ایم کیو ایم، تقسیم در تقسیم: آخر کون کرے گا راہنمائی؟ عمار یاسر زیدی

0
  • 47
    Shares

یہ 1993کی بات ہے، الطاف حسین سیاست سے کنارہ کش ہو کر تمام اختیارات ایم کیو ایم کے چیئرمین عظیم احمد طارق اور مرکزی کمیٹی کے سپرد کر چکے تھے۔ مہاجر رابطہ کونسل کے سربراہ اشتیاق اظہر نے، جو ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے، لندن میں الطاف حسین سے ملاقات کی اور انہیں سیاست میں واپسی کے لیے قائل کیا۔ لندن میں عارضی انتظام کے لیے ایک “رابطہ کمیٹی” بنا دی گئی، جس کا کنوینر الطاف حسین نے سینیٹر اشتیاق اظہر کو مقرر کیا۔ اشتیاق اظہر نے وطن واپسی پر اعلان کیا کہ الطاف حسین نے جو اختیارات عظیم طارق اور مرکزی کمیٹی کو دئیے تھے وہ واپس لے لیے ہیں اور اب رابطہ کمیٹی ہی تمام معاملات دیکھے گی۔ وہ دن اور آج کا دن، “عارضی” طور پر بنائی گئی رابطہ کمیٹی آج بھی قائم ہے۔

2013کے انتخابات کے بعد اور نائن زیرو پر کارکنوں کے ہاتھوں رہ نماؤں کی ہونے والی پٹائی کے بعد سے اس جماعت کی بنیادیں ایسی ہلیں کہ آج تک معاملات کنٹرول میں نہیں آسکے۔ 22اگست 2016 کے بعد سے میڈیا میں کبھی کبھار یہ خبریں آتیں کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی میں اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ایم کیو ایم مزید ٹکڑوں میں بٹے گی، مگر یہ سب افواہیں تھیں، مختلف معاملات پر اختلاف رائے تو ہوا مگر وہ رائے کے اختلاف تک محدود رہا۔ مگر فروری کے پہلے ہفتے میں اختلافات ایسے کھل کر سامنے آئے کہ پاکستان کی سب سے منظم جماعت تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی۔ ایم کیو ایم کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس جماعت نے ایک طلبا تنظیم کے بطن سے جنم لیا۔ طلبا تنظیم سے مہاجر قومی موومنٹ بن کر سندھ کے شہر علاقوں میں پھیل گئی اور پھر متحدہ قومی موومنٹ کی شکل میں ملک بھر میں اپنے پر پھیلانے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہو سکی اور آج یہ انتہائی منظم جماعت حقیقی، لندن، پاکستان، پی آئی بی اور بہادر آباد میں تقسیم ہو گئی، اور اس کے اہم رہ نماؤں کی ایک بڑی تعداد پی ایس پی میں شامل ہو گئی۔ یہ ماجرا ہو ا کیا کہ آن کی آن سب کچھ دھڑام سے زمین پر آگرا، اگر یہ کہا جائے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے تو شاید غلط نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ اب ہو گا کیا ؟پی آئی بی طاقتور ہو گا یا بہادر آباد۔

ایک شخص پوری جماعت کو لے کر بیٹھ گیا۔ پوچھنے والے حق بجانب ہیں کہ کامران ٹیسوری میں ایسا کیا ہے کہ پی ایس 114 کے انتخابی ٹکٹ بھی انہیں ملا، اور اب سینیٹ کا ٹکٹ بھی ان کو ہی دینے پر فاروق ستار بضد ہیں۔ ایک سال قبل ایم کیو ایم میں شامل ہونے والے ٹیسوری، ڈپٹی کنوینر بنے تو صرف اور صرف ڈاکٹر فاروق ستار کی حمایت سے۔ یہ تو ماضی کی باتیں ہیں۔ حال کی بات کرتے ہیں۔ ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے جب پی آئی بی اور بہادر آباد کے بیچ شٹل ڈپلومیسی چل رہی تھی اس وقت ڈاکٹر فاروق ستار کو یہ پیش کش بھی کی گئی کہ کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا جا سکتا ہے مگر رابطہ کمیٹی کی رکنیت بحال نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی ڈپٹی کنوینر کا عہدہ دیا جاسکتا ہے، کامران ٹیسوری کوخالد مقبول صدیقی کے دستخط سے ٹکٹ جاری بھی ہوا جس کے بعد انہوں نے سینیٹ کے لیے کاغذات نامزدگی جمع بھی کروائے، مگر ڈاکٹر فاروق ستار اپنی اس ضد پر اب بھی قائم ہیں کہ کامران ٹیسوری کو رابطہ کمیٹی میں شامل کر کے ان کا ڈپٹی کنوینر کا عہدہ بحال کیا جائے۔ ایسا نہیں ہے کہ ایم کیو ایم نے کبھی کسی ایسے شخص کو سینیٹ میں نمائندگی نہ دی ہو جس کا ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ماضی میں جمیل الدین عالی بھی ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر سینیٹر بن چکے ہیں، حال میں بیرسٹر محمد علی سیف اور میاں محمد عتیق اس کی واضح مثالیں ہیں جو پارٹی میں شمولیت کے چند ہی روز میں سینیٹ کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے،مگر اُس وقت فیصلے لندن سے ہوتے تھے اور رابطہ کمیٹی صرف مہر لگاتی تھی۔

ایم کیو ایم کی پہچان اس کا تنظیمی نیٹ ورک ہے مگر ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ اس وقت جو چہرے ہیں، وہ ایم این اے اور ایم پی ایز تو ہیں، مگر انہیں تنظیمی نیٹ ورک چلانے کا تجربہ نہیں ہے۔

یہ سب پرانی بات ہے سوال یہ ہے کہ اب ہو گا کیا؟ ایم کیو ایم کی پہچان اس کا تنظیمی نیٹ ورک ہے مگر ڈاکٹر فاروق ستار کے ساتھ اس وقت جو چہرے ہیں، وہ ایم این اے اور ایم پی ایز تو ہیں، مگر انہیں تنظیمی نیٹ ورک چلانے کا تجربہ نہیں ہے۔ آپریشن کے بعد ایم کیو ایم کا تنظیمی ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے، کارکن بکھرے ہوئے ہیں ایسے میں ڈاکٹر فاروق ستار کو ضرورت ہے کسی ایسے شخص کی جو تنظیمی نیٹ ورک بنا اور چلا سکے اور فی الوقت ایسا کوئی شخص ڈاکٹر فاروق ستار کے آس پاس نظر نہیں آتا۔

بہادر آباد والوں کے پاس عامر خان کی شکل میں ایسی شخصیت موجود ہے جس نے ایم کیو ایم کے ابتدائی دنوں میں تنظیمی نیٹ ورک قائم کیا، جب کہ خالد مقبول صدیقی اور فیصل سبزواری، اے پی ایم ایس او کے چئیرمین کی حیثیت سے ایک تنظیم چلانے کا تجربہ بھی رکھتے ہیں مگر یہاں کمزوری یہ ہے کہ پارٹی میں کوئی ایسی شخصیت نہیں جو مقتدر حلقوں تک رسائی رکھتا ہو یا ڈاکٹر فاروق ستار کا نعم البدل ہو۔ دبئی میں مقیم سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اس جگہ کو پُر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور پس پردہ اس حوالے سے گفتگو بھی جاری ہے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار یہ بازی ہار چکے ہیں، مگر جیتا کوئی نہیں ہے۔ میدان کُھلا ہوا ہے جو بھی اہالیان کراچی کے دل جیتنے کی خواہش رکھتا ہے اسے عظیم احمد طارق کے1984والے جذبے کے تحت کام کرنا ہو گا، گھر گھر جا کر عوام کو اپنا پروگرام دینا ہوگا ان کا کھویا ہو بھروسا واپس دلوانا ہوگا۔ سینیٹ کے الیکشن میں تو ایم کیو ایم شاید ایک یا بہت زیادہ دو نشستیں ہی حاصل کر سکے، مگر چند ماہ بعد آنے والے انتخابات میں انہیں عوام کا کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔

 

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: