مولانا! تیری سیاست کو سلام؟ سمیع اللہ ملک

0
  • 104
    Shares

یوں توسینیٹ کے انتخابات کا اعلان سے پہلے ہی چاروں صوبوں میں سیاسی جماعتوں کے زعماء نے ہارس ٹریڈنگ میں زیادہ دلچسپی کا اظہار شروع کر دیا اور ہماری صوبائی جماعتوں کے اراکین کی اہمیت بھی آسمان تک جا پہنچی ہے اور ہمیشہ کی طرح بدقسمتی سے ہارس ٹریڈنگ کا آغاز انتہائی پسماندہ صوبہ بلوچستان اورفاٹا سے ایسی صدائیں بلند ہونا شروع ہو جاتی ہیں جس کی اہم مثال بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے خلاف کامیاب عدم اعتماد کی قرارداد سے تبدیلی نے سیاسی طبل جنگ بجا دیا۔

اس معاملے میں پاکستان کی سیاست میں پاکستان کی مذہبی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو اب جوڑ توڑ اور اپنے مفادات کا بے تاج بادشاہ سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں کسی اور نے نہیں بلکہ جمعیت علماء اسلام کے کسی کارکن نے چاکنگ کرتے ہوئے کسی دیوار پر یہ جملہ لکھا ”مولانا فضل الرحمان! تیری سیاست کوسلام‘‘ تو کچھ دیر کیلئے میں یادِ ماضی میں کھو گیا کہ مولانا بھاشانی جن کانام عبدالحمیدتھا اور وہ مشرقی پاکستان کے نامور سیاستدان تھے۔ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہاری کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے تو انہوں نے ۱۹۷۰ء میں مغربی پاکستان کو سلام بھیجا تھا اور پھر یہ سلام آخری ثابت ہوا، اور مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے توڑ کر بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔

اب مولانا فضل الرحمان کی سیاست کو سلام کا کیا مطلب لیاجائے؟ مگر یہ ضرور ہے کہ مولانا فضل الرحمان سیاست کے پتوں کے ماہرکی طرح اپنے پتے بڑی خوبصورتی سے یوں کھیلتے ہیں کہ کوچۂ سیاست دنگ رہ جاتاہے۔ فاٹا کو دیکھیں مولانا نے اپنی سیاست میں گھاٹا جانا تو سب کو چت کر ڈالا اور حد تو یہ ہے کہ پھر فوج کے سربراہ نے مولانا سے ملاقات کو ضروری جانا اور یوں واحد سیاستدان مولانا دین و دنیا دونوں کی مہارت کی بدولت دونوں ضرورتوں کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ یوں دین و دنیا کو وہ خوب استعمال میں لاتے ہیں کہ ان کی طنزیہ مسکراہٹ سے اگلا چکرا جائے۔ فاٹا کا علاقہ ملک کی پچھڑی کا علاقہ کہلاتا ہے اور جو پچھڑی کے آبادگار کے ساتھ ہوتاہے وہ اس علاقے کے ساتھ ہوتا آرہا ہے۔ قبائلی رسم و رواج میں یہ جکڑا یہ ٹکڑا ترقی کی راہ کھوٹی کئے ہوئے یوں ہے کہ نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ مرکزکی وہاں رسائی مشکل ہے تو صوبہ خیبر پختونخواہ کایہ حصہ نہیں۔ پالیسی ساز اداروں، ماہرین اور اہل فکرکی متفقہ رائے یہ ہے کہ اس کو خیبر پختونخواہ کا حصہ بناکراس کو بھی تیزرفتار دنیا کی ترقی سے جوڑ دیاجائے، قبائلی بھی تیارہیں تو مولانافضل الرحمان تیار نہیں حالانکہ فاٹاکے خیبر پختونخواہ سے ملاپ سے صوبہ کی نشستوں بھی۲۳کے قریب بڑھ جائیں گی اور رقبہ بھی مزید ۲۷۲۲۰مربع کلو میٹربڑھ جائے گا اور فاٹا ۱۹۰۵ء کے ایف سی آرکے کالے قانون سے بھی نجات پالے گا۔

کچھ حلقوں کاخیال ہے کہ فاٹا کے علاقوں میں مولانا کی مدرسوں کی صورت میں خاصی سرمایہ کاری ہے جن کابھی تک آڈٹ نہیں ہوا ہے۔ مدرسے کے طالب علم ان کی اسٹریٹ پاور ہیں۔ جب یہ علاقہ خیبر پختونخواہ کاحصہ قرار پائے گا تو پھر یہ سربستہ راز آڈٹ شروع ہونے سے کھلیں گے

ہر سو علاقہ اور عوام کااس میں فائدہ ہے تو پھرحضرت مولانا کو انکار کیوں ہے؟ کیا یہ دینی مسئلہ ہے یا سیاسی تجارتی معاملہ ہے یا علاقائی کہ وہ ڈٹے ہوئے ہیں کہ نہیں ہونے دیں گے۔ وفاداری بھی اس کی قیمت میں اداکریں گے۔ ان کاخیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ فاٹاکے ان کی خیبر پختونخواہ میں سیاسی حیثیت ختم کردے گی۔ مولانا —نوازشریف کی سیاسی کمزوری اور دینی کمزوری جوان کے ناعاقبت اندیش سے خاصی کمزور پڑ گئی ہے— کاخوب فائدہ اٹھائیں گے۔ کچھ حلقوں کاخیال ہے کہ فاٹاکے علاقوں میں مولاناکی مدرسوں کی صورت میں خاصی سرمایہ کاری ہے جن کابھی تک آڈٹ نہیں ہوا ہے۔ مدرسے کے طالب علم ان کی اسٹریٹ پاور ہیں۔ جب یہ علاقہ خیبر پختونخواہ کاحصہ قرار پائے گا تو پھر یہ سربستہ راز آڈٹ شروع ہونے سے کھلیں گے اور یہ پتہ چل جائے گا کہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے اورکہاں جا رہاہے؟ باقی ملک میں تو وفاق کے تحت وفاق المدارس کا ادارہ ہے جوان مدارس کے معاملات کو دیکھتا ہے کہ کیا پڑھایا جارہا ہے، کہاں سے چندہ آرہا ہے اورکن کاموں پریہ صرف ہو رہا ہے؟ نصاب مدارس میں یہ دیکھا جاتا ہے لیکن اس کا اختیار فاٹا میں نہیں ہے، وہاں مولانا خود مختار ہیں۔ ہاں، مولانا فاٹا کو ایک صوبہ بنانے کے حق میں ہیں تاکہ وہاں اپنے مدارس کے بل بوتے پر انتخابات جیت کر صوبے میں اپنی حکومت بناسکیں اور یوں فاٹا صوبہ کی صورت اپنی راجدھانی کامستقل بندوبست ہوجائے تو مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ سیاسی اورحکومتی ہے۔ مسلم لیگ کی وفاقی حکومت میں حالات واقعات کی بدولت حضرت مولانا نواز شریف گلے کی ڈوری بنے نظرآتے ہیں، نہ نگلے جاتے ہیں اورنہ ہی اگلے جاتے ہیں۔

ایک مولوی نے کہا کہ مسجد اور مدرسے کیلئے ہم جان دے دیتے اورلیتے ہیں، اوریہی تو ہمارے اثاثے ہیں۔

مبصرین کا کہن اہے کہ آئندہ تین چار ماہ میں حکومت پارلیمنٹ سے بل پاس کروا کر صدر مملکت کے پاس بھیجے گی، ان کے دستخط کے بعد یہ آئین کاحصہ بن جائے گاجس سے یہ یقین دلایاجائے گاکہ فاٹامیں اصلاحات آرہی ہیں۔ یوں سیاسی چال چل کر پشاور ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کادائرہ فاٹا تک بڑھادیا جائے گا۔ قومی اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد بل سینیٹ میں جائے گاجہاں سے منظوری کے بعدبل کا مسودۂ اوراس بل میں مولانااورمحموداچکزئی کوبھی راضی رکھنے کیلئے درمیانی راہ بھی نکل آئے گی کیونکہ ۲۰۱۸ءکے انتخاب میں ان دوکی ضرورت مسلم لیگ ن کو درکار ہوگی۔ اگر ایک ماہ میں فاٹا اصلاحات کرتے ہیں تو پھر بھی اسے خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کیلئے ایک خاص وقت درکار ہوگا۔

فاٹا سیکرٹریٹ اعلیٰ عدلیہ اوردوسری انتظامیہ مشینری کو وہاں تک پہنچانے کیلئے ایک پورا طریقہ کار اختیار کرنا پڑتا ہے لہذا عام انتخابات تک یہ اصلاحات کر تولیں گے لیکن وہاں صوبائی انتخابات پھر بھی نہ ہوسکیں گے جس کی وجہ سے فی الوقت خیبر پختونخواہ کو فاٹاکے انضمام کافائدہ نہ ہوگا، یہی مطلوب مولانا اور اچکزئی کو ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں افراد فاٹاکے انضمام کے خلاف ہیں جبکہ ان دونوں کاتعلق فاٹاسے نہیں۔ مولانا کا فاٹا میں آٹا گیلا ہونے کا خدشہ اپنی جگہ مگر یہ کیاکہ اچکزئی نے فاٹا کو افغانستان کاحصہ قرار دے دیا اورحکومتی ارکان کی کسی پاکستانیت نے جنبش تک نہیں کی۔ سیاسی مفادات کی روئی نے کانوں کی سماعت اورقوت گویائی کو سلب کر دیا جیسے کسی نے جادو کر دیا ہو۔ چہ خوب! مولانا ارشاد فرماتے ہیں کہ فاٹا کا انضمام امریکی غلامی کی دوسری قسط ہے۔

کوئی امریکا سے وزارتِ عظمیٰ کی بھیک مانگنے والے سے پوچھے کہ فاٹاکی خیبر پختونخواہ میں انضمام کا امریکی غلامی سے دوسری قسط والا کیا تعلق ہے اور پہلی غلامی کی قسط کون سی ہے۔ چلیں وہ بھی بتادیتے ہیں۔ فتوے لگانے سے پہلے اورکہنا کہ میں ایک گھنٹے کیلئے بھی پاکستان میں غلامی کی زندگی گزارنا پسند نہیں کروں گا، اس کا مطلب کیا ہے؟ اقتدارکی غلامی میں عشرہ سال گزارنے والے مولانا کیا فاٹا جو پاکستان کا ہی حصہ ہے، اس کے خیبر پختونخواہ میں انضمام میں غلامی کی کون سی صورت نظرآنے لگی ہے یا اقتدارکی غلامی سے گلوخلاصی کا ڈر ان کے ذہن پر مسلط ہو گیا۔ قبائلی اور پاکستانی حکومت دونوں فاٹا کے انضمام پر آمادہ ہیں، اعتراض صرف مولانا اور اچکزئی کو ہے جبکہ دونوں کا تعلق فاٹا سے نہیں ہے۔ یادرہے کہ مولانا چھ مرتبہ ایم این اے، تیسری مرتبہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین، جس کاسالانہ بجٹ ۷۰/ارب ہے لیکن ایک مرتبہ بھی کشمیر کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا گیا، مراعات وفاقی وزیرکے برابر، ان کے ایک بھائی عطاء الرحمان سینیٹر ہیں، مولانالطف الرحمان خیبر پختونخواہ کے اپوزیشن لیڈر جس کی مراعات وزیراعلیٰ کے برابر، تیسرا بھائی مولانا ضیاء الرحمان ۲۰۰۷ء میں وزیراعلیٰ اکرم درّانی کے ذریعے ڈیپوٹیشن پر مہاجرین افغان کا ایڈیشنل سیکرٹری مقرر ہوا، نواز شریف نے ایک دن میں بیان دینے کی قیمت پرکمشنر افغان مہاجرین بنا دیا، چوتھا بھائی عبیدالرحمان ضلع کونسل ڈیرہ اسماعیل خان میں اپوزیشن لیڈر۔

مولانا کا فاٹا میں آٹا گیلا ہونے کا خدشہ اپنی جگہ مگر یہ کیاکہ اچکزئی نے فاٹا کو افغانستان کاحصہ قرار دے دیا اورحکومتی ارکان کی کسی پاکستانیت نے جنبش تک نہیں کی۔ سیاسی مفادات کی روئی نے کانوں کی سماعت اورقوت گویائی کو سلب کر دیا

یادرہے کہ سینٹ کے سابقہ انتخابات کے موقع پرمولانا بظاہر نوازشریف کے ساتھ اپنے تمام فوائد سے لطف اندوز ہو رہے تھے لیکن سینٹ میں مولانا غفورحیدری کیلئے ڈپٹی چیئرمین اور دیگر مراعات کا زرداری کے ساتھ سودا کرکے نواز شریف کے ساتھ وہ ہاتھ کیاکہ نواز شریف سینٹ میں برتری کے قریب ہوتے ہوئے بھی شکست سے دوچار ہو گئے اور ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں وہی تاریخ دہرائی اور بلوچستان میں ن لیگ کے وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتمادکی قرارداد میں زرداری کے ہمراہ کھل کرحصہ بھی لیا مگر مرکز میں ن لیگ کی وفاقی حکومت میں بھی بدستور موجود ہیں اور اب ایک مرتبہ پھر سینٹ میں اپنے فوائد کیلئے دونوں بڑی پارٹیوں کے ساتھ شیر و شکر ہیں او رعین موقع پ رہی قوم کو نئی حیرت میں مبتلا کریں گے۔ مولانا خسارے کی سیاست کبھی نہیں کرتے۔ واقعی مولانا! تیری سیاست کوسلام؟

میرے رب کا فرمان ہے جو دنیا چاہتے ہیں ہم اس کو دنیامیں دے دیتے ہیں، آخرت میں کچھ نہیں دیتے۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: