محبت فاتح عالم مگر کیسے [ویلینٹائین ڈے سپیشل] لالہ صحرائی

0
  • 80
    Shares

محبت فاتحِ عالم ہے، یہ آرگومنٹ ویلینٹاین ڈے کے حق میں کاسٹنگ ووٹ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے یہ جانے بغیر کہ جو محبت فاتح عالم ہے اس کا حقیقی مدار کیا ہے، نفسیات کے اسکالرز نے محبت کو چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

محبت کا پہلا جذبہ فیلیا philia love کہلاتا ہے، جو کسی دائمی یا اٹوٹ محبت کا پہلا جز ہے، یہ مخلوق کی خدا سے محبت ہے، اس کا دوسرا جز strog love کہلاتا ہے جو والدین اور بچوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔

یہ دائمی محبت بہن بھائی کے علاوہ دو مخلص دوستوں، کولیگز، بزنس پارٹنرز، کسٹمرز اور مرچنٹس کے درمیان بھی ہو سکتی ہے، مطلب یہ کہ جن رشتوں میں اپنائیت کا عنصر اس حد تک بڑھا ہوا ہو کہ طرفین ایکدوسرے کی خوشیوں اور غموں سے علیحدہ نہ رہ سکیں وہ strog love کہلاتا ہے، اس جذبے کی بنیادی شرط بے لوث محبت، ایکدوسرے کی معاونت اور وفاداری ہے۔

فیلیا اور سٹرگ میں فرق یہ ہے کہ جہاں حقیقی پالنہار اور مخلوق میں محبت ہو گی وہ فیلیا۔لوو کہلائے گا اور جہاں مجازی پالنہار اور انحصار کرنیوالوں میں محبت ہو گی وہ سٹرگ۔لوو کہلائے گا۔

دوسرا جذبہ لُوڈس ludus love کہلاتا ہے جو عارضی تعلقات کا نمائندہ ہے، جس میں وقتی طور پر کسی کیساتھ پسندیدگی یا دوستی کا رشتہ بنتا ہے لیکن اسے زندگی بھر جاری رکھنے کے کوئی عزائم نہیں ہوتے۔

اس کی مثال کلاس فیلوز، روم میٹس، کولیگز، ٹریولنگ میں ہمسفر اور سوشل کلب پارٹنرز وغیرہ ہیں، ان کیساتھ ایک مختصر فیز میں شیئرنگ، کیئرنگ، سیرسپاٹا، فلم بینی، کھانا پینا سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن یہ تعلق مستقل نہیں رہتا، اس رشتے میں کسی کیساتھ گہری دوستی ہوتی ہے نہ سطحی، نہ ایسی اجنبیت کہ کوئی محفل نہ جما سکیں، نہ ایسا قرب کہ ایکدوسرے کے بغیر رہ نہ سکیں، یہ ایک نارمل سا تعلق ہے جو بعض لوگوں کے درمیان گہری دوستی یا سٹرگ۔لوو میں بھی بدل سکتا ہے۔

تیسرا جذبہ پریگما pragma love کہلاتا ہے جو دیرپا محبت کا نمائیندہ ہے، پریگما کا مطلب ہے پروگمیٹک، پروگرامڈ یا ارتقائی تسلسل کیساتھ جاری رہنے والا عمل، یہ محبت ازداوجی زندگی سے متعلق ہے اور زوجین میں وقت کے ساتھ ساتھ پروان چڑھتی ہے جو تحمل، بردباری اور معاونت کی مرہون منت ہے۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ہم سارا زور محبت ہونے “to fall in love” کیلئے صرف کرتے ہیں لیکن جب کسی سے محبت ہو جائے تو آگے کچھ بھی پتا نہیں ہوتا کہ اب اس محبت کے ساتھ “stand in love” کیسے رہا جائے، محبت قائم رکھنے کیلئے صرف وصول کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اسی قدر محبت لوٹانا بھی فرض ہے، محبت لینے اور دینے میں جتنی اچھی نسبت قائم ہوگی اتنا ہی تعلق بھرپور اور مضبوط ہوگا، پریگما لوو شادی شدگان کے درمیان طویل اور طمانیت بخش ازدواجی محبت کا امین ہے۔

چوتھا جذبہ آگیئپ Agape ہے جو ہر خاص و عام کیلئے محبت کا نمائندہ ہے، اسے لاطینی میں caritas کہتے ہیں جس میں سے لفظ چیریٹی اخذ کیا گیا ہے، یہ ایک آفاقی مہربانی یا جذبہ ترحم کی نشانی ہے جسے عرف عام میں انسانیت کہا جاتا ہے، ارسطو کے مطابق دوسروں کیلئے خیرخواہی کا جذبہ دراصل انسان کا اپنے ساتھ ہی بھلائی کا جذبہ ہے اسلئے اس جذبے کا ہونا معاشرتی بھلائی کا امین ہے۔

پانچواں جذبہ ایروز eros love کہلاتا ہے جو جنسی رغبت کا نمائندہ ہے، یونانی میتھالوجی میں ایروز آفرینش کا دیوتا ہے جو صنف مخالف کیساتھ محبت کیلئے تحریک پیدا کرتا ہے، رومن میتھالوجی میں اسے کیوپڈ کہتے ہیں جو کیوپیڈیٹی یا شہوانی جذبہ پیدا کرتا ہے۔

مابعد از یونانی و رومن مفکرین کے نزدیک ایروز لوو حقیقی محبت کی بجائے صرف جنسی محبت تک محدود ہے، یہ جذبہ کسی کو اپنانے اور تادم حیات اس کیساتھ زندگی گزارنے سے کافی حد تک عاری ہے، یہ ایک وقتی ابال یا شہوانی جذبہ ہے جو صرف جنسی فائل یا مفعول کی محبت کا شکار ہوتا ہے، باقی دنیا سے اسے کچھ واسطہ نہیں البتہ ابتدائی طور پر یہ madly in love ہونے کی حد تک بھی جا سکتا ہے مگر جلد ہی اپنا اثر کھو دیتا ہے کیونکہ حقیقی love bond اس سے پیدا نہیں ہو پاتا۔

چھٹا جذبہ فلؤشیا Philautia ہے جو خود پرستی کا نمائندہ ہے، خود پسندی، نفس پرستی، ذاتی نمود و نمائش اور نارسزازم واضع طور پر ایک منفی جذبہ ہے لیکن غرور و تکبر کی سطح سے نیچے نیچے ایک مناسب حد تک ہر انسان کو اپنی حیثیت، شخصیت اور خوبیوں سے آگہی اور پیار ہونا چاہئے جبھی وہ دنیا میں اپنا آپ منوا سکتا ہے، اسلئے ایک مناسب حد تک اس جذبے کا ہونا بھی ضروری ہے۔

فلسفے کے مطابق محبت کی مندرجہ بالا اقسام ایک مناسب شرح تناسب کیساتھ ہر انسان میں موجود ہونی چاہئیں تاکہ وہ ایک متوازن شخصیت بن سکے، ان جذبات میں غیر فطری تغیر محبت کے معاملے میں انسان کے اندر متلون مزاجی، خودپسندی، شہوت پرستی، شدت پسندی یا بے مروتی بھی پیدا کر سکتا ہے۔

ابتدائی عمر میں انسان پر صرف فیلیا۔لوو اور لوڈس۔لوو کا غلبہ ہوتا ہے، اسی جذبے کیساتھ وہ بہن بھائی اور دوستوں کے دائرے میں تعلیم، کھیل اور تفریحات میں مگن رہتا ہے پھر اس کے شعور کی آنکھ کھلتی ہے، ایسے میں جسمانی تبدیلیاں اسے زندگی کے نئے زاویوں سے متعارف کراتی ہیں، سن بلوغت جب اسے محبت کے جسمانی اور شہوانی معنوں سے آشنا کرتی ہے تو پھر اسے راستہ یا رہنمائی میں سے ایک چیز لازمی درکار ہوتی ہے۔

شہوت پسندی کو محبت سے خارج نہیں کیا جا سکتا البتہ ضابطے کا پابند ضرور کیا جا سکتا ہے، ابتدائی بالغ زندگی میں خواہ وہ گمراہ ہو یا ازدواجی زندگی کا پابند ہو انسان پر ایروز۔لوو کا غلبہ رہتا ہے، جائز دائرے میں اس کی مثال ہنی مون یا ازدواجی زندگی کا ابتدائی دور ہے، پریگما کا دور اس کے بعد ہی شروع ہوتا ہے تاہم یہ ایک مسلم اصول ہے کہ ایک متوازن شخصیت ہی ایک اچھا ہمسفر یا soul mate ثابت ہو سکتا ہے جو ایروز۔لوو اور پریگما۔لوو میں متوازن رہے۔

یونانی فلسفے میں محبت کو حیوانی اور روحانی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، حیوانی محبت سے مراد جنسی ضرورت ہےاور روحانی محبت خدائی حقیقتوں سے آشنائی کا نام ہے۔

افلاطون کے مطابق محبت ایک پیہم سلسلہ ہے جس میں انسان کی بنیادی ضرورت یا حیوانی محبت ایک بہتر اور باشعور رویے میں ڈھلنے لگتی ہے جب اس کی گود میں قدرت کی طرف سے بچوں کی شکل میں نئی ذمہ داریاں اترنا شروع ہوتی ہیں تو یہ مرحلہ ایک طرف انسان کو خدا کے قریب کرتا ہے تو دوسری طرف زوجین کو بھی ایک اٹوٹ رشتے میں پروتا چلا جاتا ہے، اسی بات کو سچی محبت کے طور پہ ارسطو نے “two bodies and one soul” کہہ کر بیان کیا ہے، ہمارے ہاں اسی بات کو “یکجان دو قالب” کہا جاتا ہے جو ازدواجی رشتے کی معراج ہے۔

محبت کی یہ سب کیفیات جو علم نفسیات، افلاطون اور ارسطو نے بیان کیں یہ سب ان ضابطوں کی محتاج ہیں جنہیں ہم اعلیٰ انسانی اقدار کہتے ہیں، ان میں مذہب، روحانیت، انسانی فطرت، سماجی اور اخلاقی اطوار سب شامل ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ ان اقدار سے آگاہی دینے کی بجائے سب کچھ نظر انداز کرکے انسانی حقوق کے تحت معاشرے میں صرف جنس مخالف سے محبت کی ترویج کی جاتی ہے اور نابالغ ذہنوں کو جنسی محبت کی دھوکہ منڈی میں بے یارومددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔

آرتھر شوپنہار کے مطابق جنس زدہ محبت ایک ایسا دھوکہ ہے کہ اس جیسا دھوکہ اور کوئی نہیں، اس کا محرک عموماً مرد ہے جسے یوں لگتا ہے کہ اپنا پیار پانے کیلئے اسے سب کچھ قربان کر دینا چاہئے کیونکہ یہ پیار ہی اس کی تمام جذباتی ضروریات پوری کر سکتا ہے لیکن یہ بات ایک ذہنی اور فکری مغالطے کے سوا کچھ نہیں، انسان اسے مقصد حیات سمجھ کے پیچھے لگتا ہے جبکہ اصل میں یہ ایک حیوانی اور جبلی رویہ ہے جس کی رو میں وہ غیرضروری طور پہ بہہ رہا ہوتا ہے، شوپنہار سے اس کی مزید تفصیل جاننے کی بجائے اگر کوئی دوسرا مفکر اس بات کی اجمالاً تصدیق کردے تو یہ بات قدرے زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔

امریکی سائیکالوجسٹ مورگن۔سکاٹ۔پیک کا کہنا ہے کہ کسی کے دام الفت میں گرفتار ہو جانا دراصل محبت نہیں بلکہ ایک وقتی جنسی جذبہ ہے، ایروز۔لوو ایک سنگین دھوکہ ہے کیونکہ یہ ایک بیالوجیکل عنصر ہے جو ہمارے جبلی رویئے کے تحت انسان کو صنف مخالف کی طرف جنسی رغبت دلاتا ہے، یہ جذبہ بذات خود غلط نہیں کیونکہ اسی کی بدولت ہی افزائش نسل کا سلسلہ چلتا ہے اور یہی عنصر انسان کو ازدواجی دائرے میں بھی داخل کرتا ہے لیکن اسے حقیقی محبت سمجھنا خودفریبی ہے کیونکہ لوو۔ایٹ۔فرسٹ۔سائیٹ کی اسٹیج پر یہ اپنی خام اور ناپختہ حالت میں صرف جنسی تحریک کی پشت پناہی سے وارد ہوتا ہے جبکہ پختہ محبت پریگما۔لوو کی شکل میں ہی سامنے آتی ہے جب انسان اپنی خانگی زندگی میں رچ بس جاتا ہے۔

سکاٹ پیک لکھتا ہے کہ بحیثیت سائیکالوجسٹ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب میں لوگوں کو اپنی توانائیاں، مال اور وقت ایک ایسی محبت کیلئے ضائع کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جسے وہ ایک نامحکم اصول سے مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

دی۔روڈ، لیس۔ٹریولڈ the road, less travelled میں سکاٹ۔پیک مزید کہتا ہے کہ یہ ایک سطحی سا احساس ہے، اسے محبت کی بجائے فیلنگ۔ان۔لوو کہنا چاہئے جبکہ اصل محبت فالنگ۔ان۔لوو ہے، مجھے تم سے محبت ہے اور میں تمہاری محبت کا اسیر ہو چکا ہوں ان دونوں جملوں کے معنی اور احساس میں بہت فرق ہے، فیلنگ۔ان۔لوو کسی بھی پرکشش چیز سے ہو سکتی ہے لیکن فالنگ۔ان۔لوو کی کیفیت صرف ایک ڈسپلن کے تحت ہی واقع ہوتی ہے، اس ڈسپلن کی طویل تشریح کرنے کی بجائے آپ اسے وہی سمجھ لیجئے جو ہم نے پریگما کی تعریف میں دیکھا ہے۔

شوپنہار بھی یہی کہنا چاہتا ہے کہ جسے آپ محبت سمجھتے ہیں یہ صرف ایک فیلنگ۔ان۔لوو، ایک خوشگوار لمحہ یا ایک ملاقاتی سنگم ہے جو کل کو اپنی تمامتر خوشگواری اور احساس محبت گنوا بھی سکتا ہے، اس لئے اسے محبت سمجھنا کسی دھوکے کے سوا کچھ نہیں جبکہ اصل محبت زندگی پر محیط ایک long lasting bond ہے جو صرف پریگما کے اصول give and take یا love and get beloved کی مسلسل ریاضت سے فال۔ان۔لوو کی سطح پر پہنچتا ہے اور یہی اصل محبت ہے۔

سکاٹ پیک مزید لکھتا ہے کہ بحیثیت سائیکالوجسٹ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے جب میں لوگوں کو اپنی توانائیاں، مال اور وقت ایک ایسی محبت کیلئے ضائع کرتے ہوئے دیکھتا ہوں جسے وہ ایک نامحکم اصول سے مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

جو لوگ اپنے اندر صنف مخالف کی کشش دیکھ کر یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ محبت ہی سب کچھ ہے، محبت ہی عبادت ہے، محبت انسانیت ہے، محبت احترام آدمیت سکھاتی ہے، محبت انسان کا اوڑھنا بچھونا ہے، ایسے لوگ محبت کے دیگر معصوم رنگوں اور اپنے مخصوص جذبے کے درمیان فرق کرنے سے قاصر ہوتے ہیں، ان کی مثال وہی ہے جیسے کوئی کیمیا کی بجائے سانڈے کے تیل کو ہر مرض کیلئے اکسیر و تریاق سمجھنے لگے جو یقیناً ایک بے معنی راگ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جو محبت فاتح عالم کے درجے پر فائز ہے وہ صنف مخالف کی کشش خوردہ محبت یا ایروز۔لوو سے الگ تھلگ ہے، بلکہ محبت چھ رنگوں پر مشتمل ایک پیکج ہے، اس مکمل پیکج کے موزوں اور برمحل استعمال سے ہی آپ دنیا میں ہر جہت پر فاتح ہو سکتے ہیں کسی ایک سے نہیں اسلئے کہ زندگی بہت سارے ایوینٹس کا مجموعہ ہے جس میں اپنے سرپرستوں کیساتھ، بہن بھائیوں، دوستوں، سماج، بیوی بچوں اور اپنے ساتھ محبت کے تمام رخ employ کرنے پڑتے ہیں جبکہ ایروز۔لوو صرف صنف مخالف کیساتھ تخلیہ کی حد تک نبھایا جا سکتا ہے۔

زوجین کو جنسی رومانس کیلئے زمانے کی اجازت چاہئے نہ کوئی انہیں روک سکتا ہے، یہ شوروغل صرف جنس پرستوں کی لوو۔فائینڈنگ۔کؤیسٹ پر ہی مبنی ہے جسے محبت کے نام پہ اوڑھنا بچھونا بنانا چاہتے ہیں، یہ quest اپنے جلو میں “محبت درد ہے، محبت زہر ہے، محبت آگ کا دریا ہے، محبت زخم ہے” جیسے بچھو بھی لئے پھرتی ہے جسے آرتھر شوپنہار نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر نہایت بیدردی سے ٹھکرا دیا ہے۔

شوپنہار نے اس بات سے بھی متنبہ کیا ہے کہ تنہائی جان لیوا ہوتی ہے اور اس بات سے بھی خبردار کیا ہے کہ بچگانہ سوچ کا رومانس بھی ایک سطح پہ جا کے مزید تنہا کر جاتا ہے جو پھر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے، یہی کچھ سینٹ ویلینٹائین کیساتھ پیش آیا تھا اور یہی کچھ دیگر سینٹس کے ساتھ بھی ہوا جو ویلینٹائین کی اس روایت کو زندہ رکھنا چاہتے تھے، یہی کچھ مشرقی عشقیہ داستانوں کا انجام ٹھہرا تھا۔

ویلینٹائین کی سوئی صرف ایروز۔لوو کے ارد گرد ہی گھومتی ہے، اس کھیل میں نقصان صرف سماج اور ناپختہ مزاج نئی نسل کا ہے اور فائدہ صرف کنزیومر انڈسٹری کا ہے جو نوجوانوں کی بیالوجیکل فیلنگ۔ان۔لو کو محبت کا انمول جذبہ جتانے پر انویسٹمنٹ کرتی ہے۔

ویلینٹائن ڈے درحقیقت محبت کا دن نہیں بلکہ یہ جنسی محبت کا دن ہے، یہ پھولوں کے گلدستے کیوپڈ کے تیر ہیں جو صنف مخالف کو تھمانے کی بجائے کیوپڈ میاں کو شکریئے کے ساتھ واپس کر دیں تو زیادہ بہتر ہے۔

انسانی حقوق کے نام پر ویلینٹائن کو سپورٹ کرنیوالے اس نکتے کو نہ جانے کیوں نظر انداز کرتے ہیں کہ ناپختہ، غیر سنجیدہ اور جنسی جذبے سے معمور نوجوانوں کو عورت تک رسائی حاصل کرنے کا حق دینا عورت کے اپنے تقدس اور عزت نفس کے نہ صرف خلاف ہے بلکہ اس کی انسلٹ کرنے کے مترادف ہے۔

ویلینٹائن ڈے کو ڈنڈے کے زور پر ختم تو نہیں کیا جا سکتا مگر اس کا رخ موڑا جا سکتا ہے، اس دن کا فائدہ اٹھا کے نوجوانوں کو یہ ترغیب دینی چاہئے کہ اپنا جنسی شعور بیدار ہوتے ہی اولین فرصت میں اپنے روزگار کا بندوبست کریں پھر بیشک اپنی پسند کی شادی کریں، پسند کی شادی سب کا حق ہے، اس quest میں شامل شادی شدگان کو بھی مت دی جا سکتی ہے کہ عارضی تعلقات تلاش کرنے کی بجائے بیواؤں اور طلاق یافتہ لڑکیوں سے شادیاں کریں، معاشرے کو بھی یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تعدد ازدواج کوئی برائی نہیں بلکہ بے راہ روی کے آگے مؤثر ڈھال ہے نیز یہ کہ نکاح کو بھی رسم و رواج کے بوجھ سے آزاد کرکے جس قدر ممکن ہو سکے آسان بنانا چاہئے۔

آخر میں ولیم بٹلر ییئٹس کی نظم، نیور گیو آل دی ہارٹ، اپنے الٹے سیدھے اردو ترجمے کیساتھ پیش ہے۔

Never give all the heart, for love
محبت میں ایکدم سے دل نہیں دے دینا
Will hardly seem worth thinking of
اس دل کی قیمت مشکل ہی کوئی سمجھ پاتا ہے
To passionate women if it seem
کوئی جذباتی محبوب بھی اگر تمہیں نظر آئے
Certain, and they never dream
یقیناً یہ ممکن ہے، لیکن یہ ممکن نہیں کہ خواب بھی ملتے ہوں
That it fades out from kiss to kiss
پھر ہر بوسے کیساتھ ان تمناؤں کا رنگ اڑتا چلا جاتا ہے
For everything that’s lovely is
ہر تمنا جو اس محبت میں دلپذیر لگتی ہے
But a brief, dreamy, kind delight
خواہ ننھی سی ہو، خوابیدہ ہو یا پرکیف
O never give the heart outright
پھر بھی سراسر ان کیلئے دل نہ لٹا دینا
For they, for all smooth lips can say
وہ سب کچھ جو شیریں لب کہہ سکتے ہیں
Have given their hearts up to the play
ان کے ہاتھوں کھیلنے کیلئے ہر کوئی دل دے بیٹھا ہے
And who could play it well enough
ہر اس معشوق کو جو اس کیساتھ کھیل سکتا ہے
If deaf and dumb and blind with love?
یہ گونگے، بہرے اور محبت کے اندھے
He that made this knows all the cost
اس دل کی قیمت جانتے بوجھتے ہوئے بھی
For he gave all his heart and lost
خوامخواہ دل دے کر اسے گنوا بیٹھتے ہیں
(Willam Buttler Yeats)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: