زرداری کا بہادر بچہ —- محمد عثمان جامعی

0
  • 157
    Shares

چلو جی آصف علی زرداری نے راو¿ انوار کو بہادر بچہ قرار دے کر یہ مسئلہ تو حل کر دیا کہیہ بچہ کس کا بچہ ہے۔ اب دو اور بہادر بچہ بچی عزیربلوچ اور ایان علی بھی منتظر ہیں کہ روحانی ابو ”میرے بچے میرے نونہال“ کہہ کر گلے سے لگائیں گے۔ زرداری صاحب نے ایک اور مسئلہ بھی حل کردیا کہ ”ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم“ گنگناتا غائب ہونے والا راو انوار کہاں چھپا ہے، ظاہر ہے یہ بہادر بچہ سہم کر ابو ہی کی گود میں جا بیٹھا ہوگا یا ابا کے دامن میں منہہ چھپاکر دروازے کی طرف اشارے کرتے ہوئے ”بابا! بھؤ، بابا! بھؤ“ کہہ رہا ہوگا، اور ابو تھپکیاں اور دلاسے دے کر اس کا ڈر نکال رہے ہوں گے۔

آصف زرداری کی شفقت کا سایہ اویس مظفر ٹبی سے ڈاکٹر عاصم تک بہت سے بچوں پر ہے، لیکن لگتا ہے کہ آنکھ کا تارہ راو انوار ہے، کیوں نہ ہو، ایک تو کماو پوت ہے، پھر باقی بچوں ڈاکٹر، عاصم، عزیر بلوچ اور ایان علی کی طرح شرارت کرکے پکڑائی میں نہیں آیا، غائب ہوگیا اور ایسا غائب ہوا جیسے پاکستان پیپلزپارٹی سے ”بھٹوز۔“ پی پی پی کے پیشوا کیوں کہ خود بہت صفائی پسند ہیں اور پکڑائی نہیں دیتے، چناں چہ انھیں راو انوار پر ڈھیروں پیار کیوں نہ آئے۔

راو انوار سے زرداری صاحب کے پیار دُلار کی دوسری اہم وجہ اس کے پولیس مقابلے ہیں۔ پولیس مقابلے بہت سے مسائل حل کردیتے ہیں، خاص طور پر سلگتے ہوئے مسائل، مرتضیٰ بھٹو بھی تو ایک ایسا ہی مسئلہ تھا۔۔۔ آپ نے ایسی نیک خصلت اور ڈپٹی نذیر احمد کی اصغری صفت بہوئیں بہت دیکھی ہوں گی جو ساس نندوں کی جلی کٹی سُن کر بھی شوہر کی خاطر دوپٹے سے آنسو اور ناک پونچھ کر چُپ رہتی ہیں، لیکن آصف زرداری تاریخ کے شاید واحد داماد ہیں جو سالے کی کھری کھری سُن کر بھی چُپ شاہ کا تعزیہ بنے رہے اور گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوئے۔ اور پھر ایک روز ”پولیس مقابلے“ میں سالے کی زبان پر ہمیشہ کے لیے تالے پڑگئے۔

سابق صدر کو بہادر بچہ اس لیے بھی پیارا ہے کہ زرداری صاحب کی طرح اسے بھی زمین سے پیار ہے۔ افتخار عارف سے دھرتی کی محبت نے کہلوایا تھا مِری زمین مِرا آخری حوالہ ہے مگر آصف زرداری اور راو انوار کا زمین سے عشق پُکارتا ہے مِری زمیں مِرا ”آسان تر نِوالہ“ ہے۔ یہ زمین سے پیار ہی ہے کہ زرداری صاحب کو پورا ”پاکستان کھپے“ اور حصہ بہ قدر جُثہ راو انوار کو فی الحال صرف ملیر کَھپے۔

آصف زرداری اور راو انوار دونوں کو تعمیر سے بہت دل چسپی ہے، اب ان کے ذوق تعمیر کے لیے آپ شاہ جہاں کی مثال مت دیجیے گا، وہ مغل بادشاہ عمارتیں دکھانے کے لیے تعمیر کرتا تھا، اور یہ حضرات چُھپانے کے لیے کرتے ہیں۔ دونوں ملک میں اور بیرون ملک کوٹھیاں، بنگلے وغیرہ بنا کر اپنا معصوم سا شوق تعمیر پورا کرتے ہیں۔ البتہ شاہ جہاں اور آصف زرداری میں یہ قدر مشترک ہے کہ مغل بادشاہ نے اپنی بیوی کے غم میں تاج محل بنایا تھا اور جہیز میں وزارت اور اہلیہ کے ورثے میں پاکستان پیپلزپارٹی کی سربراہی کی اہلیت پانے والے آصف زرداری نے بیگم کے سوگ میں ایوان صدر بسایا تھا۔

آصف زرداری صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان میں بھٹو کی روح ہے، ہمیں پہلے بھی اس دعوے پر شک اور ان کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کا حال دیکھتے ہوئے یقین تھا کہ ان میں دراصل ضیاءالحق کی روح حلول کرچکی ہے

آصف زرداری صاحب کا دعویٰ ہے کہ ان میں بھٹو کی روح ہے، ہمیں پہلے بھی اس دعوے پر شک اور ان کے ہاتھوں پیپلز پارٹی کا حال دیکھتے ہوئے یقین تھا کہ ان میں دراصل ضیاءالحق کی روح حلول کرچکی ہے، اپنے اس خیال کو ہم نے یہ سوچ کر رد بھی کرنا چاہا کہ بھئی ضیاءالحقی روح کا سب سے اچھا ٹھکانا تو نوازشریف ہوسکتے ہیں، پھر سوچا ممکن ہے ان کی روح نے نوازشریف میں سمانا چاہا ہو لیکن وہ نہاری پائے سے اتنے بھرے ہوئے تھے کہ روح جگہ نہ پاکر مایوس ہوگئی اور پھر تَنِ آصف زرداری میں جا مقیم ہوئی۔ اب ان کے منہہ سے راو انوار کی ستائش سُن کر لگتا ہے کہ بھٹو نہ ضیاءان میں جنرل (ر) نصیراﷲ بابر کی روح براجمان ہوچکی ہے، جن کی قیادت میں راو¿ انوار جیسے کتنے ہی بہادر بچوں کی ولادت ہوئی تھی۔ یوں تو بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کے وزیرداخلہ نصیراﷲ بابر کے یہ سارے بچے ہی ان کی آنکھ کا نور اور دل کا سُرور تھے، لیکن ان میں سے دو بچے بہت ہی اچھے تھے، راو انوار اور بہادر علی۔ یہ بابری روح کی شفقت ہی ہے جو آصف زرداری کی صورت بہادر بچے پر سایہ کیے ہوئے ہے۔

جس ملک میں کتنے ہی بچے سڑکوں پر لاوارث گھومتے ہیں، وہاں بہادر بچہ وہ خوش نصیب نونہال ہے جسے کبھی ماں باپ کی کمی نہ رہی۔ وہ کسی بھی بااثر خاتون کے سامنے ٹُھنک ٹُھنک کر ”ماں مجھ کو جھلاو¿ ناں جھولا“ گانا شروع کردے تو ان کی ممتا فوراً جاگ اٹھتی ہے اور وہ اسے ”میرا مُنا“ کہہ کر جُھلانا شروع کردیتی ہے، اسی طرح وہ کسی مقتدر مرد کے سامنے ”پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا، بیٹا ہمارا ایسا کام کرے گا“ لہک لہک کر گانا شروع کردے، تو منہہ بولے پاپا اسے گلے سے لگا اور ماتھا چوم کر فوراً کام دے دیتے ہیں، لیکن بڑے پیار سے ہدایت کر دیتے ہیں،”میرے پپو، میرے مُنے! کام تو کردو، لیکن پاپا کا نام بڑا مت کرنا، بل کہ اسے چُھپائے ہی رکھنا، کیوں کہ چندا! تمھیں جو کام دیا جارہا ہے، اسے کرنے پر نام بڑا صرف سزایافتہ کا سابقہ لگ کر ہی ہوسکتا ہے۔“ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بہادر بچے کو نصیراﷲ بابر اور آصف علی زرداری ہی کی پدرانہ شفقت میسر نہیں آئی، وہ گلوکارہ نورجہاں کا منہہ بولا بیٹا بھی بن گیا تھا۔

ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ سُر کی بولی بولنے والی میڈم نورجہاں نے گولی کی بھاشا والے راو انوار کو کس منہہ سے منہہ بولا بیٹا بنایا، شکر ہے یہ بات بہت بعد میں پتا چلی اور میڈم لوگوں کو منہہ دکھانے کے قابل رہیں۔ بہ ہر حال ہمیں یقین ہے کہ نورجہاں نے اپنے اس منہہ بولے بیٹے کے لیے یہ گیت نہیں گایا ہوگا، ”اے پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے“ کیوں کہ اس پُتر کو تو کوئی بھی خرید سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: