یورپ کی مراجعت: خطرات، رجحانات —- سمیع اللہ ملک، برطانیہ

0
  • 83
    Shares

یورپی ممالک ٹوٹ رہے ہیں جو نہیں ٹوٹ رہے وہ یورپی اتحاد سے نکل رہے ہیں۔ جن کو عیسائیت کے “مقدس مشن” کی تکمیل کیلئے اکٹھا کیا گیا تھا وہ اب رنگ و نسل اور قومیت کی بنیاد پر نئی سرحدوں کے مطالبات کرنے لگے ہیں۔ مکافات عمل تو اٹل حقیقت ہے کہ سب سے پہلے یورپ کو درپیش حالیہ خطرات پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

۱۔ “بریگزٹ” کا لفظ یورپی یونین سے نکلنے کے قانونی راستے کو کہا جاتا ہے۔ یورپی یونین کے قانون میں جس طرح رکنیت کی شرائط ہیں وہیں اس سے نکلنے کیلئے بھی طریقہ کار ہے۔ کتنا عجیب ہے کہ سیکولر یورپ اپنی تاسیس کی گولڈن جوبلی”مقدس ویٹی کن” سٹی میں “پوپ” کے ہمراہ منا کر ابھی فارغ بھی نہ ہوا تھا کہ اسی سال اس کی ٹوٹ پھوٹ شروع ہوگئی۔

بریگزٹ” کا استعمال یورپ کی تاریخ میں پہلی بار حال ہی میں برطانیہ نے کیا ہے۔ برطانیہ میں قوم پرستی کی یہ صورتحال ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے لندن میں فرنچ، جرمن اور دیگر یورپی اقوام کیلئے نفرت اپنی آخری حدوں کو چھورہی ہے۔نائن الیون کے بعد جس رویے کا مسلمانوں کو سامنا تھا اب لندن میں اسی طوفان بدتمیزی کا سامنا یورپی اقوام کر رہی ہیں “یورپیو برطانیہ چھوڑ دو” کی آوازیں اتنی بلند ہوگئیں کہ مجبوراً برطانیہ کو اس مسئلے کے حل کیلئے ریفرنڈم کروانا پڑا۔ ریفرنڈم میں برطانوی لوگوں کی اکثریت نے یورپ چھوڑنےکے حق میں فیصلہ دیا یوں برطانیہ نے ریفرنڈم کے ذریعے یورپ کو ہمیشہ کیلئے خیرباد کہہ دیا۔ دیگر یورپی اقوام بھی “بریگزٹ” کیلئے پر تول رہی ہیں۔ یونان کے “معاشی دیوالیے” اور اب “قوم پرستی” کی اس لہر نے “یورپی اتحاد” کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ یورپ بھر میں ” قوم پرست” اقتدارمیں آرہے ہیں۔

ہٹلر جسے یورپ میں نفرت و ظلم کااستعارہ سمجھا جاتا ہے اس کی”قوم پرست نازی پارٹی پہلی بارجرمن ایوانوں میں پہنچ چکی ہےلازماً وہ یورپ سے اپنے اوپرڈھائے گئے “مظالم کابدلہ” لینا چاہے گی۔ ہالینڈ میں دائیں بازو کے “قوم پرست” اقتدار کیلئے فیورٹ سمجھے جارہے ہیں۔ فرانس کی صورتحال یہ ہے کہ حالیہ صدارتی انتخابی مہم کا بنیادی مطالبہ “بریگزٹ” تھا۔

دوسرے نمبر پر آنے والی سوشلسٹ فرانسیسی صدارتی امیدوار نے اقتدار ملنے پر”بریگزٹ” پر ریفرنڈم کا وعدہ بھی کیا تھا۔ “بریگزٹ” کی آوازیں یورپ کے چہار جانب سے بلند ہو رہی ہیں اس سے آپ یورپی اقوام کی بے چینی کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ یورپ لرزاں ہے اسے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ عیسائی ممالک یورپ کیوں چھوڑناچاہتے ہیں کوئی یورپ کے ناخداؤں کو جاکر بتائے کہ ایک صدی قبل قومیت ورنگ ونسل کے جس بدبودار “جن” کو تم مشرق وسطی چھوڑ کر آئے تھےاب وہ اپنے گھر (یورپ) واپس لوٹ رہا ہے۔ ولندیزی، فرانسیسی، پرتگالی، یونانی تو تم تھے۔ “قومیت” تو یورپ کا اثاثہ تھا۔ مسلمان تو ہمیشہ سے ایک امت تھے اوریہ حقیقت ہے کہ جلد یا بدیر ہر چیز اپنی اصل کی طرف لوٹتی ہے۔

۲۔ جن ممالک سے “بریگزٹ” کی آوازیں بلند نہیں ہوئیں وہ اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ کاتالونیہ سپین (سابقہ اندلس) کا ایک خود مختار اور خوشحال صوبہ ہے۔ ان کایہ مطالبہ ہےکہ ہم اسپینی نہیں ہیں ہم تو “کاتالونی” ہیں۔ ہماری اپنی زبان، اپنا جھنڈا اور اپنی قوم ہے۔ ہم اپنے بیش بہا وسائل سپین کو کیوں دیں؟ اسلئے ہم سپین سے الگ ہونا چاہتے ہیں۔ کاتالونیہ کا مقامی الیکشن سپین سے علیحدگی کے نعرے پر ہوا اورسپین سے علیحدگی کے حامی اقتدار میں آگئے۔ انہوں نے سپین سے علیحدگی پر ریفرنڈم کروایا اور کاتالونیہ کے %90 ووٹروں نے سپین سے علیحدگی اور کاتالونیہ کی آزادی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اب سپین میں ایک طوفان برپا ہےکہ کاتالونیہ کو کسی طرح علیحدہ ہونے سے روکا جائے۔

کوئی یورپ کے ناخداؤں کو جاکر بتائے کہ ایک صدی قبل قومیت ورنگ ونسل کے جس بدبودار “جن” کو تم مشرق وسطی چھوڑ کر آئے تھےاب وہ اپنے گھر (یورپ) واپس لوٹ رہا ہے۔

۳۔۔ یہی معاملہ سکاٹ لینڈ کا ہے سکاٹ لینڈ برطانیہ کا ایک بڑا حصہ ہے سکاٹ لینڈ میں برطانیہ کی کئی اہم ایٹمی و دفاعی تنصیبات ہیں لیکن سکاٹ لینڈ کو کسی حد تک خودمختاری حاصل ہے اوروہ ریفرنڈم کے ذریعے برطانیہ سے الگ ہونے کا قانونی حق بھی رکھتا ہے۔ سکاٹ لینڈ نے اب کھل کر کہہ دیا ہے کہ برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کے فیصلے پر سکاٹ لینڈ برطانیہ سے الگ ہوجائے گا۔ اگر سکاٹ لینڈ نے برطانیہ سے الگ ہونے کا فیصلہ کرلیا تو یہ فیصلہ برطانیہ کی معاشی و دفاعی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا۔

۴۔ یورپ کی اصل طاقت “نیٹو اتحاد” ہے جسے سوویت یونین کے خطرے سے نمٹنے کیلئے بنایا گیا تھا تاکہ یورپ کو درپیش سوویت عسکری خطرات سے فوری نمٹا جائے اور دنیا بھر میں جہاں بھی یورپی مفادات کو خطرہ ہو یہ اتحاد حرکت میں آئے۔ لیکن اب یہ اتحاد بھی اندرونی خلفشار کا شکار ہوچکا ہے۔ امریکہ جو اس اتحاد کو سب سے زیادہ سرمایہ فراہم کرتا ہے وہ اب ہاتھ کھینچ رہا ہے۔ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا بنیادی نعرہ یہی تھاکہ “نیٹو اتحاد” ناکام ہو چکا ہے۔ امریکہ اس کیلئے مزید سرمایہ نہیں لگاسکتا اگر یورپ اسے برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اس کیلئے یورپ سرمایہ بھی دے۔ کساد بازاری کے عروج یہ معاملات یورپی ممالک میں مزید خلفشار کا باعث بن رہے ہیں اوریورپی ممالک اپنے سنگین معاشی مسائل کی وجہ سے نیٹو اتحاد کو سرمایہ دینے کیلئے کسی طور رضامند نہیں۔

یہ وہ منظرنامہ ہے جو یورپی ناخداوں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ یورپ میں شکست و ریخت و بے بسی کی عجب داستان رقم ہورہی ہے۔ یورپ سکتے میں ہے۔ ایسا لگتا ہے یورپ بھر کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اب انہیں ترکی یاد آرہا ہے جس نے پچھلے ۹۰ سال میں یورپ کا حصہ بننے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یورپ کے ہر رنگ میں ڈھلتا چلا گیا اوراب جبکہ یورپ کے مسلسل غرور و انکار پر ترکی اس کوشش کو ترک کرچکا ہے اور واضح کر چکا ہے کہ ہم اب “متعصب یورپ” کا حصہ نہیں بننا چاہتے تو یورپ کو ترکی کی یاد ستانے لگی ہے۔ پچھلے ہفتے یورپی یونین کے اہم عہدیدار کا بیان سامنے آیا کہ “ہم نے ترکی کو اپنے سے دور کرکے اچھا نہیں کیا”۔ ابھی تو اعترافات کا سلسلہ شروع ہوا ہے ایک لمبی فہرست اعترافات کی آنا باقی ہے کہ یورپ نے پچھلی ایک صدی مسلمانوں کے ساتھ ملوکیت اور جمہوریت کی آڑ میں کیا کیا کھیل کھیلا۔ یورپ کا ایک حسن ہے کہ وہ ہر چیز کا دستاویزی ثبوت رکھتا ہے۔ یہ دستاویزی ثبوت یورپ پر فرد جرم میں یقیناً بہت معاون ہوں گے۔

اکیسویں صدی مسلمانوں کے عروج کی صدی ہے۔ مسلمان اپنا بدترین اور یورپ اپنا بہترین وقت گزارچکے ہیں۔ دونوں اپنے اپنے ماضی کی جانب واپسی کررہے ہیں اورکسے نہیں معلوم کہ واپسی کا سفر تیز اور اعترافات سے بھرپور ہوا کرتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: