فیس بُکی منگتے ۔۔۔۔۔۔ زارا مظہر

2
  • 590
    Shares

ہم نے نیا نیا فیس بک جائین کیا۔۔۔۔۔ بڑی اچھی مصروفیت مل گئی۔ لوگوں نے تو خواہ مخواہ ڈرا رکھا تھا بڑے بڑے فراڈئیےاور دھوکے باز ہوتے ہیں یوں ہوتا ہے ووں ہوتا ہے۔۔۔۔ بڑی احتیاط سے فرینڈز بنانا لوگ دھوکہ دیتے ہیں جھوٹ بولتے ہیں بلیک میلنگ کرتے ہیں۔۔۔۔ اور ایک نمبر کے ٹٹ پونجیے، ویلے، فارغ لوگ ہوتے ہیں۔

خیر ہم بھی اب بچے تو تھے نہیں۔۔۔۔۔ سوچا موبائل کے اندر سے نکل کر تو نہیں کھا جائے گا کوئی جہاں بد تمیزی کرنے لگے گا ہم بلاک کر دیں گے اور رہی بلیک میلنگ والی بات تو بھئی جب ہم کسی کے منہ لگیں گے اپنی کمزوریاں حوالے کریں گے تو ہی کوئی بلیک میلنگ کرے گا نا۔۔۔۔۔ اب اتنا اعتماد تو اپنے اوپر تھا ہی۔

بس جناب جب ہم نے فیس بکی دنیا میں انٹری ماری تو ہلچل مچ گئی۔۔ انّے وا (ریکوسٹیں) آنا شروع ہو گئیں جس کا پروفائل چیک کیا یہ بڑی بڑی ڈگریاں اور بڑے سے بڑے ادارے میں جاب کرنے والے۔۔۔۔۔ بزنس ٹائیکون، سوٹڈ بوٹڈ معزز لوگوں نے ہمیں دوستی کے قابل سمجھا ہماری تو آ نکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔ واہ جی اتنے پڑھے لکھے لوگ ہمیں دوستی کی دعوت دے رہے ہیں ، پوک پہ پوک مار رہے ہیں جلدی کرو جلدی کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمال ہے جی۔۔۔۔ بس لوگ بھی ایویں ڈرا دیتے ہیں بھلا جاہل لوگ کیسے استعمال کریں گے فیس بک۔۔۔۔۔ ہماری تو کوئی زیادہ تعلیمی قابلیت نہیں ہے (مگر شاید سُرخاب کا کوئی پَر وَر ضرور لگا ہے) ہم نے سوچا۔ چلیں اتنے پڑھے لکھے لوگوں سے بات چیت ہوگی تو ہم بھی گھر بیٹھے کچھ سیکھ لیں گے۔ دھڑا دھڑ بلا تخصیصِ تذکیر و تانیث کافی دوست بنا لیئے۔ کچھ گروپس بھی جائین کر لیئے جیسا کہ قرینہ ہے جملہ احباب آ گاہ تو ہیں ہی مزید تفصیل کی کیا ضرورت۔

آمدم بر سرِ مطلب۔۔۔۔۔
انبکس سلاموں دعاؤں کے طویل سلسلے، شاعرانہ صبح بخیریں۔۔۔۔۔۔ اپنا بہت سا خیال رکھنے کی یاد دہانیاں۔۔۔۔ (ہم سوچتے اتنے بڑے تو بغیر اپنا خیال رکھے ہی ہو گئے آ ئیندہ سے خوب رکھا کریں گے) پھولوں کے مہکتے گلدستوں میں ہماری صبح ہوتی خوب صورت مہکتے چائے کے شعروں میں لپٹے دھواں اڑاتے کپ۔۔۔۔۔ لال سرخ دھڑ دھڑاتے دل۔ اور دعائیہ کلمات سے شب بخیریں ہونے لگیں ۔۔۔۔

انہی صاحبان میں سے ایک صاحب پندرہ بیس دن بعد انبکس تشریف لائے۔۔۔۔۔۔ اپنے سوشل ورک کے طویل سلسلے بتائے۔۔۔۔۔۔ غریبوں اور ضرورت مندوں کی اپنی جیبِ خاص سے خفیہ مدد کی تفصیل دی کتنے بچوں کو پڑھا رہے ہیں اور کتنی بیواؤں کی مدد اپنی فیملی کو بتائے بغیر کر رہے ہیں ہمیں راز داری کی شرط پر سب بتا دیا۔ پروفائل چیک کیا ٹو پیس کے ساتھ ٹائی۔۔۔۔ چہرے اور لہجے میں بڑی فراغت، کراچی اسٹاک ایکسچینج سے وابستہ تھے۔ باہر سے بڑی بڑی ڈگریاں لیئے ہوئے۔۔۔۔ ہم مرعوب سے ہو کر سر سر بلانے لگے۔۔۔۔ چند روز بعد فرمایا غریب بچوں کے لیئے ایک اسکول بھی کھول رکھا ہے تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے توسیع کی شدید ضرورت ہے ورنہ نونہالانِ ملت کے جاہل رہ جانے کا خدشہ ہے آ پ گناہ گار ہوں گی کہ معاملہ علم میں آ یا اور مدد نہیں کی۔ قیامت کے روز جواب دہ ہوں گی۔۔۔۔۔ یوں بھی گھر بیٹھے ثواب کا موقع مل رہا ہے اس نمبر پہ ایزی پیسہ کروا دیجئے۔۔۔۔۔ ہمارا دل جذبۂ ایمانی اور جذبۂ سوشل ورک سے بھر ہی آیا آ نکھوں میں آنسو بھر کر میاں صاحب کو دکھایا کہ کچھ رقم عنایت فرمائیں مانا کہ ہم بہت بھولے ہیں مگر میاں صاحب تو زمانے بھر سے کشیدہ فضاؤں میں سانس لیتے ہیں انہوں نے اچھی خاصی گُھرکیاں عنایت فرما کر ہمارا تازہ تازہ پیدا شدہ جذبہ سوشل ورک کچل کر رکھ دیا اور احتیاط اختیار کرنے کی تاکید کی مگر ہم تو ان کے تعلیمی اداروں اور ڈگریوں سے اچھے خاصے متاثر تھے۔۔۔۔ یوں بھی ہمارا جذبہ اتنا کچا نہیں تھا کہ ایک ہی ڈانٹ سے بھاگ لیتا ہم نے اپنی جیبِ خاص چیک کی اچھی خاصی رقم تھی کے دو تین برانڈڈ جوڑے میچنگ جوتوں سمیت آ جاتے سو چندے کی مد میں دیتے ہوئے شرم محسوس نا ہوئی۔ کسی مہربان کے ہاتھ سینڈ کر دی۔۔۔۔۔ اور جناب اگلے دن سے وہ نمبر بھی بند ہم بھی بند یعنی بلاک بلاک بلاک ۔۔۔۔ تب ساری کہانی سمجھ میں آ گئئ اور سر پیٹنے کو جی چاہا۔۔۔۔۔۔ اور پیٹ بھی لیا مگر واویلا کرنے کی بجائے سمجھ لیا اور دل کو بھی سختی سے سمجھا لیا کہ آ ئیندہ کے لیئے تجربہ خرید لیا۔

ایسے ہی ایک اور صاحب سفید شرعی داڑھی کے ساتھ انبکس بہن جی بہن کہہ کر بڑی عزت دیتے شک کی گنجائش ہی نا چھوڑتے۔ پانچ وقت مسجد آ نے جانے کے میسج تک کرتے, بڑے خلوص اور بے غرضی سے بچوں کا حال پوچھتے اور دعاؤں سے نوازتے۔ ہمیں پودوں کا شوق ہے تو کیش کروانے لگے۔ بتایا کہ قدرت نے روپے پیسے کی کافی فراوانی دے رکھی ہے۔ سیلانی آ دمی ہوں بال بچوں سے فارغ ہو چکا ہوں اب فطرت کی کھوج ہے۔ پہاڑی علاقوں، جھیلوں اور صحراؤں کا شیدائی ہوں کسی دن آ پ کے خوبصورت علاقے میں بھی آن دھمکوں گا۔۔۔۔ ہم نے سوچا سچے ہیں جبھی تو آ نے کا کہہ رہے ہیں۔ بتائیے کون کون سے کیکٹس لے کر آ ؤں آپ کے لیئے ساتھ ہی چند بے حد قیمتی کیکٹسز کی تصاویر بھی سینڈ کیں جو ہم ابھی تک باوجود شدید خواہش کے لے نا پائے تھے ہمارے منہ میں پانی بھر آ یا۔ یا ایڈریس دیجئے میں بذریعہ ڈائیوو بھیج دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔ مگر خریدا ہوا تجربہ ابھی پاس ہی تھا اور میاں صاحب کی سختی سے کی ہوئی ہدایت کہ بیگم صاحبہ فیس بک استعمال کیجیے مگر کسی کو ایڈریس یا فون نمبر نہیں دینا ہے۔ یوں بھی اب ہم بچے تو ہیں نہیں کہ ہر کسی کو ایڈریس پکڑاتے پھرتے۔ خیر خوب خوب پودے دکھاتے رہے (جو کہ ہماری کمزوری بھی ہیں) مہینہ بھر بعد بلّی تھیلے سے باہر آ گئی۔۔۔۔ کہ ہم ایک بڑے پراجیکٹ پر کام کر رہے ہیں بے گھر افراد کے لیئے پچاس Low cast گھر بنوا رہے ہیں آ پ سے اتنی دوستی تو ہے ہی کہ دھونس سے حصہ ڈالنے کا کہہ سکتا ہوں ضروری نہیں لاکھوں میں رقم ہو ہزاروں سے بھی کام چل جائے گا ثواب تو نیت کا ملے گا نا۔ مدد ایسے کرنی چاہئے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نا ہو ۔ مگر ہم نے جیب میں رکھا ہوا تجربہ تھپتھپایا اور کہا کہ میاں صاحب کو دکھاتے ہیں آپ کا سوال پھر جتنا حصہ وہ ڈالنا چاہیں گے بخوشی روانہ کر دیں گے۔۔۔۔ اور جناب محترم نے ہمیں بلاک مار دیا۔۔۔۔۔۔

ایک صاحب ایک پوئیٹری گروپ سے تعاقب کرتے ہوئے انبکس تک آ گئے دوستی میں نہیں تھے اور کبھی ریکوسٹ سینڈ بھی نہیں کی۔ بحری جہازوں کے عرشوں پر بنائی گئی اپنی رنگ برنگی تصاویر سینڈ کر کر کے گیلری بھر دی ویسے ڈی پی پر بھی ایک عدد شِپ کی تصویر ہی تھی۔ بڑی بڑی لال، کالی گاڑیاں دکھاتے کبھی کوئی میک کبھی کوئی۔۔۔۔ آ ج اس فائیو اسٹار میں لنچ کیا، آج فلاں میں ڈنر کے لیئے پہنچا تو یوں ہوا۔ رفتہ رفتہ فرمانے لگے سوشل ورک میرا خاندانی شوق ہے لاتعداد غریب، یتیم لڑکیوں کی شادی کروا چکا ہوں۔ ہم نے کہا اچھا حضور بہت بہتر۔۔۔۔۔۔ گزشتہ تجربات سے اگلے قدم کی کچھ کچھ بُو آ نے لگی۔۔۔۔ جلد ہی کُھل گئے ایک روز فرمانے لگے کاروبار میں سخت گھاٹا پڑ گیا ہے ایک بیوہ کی بیٹی کی شادی پر فرنیچر کا وعدہ کر رکھا ہے اب چار روز بعد بارات ہے آپ ثواب کمانا چاہیں تو بسرو چشم۔۔۔۔۔ کسی کا بھلا ہو جائے گا گھر بس جائے گا آپ کو تاحیات ماں بیٹیاں دعائیں دیں گی میں انکا بینک اکاونٹ نمبر سینڈ کر دیتا ہوں۔ بلا بلا بلا۔۔۔۔۔۔۔ جان چھڑانا مشکل لگ رہا تھا لاچار ہو کر کہا کہ میاں صاحب کو دکھاتے ہیں پھر جیسے وہ کہیں گے۔۔۔ ہم نے سوچا اب محترم خود ہی پتلی گلی سے نکل لیں گے مگر موصوف کافی ڈھیٹ نکلے اگلی شام پھر تقاضا دہرا دیا کہ بی بی پوچھ لیا جناب سے؟ ہم نے بھی ہمت کر کے کہہ دیا انہوں نے صاف منع کر دیا ہے اور جناب انہوں نے منٹ بھر میں ہمیں ہلاک کر دیا۔

ایک اور صاحب کا احوال دیتے ہیں کسی گارڈننگ گروپ سے پیچھا کرتے ہوئے انبکس تک آ ئے۔ کچھ نایاب قسم کے پودے تھے انکے پاس۔۔۔۔ چند، چنیدہ، لیڈیز کو نا صرف فری دینے کی آ فر کر دی بلکہ ایک دوست کو راولپنڈی سے ڈائیوو پہ فری ڈیلیور بھی کر دیا مگر ہم چونکہ میاں صاحب کی مرضی کے بغیر ایڈریس دینے کے مجاز نہیں ہیں دل مسوس کر رہ گئے اور ٹال مٹول کر دیا۔ دوست نے انکے اچھے اخلاق کے گن گائے۔ پتہ نہیں ان سے کس بہانےاور کتنا نذرانہ وصول کیا ہوگا علم میں نہیں آ سکا۔۔۔۔ فرمایا میں جنگلی حیات بچانے کیلئے کام کرتا ہوں اسکے لیئے فنڈنگ کی ضرورت ہے۔ آ خر آ پکی ایک حیثیت ہے۔ اپنی حیثیت کے مطابق فنڈ دیجئے اور اپنے جان پہچان والوں سے بھی کہیے۔ معلوم نہیں کیا طریقۂ واردات تھا ان کا ہم نے وہی میاں صاحب سے پوچھنے والے طریقہ آ زمایا اور محترم بلاک کر گئے یا ہلاک۔۔۔۔

۔۔۔۔پیارے بھائی ہم ضرور مدد کرتے مگر ہم تو چُونا (پان والا نہیں دھوکے والا پھانک چکے ہیں) سو معذرت۔۔۔۔۔ انہوں نے بھی انتہائی بد مزہ ہوکر آ ئیندہ ہمیں بہن کہنے سے معذرت کر لی۔۔۔۔

بس ایک اور اخری صاحب کو پڑھ لیجئے۔ یہ بھی ٹو پیس کے ساتھ نکٹائی والے صاحب تھے۔ ایک دوست کی وال پہ کیئے گئے کمنٹ سے (بقول انکے) متاثر ہو گئے۔ وہاں خوب سوال جواب کرتے رہے پھر بولے آج تک کسی سے لاجواب نہیں ہوا آپکی ذہانت نے بے پناہ متاثر کیا ہے۔ پھر ریکوسٹ سینڈ کر دی چونکہ بہت سارے مشترکہ دوست تھے ہم نے شرفِ قبولیت بخش دیا۔ ہر جگہ عزت دینے لگے۔ ہمارے کمنٹس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔ مشترکہ دوستوں کی وال پہ بڑی نکتہ آفرینیاں فرماتے نوک جھونک کرتے۔ دوسرے احباب کی نسبت انہوں نے شیشے میں اتارنے کےلئے کچھ زیادہ ٹائم لیا یا شاید ذیادہ محتاط تھے اور خوب دیکھ بھال کر یعنی ہاتھ پاؤں بچا کر کام کرنے والے لگتے تھے۔ یا شاید ٹھنڈا کر کے کھانے کے عادی تھے۔ جو بھی تھا مگر ہم نے بھی اپنے خریدے ہوئے تجربے کی پائی پائی وصول کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔ اور وہی تجربہ رہ رہ کر بتاتا تھا یہ شخص ظاہری لبادے کے برعکس ہے۔ دو چار مہینے ہنستے کھیلتے گزر گئے خیر خیریت بمعہ اہل خانہ کے لیئے انبکس لڑھکا دیتے۔ ہماری وضع داری اور اخلاق کے گن گاتے۔ اللہ جھوٹ نا بلوائے ایک دو دفعہ تو تحائف کی پیشکش بھی کی۔ جگہ جگہ ٹیگ بھی کر دیتے دو چار ساتھیوں کی اصلیت کے پول کھولتے کھولتے آخر ایک دن خود بھی کُھل گئے۔ چند مہینوں کے انتظار کے بعد فرمایا۔ بہت پریشان ہوں ہم نے وجہ پوچھی۔ فرمایا ایک طالب علم کو پڑھا نے کا ذمہ اٹھا رکھا ہے۔ بچہ غریب گھر کا مگر ذہین ہے باپ نہیں ہے۔ میں نے باپ کی لاش پر کھڑے ہو کر ذمہ اٹھایا تھا شروع سے سٹی اسکول میں پڑھایا ہے (ہمیں خطرے کی بو ہزاروں کلو میٹرز دور سے بھی آ نے لگی مگر ہم نے جیب میں رکھا تجربہ ایک بار پھر تھپتھپا لیا)۔ اب میرے حالات کافی سخت ہیں یونیورسٹی کا سمیسٹر سر پہ ہے اگر فیس نہیں جمع کروا سکا تو روزِ قیامت اسکے باپ کو اور دنیا میں اسکی ماں کو کیا منہ دکھاؤں گا اور بچے کا ایک سال بھی ضائع ہو جائے گا۔ مگر اب کے ہم نے انکے سیاق کو سوال بننے سے پہلے ہی سباق کی لگام ڈال دی۔۔۔۔۔ کہ پیارے بھائی ہم ضرور مدد کرتے مگر ہم تو چُونا (پان والا نہیں دھوکے والا پھانک چکے ہیں) سو معذرت۔۔۔۔۔ انہوں نے بھی انتہائی بد مزہ ہوکر آ ئیندہ ہمیں بہن کہنے سے معذرت کر لی۔۔۔۔۔ ادھر ادھر مشترکہ دوستوں کی دیواروں پر بیٹھے دِکھتے ہیں مگر نا کبھی کمنٹ نا لائک۔۔۔۔ نا پُرسشِ احوال، تو کون میں کون والا معاملہ چل رہا ہے ۔۔۔۔۔۔

آ خر ہم کچھ دھوکے اور دھّکے کھانے کے بعد فیس بک کی ایک خوبصورت دنیا دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے جو بالکل سچی اور کھری ہے۔ اب ہمارے حلقۂ احباب میں دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک گارڈننگ سے وابستہ اور دوسرے لکھاری یا دانشور، شاعر اور بلاگرز ۔۔۔۔ گارڈننگ سے وابستہ لوگ۔۔۔۔ جو پھولوں اور پتوں سے بے پناہ پیار کرتے ہیں۔ ایک ایک بیج تک آ پس میں بانٹ کر اگاتے ہیں۔ پھر اپنی اگائی ہوئی کھیتی میں سب کو شریک کرتے ہیں، کسی کو دھوکہ دینا یا جھوٹ بولنا انکی سرشت میں نہیں۔ اور دوسرا طبقہ بھی باغبانوں جتناہی سچا اور کھرا ہے۔ تحریری اختلاف جتنا مرضی کریں لڑیں ایک دوسرے کو چٹکیاں کاٹیں یا دندیاں، گالیاں دیں یا مناظرے کی دعوتیں مگر دھوکہ نہیں دے سکتے۔۔۔۔ اپنی ان دونوں دنیاؤں سے مجھے بے پناہ پیار ہے۔

( نوٹ۔۔۔۔ یہ مضمون مفادِ عامہ کے وسیع تر مفاد میں لکھا گیا ہے)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. طاہر مسعود on

    بھئی واہ
    زارا صاحبہ ۔۔۔۔ بہت عمدہ تحریر
    کھرے سچ اور حقائق لیکن نہایت اعلی’ مزاحیہ اسلوب میں بیان کر دئے ۔۔
    ابتداء سے دھڑکتے دل کے ساتھ مکمل تحریر پڑھی کہ کہیں پر شاید ہمیں بھی کسی طرز ِ تفن میں پیش کر دیا جاےُ گا پر اللہ کے کرم سے عزت رہ گئی ۔۔ اگرچہ
    دعاوُں کے ٹوکرے کبھی کبھار ہم بھی روانہ کر دیا کرتے ہیں ۔۔۔ اور اشاروں کنایوں میں خود کو بھی موجود پایا
    مگر شکر ہے رب کریم کا کہ بہرحال سفید پوشی اور خودداری کا بھرم قائم رکھا ہوا ہے ۔۔۔
    ایسی صورت حال صرف عورتوں کے ساتھ پیش نہیں آتی بلکہ
    بےچارے ہمدرد اور مخلص مرد حضرات بھی ایسی بہنوں بیٹیوں سے دھوکہ کھاےُ بیٹھے ہیں ۔۔۔
    کچھ لوگ تو واقعی ہمدردی اور امداد کے مستحق ہوتے ہیں ۔۔ پر ایسے کم ظرف منگتے حقداروں کو بھی حق سے محروم کر دیتے ہیں ۔۔۔
    اللہ کریم کبھی کسی کو کسی کا محتاج نہ فرماےُ اور اپنے خزانوں سے سبھی کو عطا فرماےُ
    الھم آمین یا رب العالمین

Leave A Reply

%d bloggers like this: