سچ بولنا منع ہے: خالد ایم خان

0
  • 88
    Shares

کہنے کو تو سچ بولنا بہت آسان کام ہے،لیکن یقین کریں سچ بولنا بہت مشکل کام ہے اور اُس سے بھی زیادہ مشکل کام اُس سچائی کو نبھانا، سچ کے لئے کھڑے ہونا،سچائی کا ساتھ دینا ہے اور سچائی پر قائم رہنا اُس سے بھی مشکل کام ہے،کہنے کو تو ہمارے ہاں ہر دوسرا شخص سچائی کی بانسری بجاتا نظر آتا ہے لیکن اصل میں یہ سب ہماری سماعتوں کا دھوکہ ہے، سب جھوٹے ہیں، فریبی ہیں، دغاباز ہیں، بے ایمان ہیں، کیا پرنٹ میڈیا کے لوگ، کیا الیکٹرونک میڈیا کے نمائندگان تو کیا ہی اس ملک کے نامی سیاستدان سب کے سب چور، بجائے کسی بھی مبالغہ آرائی کے صاف الفاظ میں کہوں گا کہ اس ملک کا ہر شخص، ہر ادارہ اپنے مفادات کی جنگ لڑتادکھائی دے رہا ہے، کسی ایک کو بھی ماسوائے ایک آدھ ادارے کے اس ملک اور اس ملک کے شہریوں سے کسی بھی قسم کی کوئی دلچسپی نہیں، کچھ خیالی پکوڑے تلنے میں مشغول ہیںتو کچھ اُن خیالی پکوڑوں کو کھانے کی ترکیبیں سوچنے میں غرقاں، یقین جانیں یہاں،، لیڈر ووٹر،، پیر مرید،، شاگرد استاد،،مداری ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک،مجھے یہ بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ میرا لکھا یہ کالم اپنے چند دوسرے کالموں کی طرح ردی کی ٹوکری کی زینت بنا دیا جائے گا اور اس ملک کا کوئی بھی پرنٹ میڈیا اسے چھاپنے پر تیار نہیں ہوگا کیوں کہ اس ملک کا کوئی بھی ادارہ نہیں چاہتا کہ اُس کے خلاف بات کی جائے، اُس کو آئینہ دکھایا جائے لیکن،، مجھے ہے حُکم آذاں۔۔۔ میں آذاں دیتا رہوں گا،کوئی ایک تو ہوگا جو لبیک کہے گا،اور اُس ایک لبیک کو سُننے کی خاطر میں لکھتا رہوں گا، سچ کہتا رہوں گا، کوئی مانے یا نہ مانے، کوئی خوش ہو کہ ناراض، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا اور پھر یہ میرا حق ہے اور میرے حق کے استعمال سے مجھے کوئی بھی نہیں روک سکتا،سچ بولنا منع ہے،،لیکن میں سچ کہوں گا۔

اس ملک کے سابق وزیر آعظم کو ملک کی اعلی عدالتوں نے نااھل قرار دیا،لیکن بجائے اس کے کہ محترم عدالت سے سزایاب ہونے کے بعد گُمنامی کی زندگی بسر کرتے اپنے پورے خاندان کے ساتھ مل کر عدالتوں کو کوستے نظر آئے، دھمکاتے نظر آئے،محترم کی بیٹی تو کھلم کھلا ملک کے اعلی ترین اداروں کو دھمکیاں دیتی نظر آئیں جس کے بعد سب سے پہلے تو ہمارے ذہنوں میں اس سوال نے گردش کرنا شروع کردیا کہ کیا جنرل راحیل شریف نے محترمہ کی سرل لیک میں جان بخشی کرکے ایک انتہائی سنگین غلطی کا ارتکاب تو نہیں کردیا تھا، کیوں کہ اگر اُس وقت جنرل راحیل شریف المیڈا کیس میں محترمہ کو گرفتار کرلیتے جس میں ملک کا اہم ترین ادارہ حق بجانب بھی تھاتو پھر آج محترمہ کہاں ہوتیں، محترمہ آپ کے لہجے سے بغاوت کی بو آرہی ہے، آپ کا انداز کسی بھی طور پر درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اگر آپ درست کہہ رہیں ہیں تو پھر آپ میں اور الطاف حسین میں کیا فرق باقی رہ گیا ہے،آج آپ تعصب کو جنم دے رہی ہیں،آپ کو وسیع ذہن سے سوچنا ہوگا کیوں کہ آپ کی وجہ سے اس ملک کی اکائی خطرہ سے دوچار ہے،یہ تو ستر کی دھائی والی بات ہوتی نظر آرہی ہے کہ جب بھٹو اور مغربی پاکستان کے لیڈروں نے شیخ مجیب الرحمٰان کو سرے سے لیڈر تسلیم کرنے ہی سے انکار کردیا تھا،بے شک حقیقت تو یہی ہے ہم جتنی بھی روگردانی کریں حقیقت کا انکار ممکن نہیں،شیخ مجیب الرحمٰن کی اکثریت کو اقلیت نے ماننے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ملک کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پھر پاکستان دولخت ہو گیا، دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، آج آپ اور آپ لوگوں کے مصاحبین بھی اُسی روش کو اختیار کرتے نظر آرہے ہیں، آپ لوگ اپنے ذاتی مفادات کی خاطر، اس ملک کی اکائی سے کھیل رہے ہیں آپ لوگ آگ سے کھیل رہے ہیں، سوچیں آج جب آپ عدالتوں کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہوجائیں گے تو کل پختونخواہ کے کسی لیڈر کے خلاف آنے والے فیصلے پر پختونخواہ کا کیا ردعمل ہوگا ؟ سندھ کے کسی لیڈر کے خلاف آنے والے فیصلے پر سندھیوں کا ردعمل کیا ہوگا ؟ کیا اُس وقت لوگ نہ کہیں گے کہ پنجاب کے لیڈران فیصلہ نہ مانیں تو ٹھیک اور ہم نہ مانیں تو غدار۔

موجودہ وزیر آعظم عباسی صاحب شائد اب تک پاکستان کا وزیر آعظم بن جانے کے سراب سے نکل نہیں پائے ہیں،نہ ہی انہوں نے کوئی پالیسی تشکیل دی ہے اور لگتا ہے کہ نہ ہی کابینہ کے لوگ اُن کی ماننے کے لئے تیار ہیں

زرداری نے جہاں سندھ کارڈ کھیلا تو الطاف نے مہاجر کارڈ کھیلا وہیں آپ نے بھی جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگادیا، کسے نہیں یاد کہ آپ کی حکومت کے جنرل مشرف کے ہاتھوں خاتمے کے بعد آپ لوگوں نے عوام کو اور خصوصا پنجاب کے لوگوں کو بھڑکانے کی خاطر جاگ پنجابی تیری پگ نوں لگ گیا داغ جیسے نعرے لگوائے، اور پھر ابھی حال ہی میں اپنے خلاف آئے عدالتی فیصلے کے دوسرے ہی دن پورے پنجاب میں تُرک بغاوت کی ناکامی کے پوسٹر عوام میں بٹوانا کیا ظاہر کرتا ہے،کہ آپ کو اس ملک اور اس ملک کی عوام سے کوئی دلچسپی نہیں،میاں صاحب آپ کو دلچسپی ہے تو صرف اُس کُرسی سے ہے جسے لوگ وزارت عُظمی کی کُرسی کا نام دیتے ہیں،جس کی خاطر آپ کا نہ تو کوئی دوست ہے اور نہ ہی کوئی بھائی، آج چوھدری نثار جیسا مُحب وطن اور جانثار ساتھی آپ لوگوں کو اور خاص کر آپ کی بیٹی مریم صفدر کو دشمنوں کی صفوں میں کھڑا نظر آرہا ہوگا،دوسری جانب امیر مقام،طلال چوھدری اور دانیال عزیز جیسے لوٹے آپ کو اپنے وفادار ساتھیوں کے روپ میں نظر آرہے ہونگے،آپ کی سب سے بڑی ناکامی ہی یہی ہے کہ آپ نے ملک میں اپنے اُن تمام جانثار ساتھیوں کو ایک ایک کرکے کھو دیا ہے جنہوں نے آپ کی گرفتاری پر آپ کی خاطر قربانیاں دی تھیں آپ مفاد پرستوں کے ٹولے میں گھر کر اُن سب جانثاروں کو بھول گئے،آج میاں صاحب آپ کی خاطر آپ کے برسر اقتدار رہتے ہوئے سب بولنے کو تیار ہوں گے لیکن یاد رکھئے گا کہ کل آپ پر بُرا وقت آنے پر آپ کے ساتھ ان میں سے ایک بھی نہیں ہوگا، امیر مقام آج بھی مشرف کا سکہ بند اور وفادار ساتھی ہے آپ مانیں یا نہ مانیں اور پھر جہاں تک رہ گئی بات چوھدری نثار صاحب کی تو بھائی کس نے کہا تھا سچ بولو آپ کو نہیں معلوم تھاکہ اس ملک میں،، سچ بولنا منع ہے ۔

  1. موجودہ وزیر آعظم عباسی صاحب شائد اب تک پاکستان کا وزیر آعظم بن جانے کے سراب سے نکل نہیں پائے ہیں،نہ ہی انہوں نے کوئی پالیسی تشکیل دی ہے اور لگتا ہے کہ نہ ہی کابینہ کے لوگ اُن کی ماننے کے لئے تیار ہیں،کیوں کہ کابینہ کا ہر وزیر کچھ نہ کچھ الگ کہتا دکھائی دے رہا ہے جیسے کہ ملک کی ساکھ، عزت اور سا لمیت جیسے حساس نوعیت کا معاملہ۔ چوھدری نثار نے افواج پاکستان کے ساتھ بڑے عرصہ تک کام کیا ہے اور وہ افواج پاکستان کی لینگویج کو بڑی اچھی طرح سمجھتے ہیں، پاکستان کو اپنی دونوں بڑی سرحدوں پر دہشت گردوں کا سامنا ہے جس سے افواج پاکستان بری جانفشانی سے نبٹ رہی ہیں، قربانیاں دے رہی ہے کس کی خاطر ؟ اس ملک کی خاطر،اس ملک کی عوام کے سکون کی خاطر لیکن افسوس ہوتا ہے جب اس ملک کے نا عاقبت اندیش وزراء جن کی کسی محکمے میں چپڑاسی بننے کی بھی شائد ہی اہلیت ہو بے وقوفانہ انداز میں اپنا منہہ پھاڑ دیتے ہیں، بنا کچھ بھی سوچے سمجھے، یا کہ پھر جان بوجھ کر آپ لوگ دشمنوں کی زبان بول رہے ہیں،کیوں کہ مودی بھی یہی کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں، ٹرمپ اور یہودی بھی پاکستان کی سالمیت سے کھیلنے کے بہانے تراشتے ہوئے ملک خداداد پاکستان پر یہی الزام لگاتے ہیں،ہندوستانی ایما پر انڈین نواز افغان حکومت بھی دنیا کے اندر یہی ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے،پاکستان کی افواج پاکستان پر سے اس بدنما داغ کو دھونے کے جیسے ہی قریب پہنچتی ہے تو نہ جانے کیوں؟افسوس آپ لوگوں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ ہم کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں،جن قوموں کا وژن نہیں ہوتا،منزل نہیں ہوتی،مقصد نہیں ہوتا اُن کا یہی حال ہوتا ہے

اس ملک کی عوام کا اللہ نگہبان

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: