فیض کا اثر اور ہم عصر شعرا : آصف اکبر

0
  • 32
    Shares

فیض نے جس زمانے میں شاعری شروع کی تو مختلف لوگوں نے اپنا اپنا انداز اپنایا ہوا تھا۔ سب سے زیادہ اثر اقبال کا تھا۔ جوش و جذبے اور پیغام سے لبریز فلسفیانہ شاعری۔ اردو زبان اس سے پہلے شاعری کے اس رنگ سے آشنا نہیں تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اقبال تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں میں بے انتہا مقبول ہو گئے۔ گو کہ دیگر طبقات بھی ان کی شاعری کے گرویدہ تھے مگر غزل کا روائتی دبستان اقبال کی مقبولیت سے خائف، ان کی شاعری میں محدب عدسہ لے زبان و بیان کی غلطیاں ڈھونڈنے لگا۔ مگر بیسویں صدی اقبال کی صدی ہی کہلائی۔

آصف اکبر

دوسری طرف جوش نے بھاری بھرکم الفاظ کی گونج میں اپنی انقلابی شاعری کی دھوم مچائی ہوئی تھی۔ غزل کو جھٹلا کر انہوں نے نظمیں کہیں۔ شاعر انقلاب کہلائے۔ ایک بڑے طبقے نے ان کو بہت بڑا شاعر کہا تو دینی سوچ رکھنے والوں نے ان کے عقائد و اعمال کی بنیاد پر اور روائتی شاعری کے پیرو گروہوں نے ان کی غزل دشمنی کی بنیاد پر ان کے خلاف محاذ کھولے۔

اسی زمانے میں جگر رئیس المتغزلین کہلائے۔ روائتی شاعری کو سینے سے لگائے، محبت کا پیغام دیتے ہوئے۔

رواں دواں لیے جاتی ہے آرزوئے وصال
کشاں کشاں ترے نزدیک آئے جاتے ہیں

اسی دور میں حفیظ جالندھری شاہنامہء اسلام کہہ کر مقبول ہوئے۔ ساحر نے چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں جیسی شاعری سے ایک تہلکہ مچا رکھا تھا۔ جبکہ ترقی پسند شاعروں نے اپنی نظریاتی شاعری کا محاذ کھولا ہوا تھا۔ چیختی چلاتی شاعری

تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دو
ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو

اور

ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن
تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

ایسے میں فیض نے اظہار شروع کیا۔ ایک مسلمان شاعر جو سوشلزم سے متاثر تھا مگر دل میں ایمان بھی سنبھالے ہوئے تھا۔ کیا راہ اپناتا۔ ترقی پسندوں میں شامل ہوتا تو ہجوم میں کھو جاتا۔ شاید نام ہی نہ بنا پاتا۔ روائتی غزل کہتا تو جگر کے ہوتے رنگ کیسے جماتا۔ مزاج اس کا مسابقانہ نہیں تھا۔ بھاگ دوڑ اس کا شعار نہیں تھا۔ پتا نہیں دانستہ یا نادانستہ اس نے اپنا ایک الگ راستہ چنا۔ نرم الفاظ کو اپنا کر محبت، وفا اور بے نیازی کی شاعری شروع کی۔ تسلیم و رضا کو اپنایا۔ نئی تراکیب، مترنم، بامعنی، آسان اور ذہنوں میں گھر بنانے والی اپنی شاعری میں استعمال کیں۔ بہت سے الفاظ روائتی شاعری کے بھی تھے مگر ان کو نئے مفہوم میں استعمال کیا۔

یہ ساغر شیشے لعل و گہر، سالم ہوں تو قیمت دیتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑے ہو کے فقط، چبھتے ہیں لہو رلواتے ہیں

اور

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا

فیض کا ہی کام تھا کہ زنداں کی تنگ و تاریک کوٹھری کو رومانیت کا استعارہ بنا دے۔

نثار میں تری گلیوں پہ اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
بہت ہے ظلم کہ دستِ بہانہ جو کے لیے
جو چند اہل جنوں تیرے نام لیوا ہیں
بنے ہیں اہلِ ہوس، مدعی بھی منصف بھی
کسیے وکیل کریں، کس سے منصفی چاہیں
مگر گزارنے والوں کے دن گزرتے ہیں
ترے فراق میں یوں صبح شام کرتے ہیں
بجھا جو روزنِ زنداں تو دل یہ سمجھا ہے
کہ تیری مانگ ستاروں سے بھر گئی ہوگی
چمک اُٹھے ہیں سلاسل تو ہم نے جانا ہے
کہ اب سحر ترے رخ پر بکھر گئی ہوگی
غرض تصورِ شام و سحر میں جیتے ہیں
گرفتِ سایۂ دیوار و در میں جیتے ہیں
یونہی ہمیشہ الجھتی رہی ہے ظلم سے خلق
نہ اُن کی رسم نئی ہے، نہ اپنی ریت نئی
یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ اُن کی ہار نئی ہے نہ اپنی جیت نئی
اسی سبب سے فلک کا گلہ نہیں کرتے
ترے فراق میں ہم دل بُرا نہیں کرتے
گر آج تجھ سے جدا ہیں تو کل بہم ہوں گے
یہ رات بھر کی جدائی تو کوئی بات نہیں
گر آج اَوج پہ ہے طالعِ رقیب تو کیا
یہ چار دن کی خدائی تو کوئی بات نہیں
جو تجھ سے عہدِ وفا استوار رکھتے ہیں
علاجِ گردشِ لیل و نہار رکھتے ہیں

جو گزرتی ہے ہنس کر سہنا، مقصد سے منہ نہ موڑنا، آسان اور دل موہ لینے والی باتیں کرنا، جو ایک تھپڑ مارے اسے دوسرا گال بھی پیش کر دینا۔ اس مستقل مزاجی سے فیض تمام مشکلات کو سہتے ہوئے فیض بنا۔

محتسب کی خیر، اونچا ہے اسی کے فیض سے
رند کا، ساقی کا، مے کا، خُم کا،پیمانے کانام

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: