عمران خان کی شادیاں: آپ اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں —– محمود فیاض

2
  • 170
    Shares

عمران خان کی پہلی شادی ہوئی تو پورے ملک میں ہاہاکار مچ گئی۔ تب وہ سیاسی کم کم اور سلیبرٹی بہت زیادہ تھا۔ اس لیے زیادہ رولا ان بیچاری لڑکیوں نے ڈالا جو اب وڈے پتر کی گریجوئشن سیرمونی ceremony میں جانے کے لیے پیٹ کی ایکسرسائزز کر رہی تھیں۔ ان کو اعتراض یہ تھا کہ ان سے نہ سہی انکی کسی ہم وطن کو یہ اعزاز ملنا چاہیے تھا۔ مگر عمران نے ایک یہودی خاندان کی گوری سے شادی کرکے ساری پاکستانی لڑکیوں کی توہین کی ہے۔

خیر تب بھی عمران کسی کی نہیں سنتا تھا۔ وہی شرمیلی مسکراہٹ جو کل آپ نے “برآمد شدہ” نکاح کی تصویر میں دیکھی، اسی مسکراہٹ کے ساتھ وہ اپنی دلہن کو لندن سے لے کر مری تک گھومتا پھرا۔ اور لڑکے بالے بھابی کے ساتھ تصویریں بنوانے کے لیے باؤلے ہوئے پھرتے تھے۔ ڈھائی لاکھ پاؤنڈ کی سلامی، گولڈسمتھ خاندان کی کھربوں کی جائیداد اور دیگر کئی کہانیاں اچھالی گئیں۔ سیاسی یتیموں اور کانوں کے کچے اصحاب کو اس میں یہود و نصاریٰ (کہ ہنود تو ہو نہیں سکتے تھے) کی سازش نظر آئی کہ عمران چونکہ سیاست میں آ گیا ہے تو جلد ہی وزیر اعظم بن جائیگا اور پھر پورے ملک کی رجسٹری کا مختار عام بنا کر اسرائیل کے صیہونی ٹولے کو پیش کردے گا۔

مگر وقت نے بتایا کہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ جمائما ایک امیر خاندان کی بیٹی ضرور تھی مگر وہ امیر خاندان ڈی ایچ اے کی پراپرٹی بیچ کر ٹوڈی اور لینڈ کروزر خرید کر نہیں ہوا تھا۔ نہ ہی اسکو ڈیفینس کی سڑکوں پر گاڑی کی چھت سے سر نکال کر اپنے باپ کی دولت دکھانے کا جنون تھا۔ وہ شہزادی ڈیانا کی دوست تھی جو دولت و حشمت کی بجائے ذاتی اوصاف دیکھا کرتی تھی۔ عمران خان میں جمائما کو کیا وصف نظر آیا، یہ اللہ بہتر جانتا ہے مگر اس اللہ کی بندی نے عمران خان کا ایسا ساتھ نبھایا کہ آج ہر پاکستانی (sensable) اسکو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ عمران کی باقی شادیوں کو دیکھتے ہوئے اور اسکی مردم (اس کیس میں عورتم) شناسی کے قصے سن سن کر مجھے یقین ہے کہ اسکی پہلی شادی میں جمائما کا رول زیادہ رہا ہوگا۔ سنتے آئے تھے کہ انگریز اصول کے پکے ہوتے ہیں۔ جمائما بھی انگریز تھی۔ اس نے عمران خان کو پانچ سال دیے کہ سیاست میں کامیاب ہو جاؤ یا پھر انگلینڈ سیٹل ہوجاؤ۔ اس کے لیے وہ پاکستان آئی، اپنا رنگ و روپ بدلا، یہ بھی سنا کہ اپنی مرضی سے اسلام بھی قبول کیا (کون دلاں دیاں جانے ہو)، مگر یہ پاکستانی سیاست ہے، کیمبرج کی ڈگری نہیں جو مقررہ وقت پر ہو جاتی ہے۔ عمران خان نے پانچ سال کو دس کیا اور جمائما کا صبر جواب دے گیا۔ عمران عورت کی عزت کرنے والا شخص تھا اور جمائما رشتوں کو سمجھنے والی۔ دکھ اور تکلیف تو ایسے رشتے ختم کرنے پر ہوتا ہے مگر وہ صبر اور ہمت کے ساتھ اپنی دنیا میں واپس چلی گئی اور عمران خان کے دو بچے پوری ایمانداری سے پالتی رہی۔

عمران خان نے دوسری شادی ریحام خان سے کی جس کو میں بالکل نہیں جانتا تھا۔ مگر عمران خان سے یکایک شادی اور پھر عمران خان کو لکڑی کی کاٹھی، کاٹھی پہ گھوڑا بنا کر فیمینزم کے چابک مارنے والی نے جب اپنے جوہر دکھانے شروع کیے تو مجھے ریحام خان کی شخصیت کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا۔ یہ واقعی عمران خان کی پسند لگ رہی تھی، کہ عمران خان کو کرکٹ کے گیند بلے کی جتنی پہچان ہے، انسانوں کے رویوں کو پہچاننے میں وہ اتنا ہی کم فہم ثابت ہوا ہے۔ دھرنے کے دن رات تھے، پورے ملک سے آئے نوجوان جو اپنے ملک کو کرپشن اور کرپٹ مافیا سے پاک کرنا چاہتے تھے، عمران خان کے ساتھ کھڑے تھے۔ ایسے میں ایک جائز نکاح بھی بہت بڑی سیاسی غلطی تھی۔ ایسے وقت میں عمران خان کو ماضی کی یادوں سے جڑی ایک ایسی خاتون ملیں جو اب طلاق یافتہ میڈیا پرسنلٹی تھی۔ عمران خان کنٹینر سے اپنی کسی بہن کو فون پر ہی مشورہ کرلیتا تو اسکو اندازہ ہو جاتا کہ یہ خاتون اس کے لیے اور اسکی جدوجہد کے لیے کسی طرح بھی موزوں شخصیت نہیں تھی۔

محترمہ کے عزائم اول روز سے آشکار تھے۔ وہ عمران خان کی سیاسی حیثیت کو استعمال کرنے کی خواہاں تھی۔ اس شادی سے عمران خان نے ہر طرح کا نقصان ہی اٹھایا، سیاسی بھی، جذباتی بھی اور گھریلو بھی۔ جو چیز سب سے زیادہ کھل کر سامنے آئی وہ عمران خان کی ایسے معاملات میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت تھی۔ وہ اب بھی سلیبرٹی بن کر فیصلے کر رہا تھا۔ جیسے کوئی فلمی ہیرو وقتی جذبات ، کسی بیرون ملک شوٹنگ پر کولیگ ساتھی سے متاثر ہو کر “شادی” کر بیٹھتا ہے، بالکل ایسے ہی عمران خان کی ریحام خان سے شادی معرض وجود میں آئی۔ کب نکاح ہوا، کیسے ہوا، بعد میں ولیمہ کی سادگی، وغیرہ سب پہلوؤں پر لاتعداد سوالات کا پہرہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ شادی اور اسکی چند ماہ میں ہی ناکامی عمران خان کی جذباتی و ازدواجی معاملات میں سمجھ بوجھ پر تو سوالیہ نشان چھوڑ گئی، مگر بالواسطہ طور پر عمران خان کے سیاسی حرکیات کو سمجھنے کی صلاحیت پر بھی لوگ مشکوک ہو گئے۔ یہ پہلی بار تھی کہ عمران خان کی شادی پر مذاق بنا۔ اور مذاق تب ہی بنتا ہے جب خلق خدا مطمئن نہ ہو پائے۔

ریحام خان سے شادی کے “بد اثرات” کس قدر تھے اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب گلالئی نے عمران خان پر الزامات لگائے تو میرے ایک دوست علیؔ رضا، جو آسٹریلیا میں سافٹ وئر انجنئر ہے اور پی ٹی آئی کا غیر مشروط حامی ہے، نے کمنٹ کیا کہ “لگتا ہے خان نے ریحام خان جیسی چول ایک دفعہ پھر ماری ہوگی”۔ یہ ایک یوتھ ممبر کی رائے تھی جو پی ٹی آئی کے خلاف نہیں جاتا۔ ریحام خان کو طلاق کے بعد اگرچہ خان نے اپنی روائت کے مطابق کبھی اس پر منفی بات نہ کی اور اسکو بھی وہی عزت دینے کی کوشش کی جو اس نے بعد از طلاق جمائما کو دی تھی، مگر ریحام خان جمائما نہیں تھی۔ کچھ لوگ عزت کی کرنسی کو الزامات کے کوائن سے بدلنے میں ماہر ہوتے ہیں، انکو بھی کرپٹو کرنسی ہی کہنا چاہیے، مگر یہ کرپٹو، کرپٹ سے نکلے گا۔

حالیہ شادی کی گونج چند ماہ پہلے سنائی دی جب بشری بی بی نے اپنے خاوند سے باقاعدہ علیحدگی اختیار کر لی اور عمران خان سے بعد از خرابئ بسیار “شادی کرنا کوئی گناہ نہیں” والا بیان دے دیا۔ علی رضاؔ جیسے دوستوں کو اسی دن یقین ہو گیا کہ “خان نے فیر کوئی چول مار دتی جے”۔ پاک پتن سے میرے ایک قریبی عزیز سے جب ملاقات ہوئی تو وہ خاصے کھسیانے سے نظر آئے، حالانکہ انہوں نے پچھلے الیکشن میں پاک پتن کی واحد پی ٹی آئی سیٹ کے جیتنے میں خاصا متحرک کردار ادا کیا تھا۔ میں نے وجہ پوچھی تو نظریں نیچی کرکے بولے، سر جی، خان نے شادی کر لی یا کر لینی ہے۔ یہ طے ہے۔ پھر انہوں نے اس کے سیاسی مضمرات پر تبصرہ کیا کہ خان کو فائدہ ہو نہ ہو، مانیکا خاندان پی ٹی آئی کا موروثی خاندان بننے جا رہا ہے۔

اس شادی کی خاص بات، اس سے جڑے روحانی معاملات تھے۔ عمران خان کے بقول بشری بی بی ابن عربیؔ جیسے (یا بڑھ کر) روحانی مدارج طے کر چکی ہیں۔ اور یہ کہ بشری بی بی سے شادی کے بعد عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ پی پی کی بینظیر، نون کے میاں، و دیگر پیروں کے پاس جاتے رہتے ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں تسبیح نظر آتی ہے تو کسی کو کوئی ورد کرنے کا کہا جاتا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ بہت سی جگہوں پر ایسا ووٹ بینک کو اکٹھا رکھنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ مگر روحانی وجوہات کی بنا پر شادی؟ یہ ایک لڈو ہے جو ہاجمولا کی دو گولیوں سے بھی ہضم نہیں ہو پایا۔

آکسفورڈ سے پڑھا ہوا عمران خان، جو جمہوریت کی مدرلینڈ یعنی برطانیہ کی جمہوریت کی مثالیں دیتا ہو، پاکستان میں ایسی جمہوریت لاتے لاتے بالاخر بابوں کے ہتھے چڑھ جائے، ایسا ممکن تو ہے۔ خصوصاً جب ایک ایٹمی طاقت کی سرحدوں پر سفید لباس پہنے بابے دشمن کے بموں کو کیچ کرتے ہوئے پائے جائیں، مگر بد بلاؤں کو دور کرنے کے لیے ایک اہل و عیال والی خاتون کی علیحدگی کروانے کے بعد شادی؟ پھر اس شادی کی ٹائمنگ۔ پھر اس شادی کی خبر لیک ہونے پر خبر روک لینا۔ پھر اس شادی کو عام سے انداز میں طشت از بام کرنے کی کوشش کرنا۔ آپ میں سے کوئی کامن سینس والا بندہ صرف فواد چوہدری کو کسی بھی چینل پر اس شادی کی اناونسمنٹ کرتے سن لے تو وہ سمجھ جائے گا کہ یہ شادی پچھلے چوبیس گھنٹے میں انجام نہیں پائی۔

بجا کہ روحانی اور مذہبی معاملات ہمارے روزمرہ کا حصہ ہیں مگر روحانی معاملات کو ازدواجی معاملات سے مدغم کرنے کی سنجیدہ مثال ہمیں ماضی میں نہیں ملتی۔

سوال یہ ہے کہ اتنے ابہام کیوں؟ ایسا انداز کیوں؟ عمران خان نے تو کہا تھا کہ میں اپنے عوام سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا؟ کیا وہ صرف مخالفین کی غلطیوں کے بارے میں تھا؟ ہم تو سمجھے تھے کہ وہ اپنی غلطیوں کے بارے میں بھی ہوگا۔ خیر ملک عزیز میں جو چل رہا ہے وہاں جھوٹ پر پکڑ نہ بھی کریں تو ایک ایسے لیڈر کی ذہنی اپروچ پر سوال اٹھتا ہی ہے جو میرٹ، محنت اور جدوجہد کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ میرے جیسے لاکھوں لوگ عمران خان کی صرف اس لیے عزت کرتے ہیں کہ اس نے کبھی کسی معاملے میں شارٹ کٹ کا سہارا نہیں لیا، اور ہمیشہ اپنے خدا سے مدد مانگی ہے۔ یہ بھی بجا کہ روحانی اور مذہبی معاملات ہمارے روزمرہ کا حصہ ہیں اور پاکستانی خصوصاً اپنے معاملات میں خدا و رسول ﷺ کی تعلیمات کو اولیت دیتے ہیں۔ مگر روحانی معاملات کو ازدواجی معاملات سے مدغم کرنے کی سنجیدہ مثال ہمیں ماضی میں نہیں ملتی۔

میں ہرگز عمران خان اور بشری بی بی کے اس نئے تعلق کے حوالے سے کوئی ارزاں بات نہیں سوچ سکتا۔ بلکہ مجھے کہنے دیں کہ اگر کوئی بھی اور لیڈر ایسا کرتا تب بھی میں ان کے کردار کے حوالے سے کبھی ارزانی کا شکار نہ ہوتا۔ مگر اس شادی کے طریقہ کار، وقت، وجوہات نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ عمران خان کی شخصیت اور زندگی کی فلاسفی سے لگا نہیں کھاتے۔ ان سوالوں کے اثرات سے نکلنا بحرحال عمران خان کے لیے کٹھن ہوگا۔ خصوصاً اس ماحول میں جب تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والے اکثر سنجیدہ و رنجیدہ حضرات اپنے مشوروں کو نظر انداز کیے جانے کی شکائت کرتے نظر آتے ہیں، یا پھر تحریک انصاف کے نظریاتی کارکنان و لیڈران ایک کونے میں جاتے دکھائی پڑتے ہیں۔

کیا عمران خان ان سوالوں کی سنجیدہ جوابات دے پائے گا؟ شائد نہیں۔ کیونکہ تحریک انصاف کے موجودہ حمائتی حضرات ان سنجیدہ سوالات کو بھی جوابی جگتوں میں اڑا رہے ہیں اور خود بھی اتنے بڑے تضاد پر غور کرنے کو تیار نہیں۔ مجھے حیرات سوشل میڈیا پر تحریک انصاف کے لوگوں پر بھی ہے جو اپنے لیڈر کے اس قدم کو اس کا ذاتی فعل قرار دے رہے ہیں۔ شادی ضرور ایک ذاتی فعل ہے۔ مگر کس طرح شادی کی جائے یہ ایک عام آدمی کا بھی معاشرتی فعل ہوتا ہے اور اس سے اس کی شخصیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ کوئی اپنی شادی پر ڈالر و ریال لٹاتا ہے تو وہ اسکا ذاتی فعل نہیں رہتا، ملکی قوانین حرکت میں آ جاتے ہیں، کوئی اپنی شادی سرکاری املاک میں کرتا ہے، یا چوری شدہ بجلی سے اپنے ہال کے قمقمے روشن کرتا ہے تو اس پر بھی گرفت ہوتی ہے۔ تو شادی تو ایک زاتی فعل رہتا ہے، مگر شادی کرنے کا انداز بحرحال معاشرتی و قانونی حدود سے باہر نہیں رہ سکتا۔

عمران خان تو ایک قومی سطح کا لیڈر ہے۔ اس کی مردم شناسی پہلے سے اعتراضات کی زد میں ہے۔ ایک لیڈر کو معاملہ فہم، موقع شناس، اور مدبر بھی ہونا چاہیے۔ کون سا کام کب اور کیسے کرنا چاہیے ایک لیڈر کو اس کی پہچان سب سے زیادہ ہونا چاہیے۔ اگر آپ کے شادی کرنے کا انداز ایک مذاق بن جائے اور شادی کرنے کی وجوہات پر سنجیدہ ذہن مضحکہ خیزی کی مہر لگادے تو اس کا سیاسی نقصان بحرحال طے ہے۔

About Author

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: