زینب فیصلہ: شبہات، سوالات اور خدشات —– ثمینہ رشید

0
  • 136
    Shares

ایک جذبات سے بھرپور لمحے میں سوچوں تو زینب کے قاتل کی سزا پر سکون کا احساس ہوتا ہے۔
لیکن ایک قانون کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے اس پورے کیس کو دیکھوں تو زینب کے قاتل کی سزا اور چار دن میں چھتیس لوگوں کے بیانات اور ان پر جرح اور فوری فیصلہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

شاید آپ میں سے بہت سے لوگ ان باتوں سے متفق نہ ہوں تو ان سے درخواست ہے کہ سوچیں کہ عدالت کس طرح چھتیس لوگوں سے بیان اور جرح کا کام چار دن میں مکمل کرسکتی ہے۔

ایک انتہائی حساس کیس کو اس قدر جلد بازی میں نمٹا دینا بذاتِ خود ایک بڑی عجیب بات ہے۔
نہ پولیس کی طرف سے دیگر شواہد سامنے آئے اور نہ کچرے کے اس ڈھیر کو ذہن جائے حادثہ قبول کرنے کو تیار ہے۔

اس کیس پر پہلے دن سے ایک ہی تحفظ تھا اور سوال آج بھی وہی ہے کہ کہیں ایک انسان کو قربانی کا بکرا تو نہیں بنا دیا گیا۔ بے شک اسکے پیچھے کوئی نیٹ ورک نہ ہوتا تب بھی اس ٹرائل کو اتنا چھپا کر کرنے پر بہت سے تحفظات ہیں۔ حتی کہ سزا ہونے سے قبل یہ بیان آنا کہ مجرم سزا کے خلاف اپیل بھی نہیں کرے گا کیونکہ اسکا ضمیر اس کو ملامت کرتا ہے بہت معنی خیز ہے۔

ایسا کیوں کیا گیا اور اسقدر جلد بازی کی وجہ کیا ہے سمجھ نہیں آتی۔ اگرچہ عدالت کے اس حق کو تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈی این اے کو ایک شہادت کے طور پر قبول کرسکتی ہے لیکن اس کیس کو اس تیز رفتاری سے نمٹانے پر مجھ جیسے کئی لوگ اپنے اپنے سوالوں کے ساتھ بس حیران و پریشان ہیں۔

ڈی این اے کے سوا پولیس کی تحقیقات صفر پر تھی۔ پولیس حتی کے جائے حادثہ کا تعین بھی نہیں کرسکی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی تبدیلی کے حوالے سے بھی کچھ خبریں گردش میں رہیں۔ کہ جس لیڈی ڈاکٹر نے پوسٹ مارٹم کیا ان کے بیان اور رپورٹ میں کچھ “تضادات” ہیں۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق زینب کی موت اس کی لاش ملنے سے اڑتالیس گھنٹے پہلے واقع ہوئی یعنی کم از کم بھی دو سے تین روز زینب کو مجرم نے اغواہ کرکے کہیں رکھا۔ لیکن پولیس ایسی کسی جگہ کو ڈھونڈنے میں ناکام رہی جہاں زینب کو اغوا کے بعد رکھا گیا۔

اگر اس بات کو درست نہ مانا جائے اور یہ تسلیم کیا جائے کے زینب کو اغواہ اور زیادتی کے فورا بعد قتل کیا گیا تو لاش کی صورتحال اس کو سپورٹ نہیں کرتی۔

پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے حوالے سے ایک اور تضاد یہ بھی ہے کہ ابتدائی بیانات کے مطابق زینب سے ایک سے زیادہ مرتبہ زیادتی (جو کہ اجتماعی زیادتی بھی ہوسکتی ہے) کو رپورٹ کیا گیا۔ لیکن جو رپورٹ سپریم کیس میں جمع کرائی گئی اس کے مطابق ایم ایل او نے کنفرمیشن کے بجائے محض خدشہ ظاہر کیا کہ “شاید زینب کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی ہو” لکھا گیا ہے۔ جس سے کیس کی صورتحال ہی تبدیل ہوجاتی ہے۔
پوسٹ مارٹم کی ایک اور تفصیلی رپورٹ تین ماہ کے اندر متوقع ہے۔

کیس کے فیصلے کے مطابق مجرم کو عمر قید کے ساتھ ساتھ سات سال کی سزا اور جرمانہ نہ ادا کرنے کی کل سزائیں ملا کر چھبیس سال کا عرصہ بنتا ہے۔ جس کے پورے ہونے پر مجرم کر پھانسی کی سزا دی جائے گی۔

اس صورت میں ایک امکان یہ بھی ہے کہ مجرم کو سزا کے دوران ہی طبعی موت کی وجہ سے پھانسی کی نوبت ہی نہ آئے۔ بلکہ شاید زینب کے والدین کی زندگی میں بھی ایسا نہ ہوسکے۔

لیکن زینب کے والدین کی طرف سے سرِ عام پھانسی کے مطالبے سے لگتا ہے کہ ان پر شاید سزا کی نوعیت پوری طرح واضح نہیں ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی منفی یا مثبت رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔

فیصلے میں پولی گرافک ٹیسٹ کے نتیجے کو بھی شہادت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ جب کہ یہی پولی گرافک ٹیسٹ کا نتیجہ قندیل کیس میں قبول کرنے سے انکار کردیا گیا تھا۔

کورٹ کے فیصلے کو پڑھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ فیصلہ واقعاتی شہادتوں کی بناء پر کیا گیا ہے۔

واقعاتی شہادت یعنی بلواسطہ یا ان ڈائریکٹ شہادت۔ اصولی طور پر کیس کا فیصلہ ڈائریکٹ شہادتوں پر کیا جاتا ہے۔ لیکن ڈائریکٹ شہادت نہ ہونے پر واقعاتی شہادتوں پر کئے گئے فیصلوں کو دیگر شواہد سے ملا کر ایسا فیصلہ اخذ کیا جاتا ہے جو حقیقت سے قریب ہو اور مفروضوںُ پر قائم نہ ہو۔ لیکن اسکے باوجود اس میں غلطی کے امکان کو رَد نہیں کیا جاسکتا۔

اس سارے سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت اسلئے ہے کہ قصور ہی میں دو ہزار پندرہ کا حسین والا کیس میں بہت کچھ نظرانداز کیا گیا تھا۔ کیس کے سارے مجرم رہا کردئیے گئے تھے۔ کیس میں کمزور شہادتوں کی وجہ سے کسی کو سزا نہ مل سکی جب کے دو ڈھائی سو بچوں کی پورن ویڈیوز موجود تھیں۔

اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت اس لئے بھی تھی کہ زینب کیس میں گرفتار ایک ملزم شبیر نے تیس جنوری کو خودکشی کرلی۔ اہلِ خانہ کے مطابق شبیر اپنے ڈی این ٹیسٹ کے بعد سے بہت پریشان تھا۔ شبیر نے تھانے سے آنے کے چند دن بعد خودکشی کی۔ شبیر کی موت ایک اہم واقعہ تھا جس کی تحقیقات اور کیس سے لنک ڈھونڈنا ضروری تھا۔

مزید تحقیقات اسلئے بھی ضروری ہے کہ پچھلے ایک سال میں گیارہ بچے / بچیاں نہ صرف اسی قسم کے حادثات کا شکار ہوئے بلکہ دو بے گناہ افراد کو جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ پولیس کا اس سلسلے میں مجرمانہ حد تک بے حسی کا رویہ بہت سے سوالیہ نشان کا باعث ہے۔

اتنے سارے سوالات کے ساتھ ایک کیس کو جلد بازی میں نمٹا دینے کا مقصد بہت سے لوگوں کے لئے تشویش کا سبب ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ادھورے حقائق اور سچ کے ساتھ اس کیس کو نمٹا کر کہیں اس قوم کے ساتھ زیادتی تو نہیں کر رہے۔

سزا یہی رہتی یا اس سے بھی کہیں سخت دی جاتی لیکن حقائق کو چھپا کر نہیں تو شاید اس قوم کے ساتھ انصاف کے تقاضے بہتر طرح پورے ہوسکتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: