خان صاحب کو موقع سے فائدہ اٹھانا نہیں آتا ۔۔۔ سراج احمد

0
  • 33
    Shares

عمران خان جو کہ پاکستان کی دوسری بڑی جماعت کے سربراہ ہیں، جو بوجہ کرکٹ پوری دنیا میں شہرت رکھتے ہیں۔ جن کا دنیائے کرکٹ میں ایک بڑا نام ہے۔ جنہوں نے پاکستان کو ۱۹۹۲ کا ورلڈ کپ جتوایا۔ وہ فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش رہے ہیں، اپنی والدہ کی وفات (جو کینسر کے سبب ہوئی) کے بعد انہوں نے ٹھان لیا کہ وہ پاکستان میں دنیا کے بڑے ہسپتالوں جیسا کینسر کا ہسپتال بنائیں گے اور انہوں نے بنا کر دکھایا جو جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہے۔

سیاست میں قدم رکھتے ہی مقبولیت کی حدوں کو چھونے لگے۔ آخر ۲۰۱۳ کے عام الیکشن میں پاکستان کی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھرے۔ ان کے حصے میں کے پی کے کی حکومت آئی، مگر افسوس وہ خیبر پختونخوا میں اس قدر کارکردگی نہ دکھا سکے جس سے وہ پنجاب اور سندھ کو متاثر کر سکتے۔ اگر انہوں نے تھانہ کلچر کو بہتر کیا تو عملی مظاہرہ اتنا متاثر کن نہ تھا اور نہ ہی تعلیمی ڈھانچہ اس قدر متاثر کن تھا کہ لوگ پی ٹی آئی کی طرف مائل ہوتے، ہسپتالوں کی خستہ حالی بھی جوں کی توں ہے۔ عمران خان اگر تبدیلی کے کھوکھلے نعروں کی بجائے انہیں عملی جامہ پہناتے تو خیبر پختونخوا کی عوام انہیں کندھوں پر اٹھاتے پنجاب بھی ان کی طرف مائل ہوتا اور سندھ بھی۔

کاش! عمران خان پانچ سالوں میں دھرنوں کی بجائے صوبے پر اپنی ساری توانائیاں صرف کرتے تو یہ صوبہ پاکستان کا مثالی صوبہ بن سکتا تھا خان صاحب کے پاس اچھا موقع تھا پر ضائع کر دیا۔ انہیں موقع سے فائدہ اٹھانا نہیں آتا۔ آپ دیکھیں نا کراچی جو دنیا کا دوسرا بڑا شہر ہے وہاں کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، ایک سے چار پارٹیاں بن گئیں۔ مگر خان صاحب وہاں کچھ نہیں کر سکے۔ انہیں یہاں ٹیک اوور کرنا چاہیئے تھا۔ لوگوں کو مائل کرتے کہ تحریک انصاف ہی کراچی کو مسائل سے باہر لا سکتی ہے پینے کے پانی کے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ کراچی کی نکاسی کو ٹھکانے لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ متحدہ کے روٹھے ہوئے کارکنوں کو اپنی جماعت میں شامل کرانے کے لیے مہم جوئی کرتے۔

خان صاحب کو آصف زرداری اور نواز شریف کی طرح موقع سے فائدہ اٹھانا نہیں آتا خان صاحب کو نہیں پتا کے عوام سے کیسے بات کی جائے، کیسے سمجھایا جائے، کیسے نعرے لگوائے جائیں،  کیسے عوام کو اپنا منشور بتلایا جائے۔ خان صاحب نواز شریف سے یہ سب سیکھئے۔

الیکشن کی آمد آمد ہے اور نواز شریف کا نعرہ مجھے کیوں نکالا مقبول ہو رہا ہے اور آپ کے پاس کوئی سیاسی نعرہ نہیں ہے۔ خان صاحب کاش آپ کے پی کے حکومت کے پانچ سال ضائع نہ کرتے۔ آصف زرداری جو مفاہمت کا بے تاج بادشاہ کہلاتا ہے ان سے سیکھئے کہ موقع سے فائدہ کیسے اٹھایا جائے۔

خان صاحب یہ ۱۹۹۲کا ورلڈکپ نہیں ہے جو آپ سارے ضمنی الیکشن ہارتے ہارتے (۲۰۱۸ کا عام الیکشن) جیت جائیں گے یہاں قسمت نہیں کارکردگی چلتی ہے بس۔ کاش آپ کارکردگی سے ن لیگ کو شکست دے سکتے۔ اگر تمام ضمنی الیکشن کو دیکھا جائے تو لگتا ہے عوام باشعور ہو چکی ہے عوام کارکردگی چاہتی ہے۔کاش! آپ پانچ سال ضائع نہ کرتے موقع سے فائدہ اٹھاتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: