میری الفت کا مدار: ایک دلگداز خط —– عمر حیات

1
  • 80
    Shares

السلام علیکم ورحمتہ اللہ

جن چیزوں کو انسان کبھی نہیں بدل سکتا ان میں زمانے کے کچھ دستور بھی شامل ہیں۔ وقت ایک حد تک انسان کے ہاتھ میں رہتا ہے پھر جی جان سے پیارے رشتوں میں جدائی کا وقت آپہنچتا ہے اور انسان اپنوں کی خوشیوں کیلئے نہ چاہتے ہوئے بھی وقت کے ان فیصلوں کے سامنے سرنگوں ہو جاتا ہے جو ایک طرف ایک نئی خوشی کے امین ہوتے ہیں تو دوسری طرف جدائی کا نقارہ بھی۔

عمر حیات ٹوانہ

تیرے ہاتھوں سے لقمہ لقمہ کھایا، تیرے ہاتھوں میں کھیلا اور کِھلا ہوں۔ تو تو جانتی ہے کہ میں بہت جذباتی ہوں۔ ہمیشہ جذبات کی رَو میں بہہ جاتا ہوں۔ تو نے مجھے لاکھ بار بتایا، جتایا، سمجھایا کہ کوئی بھی آسانی سے مجھے بیوقوف بنا سکتا ہے لیکن تو نے خود کبھی بھی مجھے بیوقوف نہ بنایا۔ حالانکہ تمہارے ہاتھوں بیوقوف بننا مجھے بہت عزیز ہے۔
جب کوئی اپنا مجھے بیوقوف بنا رہا ہو تو میں اکثر خود بن رہا ہوتا ہوں۔ یہ میری اکلوتی عیاشی ہے۔ مجھے اس سے بہت سکون ملتا ہے یوں کسی کے کام آنے میں کہ کوئی میری خدمت کو احسان نہیں اپنی ہوشیاری کا معاوضہ سمجھے۔ شاید تو یہ بھی جانتی تھی اس لیے مجھے کبھی بیوقوف نہ بنایا کہ تو مجھے عیاش نہیں بنانا چاہتی تھی۔ مجھے کمزور نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ مجھے ابھی تک نئے رشتے بنانے اور تعلقات بڑھانے نہیں آئے۔ تو ٹھیک کہتی تھی میں جذباتی ہوں اور اعتدال سے عاری بھی۔

تو مجھے نت نئی مثالوں سے دنیا داری اور دنیا والوں کا اصل چہرہ دکھاتی تھی۔ دیکھو ہر مانگنے والے سوالی کا جواب ہاں مت کیا کرو۔ اپنی ضرورتوں اور خواہشات کا بھی سوچا کرو۔ وقت گزرنے کے بعد غصہ سے مونہہ پھلائے گھومنے سے بہتر ہے وقت سے قبل بات منوانی سیکھ لو۔ سوال کرنا، مانگنا سیکھ لو۔ رونا نہیں تو رونے والا مونہہ بنانا ہی سیکھ لو۔

میں یہ سب کیسے سیکھتا۔ بتا تو ذرا۔ ۔ ۔ ۔ تو جو مجھے سکھاتی تھی ویسا خود تو کرتی نہیں تھی۔ تو اگر وجود تھی کسی خصلت میں تو میں سایہ تھا اور میں کسی خصلت میں وجود ہوا تو تُو سایہ نکلی۔

تجھے یاد ہے وہ دن جب میں نے تنخواہ کے متعلق گھر والوں سے جھوٹ بولا کہ بس میں دورانِ سفر میری جیب کٹ گئی ہے۔ سب مان گئے تھے کیونکہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔ لیکن تو نہیں مانی۔ تو کہتی تھی میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ تو کہتی تھی مجھے غافل پا کر لوٹنا کسی ایرے غیرے کے لیے ممکن نہیں جبکہ ٹھگنا ہر کسی کے لیے بہت آسان ہے۔ اسے ضرور کسی نے ٹھگ لیا ہے۔ تو نے بہت زور لگایا میں مان جاؤں۔ مجھے اب بہت ہنسی آتی ہے تمہارے وہ داؤ پیچ یاد کرکے جو تم نے مجھ پہ آزمائے سچائی اگلونے کے لیے۔ ایک دُکھ بھی کہ زندگی میں پہلی بار تو نے مجھے بیوقوف بنانا چاہا اور میں اپنا مان بچانے کے چکر میں اپنی عزیز ترین خوشی سے محروم رہا۔ میں جانتا ہوں تجھے پیسوں کی فکر نہیں تھی۔ تو بس میرے بارے اپنے تجزیے کی حقانیت کو ثابت کرنا چاہتی تھی۔ میں نہیں مانا۔ مانتا بھی کیسے۔ نہیں آیا تیرے کسی بھی جھانسے میں۔ آتا بھی کیسے۔ لیکن سنو تم نے اس دن جو کچھ بھی میرے بارے کہا حرف حرف سچ تھا اور سب سے بڑا سچ یہ کہ تب میں خود بھی اپنے آپ کو اتنا نہیں جانتا تھا۔

تو حیران ہوتی تھی میں پچیدہ سے پچیدہ سوالات بہت جلد حل کردیتا ہوں لیکن اکثر سیدھے سادے جوابات میں الجھ جاتا ہوں۔ پھر تو مجھے سمجھانے میں اپنی سمجھ کی سبقت ثابت کردیتی تھی۔ تو جانتی ہے بچپن میں مجھے کتابوں سے بہت لگاؤ تھا۔ میں اپنی کتابوں سے زیادہ تمہاری کتابیں پڑھا کرتا تھا۔ تم سے زیادہ معلومات رکھتا تھا تمہاری کتابوں کے بارے میں۔ تو مجھے کتابی کیڑا کہا کرتی تھی۔ تو کہا کرتی تھی یہ حد سے بڑھا ہوا شوق مجھے میری عمر سے بہت آگے سفر کروانے لگے گا۔ تو فکر مند رہتی تھی میں وقت سے پہلے بوڑھا ہوجاؤنگا۔ سنو میں نے اب کتابوں کو چھوڑ دیا ہے۔ نہیں، شاید کتابوں نے مجھے دھتکار دیا ہے۔ اب میں بہت کم پڑھتا ہوں۔ کام پہ بھی دھیان نہیں دیتا۔ بس بےدھیانی پہ دھیان رہتا ہے اکثر۔

تو کہا کرتی تھی یہ حد سے بڑھا ہوا کتابوں کا شوق مجھے میری عمر سے بہت آگے سفر کروانے لگے گا۔ تو فکر مند رہتی تھی میں وقت سے پہلے بوڑھا ہوجاؤنگا۔ سنو میں نے اب کتابوں کو چھوڑ دیا ہے۔ نہیں، شاید کتابوں نے مجھے دھتکار دیا ہے۔

چھوڑو یہ ساری باتیں میں بھی کسے سنا رہا ہوں جو سب جانتی ہے۔ میں یہ خط کیوں لکھ رہا ہوں تو یہ بھی جانتی ہے۔ آج تو جا رہی ہے۔ میں نہیں آیا۔ نہیں آسکا تجھے وداع کرنے۔ تو میرے نہ آنے کی وہ وجوہات بھی سمجھتی ہے جنہیں میں چاہ کر بھی زبانِ بیان نہیں دے سکتا۔ میں شاید تجھے جاتے دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اس لیے تجھ سے بہت دور، بیرون وطن، جہاں مجھے میری ذمہ داریاں لائیں، وہیں پہ اپنے پاؤں میں مزید ذمہ داری کی بیڑیاں ڈال کے میں نے خود کو قید کردیا۔ تو جانتی ہے تو ایک بار آدھی زبان سے کہے میں اپنی پوری دنیا لٹادوں تیرے لیے۔ لیکن تو نے نہیں کہا آجاؤ مجھے وداع کر جاؤ۔ شاید تیرا دل بھی پھٹ جاتا مجھ سے جدا ہوتے ہوئے۔

سنو! عرصہ ہوا کتابیں چھوڑ دیں۔ یوں سمجھو ادھر تین وقت تمہارے ہاتھ کا کھانا چھوڑا ادھر کتابیں بھی چھوڑ دیں۔ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبا دنیا کے دھکے کھانے جس دن گھر سے نکلا تھا سب شوق چھوڑ دئیے تھے۔ مجھے نہیں پتہ رشتوں یا تعلقات کو کس طرح اور کونسی زبانِ بیان دی جاتی ہے۔ میں نہیں جانتا عشق و محبت کیا ہیں۔ اور نہ ہی مزید جاننے کی زحمت و تحقیق گوارہ کی ہے۔ سوال مجھے کرنا آتا نہیں۔ بس اپنے تئیں جواب کرنا جانتا ہوں۔ آج ایسا ہی ایک جواب لکھنا چاہ رہا ہوں۔ جو کسی تحقیق یا مستند حوالے سے عبارت نہیں۔ میری چشمِ بصیرت کا بیان ہے۔ میں کیسا دیکھتا ہوں وہ بتانا چاہ رہا ہوں۔

خدا اپنے کلام میں کہیں کہتا ہے جس کا مفہوم میری سمجھ میں کچھ یہ بنتا ہے کہ ”اس نے ان کے دلوں میں الفت ڈال دی“۔ یہ مومنین پہ اپنے خاص انعام کی بابت رب کریم کے بیان سے عبارت آیت کا ایک حصہ ہے۔ رب کریم اپنے جس انعام کو گنوا رہا ہے وہ یقیناً بہت بڑا انعام ہے۔ یہ الفت بہت بڑی نعمت ہے۔ میں اس جذبہ کو، اس حصہ کو بہت سوچتا رہا ہوں۔ یہ الفت کیسی کیفیت ہے؟ کیا ہے یہ جذبہ، یہ انعام، یہ نعمت؟ کوئی مثال ہو جو اسکے بیان سے قریب تر ہو۔ کہیں کوئی ایسا قدرت میں رشتہ یا تعلق ہو جس میں اس کی لذت ہو۔

جب سے تمہارے وداع ہونے کا دن زیادہ قریب آنے لگا تھا دل میں ایک پھانس دھیرے دھیرے چُبھنا پھر کُھبنا شروع ہوگئی۔ مجھے اپنے اس سوال کا جسے میں حالات کی رو میں بھول چکا تھا جواب ملنے لگا۔ یہ میرا اور تیرا رشتہ ہے جس میں الفت کا جوہر پایا جاتا ہے۔ الفت کی لذت اسی رشتے میں نمایاں ہے۔

میں نے تاریخ پڑھی ادھر اُدھر کے فلسفے اور خیالات بھی پڑھ رکھے ہیں۔ خدا اور انبیاء کی عقیدت و محبت سے لے کر محبوبہ اور ماں کی عظمت کے بیان بھی دیکھے۔ کچھ کا قائل بھی ہوا کچھ سے مرعوب بھی ہوا۔ بڑی بڑی جنگوں، تاریخ کا دھارا بدل دینے والے سورماؤں کے حالات کو پڑھا۔ انکی نظری و فکری بنیادوں کو کھوجا۔ وجوہات کو تلاشا۔

مگر اے بہن! مجھے سورماؤں کی کسی صف میں کہیں بھی کسی بھی دور یا دھرتی پہ الفت کا جوہر بنیاد بنا دکھائی نہ دیا سوائے رب کریم کی خاص رحمت و عنائیت کے۔ یہ جذبہ رب کریم ایک بھائی اور بہن کے مابین رکھتا ہے۔ بہت بڑا انعام ہے یہ۔ تو میری الفت کا مدار ہے۔ میں تیرے بنا کچھ بھی نہیں تھا۔ تجھے میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے مزید وضاحت مت مانگنا کیونکہ میری آدھی کہی پوری سمجھتی ہے ایک کہی سو کے برابر سمجھتی ہے۔

بس میں اپنے اس تعلق کو اپنی یاد میں امر کرنا چاہتا ہوں۔ کیونکہ تو آج نئی نسبت میں منسلک ہو رہی ہے۔ نیا تعلق بن رہا ہے۔ میں تیری چھوٹی سی خوشی پوری کرنے کے لیے پوری دنیا سے لڑ سکتا ہوں۔ تجھے اذیت یا دکھ دینے والے سے تیرا بدلہ بھی لے سکتا ہوں۔

میں تجھے دنیاداری کے متعلق اب کیا نصحیت کروں کہ یہی وہ دنیاداری ہے جو تم ہی مجھے سکھاتی رہی ہو۔ لیکن تم نے کبھی یہ نہیں سکھایا کہ جن چیزوں کو انسان کبھی نہیں بدل سکتا ان میں زمانے کے کچھ دستور بھی شامل ہیں۔ وقت ایک حد تک انسان کے ہاتھ میں رہتا ہے پھر جی جان سے پیارے رشتوں میں جدائی کا وقت آپہنچتا ہے اور انسان اپنوں کی خوشیوں کیلئے نہ چاہتے ہوئے بھی وقت کے ان فیصلوں کے سامنے سرنگوں ہو جاتا ہے۔ جو ایک طرف ایک نئی خوشی کے امین ہوتے ہیں تو دوسری طرف جدائی کا نقارہ بھی۔

اسی دوراہے پہ کھڑا
تمہارا بھائی
عمر حیات ٹوانہ

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: