انتہا پسندی اور مذہبیت : منیر احمد خلیلی

0

امریکہ کی قیادت میں چھڑنے والی’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اکیسویں صدی کے آغاز کی سب سے بڑی نامسعود عالمی مہم جس نے عالمی سطح پر امن قائم کرنے کے بجائے بد امنی اور ہلاکت و بربادی کوہول ناک حد تک پہنچا دیا ہے۔ مذہب سے جوڑ کرانتہا پسندی کی گردان کرنے والے ہمارے مقامی اور غیرملکی انٹلکچوئلز کو امریکہ کی اس دھمکی میں انتہا پسندی کیوں نظر نہیں آئی جس میں پاکستان سمیت متعدد ممالک سے کہا گیا تھا کہ کہ ’ہر ملک اور ہر خطے کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔ یا تو تم ہمارے ساتھ ہو یا پھر دہشت گردوں کے ساتھ ‘۔ پاکستان جیسے ملکوں کے حکمران پتھر کے دَور میں پہنچا دینے والی دھمکی سے سہم کر اور کچھ امریکہ کا پہلے ہی اتحادی ہونے کے سبب جنگ کی اس آگ میں کود پڑے تھے۔ آج اس آگ کو بھڑکے دوسرا عشرہ اختتام پر ہے لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر مشتمل عالمی قوتِ قاہرہ کے کھربوں ڈالر کے خرچ اورجدید ترین تباہ کن ہتھیاروں کے وحشیانہ استعمال کے باوجود دہشت گردی کے دم خم میں کوئی فرق نہیں آیاہے۔ پچھلے سترہ سال کے عرصے میں سینکڑوں کتابوں، ہزاروں اخباری کالموں، مضامین اور خبروں اوربرقی میڈیاکے بے شمار لائیو پروگراموں اوربڑے بڑے تمام عالمی لیڈروں کی دھواں دھار تقریروں میں شاید ہی کوئی اور موضوع ہو جس پر اس تواتر کے ساتھ لکھا اور بولا گیا ہو۔ یہ تو طے ہے کہ دہشت گردی کا عفریت انتہا پسندی کے بطن سے نکلا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ انتہا پسندی کہاں سے نکلی؟سب سے آسان کام ہے کہ اس کا تعلق مذہب اور وہ بھی صرف اسلام سے ملا دیا جائے۔ یہ کام پوری شد و مد سے ہوا اور ہو رہا ہے۔ کھلا لبرل اور سیکولر طائفہ تو درکنار، لبرل اسلامسٹ دانشور اپنی فکری شناخت کو منوانے کے لیے ان سے بڑھ کراہلِ مذہب کے خلاف چاند ماری کرتے ہیں۔

منیر خلیلی

موضوعات بہت سے جمع ہو گئے ہیں۔ ’تہذیبوں کے تصادم ‘ اور ’انتہا، ِ تاریخ ‘ جیسے فلسفوں کا جائزہ لیا جائے تو اسلام دشمنی کا بیانیہ کھل کر سامنے آتا ہے۔ یہ بیانیہ بڑا مہنگا سودا بن کرصدر نکسن سے لے کر امریکہ اور یورپ کی دانش کی اونچی دکانوں میں خوب بکتا رہا۔ اس کا اہم نکتہ یہ ہے کہ سرد جنگ اور کمیونزم کے خاتمے کے بعد مغربی قوتوں کا اگلا حریف اسلام ہے۔ معاملہ سرمایہ دارانہ نظام کی بقا اور بڑھاوے کا ہے۔ ’ انتہا پسندی اور مذہب‘ کے ڈانڈے حقیقت میں اس سرمایہ دارانہ نظام سے جُڑے ہوئے ہیں جس کے بارے میں ہمارے لبرل اسلامسٹ حضرات بتکرار یہ کہہ رہے ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام پر عالمی اجماع ہو چکا ہے۔ یہ احباب دینی و فقہی اجماع کے تو کم ہی قائل ہیں لیکن سرمایہ دارانہ نظام پر ’عالمی اِجماع ‘ثابت کرنے میں ’قلم توڑ‘ سعی کر رہے ہیں۔ اِجماع جبر و اِکراہ سے نہیں ہوتا۔ ایک دَور کے اہلِ علم کی غالب اکثریت کا کسی مسئلے پر اپنی علمی تحقیق کی روشنی میں آزادانہ رائے سے متفق ہونے کا نام اِجماع ہے۔ کسی مستبدقوت کے تجبّر و تکبّر اور اس کی hegemony کے آگے خوف سے سر جھکادینے کو ہر گز اجماع نہیں کہا جا سکتا۔ ابھی پچیس چھبیس سال پہلے تک تو ایک اور ایسی ہی اور طاقت نے آدھی دنیا کو اپنے نظام کے تابع کر رکھا تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں ایک بہت بڑی حقیقت فراموش کر دی جاتی ہے۔ معیشت اس نظام کے تین جوہری اجزامیں سے محض ایک جزو ہے۔ اس موضوع پر گہری نظر رکھنے والے اہلِ علم کی تحقیقات طبع شدہ موجود ہیں کہ سیاسی پہلو سے جمہوریت، معاشی اعتبار سے سرمایہ داری اور تمدنی اور سماجی رُخ سے مغربی (امریکی) تہذیب و ثقافت اس کے خاص حصے ہیں۔ یہ گویا ایک پیکیج ہے۔ نہ تو دنیا کے تمام ملکوں نے ابھی تک جمہوریت کو امریکہ اور برطانیہ کی شکل میں لاگو کیا ہے نہ ہر قوم نے مغربی تہذیب کو دل و جان سے قبول کیا ہے اور نہ ہی سرمایہ داری کی پوری شکل جاپان اور چین جیسے ملکوں میں جلوہ گر ہوئی ہے۔ اس نظام پر اجماع کا دعویٰ ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ اشکلہ چھوڑ دے کہ مصر ی عوام نے عبد الفتّاح السیسی کی آمرانہ حکومت کو جائز اور دستوری حکومت مان لیا ہے۔

اب ہم انتہا پسندی کے مذہب سے تعلق کے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ امریکہ کے شہر نیو یارک میں رونما ہونے والا 9/11 کے سانحہ کی ذمہ داری جب القاعدہ نے خود قبول کر لی تھی تو ہمارے پاس اس کی صفائی کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ میں نے تحریکِ طالبان اور اس سے منسلک ملکی اور غیر ملکی تنظیموں کی دہشت گردی کے خلاف جتنا لکھا اتنا ہی اس میں القاعدہ کے گھنائونے کردار پر بھی لکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسامہ بن لادن نے روس کی ہزیمت کے بعد فوراً ’اسلام اور کفر کی محاذ آرائی‘ کی بات شروع نہیں کی تھی۔ روس کے افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ اور اس کی حلیف قوتوں نے جس طرح وہاں اسلامی حکومت کے قیام کا راستہ روکنے کی روش اختیار کی اس سے امریکہ کا اصل منافقانہ چہرہ پاکستان کے فوجی حکمران ضیاء الحق شہید سمیت اسامہ اور افغان جہادی تنظیموں کے سامنے کھل گیا تھا۔ یہ معاملہ بھی واضح ہو گیا تھا کہ امریکہ کو افغانستان میں دائمی امن اور ایک اسلامی حکومت کے قیام سے نہ صرف یہ کہ کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ اس کے امکانات ختم کرنا چاہتا ہے۔ افغان جہادی تنظیموں کی روپے پیسے اور اسلحہ سے مدد سے اس کی اصل غرض یہ تھی کہ ان کے ہاتھوںروس کی کمر ٹوٹ جائے اور اس کی امریکہ کی حریف قوت کی پوزیشن ختم ہو جائے۔ امریکہ نے پہلے عراق کو ایران کے خلاف جنگ پر ابھارا، پھر صدام سے کویت پر قبضہ کرایا، اس قبضے کو چھڑانے کے لیے عراق پر بڑے بش کی قیادت میںتباہ کن لڑائی ہوئی۔ صدّام حسین کی احمقانہ اور عاقبت نا ایدیشانہ مہم جوئیوں سے خلیجی عرب ملکوں کے لیے اس کو ہوّا بنا کرکھڑا کیا گیا۔ اس کے ممکنہ جارحانہ اقدامات سے ڈرا کر انہی کے خرچے پر وہاں امریکی فوج کو مستقل طور پر بٹھا دیا گیا۔ اسامہ بن لادن نے اس وقت تک اسلام اور کفر کے تصادم کے بجائے معاملے کو عرب عوام کے مفادات کے حوالے سے اٹھایاتھا۔ اس نے خاص طورپر سعودی عرب میں امریکہ کے مستقل فوجی اڈوں کے خاتمے پر کا مطالبہ کیا تھا۔ وہ اپنی سعودی شہریت منسوخ ہونے تک اس مطالبے کا بار بار اعادہ کر رہاتھا۔
اپنے عوام کی خواہشات اور مرضی کے علی الرّغم مسلمان حکمرانوں کی امریکہ کے سامنے فدویت کو دیکھ کراس کی ذہنیت میں اس انتقامی عنصرنے غلبہ پالیاجس نے القاعدہ کو مکمل ایک دہشت گرد تنظیم کی شکل دے دی۔ نیویارک میں9/11 کے المیے کے ما بعد واقعات نے وہ اسباب جمع کر دیے تھے جن کی کوکھ سے دہشت گردی کے عِفریت کے جبڑے بند ہونے کو آ ہی نہیں رہے ہیں۔ لبرل، سیکولر اور لبرل اسلامسٹ حضرات کی دانشوری کی تان آ کر پچھلے چار عشروں میں عالمِ اسلام میں رونما ہونے والے کچھ ایسے بڑے واقعات پر ٹوٹتی ہے جنہوں نے ان کی دانست میںمذہبی جذبات کو بھڑکایا اور عسکریت پسندی کے رجحان کو تقویت بخشی۔ لیکن یہ انتہا پسندی کے فروغ کا صرف ایک پہلو ہے جس میں کھولتے ہوئے جذبات کو اظہار کی راہ مل گئی بلکہ ان جذبات کو بڑی مکاری سے مذہبی رنگ دے دیا گیا۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی ایک عالمی ظاہرہ (phenomenon)ہے۔ امریکہ جیسے ملک میں ہر مہینے دو مہینے میں کسی نہ کسی پبلک مقام پریا کسی تعلیمی ادارے میں دہشت گردی کی کوئی بڑی واردات ہو جاتی ہے۔ بیانیہ ساز حضرات چونکہ ریاستِ پاکستان میں انتہا پسندی کے موضوع پرتسلسل سے لکھتے بولتے ہوئے مذہب کو خاص طور پر ہدف بناتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ میںپاکستان اور اسلام کے رشتے پر دو ٹوک انداز میں اپنی رائے ظاہر کر دوں اور تحریکِ پاکستان کے پس منظر پر مختصر انداز میں کچھ روشنی ڈال دی جائے۔ ان میں شرمانے کی ہر گز کوئی بات نہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ مملکتِ پاکستان کے وجود میں مذہبی پہلو کو جدا کیا ہی نہیں جا سکتا۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، حقیقت یہی ہے کہ اس ریاست کی رگوں میں مذہبی جذبوں کا خون دوڑ رہا ہے۔

پاکستان کے مذہبی وجود کے استناد کا بڑا انحصار پاکستان کے فکری اور عملی بانیان ہی کے خیالات ہی پر ہے۔ سب جانتے ہیں کہ بیسویں صدی کے وسطِ اوّل کی آخری دو دہائیوںمیں ملّتِ اسلامیہ ہند کی نظریں جن دو اہم شخصیات پر لگی ہوئی تھیں وہ علامہ محمد اقبالؒ اورمحمد علی جناحؒ تھے۔ 1938 کے ماہِ اپریل میں اقبالؒ کی رحلت ہوئی۔ یہ دو بڑے مدبّر اور دور اندیش دماغ اس سے سات آٹھ ماہ پہلے تک قوم کے مستقبل کے لیے گہری تشویش اور غور و فکر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ ایک نے پاکستان کا تصور پیش کیاتھا اور دوسری شخصیت کے ذمہ اس تصور کو حقیقت کے قالب میں ڈھالناتھا۔ یہ وہ دور تھا جب ہندووں کی مذہبی انتہا پسندی عروج پر تھی۔ قرآن پاک اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی توہین کے واقعات معمول بنے ہوئے تھے۔ ہندو مسلم فسادات بھی آئے دن کا معاملہ تھا۔ سیاسی میدان میںمحمد علی جناحؒ کے چودہ نکات کے مسترد کر دیے گئے تھے۔ نہرو رپورٹ بھی اپنی متعصبانہ اور انتہا پسندانہ شکل میں سامنے آ گئی تھی۔ ہندو مہا سبھا جیسی تنظیموںکی نفرت انگیزی اور دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والے فسادات میں مسلمانوں کے خونِ ناحق اور ان کے مال و اسباب کی بربادی دونوں رہنمائوں کی آنکھوں کے سامنے کا الم انگیز معاملہ تھا۔ یہی نہیں بلکہ اپنی رحلت کے دس گیارہ سال بعد وقوع پذیر ہونے والے خوں چکاں واقعات بھی اقبالؒ کی چشمِ تصور کے سامنے تھے۔ ان کی دانش برہانی بابری مسجد کی شہادت اور 2002 میں موجودہ بھارتی وزیر اعظم اور ریاستِ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی قیادت میں دوہزار سے زیادہ مسلمانوں کے قتلِ عام، ان کے گھروں اور دکانوں کی پامالی اور مسلمان عورتوں کی آبروریزی جیسے المیوں کو بھی ہوتاہوا دیکھ رہی تھی۔ وہ ہندو بالادستی کے فلسفے Hindutva کی چاپ بھی سن رہے تھے جس کے تحت ترنگے جھنڈے پہن کر ویشو ہندو پریشد اور ہندو مہاسبھا کے کارندے دیہاتوں اور قصبوں سے لے کر بڑے شہروں تک میں ’ہندوستان ہندووں کے لیے ہے ‘کے بھجن گاتے پھرتے ہیں اور مسلمانوں کا جینا حرام کیے ہوئے ہیں۔

اقبالؒ انگریزی تسلّط سے آزادی کے بعدمتحدہ ہندوستان میں مسلمانوں پر ہندووں کی ہمہ جہتی حاویت کے امکانات کو بھی شدت سے محسوس کر رہے تھے۔ ان کو ہندو غلبے میں مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ اور ان کے اعتقادی، تہذیبی و ثقافتی اور تاریخی تشخص کے بارے میں بھی فکر لاحق تھی۔ انہوں نے اپنی وفات سے صرف آٹھ نو مہینے قبل21جون 1937کو محمد علی جناح ؒ کو لکھے گئے اپنے ایک اہم خط میں ان خدشات کا اظہار کرتے ہوئے لکھاتھا کہ ان کی نظر میں ہندو عوام کی اصل نمائندہ جماعت ہندو مہا سبھا ہے جس کی قیادت برملا کہہ رہی تھی کہ متحدہ ہندو مسلم قومیت بھارت میں ممکن نہیں۔ اپنے اسی خط میں انہوں نے نسلی، مذہبی اور لسانی بنیادوں پر ہندوستان کی تقسیمِ نو (redistribution) کے اس تصور کا اعادہ کیا تھا جسے وہ 1930 میں پیش کر چکے تھے۔ تقسیمِ نو کی صورت میں مسلم اکثریت والی ایک یا ایک سے زیادہ مسلم ریاستوں کے قانونی نظام کے بارے میں اقبالؒ کسی ابہام و خلجان کا شکار نہیں تھے۔ اس خط میں انہوں نے جناح صاحب کو لکھا تھا کہ ’اسلامی قوانین کے گہرے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر ان قوانین کو ٹھیک طرح سے سمجھ لیا جائے اور ان کا مناسب طریقے سے نفاذ ہو تو ان کے ذریعے ہر شخص کی ضروریاتِ زندگی پوری ہونا اورلوگوں کو معاشی وسائل کی فراہمی یقینی امر ہے۔ ‘اقبالؒ نے اپنے خط میں ’سوشل ڈیماکریسی‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی کہ اسے کسی موزوں صورت میں قبول کرنااور اس کی اسلام کے قانونی اصولوں کے ساتھ تطبیق و توافق (منفی مفہوم میں) کوئی انقلابی اقدام نہیں بلکہ اسلام کی فطری پاکیزگی کی طرف رجوع کے مترادف ہو گا۔ واضح رہے کہ اس وقت سوشل ڈیماکریسی کا نظریہ ابھی ارتقا کے مراحل میں تھا۔ 1917میں جبر و قہر کے ساتھ روس کے بالشویک انقلاب کے بعد جرمنی اور یورپ کی دیگر سوشل ڈیماکریٹک پارٹیوں نے سوشلزم سے اپنی حتمی بے تعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ ارتقائی مراحل سے گزر کرسوشل ڈیماکریسی کے نظریے سے بیسویں صدی کے نصف آخر تک پیداواری نتاجات (products) اور وسائل زندگی پرریاستی ملکیت کا تصور بالکل خارج ہو گیا تھا۔ اس کے برعکس اس نظریے کا یہ مفہوم متعین ہو گیا تھا کہ ریاست پیداواری ذرائع اور سماجی بہبود کی سکیموں کو شفاف اور واضح قواعد و ضوابط کے تابع رکھنے کا انتظام کرے۔ میں نے یہ وضاحت اس لیے کر دی ہے کہ کوئی یہ نہ کہے کہ اقبالؒ اپنی مجوزہ ریاست یا ریاستوں میں سوشلزم لانا چاہتے تھے۔ سوشل ڈیماکریسی کی اصطلاح در حقیقت وہ اس سوشلزم کی نفی میں لائے تھے جو ہندوستان کے لیے نہرو کے سیاسی پروگرام میں شامل تھا اور جس کا ذکر اقبالؒ کے مذکورہ خط میں موجود ہے۔ اقبال ؒ کے فلسفے میں ریاست اور مذہب کا تعلق صرف اقتصادی اور قانونی پہلووں تک محدود نہیں۔ اقبالؒ نے جب کہا کہ ’جدا ہو دِیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘ تو وہ مذہب کاتعلق واضح طور پر ریاست و سیاست کے تمام امور سے سمجھتے تھے۔

ریاست اور مذہب کا تعلق کسی کو چبھتا ہو تو الگ بات ہے لیکن اس تعلق کی نفی کسی کی خواہش سے نہیں کی جا سکتی۔ سوال یہ ہے کہ امن و سلامتی کے مذہب کے پیروکاروں میں سے کچھ عناصر انتہا پسندی کا کیسے شکار ہوگئے ؟ اس سوال کے جواب کے لیے بھی ہمیں قیامِ پاکستان کے بعد سے تین چار عشرے قبل تک کے سماجی، سیاسی اور معاشی حالات پر ایک نظر ڈالنی ہو گی۔ ہمارے لبرل اسلامسٹ، سیکولر اور کھلے لبرل دانشور اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ تحریکِ پاکستان کے دوران میں ہونے والے جلسوں میں ’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلٰہ اِلّا اللہ‘ کے نعرے گونجتے تھے۔ دس کروڑ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی اکثریت میں مجوّزہ ریاست کے حصول کے لیے جوش و جذبہ اس نعرے ہی نے پیدا کیا تھا۔ اسی ’لا اِلٰہ اِلّا اللہ‘ کی بنیاد پر وہ ہندووں اور سکھوں کے مقابلے میں ایک جدا قوم تھے۔ قیامِ پاکستان کے وقت انسانی نقل مکانی (diaspora) بیسویں صدی کی ہی نہیں بلکہ شاید تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتوں میں سے تھی۔ جمی جمائی زندگی اور بستے رچتے گھر اور پرکھوں کی دھرتی چھوڑنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ توپھر کیوں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کرلاکھوں لوگ نئے وطن کی طرف نکل کھڑے ہوئے تھے؟ ان سے وعدے کیے جا رہے تھے کہ ان کے خوابوں کی ریاست پاکستاں کا نظام– لا اِلٰہ اِلّا اللہ –کی عملی تعبیر ہو گا۔ سماجی تشکیل اسی کلمے کی روشنی میں ہوگی۔ وہاںاخلاقی قدروں کی خوشبو اور ایمانی جذبوں کی روشنی ہو گی۔ دیانت اور امانت کا ماحول اورسچائی اور راستی کا چلن ہو گا۔ قانون کی نظر میںسب لوگ برابر ہوں گے۔ امن، عزت، عدل اوراسبابِ حیات پر سب کا مساوی حق ہو گا۔ ترقی کے مواقع سب کے لیے یکساں ہوں گے۔ سب کے جان اورمال محفوظ ہوں گے۔ سب کو تعلیم اورصحت کی ایک جیسی سہولتیں میسّرہوں گی۔ قائدِ اعظم ؒ تو ان وعدوں کی تکمیل سے پہلے ہی اپنے خالق سے جا ملے تھے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی قیادت میںملک کے دستوری، سیاسی اور سماجی اہداف و مقاصد کے تعین کے لیے 12 مارچ 1949کو اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کی گئی۔ انہوں نے ہی اعلان کیا تھا کہ پاکستان اسلام کی عملی لیبارٹری ہو گا۔ قراردادِ مقاصد کے پاس ہونے کے تقریباً اڑھائی سال بعد راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ابھی تقریر کے چند الفاظ ہی ادا کر پائے تھے کہ گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔ سازش کا ’کھُرا‘ مٹانے کے لیے قاتل کو موقع پر مار دیا گیا۔ کیا یہ المیہ عوام کی خواہشات اور امیدوں پر بم بن کر نہیں گرا تھا؟ جذبات مجروح نہیں ہوئے تھے؟

کچھ آگے بڑھے تو لوگوں کے سامنے ’منزل ان کو ملی جو شریکِ سفر نہ تھے‘ والی صورتِ حال تھی۔ وہ ادب میں ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس تحریک کی فکری قیادت بھارت سے احکام جاری کرتی تھی۔ روزنامہ، ہفت روزہ اور ماہنامہ صحافت پر یا سوشلسٹ اور کمیونسٹ چھائے ہوئے تھے یا مغرب پرست لبرل اور سیکولر لابی کی گرفت تھی۔ یہ عناصر دینی شعائراور اخلاقی اصولوں کا کھلم کھلا مذاق اڑاتے تھے۔ کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ یہ اپنے انداز کی کیسی انتہا پسند تحریک تھی ؟نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ کمیونسٹ اثرات کے تابع ایک ٹریڈ یونین کے زیرِ انتظام چھپنے والے ایک رسالے نے رسول اللہ ﷺ کے انتہائی توہین آمیز کارٹون تک شائع کرنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ سیاسی میدان پر انگریز کے مراعات یافتہ جاگیردار، وڈیرے، گدی نشین اور سردار قابض ہو گئے تھے۔ مفاد پرستی، ابن الوقتی اور خود غرضی کو سیاسی اخلاقیات کا حصہ بنا دیاگیا۔ محلاتی سازشیں روز کا معمول تھیں۔ تحریکِ پاکستان کے وعدے ایفا نہ ہوئے۔ عوام کے خواب چکنا چور اور امیدیں ریزہ ریزہ ہو گئیں۔ اگرچہ سیاست دانوں کی ذاتی زندگیوں کے اخلاق سوز نمونے اور اس وقت کے میڈیاکی فکری و نظریاتی تخریبی مہم اجتماعی ماحول کو فساد آلودکررہی تھی اس کے باوجود عوام ابھی مجموعی طور پر دِین و اخلاق کے احساس سے سرشار تھے۔ سیاسی اشرافیہ اور سول و ملٹری بیوروکریسی، جو ذہنی طور پر مغربی کلچر کی دلدادہ تھی وہ عوامی خواہشات کے علی الرّغم ملک کو اسلامی تصورات سے دور کرنے کی درپے تھی۔ اس نے قوم کو صر ف معاشی اعتبار سے ہی طبقات میں نہیں بانٹ رکھا تھا بلکہ فکری اور نظری پولرائزیشن کی دیواریں بھی کھڑی کر دی تھیں۔ عیّاش اور دِین بیزار سیاست دان اور افسر شاہی، سیکولر اور لبرل گروہ تھے جو اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل سے مقاصدِ پاکستان اور قرار دادِ مقاصد کی تحقیر سے عوام کے جذبات مجروح کرتے تھے۔ عوام بے بس تھے۔ محرومیوں کا احساس مایوسی کی کیفیت کو گہرا کر رہا تھا۔ مایوسی غصے اور نفرت کو ہوا دے رہی تھی۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اس سیاسی، سماجی اور اخلاقی سیناریو سے انتہا پسندانہ رویوں کی پرورش نہیں ہوئی ہو گی تووہ انسانی نفسیات سے یکسر بے خبر ہے۔ پوری تفصیل کے ساتھ یہ سارا پس منظر اس لیے پیش کر دیا گیا کہ پرویز مشرف ہو یا زرداری یا نواز شریف، ہر ایک کی حکومت کو ’الجماعۃ‘ کا درجہ دے کر صرف اس کی اطاعتِ کامل کا بھاشن دینے اور ان حکمرانوں کی قربتوں اور مشاورتوںکی لذتیں حاصل کرنے، اہلیت کے بغیر بعض دستوری اداروں میں منصب پا لینے، بھاری معاوضوں پر ٹی وی پروگرام کرنے اور کالم لکھنے والے بیانیہ تراش دانشوروں کو یہ بتا دیا جائے کہ انتہا پسندی کی پُخت میں صرف مذہب ہی کا دخل نہیں تھا، اس نفسیاتی ہنڈیا میںبے شمار اور تلخ حقائق کے مسالے بھی شامل تھے۔

پیچھے بیان کرنے کے لیے ابھی بہت تفصیل باقی ہے لیکن اس سے گریز کرتے ہوئے تقریباً چالیس سال پہلے وقوع پذیر ہونے والے دو خارجی عوامل میں سے فی الحال ایک کا کسی قدر تفصیل سے ذکر ہو جائے جس نے مایوسیوں اور نامرادیوں کے دبے ہوئے احساسات کی چنگاریوں کو شعلوں میں بدلا۔ کسی ڈکشنری یا موسوعے، کسی تحقیقی اور تاریخی کتاب میں یہ نہیں ڈھونڈا جا سکتا کہ کسی طاقتور ملک کا اپنی عسکری قوت کے بل پر کسی کمزور اور بے وسیلہ ملک پر چڑھ دوڑنا اور اس پر اپنی کم و بیش ایک لاکھ فوج لا بٹھانا مذہبی معاملہ ہے۔ میرا اشارہ افغانستان پر روس کی یلغار کی طرف ہے۔ یہ ایک کھلا استعماری اقدام تھا جو دو اڑھائی سوسال قبل تک مغرب کے نام نہاد مہذّب ملک کرتے رہے۔ اس وقت سرد جنگ زوروں پر تھی اور دنیا دو نظریاتی بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی۔ پاکستان میں امریکہ اور مغرب نواز لابی بھی تھی اور روس نواز گروہ بھی۔ افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ استعمار دشمنی میں بڑی شہرت رکھنے والے دانشور اور ادیب اور شاعراس روسی جارحیت پر سخت بے حسی دکھا رہے تھے۔ روسی جارحیت کے خلاف جو مزاحمتی اور جہادی تحریک اٹھی اس کے سارے سرخیلوں کی اپنی ایک مذہبی پہچان تھی۔ یوں افغان جنگ اسلام اور کفر کی جنگ بن گئی۔ ہم نے دیکھا کہ اس جنگ کے دس بارہ سال بعد افغانستان پر ویسی ہی وحشیانہ چڑھائی امریکہ نے کی تو افغانستان میں دفاعی جنگ لڑنے والے پھر وہی مذہبی لوگ تھے۔ دوسری طرف پرویز مشرف کی قیادت میں سب لبرل، سیکولر اور یہی لبرل اسلامسٹ تھے جو امریکہ کے حق میں دلائل کے پہاڑ کھڑے کر رہے تھے۔ گویا افغانوں پر دونوں مرتبہ ٹوٹنے والے کوہِ غم اور یلغاروں میں ایک طرف اسلام تھا اور دوسری طرف اسلام مخالف قوتیں تھیں۔ جو فرق تھا وہ بس یہ تھا کہ روس کے خلاف افغان جہاد کے وقت جنرل ضیاء الحق کی حکومت ظالم اور جارح کے خلاف مظلوم اور مجروح کا ساتھ دے رہی تھی۔ افغانوں نے جب امریکی حملے کی مزاحمت کی ٹھانی توامریکہ کے اس انتہا پسندانہ فلسفے کے آگے کہ ’جو ہمارے ساتھ نہیں وہ دہشت گردوں کا ساتھی ہے‘پرویز مشرف نے سرنڈر کر دیا۔ ’سب سے پہلے پاکستان‘ کی شاطرانہ حیلہ جوئی نے امریکہ کی دوستی کا حق ادا کیا۔ افغان مزاج مذہبی ہے لیکن انکی مذہبیت میں کچھ ان کی قبائلی روایات کی آمیزش بھی ہے۔ دشمن کا دوست دشمن۔۔۔ ‘ ایک قدیم عالمی اصول ہے۔ امریکہ نے جب یہ دھمکی دی کہ جو ہمارے ساتھ نہیں، یہ سمجھا جائے گا کہ وہ دہشت گردوں کا ساتھی ہے تواس نے یہی اصول برتا۔ آج ہماری سیاسی اور عسکری قیادت ہی نہیں بلکہ ’ہماری جنگ، ہماری جنگ ‘ کی گردان کرنے والے دانشور بھی کہہ اٹھے ہیں کہ 9/11 کے سانحہ کے بعد افغانستان میں برپا جنگ ہماری نہیں امریکہ کی تھی۔ ہم نے اس کا حصہ بننے کی حماقت کی۔ اس کی چنگاریاں ہمارے خرمن میں آ کر گرنے لگیں اور اسے خاکستر کر گئیں۔

افغان سر حد سے اُدھر والے ہوں یا اِدھر والے بہت مذہبی لوگ ہیں لیکن مذہب کا ان کا اپنا الگ برانڈ ہے جس میں ان کی نسلی اور قبائلی روایات کی آمیزش ہے۔ غیرت کا ان کا اپنا الگ تصور ہے۔ دشمن کے قبر میں پہنچ جانے کے بعد تک بھی انتقام ان کی غیرت میں شامل ہے۔ بہت سے معاملات میں ان کی مسلمانیت پر ان کی ’پٹھانیت ‘ غالب آ جاتی ہے۔ دونوں طرف کا خون ایک ہے اور درد بھی ساجھا ہے۔ اُس پار والے طالبان پرجب آتش و آہن کی بارش ہوئی توتپش اِدھر والوں نے بھی محسوس کی۔ وہ امریکہ کے خلاف مزاحمت کی علامت بنے تو اِدھر والوں نے ہماری ساری قوم کو امریکہ کی مطیع گردان کر نشانے پر لے لیا۔ حکومت اور فوج کی امریکہ سے گرم اختلاطی ساری قوم کے لیے وبال بن گئی۔ دہشت گردوں کی روپے پیسے اور اسلحہ کی مانگ بڑھی تو دہشت گردی franchise ہو گئی۔ دشمن خفیہ ایجنسیوں نے طالبان کے حلیوں اور ان کی سوچ کے بندے ڈھونڈ کرپیسے اور اسلحہ کی بے تحاشا سپلائی شروع کر دی۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک حکومت اور عسکری قیادت کے گلے میں امریکہ سے اتحادی کا ڈھول پڑا ہوا ہے جسے خواہی نخواہی بجانا پڑ رہا ہے حالانکہ پاکستانیوں کی اکثریت امریکہ سے نفرت کرتی اور اسے اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ انسانی فطرت اور جبلّت میں بیٹھی نفرت، غضب اور انتقام کی دو بدروئیں بہہ رہی ہیں۔ ایک کا رُخ باہر سے اندر کی طرف دوسری کا اندر سے باہرکی طرف ہے۔ ظلم یہ ہوا کہ امریکی پراپیگنڈے کے زیرِ اثر فطرت اور جبلّت سے پھوٹنے والے ان رویوں کواندھا دھند مذہب سے جوڑا اور سارے فساد کو مذہب کے سر تھوپا گیا۔ اخباری کالموں اور ٹی وی ٹاک شوز کے نام نہاد دانشوروں کی غلامانہ ذہنیت ہے کہ برسوں سے Do More کے تقاضوں اور ٹرمپ انتظامیہ کی حالیہ دھمکیوں میں انہیں انتہا پسندی نظر نہیں آتی۔ وہ مذہبی لیڈروں کے بیانات سے ایک ایک جملہ نکالتے اور اسے اپنے ’انتہا پسندی‘ والے بورڈ پر چسپاں کر دیتے ہیں۔

اور ہاں، یہ بھی دھیان میں رہے کہ یہ دنیا برف خانہ نہیں ہے جہاں سے مقالات، مضامین، کالموں اور تقریروں کی برفانی سِلیں نکلتی ہوں۔ یہ دہکتی بھٹّی ہے جہاں حالات و واقعات کے نتیجے میں منفی اور مثبت ردّ عمل کے شعلے نکلتے ہیں۔ پاکستان میں کسی مسیح کو زیادتی کا نشانہ بنایا جائے تویہ ہوتا تو ہمارا اندرونی مسئلہ ہے لیکن ویٹکن سِٹی سے پوپ اور وائٹ ہائوس سے امریکی صدر سے لے کر یورپ کے سارے دارالحکومتوں سے عیسائی سربراہوں کے احتجاجی اور انتباہی بیانات جاری ہونے لگتے ہیں۔ اگر وہ ردّ عمل کو کوئی انتہا پسندی نہیں تصور ہوتی توبے بس فلسطینیوں اور کشمیریوں اور برمی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مسلم دنیا احتجاج کرے تو اسے انتہا پسندی کیوں قرار دیا جائے۔ اگرسلمان رُشدی فکشن کے نام پر ’شیطانی آیات‘  (Satanic Verses) جیسی کتاب لکھے، کوئی تسلیمہ نسرین کتاب اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی توہین کی مرتکب ہو، قُرآن کو الہامی کتاب کے بجائے ایک انسان کی تصنیف قرار دے اور اس میں حالات کے مطابق ترمیم و اضافہ کو ضروری قرار دے، ڈنمارک کا کرٹ ویسٹر ہمارے نبی ﷺ کے توہین آمیز کارٹون بنائے اور انہیں صرف وہاںکا اخبار Jyllands Posten ہی نہیں بلکہ ناروے، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کے اخبار بار بار شائع کریں، اس قبیح اور اشتعال انگیز حرکت کو تو انتہا پسندی نہ سمجھا جائے مگر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں اور وہ اس پر ردّ عمل میں مخالفانہ آواز اٹھائیں تو ان کو انتہا پسندی کے خانے میں ڈال دیا جائے تو ’بہ ایں عقل و دانش بباید گریست‘ کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔

اب مناسب ہے کہ انتہا پسندی کی ایک اور قسم کا ذکر بھی ہو جائے۔ میری تحریریں اور سوشل میڈیا پر میرے درجنوں تبصرے موجود ہیں جن میں بتایا ہے کہ ’جاہل مُلّائوں‘ نے اپنے ناقص فہم ِ دِین کے راستے انتہا پسندی کو جتنا فروغ دیا اس کے سو گنا زیادہ انتہا پسندی سیاست کی راہ سے قومی مزاج میں داخل ہوئی ہے۔ 1970کے انتخابات سیاسی انتہا پسندی کے انتہائی ماحول میں ہوئے تھے۔ ’آوے ہی آوے، سوشلزم آوے ‘ اور ’ایشیا سرخ ‘ ہے کے نعروں کے ساتھ’ سو یہودی، ایک مودودی ‘ کے علاوہ ’مودودی ٹھاہ ‘ کے مکروہ اظہارات کا زہر ابھی سیاست کی رگوں سے زائل نہیں ہوا۔ شیخ مجیب الرّحمٰن اور پیپلز پارٹی نے ملک کے اپنے اپنے اثر کے حصے میں نفرت اور بغاوت کی فضا تیار کی تھی۔ دونوں پارٹیوں کو اسی نسبت سے ملک کے اپنے اپنے حصے میں اکثریت ملی۔ جمہوری اصول کے مطابق چونکہ شیخ مجیب الرّحمٰن کو اسمبلی میں عددی اکثریت حاصل تھی اس لیے جمہوری اصولوں کے مطابق وزارتِ عظمیٰ کا وہ اورحکومت سازی کی اس کی پارٹی حق دار تھی۔ بھٹو جو کچھ طے کر چکے تھے وہ’اُدھر تم، اِدھر ہم ‘ کی اخباری سرخی سے مترشّح ہو گیا تھا۔ ڈھاکہ میں اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اقتدار ِ کامل کی سخت ہوس میں مبتلاتھے۔ انہوںنے ڈھاکہ کے اجلاس میں جانے والوں کی ٹانگیں توڑنے کی جو دھمکی دی تھی وہ صرف انتہا پسندی ہی نہیں کھلی دہشت گردی کا اعلان تھا۔

انہوں نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کو پاکستان بچ گیا سے تعبیر کیا۔ ملک کا ایک بازو ٹوٹ جانے کے بعد بچے کھچے پاکستان میں ان کا طرزِ حکمرانی انتہا پسندی سے بہت آگے فسطائیت کی علامت بن گیاتھا۔ انہوں نے سیاسی مخالفین کے لیے بے ہودہ القابات کی طرح ڈالی۔ اخبارات اور رسالے بند کیے۔ ایڈیٹروں کو پسِ دیوارِ زنداں دھکیلا۔ جیل میں بزرگ سیاسی اور مذہبی رہنمائوں میں سے کسی کی داڑھی نوچی گئی اور کسی کے ساتھ فاحشہ عورتوں کی تصویریں بنوا کر ان کی توہین کی۔ دلائی کیمپ جیسے عقوبت خانے اور ٹارچر سیل قائم کیے۔ اپنے مخالفین کو قتل کرا دینے سے بھی نہ چوکے۔ بھٹو کی سزائے موت کے بعد اس ملک نے جس پہلی دہشت گرد تنظیم کا مشاہدہ اور تجربہ کیا وہ بھٹو کے بیٹوں کی قائم کی ہوئی ’الذوالفقار‘ تنظیم تھی۔

دوسرا سفاک اور بے رحم شخص جس کے ہاتھوں فاشزم کو عروج ملا اور جس نے بوری بند لاشوں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، قبضہ مافیا اور ٹی وی سیٹ بیچ کر کلاشنکوف خریدنے کا پرچار کر کے ملک کے اقتصادی دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر کو مفلوج اور سیاسی مخالفین کے قتل کو کلچر بنایا وہ ایم کیو ایم کا بانی رہنما الطاف حسین اور اس کی پارٹی کے ہر سطح کے لیڈر تھے۔ حالیہ عرصے میں عمران خان ہیں جو اپنے نودریافت سیاسی اتالیق شیخ رشید کے ہمراہ دروغ گوئی، زٹل بیانی، بہتان تراشی، مبالغہ آرائی، دشنام طرازی، نفرت انگیزی اور تحقیر و تذلیل کی ناپاک اینٹوں سے اپنے مزعومہ’نئے پاکستان‘ کی دیواریں اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاست کو مقبول بنانے کے لیے سونامی، جنون اور ٹائیگر جیسے جن استعاروں کا سہارا لیا وہ سب انتہا پسندی کی علامتیں ہیں۔ ایسے تمام مذہبی اور سیاسی نظریات و معتقدات اوررویے انتہاپسندی میں شامل ہے جن کو معتدل، معقول اور مہذّب لوگ غلط سمجھتے ہوں۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ہاں زبان کی شائستگی کا کچھ خیال ملتا ہے لیکن آج کل انہوں نے جس جارحانہ انداز میں عدالتوں سے ٹکّر لینے کی ٹھان لی ہے سنجیدہ حلقے اسے بھی اپنی طرز کی ایک انتہا پسندی خیال کرتے ہیں۔ انتہا پسندی کی اخلاقی طور پر بڑی مہلک صور ت وہ ہے جو سیاسی خانوں میں بٹے ہوئے صحافی اور اینکر پھیلا رہے ہیں۔ انتشار و افتراق اور منافرتیں پھیلانے اوربے حیائی کو رواج دینے میں پرنٹ اور برقی میڈیا کا کردارکچھ کم انتہا پسند نہیں ہے۔ اور ہاںیہ بھی عرض کر دیا جائے کہ ہمارے بیانیہ ساز معصوم دانشوربات بات پرجس طرح اہلِ مذہب کے لتّے لیتے اور ان کی دھجیاں اڑاتے ہیں اور ان کو بے اعتبار بنانے کی سعی ِ نامشکور کرتے ہیں وہ بھی اپنی طرز کی انتہا پسندی ہے۔ وہ ساری جدت پسندی کے باوجودچونکہ اپنی ایک مذہبی پہچان رکھتے ہیں اس لیے ان کے اظہاریے اور بیانیے بھی مذہبی انتہا پسندی سے خارج نہیں ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: