن ہے۔ دنیا میں شاعری سے بڑے آرٹ کا تصور محال ہے۔ دنیا میں ہزاروں سال سے ہزاروں زبانوں میں عشقیہ شاعری ہورہی ہے۔ اس شاعری کا مرکز عورت ہے۔ اس عورت کی معنویت اور جمالیات ایسی ہے کہ اب تک کروڑوں شاعر اسے بیان نہیں کرپائے ہیں۔

عورت کے ان کرداری نمونوں پر ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور مزید ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، مگر بدقسمتی سے جدید مغرب اور اُس کے پیدا کردہ تصورِ عورت اور اس کے وضع کردہ جدید ذرائع ابلاغ نے عورت کے تمام کرداری نمونوں، اس کے تمام تر تقدس، اس کی تمام تر عظمت اور اس کے تمام تر وقار کو فراموش کردیا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ایک تخلیقی انسان، ایک شاعر، ایک ادیب، ایک سائنس دان، ایک ڈاکٹر، ایک انجینئر، ایک استاد اور ایک پیشہ ور یعنی ایک Professional کی حیثیت سے بھی پیش نہیں کررہے۔ ایک دانش ور، ایک اسکالر، ایک صحافی کی حیثیت سے بھی اس کو فلم، ڈرامے، دستاویزی فلم اور ٹاک شوزمیں پیش نہیں کررہے۔

اب عورت صرف اداکار ہے، گلوکار ہے، ماڈل ہے، کیٹ واک کرنے والی ہے، ٹی وی کی Presenter ہے۔ بدقسمتی سے عورت ان کرداروں میں بھی پیشہ ور بعد میں ہے، پہلے وہ ایک Sex Symbol ہے، ایک شے یا ایک Product ہے۔ ایسی Product جس کے ذریعے سرمایہ دار اپنی مصنوعات فروخت کررہے ہیں، اشتہارات بنانے والے عورت کا جسم بیچ رہے ہیں، اس کے جسمانی اعضا فروخت کررہے ہیں، اس کی مسکراہٹ سے مال کما کر دے رہے ہیں، اس کی ادائوں کو “بازاری” بنا رہے ہیں۔

یہی کچھ کیٹ واکس میں ہورہا ہے۔ ہمارے ٹیلی ویژن چینلز کیٹ واکس کی خبر نشر کرتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ کیٹ واکس میں ماڈلز نے اپنے حسن کے جلوے بکھیرے۔ یعنی ہمارے چینلز کیٹ واکس کرنے والی خواتین کو جنس کی علامت یا Sex Symbol سے آگے نہیں پہچانتے۔

لتا منگیشکر بھارت کی پوری فلم انڈسٹری پر پچاس سال تک چھائی رہیں۔ انہوں نے اس دوران پانچ ہزار سے زیادہ گیت گائے، مگر ان کا تشخص ہمیشہ ان کی اہلیت، صلاحیت یا Talent رہا۔ چونکہ انہوں نے کبھی خود کو Sex Symbol کے طور پر پیش نہیں کیا اس لیے انہیں کبھی کسی نے Sex Symbol نہیں سمجھا۔ مگر جدید فلموں اور جدید ٹیلی ویژن نے گلوکاروں تک کو گلوکاروں سے کہیں زیادہ جنس کی علامت بنادیا ہے۔

وحیدہ رحمن بھارت کی تین بڑی فلمی اداکارائوں میں سے ایک ہیں۔ وہ فلموں میں آئیں تو انہوں نے بغیر آستین اور Half Sleeve کا بلائوز پہننے سے انکار کردیا۔ ڈائریکٹر نے کہا کہ بی بی یہ فلم ہے کوئی مذہبی ادارہ نہیں۔ مگر وحیدہ رحمن نے کہا کہ جو آپ کہہ رہے ہیں وہ ممکن نہیں۔ وحیدہ رحمن کا یہ مؤقف مذہبی یا اخلاقی مؤقف نہیں تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ جسم کی نمائش ہمارا “کلچر” نہیں۔ مگر اب 99 فیصد فلموں کی اداکارائوں کے لیے لفظ کلچر کا بھی کوئی مفہوم نہیں، چنانچہ وہ اپنی فلموں میں کروڑوں نفسیاتی Vultures کی بھوک مٹانے کا کام انجام دیتی ہیں۔

بلاشبہ فلم پہلے دن سے تفریح کا ذریعہ اور پیسے کا کھیل ہے، مگر آج سے چالیس، پچاس سال قبل تفریح اور سرمایہ کے اس کھیل کی بھی کچھ اقدار تھیں۔ اس سلسلے میں دو مثالوں سے بات واضح ہوجائے گی۔

بھارت نے گزشتہ سو سال میں جو 20 بڑی فلمیں تخلیق کی ہیں “مدر انڈیا” اُن میں سے ایک ہے۔ اس فلم میں نرگس نے “بھارت کی روح” کا اظہار کرنے والا کردار نبھایا ہے۔ بھارت کی روح کیا تھی؟ مدر انڈیا کے مطابق بھارت کی روح یہ تھی کہ عورت جدوجہد، صبر، مزاحمت اور حیا کی علامت ہے اور شوہر پرستی میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ نرگس شوہر کی عدم موجودگی میں اپنے دو بیٹوں کو خون پسینہ ایک کرکے تنہا پالتی ہے۔ سماج اور اُس کے درندوں سے لڑتی ہے۔

لیکن جب اس کا ایک بیٹا ایک درندے سے انتقام لینے کے لیے اُس کی بیٹی کو اغوا کرتا ہے تو نرگس ایک لمحے میں اپنے جگر گوشے کو گولی مار دیتی ہے۔ وہ کہتی ہے ’’میں سب کچھ برداشت کرسکتی ہوں مگر عورت کی بے تکریمی نہیں۔‘‘ مدر انڈیا کے ایک گیت کے بول ہیں:

دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا
جیون ہے اگر زہر تو پینا ہی پڑے گا
عورت ہے وہ عورت جسے دنیا کی شرم ہے
سنسار میں بس لاج ہی ناری کا دھرم ہے
زندہ ہے جو عزت سے وہ عزت سے مرے گا
دنیا میں ہم آئے ہیں تو جینا ہی پڑے گا
جیون ہے اگر زہر تو پینا ہی پڑے گا

اس گیت کے بول بتا رہے ہیں کہ مدر انڈیا “شرم” کو عورت کا “مذہب” قرار دے رہی تھی۔ مدر انڈیا 1757ء میں نہیں، 1957ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی، مگر آج انڈیا کی روح “حیا” نہیں “بے حیائی” ہے، اور بھارت کی فلم انڈسٹری اس کا سب سے بڑا مظہر اور مرکز ہے۔ مغرب کے اثرات نے صرف 60 سال میں بھارت کے کلچر کو Vulture بنا کر کھڑا کر دیا ہے۔

بھارت کی ایک فلم “پہچان” تھی۔ یہ فلم 1970ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے ایک گیت کا ایک حصہ ملاحظہ کیجیے:

وہ پری کہاں سے لائوں، تری دلہن جسے بنائوں
کہ گوری کوئی پسند نہ آئے تجھ کو
کہ چھوری کوئی پسند نہ آئے تجھ کو
٭٭

نام اس کا کمل
جیسے گنے کی فصل
جیسے کھلا ہے گلاب
دیکھ پورا ہے پنجاب
دیکھ روپ کی امنگ
جیسے تتلی کے رنگ
جیسے میٹھی ہو کھجور
ایسا مکھڑے پہ نور
بول ہے منظور؟
یہ تو ناچے چھم چھم
مرا نکلے ہے دم
اسے بھنگڑا کون نچائے
یہ گنگا رام کی سمجھ میں نہ آئے
٭٭

یہ تو سندھ سے ہے آئی
پڑھی بی اے کی پڑھائی
تنگ کرتا پجاما
یہ تو چھوکری ہنگامہ
جیسے تتلی کے رنگ
جیسے اڑتی پتنگ
جیسے کوئل کی کُو
جیسے کھِلے خوشبو
کہتی آئی لو یو
ہے پر بھُو، ہے پربھُو
تُو ہی تُو‘ تُو ہی تُو
ایسے نخرے کون اٹھائے
یہ گنگا رام کی سمجھ میں نہ آئے

اس گیت میں گنگا رام ’’قدیم ہندوستان‘‘ ہے اور اس کے لیے پیش کی جانے والی ’’ممکنہ دلہن‘‘ جدید ہندوستان کی علامتیں۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ فلم میں بھی قدیم ہندوستان جدیدیت کی علامتوں کے عیب بیان کرکے انہیں مسترد کردیتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ یہ گنگارام کی پسند نہیں ہے۔ مگر آج بھارت کی فلمیں عورت کو صرف ’’جنسِ بازار‘‘اور ایک ’’شے‘‘ کے طور پر پیش کرکے اس کی تذلیل کی داستان رقم کررہی ہیں۔

جدید ذرائع ابلاغ میں عورت کے پانچ توہین آمیز Images موجود ہیں۔ پہلے امیج میں عورتوں کی پیشکش ایسی ہے جیسے وہ کہہ رہی ہوں Watch us if you can۔ عورت کے دوسرے امیج میں خواتین کی پیشکش ایسی ہے جیسے وہ دیکھنے والوں سے کہہ رہی ہوں Desire us if you can۔ تیسرے امیج میں خواتین کی پیشکش ایسی ہے جیسے وہ ناظرین کو پکار رہی ہوں اور کہہ رہی ہوں Touch us if you can۔ عورتوں کا چوتھا اور پانچواں امیج ایسا ہے جس کا بیان ممکن نہیں، لیکن تین Images کو سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ باقی دو مرحلے کیا ہوں گے؟

ظاہر ہے کہ مذہب، اخلاق اور تہذیب سے عاری انسانوں کو فلم کے پردے اور ٹی وی کی اسکرین پر موجود خواتین تک رسائی میسر نہیں آسکتی، چنانچہ وہ اپنے ماحول میں موجود بچوں اور خواتین کو نشانہ بناتے ہیں۔ جس طرح ایک جگہ کا غصہ دوسری جگہ نکلتا ہے اسی طرح ایک جگہ کی بھڑکی ہوئی آگ کسی اور مقام پر بربادی پھیلا دیتی ہے۔

مذہبی طبقات کو پسند ہو یا نہ ہو، اداکاری، گلوکاری، ماڈلنگ، یہاں تک کہ کیٹ واک بھی اب ایک پیشہ یا Profession کہلاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں خواتین کی توہین اور تذلیل صرف انہی شعبوں تک محدود نہیں۔ مغرب زدگان عورت کو تذلیل کی اس سے بھی نچلی سطح پر لے گئے ہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال قندیل بلوچ ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ قندیل بلوچ نہ اداکارہ تھی، نہ گلوکارہ تھی، نہ ماڈل تھی، نہ Ramp پر Walk کرنے والی تھی۔ اس کی ساری شہرت یا بدنامی جسم کی نمائش کی بھونڈی کوششوں تک محدود تھی۔ لیکن روزنامہ ڈان کراچی کے ممتاز کالم نگار عرفان حسین نے 23 جولائی 2016ء کی اشاعت میںTaboos and Icons کے عنوان کے تحت شائع ہونے والے کالم میں قندیل بلوچ کو Icon قرار دیا۔

انہوں نے لکھا:

“But in death Qandeel has achieved an Iconic status, while her many critics will soon be for gotten.”

Icon انگریزی کا اتنا بڑا لفظ ہے کہ اسے قوموں کی تعریف متعین کرنے والی یا قوموں کو Define کرنے والی شخصیات کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ لیکن شو بزنس میں اگر اس لفظ کو استعمال کیا جائے تو دلیپ کمار اور امیتابھ بچن، یا کم سے کم محمد علی اور وحید مراد کے لیے ہی اس کا استعمال ہوسکتا ہے۔

گلوکاروں میں محمد رفیع، لتا منگیشکر اور نورجہاں سے کم کی سطح پر اس لفظ کا استعمال نہیں ہوسکتا۔ اداکارائوں میں مینا کماری، وحیدہ رحمن، روحی بانو یا عظمیٰ گیلانی ہی Icons کہلانے کی مستحق قرار پا سکتی ہیں۔ مگر ڈان کے عرفان حسین نے، جو ممتازترقی پسند ادیب اور نقاد اختر حسین رائے پوری کے فرزند ہیں، قندیل بلوچ جیسی عورت کو Icon بنا ڈالا ہے۔ یہ مذہب، اخلاق اور تہذیب ہی کی نہیں، لفظ Icon بلکہ اداکاری، گلوکاری اور ماڈلنگ تک کی توہین ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے مغرب زدہ طبقات اور جدید ذرائع ابلاغ ہمارے معاشرے، اس کی اقدار، اس کے Ideals اور خود جدید فنون تک کے خلاف کیسی سازشیں کررہے ہیں اور وہ ہماری عورتوں کو کس حد تک ذلیل کردینا چاہتے ہیں۔

 

لیکن آپ عرفان حسین کو اس سلسلے میں “آخری حد” نہ سمجھیں۔ میر شکیل الرحمن کے انگریزی اخبار “دی نیوز” نے 9 جولائی 2017ء کی اشاعت میں قندیل بلوچ پر پورا صفحہ شائع کیا۔ اس صفحے پر عافیہ شیر بانو ضیاء نے A year after Qandeel Baloch کے عنوان سے مضمون تحریر کیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس پورے مضمون کی اشاعت ہی ایک سوال ہے، لیکن اس مضمون کے دو اقتباسات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔

عافیہ شیر بانو نے لکھا:

“How do you shame a woman who is proud of her body and offer to publicise her sexuality as a national duty.”

ترجمہ: ’’آپ ایسی عورت کو کیسے شرمندہ کرسکتے ہیں جو اپنے جسم پر فخر کرتی ہے اور جو اپنی جنسیت یا Sexuality کو ایک قومی فریضے کے طور پر مشتہر کرنے کی پیشکش کرتی ہو۔‘‘

یہ عورت کی تذلیل اور توہین کا ایک بالکل نیا تجربہ اور نیا منظر ہے، اس لیے کہ عافیہ شیر بانو ضیاء کے نزدیک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں عورت کے جسم کی نمائش ایک قومی فرض کی حیثیت رکھتی ہے، یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کا نفاذ قومی فرض ہو نہ ہو، عورتوں کے جسم کی نمائش ایک قومی فرض ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ برّی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ نے 6 ستمبر 2017ء کے دن جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’ہمیں معلوم ہے کہ ہم لا الٰہ الااللہ کے وارث ہیں‘‘۔ مگر پاکستان کا ایک انگریزی اخبار جسم کی نمائش کرنے والی قندیل بلوچ کو Icon قرار دے رہا ہے اور دوسرا انگریزی اخبار جسم کی نمائش کو قومی فرض باور کرا رہا ہے۔ لاالٰہ الااللہ کے ورثے اور جسم کی نمائش کے قومی فرض ہونے میں جو گہرا ربط ہے، وہ ظاہر ہے۔ اس مرحلے پر ہماری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم جنرل باجوہ کی طرف دیکھیں یا ڈان اور دی نیوز اور اُن کے کالم نویسوں کی طرف!

ہمیں یاد آیا کہ سپریم کورٹ کے ایک معزز جج (غالباً جسٹس فائز عیسیٰ) نے بھی فرمایا تھا کہ وہ دیکھیں گے کون ملک کی نظریاتی بنیادوں پر حملہ کرتا ہے۔ کیا کوئی شخص جنرل باجوہ اور سپریم کورٹ کے تمام ججوں تک ہمارا یہ کالم پہنچا سکتا ہے؟ لیکن دی نیوز کی عافیہ شہربانو ضیاء صرف عورت کے جسم کی نمائش کو قومی فریضہ باور کراکے نہیں رہ گئیں، انہوں نے ایک اور اہم بات تحریر کی ہے،

انہوں نے لکھا ہے:

“More women like her (Qandeel Baloch) must survive and be supported to change the narrative around sexual independence and gender equality.”

ترجمہ: ’’اس کی (یعنی قندیل بلوچ) طرح کی مزید خواتین کو زندہ رہنا چاہیے اور جنسی آزادی اور صنفی مساوات سے متعلق بیانیے کی تبدیلی کے لیے ان کی مدد کی جانی چاہیے۔‘‘

مطلب یہ کہ عافیہ شہربانو قندیل بلوچ کی موت سے مایوس نہیں، بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ قندیل بلوچ جیسی مزید خواتین میدان میں آئیں اور معاشرہ زندہ رہنے میں اُن کی مدد کرے تاکہ جنسی آزادی اور صنفی مساوات کی منزلیں سر کی جاسکیں۔ تجزیہ کیا جائے تو یہ معاشرے کی تمام لڑکیوں اور خواتین کو قندیل بلوچ بنانے کی خواہش، منصوبہ اور عزم ہے۔

آپ نے دیکھا ہمارے جدید ذرائع ابلاغ عورت کی تذلیل اور اس کی توہین کو کس طرح ایک کلچر میں تبدیل کرنے کے لیے دن رات ایک کررہے ہیں۔ آپ اگر مذہبی، اخلاقی یا تہذیبی انسان ہیں تو یہ باتیں پڑھ کر پریشان نہ ہوں۔ شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن گھسا دیں اور سمجھ لیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مذہب، اخلاق، کردار اور اقدار کو سیکولر اور لبرل عناصر اور جدید ذرائع ابلاغ سے کوئی خطرہ نہیں…

لیکن ٹھیریے… سوال تو یہ بھی ہے کہ جو کچھ ہورہا ہے کیوں ہورہا ہے؟ اور کون کررہا ہے؟

اس سلسلے میں ہم مغرب کے ممتاز ادیب، نقاد اور عبقری یعنیGenius کہلانے والے ڈی ایچ لارنس سے رجوع کرتے ہیں۔ لارنس نے اپنے بے مثال مضمون Give her a pattern میں لکھا ہے کہ خواتین ہمیشہ وہ بن جاتی ہیں جو مرد انہیں بنانا چاہتے ہیں۔ مرد انہیں قربانیاں دینے والی مائیں بنانا چاہتے ہیں تو عورتیں قربانیاں دینے والی مائیں بن جاتی ہیں۔ وہ انہیں پرہیزگار عورتوں میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو وہ ایسی ہی بن جاتی ہیں۔ مرد انہیں مثالی سیکرٹری کے روپ میں پسند کرتے ہیں تو وہ مثالی سیکرٹری بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ یہاں تک کہ مرد عورت کو طوائف بنانا چاہتے ہیں تو وہ خود کو پست بنا لیتی ہے تاکہ مردکو خوش کرسکے۔

خواتین ہمیشہ وہ بن جاتی ہیں جو مرد انہیں بنانا چاہتے ہیں۔ مرد انہیں قربانیاں دینے والی مائیں بنانا چاہتے ہیں تو عورتیں قربانیاں دینے والی مائیں بن جاتی ہیں۔ وہ انہیں پرہیزگار عورتوں میں ڈھالنا چاہتے ہیں تو وہ ایسی ہی بن جاتی ہیں۔ مرد انہیں مثالی سیکرٹری کے روپ میں پسند کرتے ہیں تو وہ مثالی سیکرٹری بن کر کھڑی ہوجاتی ہیں۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو جدید ذرائع ابلاغ، جدید ریاست اور جدید سیاست کی دنیا بدمعاش اور عیاش مردوں کی دنیا ہے۔ اس دنیا کی پشت پر ہزاروں ڈالرز کا سرمایہ ہے۔ بدمعاش مردوں اور سرمائے کی طاقت کی یکجائی عورتوں کو وہ بنا رہی ہے جو کہ کروڑوں عورتیں بن رہی ہیں۔ یہ عورتیں جس چیز کو جنسی آزادی کہہ رہی ہیں وہ جنسی آزادی نہیں، جنسی غلامی ہے۔ جو عورتیں سمجھ رہی ہیں کہ وہ ’’صنفی مساوات‘‘ کی حامل ہوا چاہتی ہیں انہیں معلوم نہیں کہ بدمعاش مردوں اور سرمائے کا ہولناک ملاپ انہیں انسانیت کے مرتبے سے گراکر صرف ایک ’’شے‘‘ میں ڈھال رہا ہے، ایسی شے جو بدمعاش مردوں یعنی گِدھوں کی ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی بھوک مٹانے کے کام آرہی ہے، اور جو کروڑوں لوگوں کو کسی نہ کسی شے کا ’’صارف‘‘ بنانے کے لیے بروئے کار آرہی ہیں۔ اس صورتِ حال میں نہ کوئی انسانیت ہے، نہ تہذیب، نہ کلچر، نہ آزادی، نہ مساوات۔ اس منظیقی ہے۔

اقبال نے کہا ہے:

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحرِ بیکراں ہے زندگی

اقبال کا شعر بتا رہا ہے کہ آزادی میں زندگی بحرِ بیکراں بن جاتی ہے۔ آزادی وہاں ہے جہاں عورت تاریخ کا بڑا کردار بن سکتی ہے، جہاں عورت تہذیب کا محور قرار پا سکتی ہے، جہاں عورت کو ماں، بیوی، بیٹی اور بہن کی حیثیت سے سراہا جاتا ہے، جہاں عورت شاعری کی عظیم روایت کا مرکز ہے، جہاں اس کی روح، ذہن اور اہلیت کے فروغ کے امکانات ہیں۔ وہ زندگی جس میں عورت صرف مردوں کے لیے Sex Symbol بن سکتی ہے، وہ زندگی عورت کی جیل ہے، اس کے پورے وجود کی تذلیل ہے، تحقیر ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: