نو آبادیاتی ذہنیت اور لبرل شدت پسندی : ڈاکٹر اورنگزیب نیازی

1
  • 124
    Shares

لبرل اور مذھبی شدت پسندی کی بحث کی پیالی میں حال ہی میں اٹھائے جانے والے طوفان کے پیش نظر اس تحریر میں معروف دانشور ڈاکٹر اورنگزیب نیازی نے موضوع کا تاریخی اور علمی تناظر میں جایزہ لینے کی کوشش ہے۔


اپنے مذہب، عقیدے اور نطریے کا اقرار، اس کے پرچار کی خواہش اور دوسروں کو اس کی طرف مائل کرنے کی کوشش انسان کا بنیادی حق ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب اور مہذب معاشرہ انسان کے اس بنیادی حق پر قدغن نہیں لگاتا لیکن اپنے مذہب یا نظریے کی صداقت اور حتمیت پر حد سے زیادہ اصرار اور طاقت کے ذریعے دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش اور کوشش اس رویہ کو جنم دیتی ہے جسے ہم شدت پسندی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات خاص طور پر توجہ کے قابل ہے کہ طاقت کے ایک سے زیادہ مراکز اور ایک سے زیادہ صورتیں ہو سکتی ہیں: مذہب اور اس کے مقابل نظریات، علمی ادارے، حکومتیں اور پس پردہ متحرک قوتیں طاقت کے مراکز ہیں جب کہ بندوق، دولت، تعلیم، زبان، ادب اور نصابات طاقت کے حصول اور نفاذ کے مختلف ذرایع اور ہتھیار ہیں۔ فی زمانہ سب سے کارگر اور مئوثر ہتھیار میڈیا اور اس کی ذیلی شکلیں ہیں۔

اد ب اور تاریخ و ثقافت کے نو آبادیاتی مطالعات یہ ہولناک انکشاف کرتے ہیں کہ استعماری طاقتوں نے نو آبادیات پر اپنے تسلط کو قایم رکھنے کے لیے نہ صرف انتظامی اداروں یعنی عدالت، بیوروکریسی، پولیس اور مالیات وغیرہ سے مدد لی بلکہ مذہب، زبان، ادب اور نصابات کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اس مقصد کے لیے مذہبی پیشوائوں، ادیبوں اور ماہرین تعلیم کی خدمات بھی مستعار لیں۔ مشل فوکو کا کہنا ہے کہ سماجی طاقتیں، مادی اظہار کی صلاحیت رکھنے والے مراعات یافتہ متکلمین یعنی بادشاہوں، پادریوں، مصنفین، دانش وروں اور مشاہیر کے ذریعے رو بہ عمل ہوتی ہیں۔ ۱۹۴۷ء میں بہ ظاہر پاکستان آزاد ہو گیا لیکن نو آبادیاتی نظام ایک نئی صورت میں سامنے آیا جسے نو آبادیاتی نظام کا فیز ٹو کہنا زیادہ مناسب لگتا ہے۔ نہ صرف انتظامی اداروں کا ڈھانچہ برقرار رہا بلکہ وہ نو آبادیاتی ذہنیت (colonial mindset) بھی برقرار رہی جو انتظامی اداروں سے کہیں زیادہ مہلک اور خطرناک ہے اور جسے نو آباد کار نے اپنے خاص مقاصد کے تحت پروان چڑھایا تھا۔ انگریز نے ’ہم‘ اور ’وہ‘ کی تفریق اپنی برتری کے قیام اور اپنے اقتدار کی طوالت کے لیے قایم کی تھی۔

آزادی کے بعد ہمارے ہاں مختلف طبقات کے مابین اقتدار کے حصول کی جنگ شروع ہوئی تو ہر ایک طبقے نے خود کو ’ہم‘ اور دوسرے کو ’وہ‘ یا ’غیر‘ تصور کیا۔ رفتہ رفتہ یہ کشمکش شدت پسندی کی صورت اختیار کر گئی۔ ما بعد9/11 صورت ِ حال میں یہ شدت پسندی کھل کر اور زیادہ واضح شکل میں نمودار ہوئی۔ افغانستان سے پاکستان کے سرحدی علاقوں کی طرف حرکت کرنے والے ایک گروہ نے اپنے نقطہء نظر کی حتمیت پر اصرار کیا اور اسے طاقت کے بل پر پورے ملک میں نافذ کرنے کی کوشش کی۔

بدقسمتی سے مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے لبرل ازم جیسے روشن خیال اور انسان دوست نظریے کی شکل مسخ کر کے اس کے نام پر ایک مذہب بیزار شدت پسند مقابل بیانیہ پیش کیا گیا جس نے آزادی ء اظہارِرائے کے نام پر نہ صرف مقامی شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش کی بلکہ مذہب اور مذہبی شخصیات کی تضحیک کرنے والوں کی در پردہ پشت پناہی بھی کی۔

اس سنگین صورتِ حال کا تقاضا تھا کہ مذہبی شدت پسندی کے تدارک کے لیے ایک متبادل بیانیہ تشکیل دیا جاتا۔ ایک ایسا بیانیہ جو پاکستان کے زمینی حقائق کے مطابق اور امن، رواداری اور اعتدال پسندی کا حامل ہوتا لیکن بدقسمتی سے مذہبی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے لبرل ازم جیسے روشن خیال اور انسان دوست نظریے کی شکل مسخ کر کے اس کے نام پر ایک مذہب بیزار شدت پسند مقابل بیانیہ (مقابل بیانیہ اور متبادل بیانیہ کا فرق پیشِ نظر رہے) پیش کیا گیا جس نے آزادی ء اظہارِرائے کے نام پر نہ صرف مقامی شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش کی بل کہ مذہب اور مذہبی شخصیات کی تضحیک کرنے والوں کی در پردہ پشت پناہی بھی کی۔ مذہبی شدت پسند گروہ نے بندوق، بارود اور خود کش حملوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جب کہ مذہب بیزار شدت پسندوں نے میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا کو۔

ممکن ہے مذہب بیزار شدت پسندی کے حامی دوست یہ اعتراض کریں کہ مذہب بیزار شدت پسند گروہ (ان کے بہ قول لبرل) نے اپنے نظریے کے پرچار کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کیا تو ان کے لیے مکرر عرض ہے کی طاقت کی ایک سے زاید شکلیں ہیں جن کا اوپر ذکر آ چکا ہے۔ جس وقت انگریزوں نے ہندوستان چھوڑا اس وقت ہندوستان کی آبادی ۵۰ کروڑ سے تجاوز کر چکی تھی جب کہ انگریزوں کی کل آبادی سات لاکھ کے قریب تھی۔ ان سات لاکھ نے سو سال تک پچاس کروڑ پر طاقت کی مختلف شکلوں کے ذریعے ہی سے حکومت کی۔

اس وقت پاکستان میں دو متحارب شدت پسند گروہ بر سر پیکار ہیں۔ جن کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں۔ طاقت کے تمام ذرائع کے استعمال کے باوجود بھی مستقبل قریب و بعید میں ان کے خوابوں کی تعبیر ممکن نظر نہیں آتی۔ کیوں کہ پاکستان اکثریت روشن خیال اعتدال پسند (بل کہ حقیقی لبرل طبقہ) کی ہے جو ہر طرح کی شدت پسندی سے بیزار ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. مقابل بیانیے کا مقصد شدت پسندی کو فروغ دینا تھا۔ اس بہانے تازہ استعمار کو تیل اور دیگر قدرتی وسائل کے ساتھ جنگی نقطہء نگاہ سے اپنے حریفوں کو زیر کرنے کے لیے اہم مقامات پر مستقل مورچہ بندی کا بہانہ بھی میسر آتا ہے اور آؤٹ آف ڈیٹ اسلحے کی منڈی کے ساتھ انٹیلی جنس کے لیے کالا دھن بھی وافر ہو جاتا ہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے منشیات، سمگلنگ، سیکس اور میڈیا کے ساتھ دھن جمع کرنے والے سب ادارے یکجان ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: