چینی سالِ نو، زرداری اور بہادر بچہ: فواد رضا

0
  • 34
    Shares

شطرنج کی بساط انتہائی سنسنی خیز موڑ پر ہے، راؤ انوار اس وقت مفرور اور ملک کے عوام کا ناپسندیدہ ہے، کل تک اس کی حمایت کرنے والےآج اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔۔ ایسے میں کوئی کونسلر کی سطح کا سیاست داں بھی اس کی حمایت کرنے کا تصور نہیں کرسکتا لیکن جس طرح سے پیپلز پارٹی اسے بچارہی ہے اور حال ہی میں آصف علی زرداری نے اسے ” بہادر بچہ” قرار دیا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔۔

اس ایک بیان سے پیپلز پارٹی کا جہاں ایک جانب پختون ووٹ بنک متاثر ہوگا وہیں کراچی میں ایم کیو ایم کی تفریق سے فائدہ اٹھانے کی تمام تر کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔۔۔۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک انتہائی بودا اوروقت کی نزاکت کے برخلاف بیان ہے۔۔۔ لیکن اس بیان کو سمجھنے کے لیے آپ کو زرداری کو سمجھنا ہوگا۔۔

حضرت کی سیاست کا بنیادی اصول یہ ہے کہ سیاست میں دوست اور دشمن نہیں ہوتے، حلیف اور حریف ہوتے ہیں۔۔ یعنی کل کے دشمن آج کے دوست بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔۔

اب ذرا ماضی میں چلتے ہیں، پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کا استعارہ تھی، ایک ایسی جماعت جس کی نمو ہی اس اصول پر ہوئی ہے کہ ملک میں فیصلوں کا مرکز پارلیمان ہونا چاہیے نا کہ کوئی اور( فی الحال پارلیمنٹ کے جمہوری یا غیر جمہوری رویے زیرِ بحث نہیں ہیں)..

اب ذرا ماضی قریب میں آتے ہیں، ڈاکٹر عاصم اور ایان علی گرفتار اور شرجیل میمن ملک سے باہر ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مشکلات آئے دن بڑھ رہی ہیں، راحیل شریف جیسا مقبول شخص فوج کا سربراہ ہے۔ ایسے ماحول میں زرداری کہتے ہیان کہ “آپ آج ہیں کل نہیں ہوں گے، ہم ہمیشہ ہوں گے”..
سننے والے انگلی دانتوں تلے داب کر رہ گئے کہ ایسے نامساعد حالات میں ایسا سخت بیان۔۔۔ لیکن انہوں نے دیا، اورجنہیں مخاطب کیا گیا تھا وہ اس بیان میں چھپا پیغام بھی سمجھ گئے۔۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی تمام تر ناہلیوں کے باوجود اگر اپنی سابقہ روایات کے مطابق اسٹبلشمنٹ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردے تو اسے دوبارہ سے مقبول جماعتوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر لانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسٹبلشمنٹ عمران خان کے ذریعے نواز شریف کے ساتھ چومکھی لڑنے میں مصروف تھی ایسے میں اگر پیپلز پارٹی بھی میدان میں آجاتی تو صورتحال ہولناک ہوسکتی تھی۔۔

خیر! زرداری صاحب ملک کے اس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جو وکیل کرنے سے زیادہ جج کرنے پر یقین رکھتے ہیں، سو وہ بیان داغ کر باہر چلے گئے اور کیونکہ وہ کسی موقف پر ڈٹ جانے والے سیاستداں نہیں ہیں لہذا ان کے دروازے بھی سب کے لیے کھلے رہے۔۔ کچھ عرصے بعد محسوس ہوا کہ ماضی کے حریف اب حلیف بن چکے ہیں۔ ڈاکٹر عاصم بھی رہا ہوگئے شرجیل میمن بھی واپس آگئے اور اب سب ٹھیک ہے راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے۔۔۔۔

وہ ریٹائر ہوگئے اور یہ ہوا کی مخالف سمت بیان داغ کر بھی میدان میں پورے کروفر کے ساتھ موجود ہیں۔۔

اب دیکھئے نقیب کا کیس، پورا ملک راؤ کے مخالف کھڑا ہے اور زرداری نےاسے بہادر بچہ قرار دیا ہے، اب وہ ان کا بچہ تو ہے نہیں، اور جن کا بچہ ہے وہ اسے کچھ ہونے نہیں دیں گے۔ ایسے میں راؤ کی گرفتاری کا مطالبہ عوام میں سے کوئی بھی کرے، کراچی راؤ کو کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کرے، زرداری اپنی اس کوشش سے یقیناً طاقت کے مراسم کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے میں کامیاب رہے ہوں گے۔ وہ یقین جو کبھی ماضی میں نواز شریف دلایا کرتے تھے۔۔۔

میں بارہا کہہ چکا ہوں اور اب پھر کہہ رہاہوں کہ آئندہ الیکشن میں حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی۔۔

اب آخری بات! جس کا اس تحریر سے کوئی تعلق نہیں بس عوام الناس کو اطلاع دی جاتی ہے کہ چین میں سالِ نو کا جشن منایا جارہا ہے جو دو ہفتے جاری رہے گا۔۔ وہاں کی قدیم روایات کے مطابق ہر سال کو کسی نہ کسی جانور سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس سال کو سی پیک بنانے والے چین نے “کتے کا سال” قرار دیا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: