سینٹ کا انتخاب اور شفافیت کا عمل — سلمان عابد

0
  • 24
    Shares

پاکستان بنیادی طور پر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں اپنے ابتدائی اور ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ سمجھنا کہ پاکستان میں جمہوریت ایک مضبوط تناور درخت کی طرح ہے تو یہ خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ جمہوریت کی مضبوطی یا کمزوری کے بارے میں تجزیہ کیا جاتا ہے تو اس میں یقینی طور پر داخلی اور خارجی دونوں طرز کے مسائل غالب نظر آتے ہیں۔جمہوریت سے وابستہ جمہوری قوتوں کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ عمومی طور پر اپنے داخلی مسائل کو نظر انداز کرکے سارا ملبہ خارجی مسائل پر ڈالتے ہیں۔ یقینی طور پر خارجی مسائل بھی اہم ہیں، لیکن داخلی مسائل کے بہتر تجزیہ کے بغیر خارجی مسائل سے نمٹنا بھی ناممکن ہوتا ہے۔

حالیہ سینٹ کے انتخابات جو تین مارچ2018کو منعقد ہورہے ہیں اس میں بھی پچھلے چند برسوں سے سنگین نوعیت کے مسائل جن کی بنیاد کرپشن اور بدنیتی ہے کو غلبہ حاصل ہے۔ سینٹ کا ایوان بنیادی طور پر ہماری پارلیمانی جمہوریت میں ایک اہم ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایوان بنیادی طور پر وفاق کے ایوان کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے اور اسے برابر ی کی بنیاد پر قائم کیا گیا تاکہ ہم عملا چاروں صوبوں کے درمیان باہمی رابطہ، اہم اہنگی اور باہمی تعصب مسائل یا تفریق سے بہتر طور پر نمٹ سکیں گے۔عمومی طور پر سینٹ کا بنیادی کام قانون سازی کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے ہمیں اچھے پڑھے لکھے، سمجھ بوجھ رکھنے والے ماہر تجربہ کار ماہرین اور سیاست دان درکار ہوتے ہیں۔

سینٹ کے انتخابات میں ایک مسئلہ بدترین انداز میں ہارس ٹریڈنگ کا سامنے آیا ہے۔اس نے عملی طور پر نہ صرف ہماری جمہوریت، قانون کی حکمرانی، سیاسی قیادتوں اور عوامی نمائندوں کے منفی طرز عمل کو بے نقاب کیا ہے بلکہ سینٹ جیسے اہم اداروں کے تقدس کو بھی بری طرح مجروع کیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ عوامی نمائدے کم اور گھوڑوں کا جمعہ بازار زیادہ ہے، جہاں ارکان اسمبلیوں کی بولیاں لگتی ہیں اور خود ارکان بھی اپنی بولی کے لیے خود کو بڑی سیاسی ڈھٹائی سے پیش کر کے عملا جمہوریت کا تماشہ بناتے ہیں۔بلوچستان، خیبر پختونخواہ میں یہ مسائل بہت زیادہ سنگین ہیں، لیکن سندھ اور پنجاب بھی ان مسائل سے مکمل طور پر آزاد نہیں۔اس بار بھی سینٹ کے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم سے لے کر ووٹ کے حصول تک پیسے کی بنیاد پر ووٹ خریدنے کا عمل جاری ہے۔

کڑوروں روپوں میں ارکان کی بولیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ہمارے جمہوری نظام کی سیاسی، قانونی اور اخلاقی ساکھ کیا ہے۔ جن جماعتوں کی صوبوں میں اکثریت یا نمائندے نہ ہو ں وہ اگر سینٹ میں کوئی نشست لیتے ہیں تو اس کی وجہ محض پیسے کے استعمال کے کچھ نہیں۔پہلا مرحلہ تو سینٹ کے انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں او ران کی قیادت کی جانب سے دی جانے والی پارٹی ٹکٹ کا ہے۔ مجموعی طور پر سیاسی جماعتیں سینٹ اور اس کی اہمیت و کردار کو سامنے رکھ کر کسی بھی امیدوار کا انتخاب نہیں کرتے، بلکہ ان کے پیش نظر ذاتی تعلقات، دوستی، خاندانی سیاست اور اپنے کاروباری تعلقات کو مستحکم کرنے کی سوچ غالب ہوتی ہے۔خود سیاسی جماعتیں اپنے صوبائی ارکان کی خفیہ مانٹیرنگ کرتی ہیں جس کے معنی ان پر ان کو عملا بھروسہ نہیں اور یہ جو سینٹ کو پیسے اور کاروبار کی سیاست سے جوڑ دیا گیا ہے، وہ خطرنا ک عمل ہے۔

پاکستان کے سنجیدہ سیاسی طبقوں سمیت اہل دانش اور سیاسی ماہرین کو سینٹ کے انتخابات یا جمہوریت کے نام پر کھیلے جانے والے اس کھیل کو ہر سطح پر چیلنج کرنا ہوگا۔

اگرچہ ٹکٹ کے اجرا میں پائی جانے والی یہ خامیاں محض سینٹ تک محدود نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام میں قومی، صوبائی، مقامی سطح پر پارٹی ٹکٹ کے اجرا کا عمل دولت جمع کرنے کا کھیل بن گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ جب ہماری سیاسی جماعتیں اور قیادت سیاست میں پیسے کے نام پر ہارس ٹریڈنگ کو تقویت دیں گی تو پھر جمہوری نظام کی بالادستی کا سوال بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔دولت کے بعد ایک مسئلہ خاندانی نظام کو مستحکم کرنے کی سوچ ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر وزیر اعلی اور پارٹی قیادت تک سب اپنے بچوں اور رشتہ داروں کو ٹکٹ دے کرسیاسی جماعتوں کے داخلی نظام کو کھوکلا کرنے کا سبب بنتے ہیں، خاندان کے لوگوں کو ٹکٹ دینا جرم نہیں اگر واقعی ان کے بچوں کا سیاسی جماعت میں کوئی کردار ہو، لیکن محض ان کی بڑی شخصیات سے رشتہ داری کا ہونا ہے پڑھے لکھے اور بلاصلاحیت لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔اس کھیل میں مجموعی طور پر تمام سیاسی جماعتوں کا سیاسی ریکارڈ درست نہیں۔

ایک مسئلہ یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایسے افراد کو سینٹ کا ٹکٹ دیا جاتا ہے جو اس ادارے کی نمائندگی کا اہل بھی نہیں ہوتا۔ اس کی سوچ گلی محلے اور ترقیاتی فنڈ کے حصول سے زیادہ نہیں ہوتی۔ لیکن کیونکہ جن خاندانوں کو قومی اور صوبائی میں ایڈجسٹمنٹ نہیں ملتی اس کو سینٹ میں لاکر خود ایوان کا مذاق آڑایا جاتا ہے۔ اسی طرح سے سیاسی جماعتیں اپنے لوگوں کو ایڈجسمنٹ کے لیے ایک صوبے سے نکال کر دوسرے صوبے میں جہاں ان کے نمبر ز یا اکثریت ہوتی ہے وہاں سے نمائندگی دی جاتی ہے۔ حالانکہ سینٹ کے اصول کے مطابق جو بھی رکن منتخب ہوں اس کا تعلق اسی صوبے سے ہونا چاہیے،تاکہ وہ اپنے صوبے کی نمائندگی کرسکے۔لیکن سیاسی جماعتیں اس اصول کو نظر انداز کرکے اپنی من مانی کرتی ہیں جو صوبائی خود مختاری کے بھی خلاف ہے۔

اصل میں سینٹ، ایوان صدر اور گورنرز کے جو ادارے ہیں یا عہدے ہیں ان کو فعال بنائے بغیر ہم جمہوری عمل کو کسی بھی صورت میں مضبوط نہیں بناسکتے۔ اگر اداروں کو مفلوج بنیادوں پر چلانا ہے تو اس سے ان اداروں کی افادیت ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ سینٹ کے انتخابات کا موجودہ طریقہ کار ناقص ہے اور دنیا کے بیشتر ملکوں کی طرح یہاں پر بھی سینٹ کے براہ راست انتخابات کا عمل ہونا چاہیے۔ اسی طرح سینٹ کے امیدوراوں کی جانچ پرتال کے نظام کو الیکشن کمیشن، سیاسی جماعتوں سمیت سول سوسائٹی او رمیڈیا میں فعال اور مضبوط بنانا ہوگا۔ کیونکہ جب تک سینٹ اپنے حقیقی نمائندوں سے محروم رہے گی اور اس میں اقرا پروری سمیت کرپشن، بدعنوانی اور ارکان کی خرید وفروخت کے کھیل کو طاقت فراہم کی جاتی رہی تو نہ تو جمہوری ساکھ بن سکے گی اور نہ ہی سینٹ ہماری پارلیمانی جمہوریت میں کچھ کرسکے گا، اس کی حیثیت ایک سیاسی بوجھ سے زیادہ نہیں ہوگی اور یہ ادارہ بھی دیگر اداروں کی طرح اپنی افادیت کھودے گا۔

پاکستان کے سنجیدہ سیاسی طبقوں سمیت اہل دانش اور سیاسی ماہرین کو سینٹ کے انتخابات یا جمہوریت کے نام پر کھیلے جانے والے اس کھیل کو ہر سطح پر چیلنج کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ طریقہ کار کسی بھی صورت میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے او ران کے خلاف پرامن سیاسی اور قانونی جدوجہد داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر ہونی چاہیے، اسی میں جمہوریت کی بالادستی پنہاں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: