سرو قامت گلبدن : ایک ادھورا مکالمہ —– عثمان سہیل

1
  • 287
    Shares

سانس روک کر پیٹ کو اندر کھینچنا اور پھر تسمے باندھنا میرے لیے ایک کٹھن کام ہے۔ ایک بڑی بین الاقوامی کمپنی کے سفید فام نمائندوں کیساتھ باقاعدہ اور پہلی ملاقات نہ ہوتی تو مجھے سوٹ بوٹ اور نرخرے پر ٹائی باندھنا کب منظور تھا۔ ابھی ٹائی گلے میں ڈالے سوچ ہی رہا تھا کہ کونسی والی گرہ مناسب رہے گی۔ دفعتاً دروازہ کھلا، وہ البیلی سرو قامت آراستہ و پیراستہ سامنے کھڑی تھی۔

“کیسی لگ رہی ہوں” وہ اک ادا سے بولی، ساتھ میں لہرائی بھی۔
” اچھی لگ رہی ہیں”
ذرا نخرے سے مسکرا کر کہنے لگی ” بس اچھی۔۔۔۔ کیا آج آپ کی لفاظی جواب دے گئی صاحب”
“اچھا چلیں دل سے بتائیے نا کیسی لگ رہی ہوں”

“دل ہی سے کہ رہا ہوں کہ اچھی لگ رہی ہیں بلکہ بہت اچھی”، میں نے ذرا رک کر غور سے دیکھ کر کہا۔
“آج آپ کی بولتی بند ہوگئی نا اور نظریں بھی جھکی جھکی ہیں صاحب، کہیے کیا ہوا “، گلبدن مزے لیتے ہوئی بولی۔

“دیکھیے کچھ باتیں دل میں ہی رہنے دیں نا”
“سیدھی طرح نہیں کہیں گے نا تو مجھے اگلوانا بھی آتا ہے۔” اب وہ دھمکانے لگی۔ “گدگدی کروں گی”۔

بات تو سچ ہی تھی کہ بولتی بند ہوگئی تھی۔ پر بات یہ نہ تھی کہ الفاظ نہیں تھے یا کہنے کی سکت نہ تھی۔ بس کہنا نہیں چاہ رہا تھا۔ آپ جانتے ہیں تمام باتیں کہہ دینے والی نہیں ہوتیں۔ یہ بھی نہ تھا کہ نازیبا بات تھی۔ بس یونہی کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا۔ آپ سے کیا پردہ مجھے ہمیشہ سے ہر تمنا کیساتھ ایک ڈر بھی رہتا ہے کہ اگر پوری ہوگئی تو۔۔۔۔۔ تو کیا ہوگا۔ مانس کو بھی کیسے کیسے ڈر ہوتے ہیں۔ بعض تو انتہائی مضحکہ خیز جیسے میرا کوئی تمنا پوری ہو جانے کا ڈر۔ لیکن یہ تمنا والی بات کو جملہ معترضہ ہی سمجھیے، بلکہ بے محل سمجھیے۔ جانے کیسے دماغ کے پیندے سے اچھل کر اوپر آگیا اور خامہ کج مج بیان نے رقم کر ڈالا۔

ان اجنبیوں سے کہ جن سے دوبارہ ملنے کا امکان موہوم ہو، دل کی کہنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ اپنے جان پہچان والوں سے دل کی کہتے کبھی کبھار شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ ازبسکہ وہ وہ اپسرا اب سامنے نہیں ہے تو کہہ ہی ڈالتا ہوں۔

اس سرو قامت کو اب کیا کہتا ہے کہ من موہنی آپ سجیلی اور طرحدار لگ رہی ہیں۔ اے خوش پوش حسینہ تو گل بدن ہے۔ میں، تُم ……. پر یوں سامنے کھڑے ہو کر میری جان مت نکالو۔ مجھے کچھ اور سوچنے دو۔ یہ سوچنے دو میٹنگ میں سلسلہ جنبانی کیسے ہوگا۔ وہ کیسے سوال کر سکتے ہیں اور ان سوالوں کے کیا جواب مناسب رہیں گے۔ میں بس یہی سوچنا چاہتا ہوں۔ اب بھی، بعد میں بھی، کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. خوبصورت موڑ دے کر چھوڑ دینا تحریر جو زندہ جاوید تو بنا دیتا ہے۔مگر انجانے موڑ سے اسی تحریر کو شروع کرنا ہم عمروں کو جلا اور تپا بھی دیتا ہے۔ سمجھے 😜

Leave A Reply

%d bloggers like this: