عورت محبت اور خط : سمیرا عابد

0
  • 57
    Shares
پچھلے دنوں دانش پہ شایع ہونے والے دو خواتین مضنفین کی طرف سے فرضی محبوب نام کے خطوط کے بعد اسی خط کا جواب لکھا گیا اور ایک خوبصورت ادبی کاوش سامنے آئی۔ آج انہی خطوط پر ایک منجھی ہوئی لکھاری کی طرف سے عورت، اس کی محبت اور خطوط لکھے جانے پر ایک حساس تجزیہ آیا کہ پڑھتے ہوئے بے طرح بانو قدسیہ کی یاد تازہ ہو گئی۔

یہ محبت نامے پڑھ کے جی چاہا کہ ان لفظوں سے نچڑتے جذبوں کا کچھ اور دیر ساتھ رہے۔۔۔ تو کیا صورت ہو اس کی؟ سوچتی ہوں کہ پرائے محبت ناموں کا جواب تو لکھا نہیں جا سکتا۔ کیوں نہ تجزیے کے بہانے کود پڑوں۔۔۔

ویسے کون کہتا ہے کہ یہ محبت نامے ہیں۔ یہ تو ناسٹیلجیا ہے اس غلط فہمی کا جسے لوگ محبت کی طرح سینت سینت کر رکھتے ہیں۔ ورنہ محبت ذرا سی بھی ہو تو انا مر جاتی ہے۔ جیسے ذرا سی روشنی اندھیرے کو مار دیتی ہے۔ جبکہ ان “نامۂ محبت” نامی شذرات میں انا یوں اچک اچک کر سامنے آتی ہے جیسے رات گئے کسی ویرانے سے گذرتی ٹرین کے ڈبے کے اندرونی روشن دیوار پر اندھیری کھڑکیاں ایک تسلسل سے ابھرتی ہیں۔

اگر بات کی جائے اس impulse کی جو چٹھیاں لکھواتی ہے۔ تو وہ بس اظہار ہے۔ جیسے کسی سکھی سے کہا جاتا ہے بالکل اسی طرح دل کی بات کاغذ پہ بکھیری جاتی ہے۔ یہ کاغذ قلم کا عشق جوان رہ سکتا ہے کیونکہ کاغذ قلم جب بھی ہاتھ میں آتا ہے ہماری اپنی مرضی سے آتا ہے , مرضی سے چلتا ہے اور مرضی سے رک جاتا ہے۔ اب یہ سہولت انسانوں میں کہاں دستیاب۔۔۔ اس لئے وہ محبت مر جاتی ہے اور یہ محبت زندہ رہتی ہے۔

اور ان لوگوں کے لئے جو دور رہنے کے لئے فاصلے کا سہارا لیتے ہیں۔ فاصلہ رکھنے کے لیے آنکھ سے اوجھل ہونا چاہتے ہیں۔ آنکھ سے اوجھل ہونے کے لئے پہاڑ بیچ میں لاتے ہیں۔ پہاڑ پر جانے کے لئے سردی کا بہانہ کرتے ہیں۔۔۔۔ ٹھنڈ کوئی پربت سے مشروط تھوڑا ہی ہے۔ یہ تو کہیں بھی ہو سکتی ہے۔ الفاظ میں, لہجوں میں, سلوک میں, تعلق میں۔۔۔ موت میں۔۔۔ وہی موت جو تعلق ٹوٹنے پر جنم لیتی ہے۔ جو پربت ریزہ ریزہ ہونے پر آتی ہے۔ جو آسمان یا اس جیسی چادر پھٹنے پر آتی ہے۔

ایک بات کا بہت افسوس ہوتا ہے۔ جانے یہ اعترافات کی سپر عورت کے حصے میں ہی کیوں آتی ہے اور خود کو زخمی کرتی ہے۔ کیوں عورت ہی یہ سمجھتی ہے کہ جدائی کا فیصلہ اس کا اپنا تھا۔ حالانکہ کسی جدائی کا فیصلہ یکطرفہ نہیں ہوتا۔ جب شرط ساتھ دینے کی ہو تو جدائی کے لئے بھی دونوں کو مخالف سمت میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ یا ایک چل پڑے اور دوسرا رکا رہے تو جدائی جنم لیتی ہے۔ تو بے وقوف مونث۔۔۔ یہ کبھی بھی تمہارا فیصلہ نہیں ہوتا۔ تمہیں اس کا دھوکا دیا جاتا ہے۔ اور تم یہ سمجھتی ہو کہ تم گناہ گار ہو۔ تمہیں اپنی توقعات کا بوجھ اس پر ڈالنا پسند نہیں۔ اور وہ تم پر ترک تعلق کا بوجھ ڈال کر یہ توقع کرتا ہے کہ تم اسے پلکوں پر لیے پھرو گی۔ ۔۔۔ افسوس کہ تم لیے پھرتی ہو۔ ٹھیک ہے رہو اس غلط فہمی میں۔۔۔

مرد کے لیے اس محبت کا مفہوم کچھ اور ہی ہے۔ اس کے لئے یہ بڑی سہولت والا آئٹم ہے۔۔۔ جب جی چاہا الماری سے نکال کے کنگھی کی طرح بالوں میں پھیری۔ سر کی خارش بھی چلی گئی, بال بھی سنور گئے۔
کنگھی پھر الماری میں رکھ دی۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل پر نہیں رکھی جا سکتی۔ پرانی ہے۔۔۔ دندانے ٹوٹے ہوئے ہیں۔۔۔۔

اور بری بات یہ ہے کہ جوئیں نکالنے کی کنگھی ہے۔۔۔۔ دانشوری کی جوئیں اسی سے نکلتی ہیں۔ لیکن کسی کے سامنے استعمال نہیں کی جا سکتی۔ دانش کو اعزاز کے طور پر دکھایا جاتا ہے پر عورت کی دانشوری جوؤں کی طرح کنگھی سے نکال دی جاتی ہے۔ صرف کسی کو بتایا نہیں جاتا۔ دانش رکھنے والی عورت سے دور رہنا پڑتا ہے۔ اسے خود سے دور رکھنا پڑتا ہے۔ ہاں سر کہیں چھوڑ آئے۔۔۔ بدن لے آئے۔ کافی ہے۔

مرد ایک ہی ڈائری کے صفحات الٹ کر زندگی نہیں گذارتا۔ پرانی ڈائری کے ہر دو اوراق کے درمیان اسے نئی یاد رکھنے کی عادت ہے۔ نئی شام گذارتے ہوئے پرانی گذری ہوئی شامیں اس کا رستہ نہیں روکتیں ۔کڑوی باتیں اسے صرف پرائی عورت کی میٹھی لگتی ہیں۔ دسترس میں موجود عورت کی میٹھی بات بھی تلخ لگتی ہے۔ دانشوری کی پیاس بجھانے کے لئے دانشوروں کے ہاں اکٹھا ہوتے ہیں۔ باقی پیاس بھی وہ بجھا لیتا ہے۔ کیونکہ اس کا مسئلہ صرف پیاس ہوتا ہے۔ یہ گلاس, وہ گلاس, نیلا پیلا گلاس, نیا پرانا, ٹوٹا پھوٹا گلاس یا منقش گلاس نہیں۔

یہ محبت کا نام لینا تو عورت کو باندھے رکھنے کا ایک کھونٹا ہے۔ یہ وفا تو اس کی آنکھوں پر چڑھائے گئے کھوپے ہیں۔ محبت نام کے سراب کو پانے کے لئے سچ پر جھوٹ کے غلاف چڑھانے پڑتے ہیں۔ اور دانشور عورت, ذہین عورت جھوٹ کے ادھڑے ہوئے پرتوں میں سے سچ بھانپنے لگتی ہے۔ اسی لئے وارے میں نہیں۔۔۔


سمیرا عابد، سیاسی و سماجی رہنما ہیں ، شاعرہ ہیں، ادیبہ ہیں، آرکیٹیکٹ ہیں، اور ایک بہترین ماں ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: