دیواریں : محمد مبشر مہدی

1
  • 141
    Shares

“آہستہ بولو۔۔! دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔” اس نے میرے کان کے قریب آ کر سرگوشی کی۔

“ایسا سُنا تو ہے لیکن کبھی دیکھے نہیں “۔ میں نے جواب دیا۔

“بھائی اب دیواروں کے کان آپ کی طرح تو ہونے سے رہے کہ دور سے نظر آ جائیں اور ویسے بھی ہر چیز کا نظر آنا بھی ضروری نہیں ہوتا”۔ اس نے حسب ِ سابق  اپنی فی البدیہہ منطق جھاڑی۔

دیوار بھی عجیب چیز ہےاس کو ہمیشہ دوری، رکاوٹ اور تقسیم کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ دیوار کا وُجود جہاں  ایک گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے وہیں اس کے مکین ایک دوسرے کے دِیدار سے محروم بھی ہو جاتے ہیں۔میرے بابا کہا کرتے تھے “گھروں کے بیچ میں بھلا دیواریں ہوں بھی سہی تو دِلوں کے بیچ میں نہیں ہونی چاہئیں، کیوں کہ یہ زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں۔”

میرے بابا کہا کرتے تھے “گھروں کے بیچ میں بھلا دیواریں ہوں بھی سہی تو دِلوں کے بیچ میں نہیں ہونی چاہئیں، کیوں کہ یہ زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں۔”

اور چیزوں کی طرح دیواروں کی بھی کئی اقسام ہوتی ہیں جن میں سے دو تو دنیا بھر میں بہت مشہور ہوئی ہیں۔ میرا مطلب “دیوار ِ چین “اور “دیوار ِ گریہ “سے ہے۔ان میں اول الذّکر دشمنوں سے بچاؤ کے لیے بنائی گئی جب کہ دوسری یہودیوں کے مقدس معبد ہیکل ِ سلیمانی کی باقیات میں سے ہے جو فلسطین کے شہر یروشلم میں ہے۔ یہودی اس کے پاس جا کے روتے تھے اس لیے اس کا نام دیوار ِ گریہ مشہور ہوا۔

ایک دیوار نفرت کی کہلائی جاتی ہے جو دو دلوں کے بیچ کھڑی کی جاتی ہے اور اکثر اوقات اس کی بنیاد غلط فہمی پر ہوتی ہے۔اس کی بنیاد کا پختہ یا خستہ ہونا غلط فہمی کی نوعیت پر ہوتا ہے، جو باہمی بات چیت سے دور ہو سکتی ہے۔ کوشش کرنی چاہیے کہ غلط فہمی دیر تک قائم نہ رہے۔ ایک دیوار اجنبیت کی ہے، جسے بعض اوقات جلد یا بدیر گرا کر ایک دوسرے کے درمیان الفت پیدا کی جاتی ہے لیکن اپنوں کے درمیان یہ کچھ اچھی نہیں لگتی۔

شاعروں نے سورج، چاند اور تاروں کی طرح  دیوار کو بھی نہیں بخشا اور اسے بھی اپنی خامہ فرسائی میں مشق ِ ستم بنایا ہے۔آئیے مشہور شعرا کے چند اشعار دیکھتے ہیں۔مرزا غالبؔ لکھتے ہیں۔

نہ کہہ کسی سے کہ غالب ؔ نہیں زمانے میں         حریف ِ راز ِ محبت مگر درودیوار

ویسے اگر راز دار لوگ مل جائیں اور سننے والے سے کسی خطر ناک ردِّ عمل کا اندیشہ نہ ہو تو دیواروں سے باتیں کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ الگ بات کہ مرزا غالبؔ کو کوئی ایسا بندہ نہیں ملا،اس لیے وہ تمام عمر دلّی شہر میں کرائے کی حویلی کی دیواروں سے ہی راز ِ محبت کہتے رہے۔

ایک وہ دور بھی تھا کہ بادشاہ اپنے دشمنوں کو دیوار کے بیچ چنوا دیتے تھے اور یوں ان کا انتقام پورا ہوتا تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ  اس کے لیے انہیں دیواریں بھی موٹی موٹی بنانی پڑتی ہوں گی۔محسن ؔ نقوی اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

قتل چھُپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ         اب تو کھُلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ

کہا جاتا ہے کہ اکبر نے انار کلی کو دیوار میں چُنوا دیا تھا اگرچہ بعض محققین اس واقعہ  کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کو محض داستان قرار دیتے ہیں۔بہر حال جو بھی ہو مجھے یہ بات پسند نہیں آئی۔ اگر میں وہاں ہوتا تو اسے چھُپ کے رات کو دیوار سے نکال لاتا۔

جو چیز بنتی ہے مُرورِ زمانہ کے ساتھ آخر ایک دن اسے بوسیدہ ہونا پڑتا ہے۔ گھر بنائے جاتے ہیں تو گھروں کی دیواریں بوسیدہ ہو کر گرتی رہتی ہیں۔لیکن سبط علی صبا ؔکے گھر کی دیوار کیا گری کہ ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔اسی لیے انہیں کہنا پڑا کہ

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی  لوگوں  نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

بھائی  پاکستانی قوم تو شارٹ کٹ کی اتنی عادی ہو گئی ہے کہ سبط علی کا مکان تو خستہ تھا اور دیوار خود بخود گرگئی لیکن آج کل لوگ پختہ مکانوں کی دیواروں کو جان بوجھ کر گرا کر رستے بنا لیتے ہیں۔اور تو اور شاعروں کے دل کی بھی دیواریں ہوتی ہیں۔اور اگران میں سے کوئی گِر جائے تو بہت شور ہوتا ہے،اسی لیے تو ناصر کاظمی ؔ کہتے ہیں۔

بہت شور ہے خانہ ء دِل میں              کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

دیواروں کی بات ہو اورپڑوسی ملک ایران کی عوام میں شروع ہونے والے خالص عوامی پروجیکٹ دیوارِ مہربانی کا ذکر نہ ہو مناسب نہیں لگتا۔اس کا آغاز ایران کے شہر مشہد سے 2016ء کے آغاز میں سردی کے موسم میں برف باری کے بعدہوا۔دیواروں پر غریب اور ضرورت مند لوگوں کے لیے پہلے گرم لباس اور پھر کھانا تک مہیا کیا گیا۔اور پھر یہ تحریک چین اور پاکستان سے ہوتی ہوئی پوری دنیا میں پھیل گئی۔پاکستان میں تو اس دیوار ِ مہربانی کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا کیوں کہ میرے ایک دوست کو بھی شوق اُٹھا لیکن ایک دن اس نے جب اپنے دیے گئے کپڑے لنڈے پر بکتے دیکھے تو یہ بھوت بھی سر سے اُتر گیا۔

عطا الحق قاسمیؔ صاحب سے توبیچ میں دیوار کی دوری برداشت نہ ہوئی اور جُگاڑ لگاتے ہوئے دیوار سے ایک روزن بھی بنا لیا اور پھر روزانہ روزن میں سے آنکھ لگا کر دیکھتے رہتے اور پھر اس کی رُوداد اخبار میں “روزن ِ دیوار سے” کے نام سے لکھنے لگے۔اگرچہ بعد میں پی ٹی وی کا سربراہ بننے کے بعد ان کو اس روزن سے صرف مسلم لیگ نون اور نواز شریف ہی نظر آتے رہے۔

کچھ لوگوں کو منظر عام سے پیچھے ہٹانے کے لیے دیوار سے لگا دیے جانے کا محاورہ استعمال ہوتا ہے۔اسی محاورے کو ہمارے ایک دوست اور اُبھرتے ہوئے نوجوان شاعر شعیب صدیقیؔ نے بہت خوب صورتی سے اپنے اس شعر میں استعمال کیا ہے۔

تُم میری تصویر بنا کے لائی ہو                   یعنی میں دیوار سے لگنے والا ہوں

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محمد مبشر مہدی on

    دیواریں اس صفحے پر ابتدا ہے براہ ِکرم کمینٹس میں حوصلہ افزائی فرمائیں ۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: