شاعروں سے ہوشیار! محمد عثمان جامعی

0
  • 170
    Shares

شاعر نے کہا محبت ایسا دریا ہے، کہ بارش روٹھ بھی جائے تو پانی کم نہیں ہوتا۔ شاعر اسی طرح کی لمبی لمبی چھوڑتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ پانی نہ ہو تو محبت ہوتے ہوتے رہ جاتی ہے، کم ہوجاتی ہے بل کہ روٹھ جاتی ہے۔ ہمارے حکم رانوں نے شاعر کے اس دعوے کے چکر میں آکر ڈیم بنانے سے گریز کیا، کہ بھیا جب محبت کا موجیں مارتا دریا بغیر بارش کے بھی بہہ رہا ہے تو پانی ذخیرہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ تو ہمیں سبق ملتا ہے کہ شاعروں کی باتوں خاص طور پر محبت کے بارے میں ان کے دعووں پر یقین نہیں کرنا چاہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے انھیں سنجیدگی سے لے لیا جاتا ہے، جیسے اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محل ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہےکہہ کر شاعر نے بیویوں کو اکسایا اور ورغلایا ہے، اور بیویاں اس جھانسے میں آگئیں۔ یہ کسی نے نہ سوچا کہ شاہ جہاں نے یہ تحفہ اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد دنیا کو دیا تھا، کیوں کہ بیوی کی زندگی میں تو بے چارے کے پاس اتنے پیسے بھی نہ بچتے ہوں گے کہ اپنے لیے نئے کپڑے بنوالے۔ ممکن ہے کہ اُس نے تاج محل اس لیے بنوایا ہو کہ بادشاہت سے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاحوں سے ہونے والی آمدنی سے گزربسر کرے۔ ایک قیاس یہ بھی کہتا ہے کہ یہ عمارت رنڈوا ہونے کی خوشی میں بنائی گئی۔ کچھ بھی ہو، وہ بیویاں جو چَھلّا نشانی پر خوش ہوجاتی تھیں شوہروں سے محبت کی ایسی ہی نشانی کی فرمائش کرنے لگیں جیسی شاہ جہاں نے مبینہ طور پر ممتازبیگم کے لیے بنوائی تھی، وہ بھی انھیں جیتے جی چاہیے۔

شاعر نے فراق کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا پریشاں رات ساری ہے، ستاروں تم تو سو جاو سکوتِ مرگ طاری ہے، ستاروں تم تو سو جاو بس پھر کیا تھا، محبوباوں اور زوجاوں نے عشاق اور میاوں پر یہ قانون لاگو کردیا کہ وہ بھی شب فراق یوں ہی جاگیں، جلیں کڑھیں، آنسو بہائیں۔ حالاں کہ ایک روایت کے مطابق شاعر یہ غزل لکھ کر گھوڑے بیچ کر سوگیا تھا اور تارے رات بھر اس کے خراٹے سُنتے رہے تھے۔ یوں بھی یہ اُس زمانے کی بات ہے جب موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کچھ نہیں تھا، ایسے میں جُدائی کا مارا عاشق تارے نہ گنتا تو کیا کرتا۔ اب تو اینڈرائڈ فون کی اسکرین میں محو عاشق پاس بیٹھی بیوی سے بے زاری کے ساتھ کہتا ہے، ”ستارہ! تم تو سوجاو۔“

شاعر صاحب نے محبوبہ کو چڑھایا، ”تیری آنکھوں کے سِوا دنیا میں رکھا کیا ہے“ اور ہر محبوبہ اور اہلیہ میں اس ”انتہا پسندانہ ستائش“ کی تمنا جاگ اُٹھی۔ پھر کیا تھا، فردوس عاشق اعوان اور شیریں مزاری کی جیسی ”جواں مرد“ بی بیاں بھی بڑی زور سے خواہش مند ہوگئیں کہ ان کے لیے بھی،”نازکی ان لبوں کی کیا کہیے, پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے“ اور ”اُف وہ مَرمَر سے تراشا ہوا شفاف بدن، دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں“ کی ٹکر کے ستائشی جملے کہے جائیں۔ حالاں کہ جس نظم میں شاعر سچائی سے آنکھیں چُرا کر محبوبہ کے نینوں کے بارے میں مبالغہ آرائی کر رہا ہے، اسی نظم میں وہ اسی محبوبہ سے معذرت خوا ہے کہ مجھ سے پہلی سی محبت مرے محبوب نہ مانگ۔ اپنی مجبوریاں بتاتے ہوئے وہ خاک میں لتھڑے ہوئے خون میں نہلائے ہوئے جسموں کا تذکرہ ایسے کرتا ہے جیسے ایدھی کا ایمبولینس ڈرائیور ہوگیا ہو، اور بڑی بے چارگی سے کہتا ہےلوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے، اب بھی دل کش ہے ترا حُسن مگر کیا کیجے۔ محبوبہ کو دراصل لارا دیا جارہا ہے، کہ بی بی! تم بہت خوب صورت ہو، مگر کیا کروں میرے کَنے ٹیم نہیں ہے۔ بات سیدھی سی اور سمجھ میں آنے والی ہے کہ شاعر کی آنکھ کہیں اور لڑ گئی ہے اب وہ اس محبوبہ کو بہ طور اسٹپنی رکھنا چاہتا ہے، چناں چہ بس یہ بتارہا ہے کہ محبت تو دوں گا، مگر پہلی سی نہیںِ، وہ دوسری کے لیے ہے۔

شاعر نے دعویٰ کیا کر دیا ”ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنا“ کہ یہ امید باندھ لی گئی کہ ہر مرد یہ دعویٰ نبھائے گا۔ دراصل بات سمجھی نہیں گئی، شاعر نے خود کو توحید کا قائل ضرور کہا تھا لیکن ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنے کا وعدہ نہیں کیا تھا، ہدایت کی تھی۔ سو اب محبت کے معاملے میں کوئی توحید کے بہ جائے ”مزید“ کا قائل نکلے تو اس کی حالت قابل دید کردی جاتی ہے۔

اتنا ہی نہیں، شاعروں کی پیدا کردہ غلط فہمیوں نے اور بھی گُل کھلائے ہیں۔ یہی دیکھیے کہ انھوں نے محبوب کے تغافل اور اس کی بے رُخی کے باوجود عاشق کے پیچھے پڑے رہنے اور کمبل بنے رہنے کا اتنا چرچا کیا کہ حسینوں نے بدلتے زمانے کے قرینوں کو نہ سمجھتے ہوئے تغافل کو آج بھی توجہ حاصل کرنے کے لیے لازم بنائے رکھا۔ مگر بھیے اب زمانہ بدل چکا ہے، اب تو فیس بک پر ایک ساتھ چار چار چھے چھے ان باکس میں اظہارمحبت کیا جاتا ہے، ایسے میں تغافل کی پُرانی ”رسم“ مجرمانہ غفلت بن جاتی ہے۔

اسی طرح شاعروں نے سرو سے ہرن تک پیڑوں اور جانوروں کے خواص پر مشتمل جس عجیب الخلقت محبوب کی تصویر کشی اپنے اشعار میں کی ہے، وہ کسی اور کو کیا ملے گا خود شاعر کو بھی میسر نہیں آیا تھا۔ تو جن لوگوں نے اس محبوب کو آئیڈیل سمجھ کر تلاش کرنا شروع کیا وہ یا تو کنوارے ہی دنیا سے گئے یا ”آخری عمر میں اک بیوہ سے شادی کرلی“ اور بیوہ بھی اس عمر کی کہ ہنی مون کی تیاریوں ہی میں رنڈوے ہوگئے۔ یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ اردو کے قدیم شاعروں نے تاڑ جیسے لمبے، وہم سی کمر اور ہرنی جیسی رفتار والے جس محبوب کو آئیڈیل بنا کے پیش کیا ہے اور جس پر فدا ہونے اور جان دینے کے دعوے کیے ہیں اسے پر پیار نہیں آسکتا، اس سے بس خوف کھایا جاسکتا ہے۔ بات سمجھو بھیا! یہ شاعروں کی سازش ہے، جنھوں نے عام لوگوں کو اس مشکل محبوب کے پیچھے لگا دیا اور خود ان کی گلی میں جاکر عام انسانی خصوصیات والی حمیدہ، رشیدہ، سعیدہ وغیرہ سے عشق لڑاتے رہے۔

تو پتا یہ چلا ملا کہ شاعری کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے ورنہ زندگی میں پیچیدگی اور رنجیدگی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: