لبرل کسے کہتے ہیں؟ مکالمات ِ افلاطون (جدید) —- اعجازالحق اعجاز

1
  • 197
    Shares

کریٹائلس: یہ لبرل کیسے لوگ ہوتے ہیں؟
سقراط: لبرل اچھے لوگ ہیں اور میں انھیں بہت پسند کرتا ہوں۔
لائیساس: لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ یہاں کچھ لبرل لوگ بہت سماجی انشار اور تہذیبی نراج پھیلاتے پھرتے ہیں۔
فیڈرس: ان میں سے بہت سوں کو تو لبرل نہیں کہنا چاہیے، مثلاً کرونالوس ہی کو لے لو، اس کا بس یہ کام ہے کہ سوچے سمجھے بغیر ہی بولتے رہنا، چاہے اس سے کسی کا دل دکھے یا وہ صدمے کی حالت میں چلا جائے اسے اس کی کوئی پروا نہیں۔ لوگ اس کے غصے اور نفرت آمیز رویے کی وجہ سے اسے سننے سے انکار کر دیتے ہیں۔

ہر موجینس: کل وہ کسی مذہبی آدمی سے لڑ پڑا، خوب سر پھٹول ہوئی۔
سقراط: ایسے جذباتی لوگ تو لبرلوں میں بھی ہیں اور مذہبی لوگوں میں بھی۔
فیڈرس: اصل میں کرونالوس ہو یا ڈرامیٹورس ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ دانشمندی سے کام نہیں لیتے، یہ بس لوگوں کو چونکا دینا چاہتے ہیں، ہر اس شے کو مذموم سمجھتے ہیں جو ماضی اور تہذیبی یا مذہبی روایت سے جڑی ہوتی ہے۔
سقراط: تم نے ٹھیک کہا، مگر یہ لبرلوں کے حقیقی نمائندہ نہیں۔

کریٹائلس: تو پھر حقیقی لبرل کسے کہتے ہیں؟
سقراط: حقیقی لبرل وہ ہوتے ہیں جو توازن اور اعتدال سے محروم نہیں ہوتے، ان کا کام کسی کی تضحیک اور تذلیل نہیں۔ وہ مروجہ تصورات کا باریک بینی، حزم و احتیاط اور سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں اور اپنی رائے کا بہت شائستگی، سلیقے اور خوش کن انداز سے اظہار کرتے ہیں تاکہ لوگ ان سے دور نہ بھاگیں اور ان کی بات پر توجہ دیں۔ وہ اپنی رائے کو بھی حتمی نہیں سمجھتے اور دوسروں کے صائب نقطہ نظر کو ماننے کے لیے آمادہ رہتے ہیں۔ وہ شیکسپیرائٹس نے ہی کہا تھا کہ جو غصے، نفرت اور تعصب سے بات کرتا ہے اس کی بات کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔

لائسیاس: ہاں میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، اگر کوئی لبرل بدگفتاری سے کام لیتا ہے تو دراصل وہ خود بھی یہ نہیں چاہتا کہ دوسرے اس کی بات مانیں۔ اس کا اصل مقصد بس ایک معاندانہ صورت ِ حال پیدا کرنا ہوتا ہے۔ یا یہ کہ لوگ اسے روشن خیال سمجھیں۔
سقراط: فکر ترقی کرتی ہے، خیالات بدلتے رہتے ہیں، فکر کا ارتقا بہت مفید شے ہے، پانی چلتا ہوا ہی اچھا لگتا ہے۔ مگر فکر کے ارتقا کے لیے یہ ضروری نہیں کہ پہلے سے موجود فکر کی مکمل تنسیخ کر دی جائے یا اس کے لیے معاندانہ رویوں کی فصل بونے کی کوشش کی جائے، بلکہ یہ ضروری ہے کہ اس کے عمدہ اور اچھے اجزا کی تحفیظ کی جائے اوران کو ترقی کے سفر میں شامل رکھا جائے۔ ماضی ہمیشہ حال پہ ایک بوجھ نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات اس کی تیز رفتاری میں معاون بھی ہوتا ہے۔ فیڈرس میں دیکھ رہا ہوں کہ تم کچھ کہنا چاہتے ہو۔

فیڈرس: میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ آپ کس قدر عمدہ انداز سے اپنی بات کو ہم تک پہنچا رہے ہیں۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ماضی نے ہمیں بہت زریں روایات و اقدار سونپی ہیں، ہمیں چاہیے کہ ان کی قدر کریں۔
سقراط: ماضی کی تمام اقدار و روایات زریں نہیں ہوتیں، ان روایات کے کچھ اجزا ایسے ہوتے ہیں جن پہ نظر ثانی کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ ایسے جو ناقص کہ جن کی تکمیل ضروری ہوتی ہے اور کچھ کی تنسیخ بھی۔ ری ایکشنری (Reactionary) ہونا بڑی بات نہیں بلکہ ریولیوشنری (Revolutionary)ہونا بڑی بات ہے، اور یہ بہت صبر آزما کام ہے۔

فیڈرس: لیکن ہم چیزوں کو کلی اور مجموعی طور پر نہیں بلکہ جزوی طور پر دیکھنے اور سوچنے کے عادی ہیں۔
سقراط: ہاں میں دیکھتا ہوں کہ کچھ لوگ یک طرفہ موقف ہی اختیار کرتے ہیں اور اپنی انا کی خاطر اس پہ اڑے رہتے ہیں، ان میں شدت جنم لیتی ہے جو ان کے موقف کو کمزور کر دیتی ہے۔

لائیسیاس: یہ شدت توکچھ مذہبی طبقو ں میں بہت زیادہ ہے۔
سقراط: لبرل ازم اور مذہبیت کو تم متضاد سمجھتے ہو ؟ ایسا نہیں ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ لبرل ازم انھی میں ہو جن کو تم لبرل طبقے کہتے ہو، لبرل ازم مذہبی طبقوں میں بھی ہو سکتی ہے، اسی طرح شدت بھی دونوں میں پائی جا سکتی ہے۔ یہ تو ایک رویے کا نام ہے۔

ایک حقیقی لبرل میں صبر، قوت برداشت اور تحمل ہونا چاہیے، صداقت تک پہنچنے کا غیر متعصبانہ رویہ، وہ کسی کی دل آزاری کے بجائے اس کا دل جیتنے کی کوشش کرے، وہ دوسروں کی مذہبی و تہذیبی روایا ت کا احترام کرے، یہی باتیں ضروری ہیں اس کے لیے۔ وہ متضاد رائے رکھنے والے کو اپنا دشمن سمجھنے کے بجائے اسے اپنا دوست بنانے کی کوشش کرے۔ لبرل سرگرمی ایک تخریبی نہیں بلکہ ایک تعمیری سرگرمی ہے۔

کریٹائیلس: تو ایک لبرل میں کیا خوبیاں ہونی چاہییں۔
سقراط: ایک حقیقی لبرل میں صبر، قوت برداشت اور تحمل ہونا چاہیے، صداقت تک پہنچنے کا غیر متعصبانہ رویہ، وہ کسی کی دل آزاری کے بجائے اس کا دل جیتنے کی کوشش کرے، وہ دوسروں کی مذہبی و تہذیبی روایا ت کا احترام کرے، یہی باتیں ضروری ہیں اس کے لیے۔ وہ متضاد رائے رکھنے والے کو اپنا دشمن سمجھنے کے بجائے اسے اپنا دوست بنانے کی کوشش کرے۔ لبرل سرگرمی ایک تخریبی نہیں بلکہ ایک تعمیری سرگرمی ہے۔

فیڈرس: آپ یہ باتیں کر رہے ہیں تو میں چشم ِ تصور سے اقبالیڈرس اور فیضا ئٹس کو دیکھتا ہوں، کیسے کیسے لوگ پیدا کیے ہیں ایتھنز نے۔
سقراط: یہ لوگ اب دنیا میں نہیں مگر لوگ کس درجہ ان کے دیوانے ہیں۔ انھوں نے لوگوں سے محبت کی ہے، ان کے خیالات میں کس درجہ اعتدال اور توازن تھا، ان کے نظریات جو کچھ بھی تھے انھوں نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی۔ دوسروں کے موقف کو ہمیشہ عزت دی، احترام آدمیت کا درس دیتے رہے یہ لوگ۔

فیڈرس: میں آپ کی بات کی تائید کرتا ہوں، حالاں کہ فیضائڈرس کے بہت سے خیالات وہ نہیں تھے جو اقبالیڈرس کے تھے مگر فیضائڈرس نے ہمیشہ اقبالیڈرس کا احترام کیا۔ ایک محفل میں جب قاسمیٹن نے اقبالیڈرس کے خلاف کچھ کہا تو فیضائڈرس اس محفل سے اٹھ کر چلے گئے اور کہا کہ میں یہ گفتگو نہیں سن سکتا۔
سقراط: ہاں انھوں نے ان کی ایک کتاب کا ترجمہ بھی تو کیا تھا، یہ ان چند نگاہوں میں سے ایک نگاہ تھی جو اقبالیڈرس تک پہنچ سکی۔ اب تو کچھ لوگ جو خود کو لبرل کہلاتے ہیں اور جولبرل ازم کی حقیقی روح کو نہیں سمجھتے، ان کی تضحیک و تذلیل کو لبر ل ازم کی اولین شرط سمجھتے ہیں۔

کریٹالائیس: ان میں سے بہت سے جن کو میں جعلی لبرل ہی کہوں گا، انبیا کی بھی توہین کرتے ہیں اور اپنی قوم کے قد آور مشاہیر کو بھی تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔
سقراط: یہ ضروری تو نہیں کہ اپنے خیالات کی تصدیق کے لیے آپ دوسرے انسانوں کی تضحیک کریں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ یہ بہت برا فعل ہے۔ حقیقی لبرل ازم ہمیں احترام آدمیت کا درس دیتا ہے۔ انبیا سے کروڑوں لوگ بہت محبت کرتے ہیں، ان کی تضحیک کا یہ مطلب ہے کہ آپ ان کروڑوں لوگوں کی بھی تضحیک کررہے ہیں، اس تضحیک سے انسانیت کی کون سی خدمت ہو رہی ہے جو اس کے بغیر نہیں ہو سکتی۔

فیڈرس: مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو اتنا سنگین کام نہیں کرتے جتنا کہ بعض مذہبی لوگ لوگوں کے گلے کاٹ کر کرتے ہیں۔
سقراط: اپنے برے فعل کی توجیہ دوسرے برے فعل سے نہیں دینی چاہیے۔ دوسروں کی تضحیک و تذلیل کرنا اور دوسروں کے گلے کاٹنا دونوں ہی قابل مذمت ہے، لبرل ازم احترام انسانیت کا دوسرا نام ہے۔

کریٹائلس: بعض لبرل بزعم خود یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس عقل ہے اور عقل کی روشنی ہی میں ہر شے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
سقراط: یہ ایک غلط فہمی ہے، عقل حقیقت کو سمجھنے کے بہت سے آلات میں سے ایک آلہ ہے۔ یہ مطلق اور خود مکتفی ہر گز نہیں، یہ حقیقت کو سمجھنے کا واحد آلہ نہیں، مگر یہ نہ سمجھو کہ میں اس کے خلاف ہوں، یہ ایک قیمتی شے ہے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ذہن نشیں رکھو کہ عقلی cognitive پہلو کو زندگی کے بہت سے پہلووں کا ایک پہلو مانا جاسکتا ہے۔ زندگی کے اور بھی بہت سے پہلو ہیں اور وہ بھی اتنی ہی اہمیت کے حامل ہیں جتنا کہ عقلی پہلو بلکہ بعض صورتوں میں یہ عقلی پہلو سے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔زندگی بہت بڑی اور وسیع حقیقت ہے اور اسے سمجھنا اتنا آسان نہیں۔

کریٹائلس: وہ کون سے پہلو ہیں۔
سقراط: وہ انسان کے ارادی، عملی (conative) اور جذبی پہلو ہیں، زندگی کو ہمیشہ عقل ہی کی میزان پہ نہیں پرکھا جاسکتا، عقل بہت کچھ ہے مگر سب کچھ نہیں۔ جیسا کہ کانٹائٹس نے کہا کہ عقل کی رسائی عالم مظاہر ہی تک ہے عالم حقیقت تک نہیں۔ اور وہ ہیگلیڈرس نے جو کہا تھا کہ حقیقت کے کئی رنگ ہیں اور بہت سی بظاہر متضاد چیزیں بھی اپنی اصل میں ایک ہو سکتی ہیں۔ ہمیں اپنے دل و دماغ کو کھلا رکھنا چاہیے۔

فیڈرس: اس موضوع پر اگلی نشست میں بات کریں گے، بہت اہم موضوع ہے، ابھی میں نے زابرائٹس سے ملنے جانا ہے، ایتھنز کے مرکزی باغ میں وہ میرا انتظار کر رہا ہے۔
سقراط: اسے میرا سلام کہنا، کیا خوبرو، خوش مزاج اور ہر ایک کا احترام کرنے والانوجوان ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: