مولانا آزاد بارے تین دعووں کی حقیقت : محمد عبدہ

0
  • 117
    Shares

مولانا آزاد بارے تین دعوی بڑی شدت سے کیے جاتے ہیں کہ

ایک۔ “ہندستان کے سب سے بڑے، کانگریس کے اہم اور فیصلہ ساز لیڈر تھے”۔
دو۔ “متحدہ ہندستان کے حامی تھے اور ہندستان کو تقسیم ہونے سے بچانا چاہتے تھے”۔
تین۔ “مسلمانوں کو متحد رکھنا چاہتے تھے جبکہ مسلم لیگ مسلمانوں کو تقسیم کررہی تھی”۔

آئندہ سطور میں انہی تین باتوں کو حوالوں سے بیان کروں گا کہ اوّل مولانا آزاد ہندوستان کیا کانگریس میں بھی کسی خاص درجے پر فائز نا تھے۔ کانگریس کی اعلی قیادت انہیں ہر اہم فیصلہ پر اندھیرے میں رکھتی تھی۔
دوئم متحدہ ہندوستان کے حامی تو کیا بلکہ ہندستان کو اپنی من چاہی خواہش پر تقسیم کرنے کے مشورے دیتے رہے ہیں۔
سوئم مسلمانوں کو مسلم لیگ کے جھنڈے تلے متحد ہونے سے روکنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا حتی کہ پیسے دیکر بندے خریدتے رہیں کہ مسلمان مطالبہ پاکستان پر متحد نا ہو پائیں۔

مولانا آزاد کی ادبی اور علمی خدمات کو چھیڑے بغیر سیاسی نظریات کو تاریخ سے پرکھ لیا جائے کہ ایک شخصیت اگر کسی میدان میں بہت اعلی خدمات سرانجام دے تو اس کی بنیاد پر کسی دوسرے میدان میں کی گئی غلطیاں تنقید سے مبرا نہیں ہوجاتی۔ اور تنقید سے عزت میں کمی نہیں ہوتی بلکہ تحقیق کی جستجو پیدا ہوتی ہے اور حقیقت سامنے آتی ہے۔

انہی تین دعووں پر تاریخ سے بات کرنے کی کوشش ہوگی۔ اصل موضوع کو سمجھنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ کانگریس کے سرکردہ لیڈر کیا چاہتے تھے۔

گاندھی ینگ انڈیا اخبار میں لکھتے ہیں۔

“مسلمان یا تو عرب حملہ آوروں کی اولاد ہیں یا ہمیں سے جدا کئے ہوۓ افراد۔ اگر ہم اپنا وقار چاہتے ہیں تو تین علاج ہیں۔ ایک تو یہ کہ اسلام سے ہٹا کر انہیں اپنے دھرم میں واپس لایا جاۓ۔ اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ان کے آبائی وطن میں لوٹا دیا جاۓ۔ اور اگر یہ بھی دشوار ہو تو ان کو ہندوستان میں غلام بنا کر رکھا جاۓ۔”

مارچ 1930 کو ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

“سوراجیہ ( آزادی ) کے چاہے کتنے ہی معنی لوگوں کو بتاؤں پھر بھی میرے نزدیک سوراجیہ کا ایک ہی معنی ہے، اور وہ ہے رام راجیہ ( ہندو کی حکومت )”۔

میں اردو بھاشا کا اس لئے مخالف ہوں کہ اس کے اکثر الفاظ قرآنی بھاشا میں ہیں۔ (کاش البرنی کی مسلم انڈیا مطبوعہ 1942)
آریہ سماج کانفرنس میں خطاب نومبر 1936 میں فرمایا۔

“اردو ایک بدیشی زبان ہے اور ہماری غلامی کی یادگار ہے۔ اس زبان کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ اردو جو ملیچھوں کی زبان ہے نے ہندستان میں رواج پاکر ہمارے قومی مقاصد کو سخت نقصان پہنچایا ہے”۔

اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
مولانا مدنی کی 1932 والی تقریر میں ہندو عزائم کا بہت واضح زکر موجود ہے۔ کہ ہندوؤں کے ساتھ متحدہ ہندستان میں رہنے کی باتیں کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

مولانا احمد سعید دہلوی دربنگہ میں 1926 کی تقریر۔

“اگر خدانخواستہ اس ملک میں ہندوؤں کی حکومت قائم ہوجاتی تو مسلمانوں کو چھٹی کا کھایا یاد آجاتا۔ جو قوم غلامی کی حالت میں یہ ستم ڈھا رہی ہے وہ حکمران بن کر خدا جانے مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی۔ ” بحوالہ الجمعیت دہلی 10 جنوری 1926

مولانا کی تحریروں اور مولانا کے معتقدین سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کانگریس میں مولانا کی بہت زیادہ اہمیت تھی۔ ہائی کمان کی ہر میٹنگ ان کے بغیر نامکمل ہوتی تھی۔ ان کے مشورے پر سب چلتے تھے۔

کابینہ مشن کی ناکامی کے بعد سے تقسیم تک کانگریس ہائی کمان نے تقسیم کا فارمولا طے کرنے کیلے وائسرائے سے ان گنت ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں کرنے سے پہلے کانگریس آپس میں حکمت عملی بناتے تھے۔ اگر مولانا ان میٹنگوں میں شامل ہوتے تھے تو متحدہ ہندستان کا نعرہ کدھر گیا۔ اور اگر شامل نہیں ہوتے تھے تو ان کی پارٹی ان کے سامنے تقسیم کیلئے بھاگ دوڑ کررہی تھی اور مولانا نے پارٹی میں کبھی کوئی آواز اٹھائی ہو کبھی کوئی احتجاج کیا ہو۔ اور اگر کانگریس یہ سب مولانا سے چھپا کر رہی تھی تو پھر کانگریس میں مولانا کی کیا حیثیت تھی۔ مولانا جن کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے وہ اندرون خانہ تقسیم پر ملے ہوئے تھے اور مولانا کو اندھیرے میں رکھا جارہا تھا۔ جس کا اظہار مولانا نے انڈیا ونز فریڈم میں ان الفاظ میں کیا ہے۔

“میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ جواہر لال پر بھلا کس طرح ماؤنٹ بیٹن نے فتح پائی۔ سردار پٹیل تقسیم کے اس درجہ حق میں تھے کہ کسی اور نقطہ نظر کو سننے کیلے بمشکل تیار ہوتے تھے۔ میں نے دو گھٹنے سے زیادہ ان سے بحث کی۔ مجھے تعصب بھی ہوا اور تکلیف بھی جب جواب میں پٹیل نے کہا ہمیں پسند ہو یا نا ہو ہندستان میں بہرحال دو قومیں ہیں۔ اب انہیں یقین تھا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کو متحد کرکے ایک قوم نہیں بنایا جاسکتا۔ اب کوئی صورت باقی نہیں تھی سوائے اس کے کہ یہ حقیقت تسلیم کرلی جائے۔ مجھے حیرت تھی پٹیل اب دو قومی نظریے کے جناح سے بھی بڑے حامی تھے۔ تقسیم کا علم جناح نے بلند کیا ہوگا مگر اب اصل علم بردار پٹیل تھے۔ گاندھی جی نے کہا تھا اگر کانگریس تقسیم کو منظور کرنا چاہتی ہے تو ایسا میری لاش پر ہی ہوسکے گا۔ جب تک میں زندہ ہوں میں ہندستان کی تقسیم کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا۔ اور نا ہی میں کانگریس کو رضامندی کی اجازت دوں گا۔ لیکن جب میں دوبارہ گاندھی جی سے ملا تو مجھے اپنی زندگی کا سب سے دھچکا لگا کہ اب وہ بدل چکے تھے۔ وہ ابھی تک کھل کر تقسیم کے حق میں نہیں تھے”

کابینہ مشن کو مولانا نے ہندستان کو متحد رکھنے کی بہترین اور آخری کوشش کہا ہے۔ اور ساتھ ہی کابینہ مشن کی ناکامی کا زمہ دار متعدد جگہ پر کانگریس کی ہٹ دھڑمی بیوقوفی بتایا ہے۔ کچھ لوگوں کے بقول انگریز ہر حال میں تقسیم کرنے والا تھا۔ مسلم لیگ تقسیم کی جدوجہد کررہی تھی۔ مولانا کی اپنی جماعت کانگریس نے مسلمانوں کے متحد رہنے کا آخری حل بھی ٹھکرا دیا تھا۔ یہاں ایک سوال اور بھی اٹھتا ہے اس کے بعد بھی مولانا کس اتحاد کی جدوجہد کررہے تھے۔ اور کابینہ مشن ناکامی سے لیکر تقسیم تک کانگریس کو یا مسلمانوں کو کیا تجاویز دیں اور عملی قدم اٹھائے۔

مولانا فرماتے ہیں۔

“آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیوں سے اتر کر” قطب مینار“ پہ یہ اعلان کرے کہ ہندوستان کو آج سوراج (آزادی) ملنے والی ہے بشرط کہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دست بر دار ہو جائے تو میں ایسی آزادی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ہندوستان کو اگر آزادی تاخیر سے مل جائے تو اس میں صرف ہندوستان کا نقصان ہوگا لیکن بٹوارے کی صورت میں یہ پورے عالم اسلام کا نقصان ہوگا”

پھر نا تو فرشتہ اترا نا ہندستان ہندو مسلم اتحاد پر قائم رہا پھر مولانا نے ایسی آزادی قبول کی یا نہیں اور اگر قبول کی تو کیوں اور کیسے کی۔

3 اپریل تک کانگریسی لیڈرز اور ماؤنٹ بیٹن کے درمیان تقسیم لازمی ہوگی کے تحت تمام معاملات طے پائے جاچکے تھے۔ تقسیم کی شکل کیا ہوگی صرف اس پر غور و فکر جاری تھا۔

3 اپریل سے پہلے کانگریس نے مولانا کو اندھیرے میں رکھا ہوا تھا جبکہ اس کے بعد متحدہ ہندستان کے سب سے بڑے داعی نا صرف تقسیم سے پوری طرح باخبر تھے بلکہ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ متعدد میٹنگز میں تقسیم پر بات بھی کرچکے تھے۔ 14 مئی کو وائسرئے کے ساتھ ایک مینٹگ کا خود زکر کرتے ہیں۔ پھر متحدہ ہندستان کے علمبردار کا دعوی چہ معنی دارد۔

مسلمانوں کو تقسیم کس نے کیا۔
عام طور پر ایک غلط پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے مولانا آزاد مسلمانوں کو متحد رکھنا چاہتے تھے جبکہ ہندستان تقسیم کرکے مسلم لیگ نے مسلمانوں کو تقسیم کردیا۔ یہ ایک بلاجواز اور بدنیتی پر مبنی الزام ہے جو تاریخ سے الٹ بیان کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ہندستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو پاکستان میں شامل کرنا چاہتی تھی۔ اور مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں کی ہجرت کا منصوبہ رکھتی تھی جس کے تحت زیادہ سے زیادہ مسلمان ہجرت کرکے آزاد ریاست میں آجائیں۔ یہاں پر مولانا نے خود تقسیم کی مخالفت کی اور پھر ہر وہ مسلمان لیڈر جو تقسیم نہیں چاہتا تھا یا مسلم لیگ کے فارمولے سے اختلاف رکھتا تھا۔ اسے کانگریس کے پیسے سے خریدا۔ بعض جگہ خود پیسہ لیکر نیشنلسٹ لیڈر خریدے اور بعض جگہ مولانا داؤد غزنوی اور دوسرے بندوں کے زریعے خریدا جاتا رہا اور مقصد صرف ایک ہی تھا کہ مسلمانوں کو تقسیم کیا جائے۔ مسلمانوں کو مخمصہ میں ڈال دیا جائے کہ صرف مسلم لیگ ہی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔

آغا شورش کاشمیری نے کئی جگہ اس کا زکر کیا ہے۔

“احراری لیڈر مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی کے مولانا آزاد کے ساتھ اس قدر گہرے تعلقات تھے کہ مولانا آزاد نے انہیں پنجاب کانگریس کا صدر بنانا چاہا تھا۔ احرار کو کانگریس کی طرف بھیجا جانے والا تمام روپیہ مولانا آزاد کے زریعے ہی مولانا حبیب الرحمان لودھیانوی کو بھیجا جاتا تھا۔ مولانا حبیب الرحمان کانگریسی روپے کے رازدار اور حصہ دار تھے”۔

“مولانا مظہر علی اظہر نے انتخابی مہم کا آغاز ملک خضر حیات کے مشورے سے کیا تھا۔ اور ان سے باقاعدہ مالی امداد لے چکے تھے۔ یہ ایک بڑا جرم تھا۔ کانگریس اور یونینسٹ دونوں سے روپیہ اینٹھا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جن مولانا ابوالکلام آزاد کے نام پر ناک بھوں چڑھاتے تھے انہی کی سفارش و عنایت سے پچاس ہزار روپیہ وصول پائے”۔

پنجاب اور بنگال کے مسلمانوں کو تقسیم کردیا۔ ایک طرف تو مولانا تقسیم کے خلاف تھے اور دوسری طرف اعتراف کرتے ہیں کہ مسلم لیگ پورا پنجاب و بنگال چاہتی ہے اور اگر تقسیم کو پنجاب و بنگال کی تقسیم سے مشروط کردیا جائے تو مسلم لیگ کو تقسیم سے باز رکھا جاسکتا ہے۔ اور پھر انگریز کو یہ مشورہ دیا بھی۔
مولانا اپنے متحدہ ہندستان کے نظریہ کو ناکام ہوتا دیکھ کر کیسے مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہتے تھے موجودہ نسل کیلے اسکا ادراک ہی ہولناک ہے۔

مولانا وائسرائے کو مشورہ دیتے ہیں۔

“اگر وہ تقسیم بنگال کا اعلان کردیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بنگال کے مسلمان مسلم لیگ (علیحدہ ملک) سے علیحدگی اختیار کرلیں گے۔ اور پنجاب میں بھی ایسا ہوسکتا ہے اگرچہ وہاں امکان کم ہے۔ (دی گریٹ ڈیوائڈ۔ ایچ وی ہڈسن۔ مطبوعہ 1969 صفحہ 245۔

وہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ بنگال و پنجاب کو تقسیم کرنے کا مشورہ میرا تھا۔ پھر کانگریس و انگریز نے 9 اگست کی سازش میں پنجاب کے مزید ضلع کاٹ دئیے تو اس پر مولانا خاموش کیوں رہے۔
اور کون نہیں جانتا کہ تقسیم میں ہونے والی تمام تر قتل و غارت و لوٹ مار اسی دو فیصلوں کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ایک میں مولانا خود اور دوسرے میں انکی کانگریس شامل تھی۔

تاریخ بہت واضح الفاظ میں یہ بتا رہی ہے مسلمان علیحدہ وطن کے مطالبے پر متحد تھے۔ سوائے چند ایک علماکرام کے۔ وہ بھی مخالفت میں اتنے شدید نا تھے جب تک انہیں کانگریسی مال نا ملا۔ اور تاریخ یہ بھی دکھا رہی ہے کہ متحد مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے انہیں تقسیم کرنے میں سب سے اونچی مولانا آزاد کی تھی۔ اور ہر ایسی آواز لگانے والے کو خریدا تاکہ مسلمان ایک جھنڈے تلے متحد نا ہو پائیں۔

برصغیر میں انگریز سے آزادی کے بعد کانگریس کی ہندو لیڈرشپ خالص ہندو راج کا منصوبہ بنائے بیٹھی تھی۔ جس میں مسلمان انکا غلام ہوتا۔ جبکہ اتنی واضح سوچ کے باوجود کانگریس میں شامل مسلمان لیڈران متحدہ ہندستان کے نام پر مسلمانوں کو غلام بنائے رکھنے کیلے ہندوؤں کے ہاتھ مضبوط کرتے رہے۔ کانگریس کے سرکردہ ہندو لیڈر اپنی تحریروں تقریروں میٹنگوں میں کھل کر مسلمان دشمنی کا مسلسل اظہار کررہے تھے۔ اور انگریز کی موجودگی میں عملی مظاہرہ بھی کرتے رہے تھے۔ ایسے میں کیا کوئی شک باقی تھا کہ انگریز کے جانے کے بعد ہندستان میں چاہے مسلمان ہندوؤں کے تناسب میں بیس تیس یا چالیس فیصد ہوتا مگر اقلیت ہی رہتا۔ پھر ہندو کو حکومت ملتی یا مسلمان کے ساتھ شراکت دار ہوتا ہندو بنئیے کی متشدد ذہنیت سے برصغیر فسادات کی مسلسل زد میں رہتا۔ ایسے میں سمجھ سے باہر ہے کہ مولانا آزاد اور چند کانگریسی مسلمان انگریز کے چلے جانے کے بعد ہندو بارے کس خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ کانگریس مسلمانوں کو اپنا غلام بناکر رکھنے کی پلاننگ کررہی تھی اور کانگریسی مسلمان لیڈر مولانا آزاد کے بانٹے گئے مال پر مسلمانوں کو تقسیم کیئے رکھنے کے کانگریسی کے ایجنڈے پر کام کررہے تھے۔

آغا شورش کاشمیری کے بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل میں لکھے گئے ان الفاظ نے اس غلطی کو دور کردیا ہے کہ مسلمانوں کو تقسیم مسلم لیگ نے نہیں بلکہ مسلم لیگ کی مخالفت کرنے والے مولانا آزاد اور نیشنلسٹ مسلمان لیڈر ہیں۔

“استعمار دشمن مسلمان راہنماؤں نے تب تک محسوس ہی نہیں کیا تھا کہ مسلمان قوم کہاں کھڑی ہے۔ اور پاکستان کا مطالبہ دراصل ہے کیا۔ پاکستان کا مطالبہ گم شدہ اسلامی سلطنت کی بازیافت کا ایک دلفریب تصور تھا۔ نیشنلسٹ مسلمان ابھی ماضی میں زندگی گزار رہے تھے۔ ان کیلے 1940 بھی 1857 کا زمانہ تھا۔ وہ باتیں اسلام کی کرتے لیکن انہیں ایک اسلامی ریاست کے مطالبہ سے اتفاق نا تھا۔ قائداعظم کی سیاست کو قبول کرنا اگر انکی انا کو ہلکا کرتا تھا تو ان کے مطالبہ کی مخالفت نا کرتے۔ کانگریس خود کوئی حل پیش نا کرسکی۔ نیشنلسٹ مسلمانوں کے حل کو تسلیم نا کیا۔ لیگ سے صلح کی خواہش اور جنگ کا رویہ قائم رکھا۔ ظاہر ہے کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی خواہشوں و امیدوں کا محور و مظہر ہوگئی تھی۔ نیشنلسٹ مسلمانوں کے پاس لیگ کی مخالفت کے جتنے ہتھیار تھے سب کے سب کند ہوچکے تھے۔ لیکن وہ اپنی کچی پکی دیواریں لیکر لیگ کے سیلاب کو روکنا چاہتے تھے۔ اگر نیشنلسٹ مسلمان اس وقت صورت حال کے اس نقشے پر غور کرتے تو اور نتیجہ تک پہنچ جاتے تو یقیناً حالات مختلف ہوتے۔ پاکستان ایک ناگزیر نصب العین ہے اب مسلمان اس سے ہٹ نہیں سکتے تھے۔ انہوں نے اپنا سب کچھ حتی کہ دل و دماغ تک قائداعظم کے حوالے کردیا تھا۔ اور قائد اعظم بنیان و مرصوص بن کر کھڑے تھے”۔

آخر میں اتنا کہوں گا مولانا آزاد جس سیاسی نظریہ پر ڈٹے رہے وہ نا تو اس میں حق بجانب تھے اور ناہی اس میں کامیاب ہوئے۔ خود غلط جگہ کھڑے رہے اور کانگریس کی مسلمان دشمنی کو جواز فراہم کرتے رہے۔ کانگریس انکے کندھوں پر سوار مسلمانوں کے خالف سازشیں کرتی رہی۔ اور مولانا خاموش دیکھتے رہے۔ خواب غفلت سے جاگے بھی تو پانی سروں سے گزر چکا تھا۔ تقسیم کے دوران مسلمانوں کا جو نقصان کرنا اور کرنے میں مدد فراہم کرنا تھی وہ کرچکے۔ اور تقسیم کے بعد اپنی کتاب میں لاتعداد جگہ کانگریس کی عیاری مکاری مسلمان دشمنی متعصبیت اپنی غلطیوں اور پشیمانیوں کا زکر کرتے ہیں۔ اور اپنی ناکامیوں کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ اور افسوس یہ کہ آج کی نسل تاریخ سے کچھ سیکھنے کی روادار نہیں ہے۔

خان عبدالغفار خان تو کانگریس کی طرف سے تقسیم کا سننے کے بعد ایک دم سن ہوکر رہ گئے۔ کئی منٹ تک ان کی زبان سے ایک حرف بھی نا نکلا۔ پھر انھوں نے ورکنگ کمیٹی کو یاد دلایا کہ انہوں نے ہمیشہ کانگریس کی حمایت کی ہے۔ اب اگر کانگریس نے انہیں چھوڑ دیا تو ان کے دوست دشمن ان پر ہنسیں گے۔ کہ کانگریس کو جب تک ضرورت تھی خدائی خدمت گاروں کی حمایت کی اور پھر ہم سے مشورہ تک نہیں کیا۔ خان عبدالغفار خان نے بار بار کہا سرحد کے لوگ اسے دغابازی کی حرکت سمجھیں گے۔
کتاب انڈیا ونز فریڈم۔ باب ایک خواب کا خاتمہ

14 جون 1947 کو اے آئی سی سی کی میٹنگ تھی۔ میں نے ان کی بہت میٹنگوں میں شرکت کی تھی۔ مگر یہ اسکی عجیب ترین میٹنگوں میں سے ایک تھی۔ کانگریس جس نے ہمیشہ ہندستان کے اتحاد اور آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ اب ملک کو تقسیم کرنے کی سرکاری قرارداد پر غور کررہی تھی۔ میرے لئے کانگریس کا اس نفرت آمیز طریقے سے ہتھیار ڈالنا ناقابل برداشت تھا۔ ہم ناکام رہے۔ ہم سیاسی سطح پر ناکام رہے۔ ہمیں اپنی شکست تسلیم کرلینی چاہیے۔
کتاب انڈیا ونز فریڈم۔ باب ایک خواب کا بٹوارہ۔

سردار پٹیل کو پورا یقین تھا پاکستان کی ریاست پنپنے والی نہیں۔ اور زیادہ دن قائم نہیں رہ سکے گی۔ تھوڑے ہی دنوں میں پاکستان ڈھیر ہوجائے گا اور سردار پٹیل کو شائد یہ امید تھی کہ وہ صوبے جو ہندستان سے الگ ہوگئے تھے۔ انہیں ہندستان میں واپس آنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ مجھے اس کا اعتراف کرنا چاہیے کہ مسلم لیگ کے خلاف انہوں نے اتنے شدید تعصبات پیدا کرلیے تھے کہ لیگی مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی تو سردار پٹیل کو کوئی افسوس نا ہوتا۔
کتاب انڈیا ونز فریڈم۔ باب منقسم ہندستان

تقسیم ہند کے کچھ عرصہ بعد پاکستانیوں نے جوش ملیح آبادی کو آمادہ کیا کہ وہ ہندوستان چھوڑ کر مستقل طور پر پاکستان آجائیں۔ جوش پاکستان آنے سے پہلے مولانا آزاد سے ملنے پہنچ گے۔ مولانا نے جوش سے پوچھا “آپ ہی وہ شاعر ہیں جس پر پاکستان ڈورے ڈال رہا ہے”۔ جوش نے جواب دیا ہاں۔ مولانا نے پوچھا کیوں جا رہے ہو۔ جوش نے مولانا کو اپنے اور مولانا کے ایک جاننے والے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ “وہ کہتا ہے جوش پاکستان چلے آؤ نہرو کے بعد تمہیں کوئی نہیں پوچھے گا”۔ اس پر مولانا نے فرمایا تم ہی کیا نہرو کے بعد تو مجھے بھی ہندوستان میں کوئی نہیں پوچھے گا۔
اور شیخ عبداللہ سے کہا: ’’میں تو اب صدا بصحرا بن کر رہ گیا ہوں۔
(یادوں کی بارات جوش ملیح آبادی اشاعت 1975)

تقسیم ہند کے بعد جب ہندوستان میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا، احرار کے لیڈر مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی کے ہاتھ کچھ ثبوت آ گئے جن سے پتہ چلتا تھا کہ یہ قتل عام کانگریسی لیڈروں اور ہندو جرنیلوں کی منشاء سے ہورہا ہے۔ مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی یہ ثبوت لے کر مولانا آزاد کے پاس پہنچ گئے اور انہیں دکھلا کر کہا، یہ کیا ہو رہا ہے
مولانا نے جواب میں فرمایا۔ ” مولوی صاحب یہ سب میرے علم میں ہے، ایسا ہونا ناگزیر تھا۔ دن سبھی طرح کے نکل جاتے ہیں، یہ بھی نکل جائیں گے۔ البتہ ایک چیز جو صاف ہوگئی ھے وہ بعض لوگوں (ہندو) کی دماغی تربیت ہے۔ میں ان کے (کانگریس) بارے میں کبھی خوش رائے نہیں رہا۔ میں نے ان کی طبیعتوں کا شروع ہی سے اندازہ کر لیا تھا اور مجھے یقین تھا یہ لوگ آخرکار ننگا ہوکر رہیں گے۔ سو ان کے چہروں کی نقاب الٹ چکی ھے۔

روزنامہ پٹریاٹ کی چیف ایڈیٹر ارونا آصف علی کو 15 اگست 1947 کی رات کو دیا گیا خصوصی انٹرویو میں مولانا آزاد آنسوؤں سے ڈبڈبائی آنکھوں کے ساتھ فرماتے ہیں۔
“ہائے میں ناکام ہوگیا میں فیل ہوگیا”۔

“آج جب میں دس سال کے بعد ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جناح کی بات میں وزن تھا۔ کانگریس اور مسلم لیگ دونوں اس معاہدے میں فریق تھے۔ اور مسلم لیگ نے مرکز صوبوں اور گروپوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی بنیاد پر مشن پلان کو تسلیم کیا تھا۔ کانگریس نے اس پر شکوک کا اظہار کرکے دانائی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اور نا ہی وہ اس میں حق بجانب تھی۔ کانگریس کے موقف میں آئے روز کی تبدیلی نے جناح کو ہندستان کی تقسیم کا موقع فراہم کرنا ہی تھا”۔

مولانا کا یہ اعتراف بھی پڑھ لیں۔
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہندستان کی تقسیم اور اس کے بعد ہونے والی تباہیوں کی زمہ داری گاندھی و نہرو پر عائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے کیبنٹ مشن پلان کو مسترد کردیا تھا۔

حرف آخر، پاکستان آج بہت بہتر شکل اور حالت میں ہوتا اگر مولانا آزاد نیشنلسٹ لیڈروں کو مسلم لیگ کے خلاف نا اکساتے تو عام مسلمان بھی ایک جگہ متحد ہوتے جس سے مسلمانوں کی طاقت بڑھتی۔

مولانا آزاد نے کانگریس بارے جو اعترافات تقسیم کے بعد کیے اگر وہ پہلے کردیتے تو مسلمان اس طرح مخمصہ میں نا رہتے۔ اور انہیں فیصلہ کرنے میں مشکل پیش نا آتی۔

پاکستان ہندستان اور برطانیہ کے مصنفین کی تقسیم ہند پر لکھی کتابوں کا جتنا زیادہ مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا آزاد کی مسلم لیگ مخالفت نے مسلمانوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ پہلے 3 مارچ پھر 27 جون معاہدے اور پھر 9 اگست کے شرمناک خفیہ پنجاب باؤنڈری کمیشن کی سازش کے بعد ان پر ہندو مکار سوچ کھل کر آشکار ہو چکی تھی انہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ کانگریس کے ہاتھوں استعمال ہوچکے ہیں مگر وقت گزر چکا تھا اسی لئے تقسیم کے بعد ان کے قلم نے ناکامی کا اعتراف کیا ہندو سے مایوسی کا اظہار کیا۔ مگر وقت گزر چکا تھا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: