ازبکستان میں سوشلزم اور سرمایہ داری کا ٹکراو : اسلام کا ممکنہ کردار

1
  • 14
    Shares

4 جنوری 2018 کو فریڈم یونائیٹد کا برقی خط موصول ہوا۔ جس میں وادیء فرغانہ کی خاتون مالوخہ ایشانکولوفا کی رہائی کی درخواست ہے۔ میں صدرِ مملکت نہیں کہ اس پر دستخط کروں گا تو مالوخہ کو رہائی مل جائے گی۔ لیکن مجھے اس درخواست پر دستخط کرنا ہیں تاکہ صدر شوکت مرزائیوف کو عوامی حمایت کے ساتھ یہ درخواست بھیجی جائے اور وہ خاتون کو رہا کردیں۔ خاتون نے ازبکستان میں زبردستی مزدوری کے خلاف مہم کے دوران میں کپاس چننے والے افراد تاثرات لیے جس میں ثابت ہوا کہ طلبہ و اساتذہ سے گورنر کے احکامات پر زبردستی کپاس چنوائی جارہی تھی [1]۔ اس دوران میں عالمی بنک اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے فریقِ ثالث (تھرڈپارٹی) جائزہ جاری کردیا ہے جس کے مطابق ازبکستان حکومت درست کام کررہی ہے۔ دراصل سنٹرل ایشیاء میں کمیونزم اور جمہوریت آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ اسلامی روایات اور اداروں کا دور دور تک اتا پتا معلوم نہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ معاشرہ بدنظمی کا شکار ہوجائے گا۔

یہ وضاحت ضروری ہے کہ میں ایک عام انسان ہوں جسے آزادی اپنے لیے اور سب کے لیے پسند ہے۔ اس کے برعکس میں غلامی کو ناپسند کرتا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ ایک مصیبت ہے۔ لیکن دو ادارے دو اہم اقدار پر آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ایک کا مقصد ترقی اور دوسرے کا آزادی ہے۔ میں دستخط کروں یا خاموش رہوں? آپ اپنی رائے سے آگاہ ضرور کیجیے۔ کیونکہ اگر بطور انسان میں نے دستخط نہیں کیے تو یہ خاتون انسانی حقوق جیسے اہم فرض کی ادائیگی میں مزید سزا پاسکتی ہے۔ لیکن میں نے دستخط کردیے تو دو عالمی ادارے (عالمی بنک اور آئی ایل او) ترقی کے سفر میں نقصان برداشت کریں گے۔

لیکن مکمل صورتحال سمجھنےکی ضرورت ہے کہ ادارے کیوں جھگڑ رہے ہیں۔ واشنگٹن سے عالمی بنک کی رپورٹ وضاحت کرتی ہے کہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق ازبکستان کی حکومت کپاس کی صنعت میں جبری مزدوری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے۔ بچوں کی جبری مزدوری اب سماجی طور پر ازبکستان میں ناقابل قبول ہے جسے حکام، اساتذہ، ماہرین، کسان، والدین سب تسلیم کرتے ہیں۔ ازبکستان نے جبری مزدوری کے مسائل میں کمی کے لیے منصوبہ بندی پر عملدرآمد جاری رکھا ہے۔ کپاس کی کاشت کے دوران اس مہم میں 800 سے زیادہ بینر، 44 ہزار پوسٹر، ایک لاکھ کتابچوں کے علاوہ ٹی وی اور ریڈیو سے تحریری پیغامات جاری کیے گئے۔

مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ یہ ایک مہم ہے۔ ایسی کئی مہمات چلائی جارہی ہیں۔

دراصل ہم ماضی کو اس قدر تیزی کے ساتھ بھلارہے ہیں کہ حال کا ماضی سے کوئی تعلق ہی باقی نہیں رہا۔ ایسا تو بڑے بڑے اصلاحیوں نے بھی نہیں کیا۔

موجودہ حالات میں شاید مزدوروں کی عالمی تنظیم اس پر مجبور ہے کہ “کم از کم اجرت” کے تحفظ کے علاوہ مزدوروں کی یونین یا اس سے منسلک معاملات کی حمایت کرے۔ کمیونزم کے درست اقدامات کو جاری رکھوائے اور غلط اقدامات کو روکے۔ اگر عالمی ادارہ محنت نے بھی ایسا نہ کیا تو ماضی کی تمام مثبت روایات نظرانداز کردی جائیں گی۔ اس سے قبل تمام وسطی ایشیاء سے اسلام کوغائب کرکے کمیونزم کو فروغ دیا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ غیر عاقلانہ اقدام کے نتیجے میں سرمایہ داری کو بھی دیس نکالا دے دیا جائے۔ سنٹرل ایشیاء میں کچھ بھی یقینی نہیں۔ یہ بھی نہیں کہ کمیونزم کے خاتمے کے بعد اسلام ہی برسرِ اقتدار آئے گا۔

ایک امکان یہ بھی ہے کہ سرمایہ داری اپنے بہترین رخ “انفرادیت و آزادی” کے ساتھ ساتھ “غیر ذمہ داری” کی انتہا کو بھی فروغ دے ڈالے۔ انفرادیت و غیر ذمہ داری کی وجہ سے معاشرے تہس نہس ہوجاتے ہیں۔ حقوق کے علمبردار یہ تسلیم کرتے ہیں کہ غیرذمہ داری کا شخصی آزادی کیساتھ جڑواں بہن کا سا رشتہ ہے۔ لیکن اسے وہ ناگزیر برائی سمجھتے ہوئے برداشت کرنے کی تلقین کرتے ہیں [2]۔ جبکہ گروہی اور ریاستی اداروں کی موجودگی کا دفاع والے (کمیونی ٹیرین) اسی بنا پر ریاست کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تاکہ ذمہ دارانہ اقدامات کا تسلسل برقرار رکھا جاسکے۔ ایسے میں جب اخلاقیات سے مبرا کرنے کے لیے ایک دوسرے سے “خودمختارانہ فاصلہ” قائم رکھنے پر زور دیاجاتا ہے تو ساتھ میں سیاست کے لیےسب کچھ جائز ہونے کی صدا بھی بلند کی جاتی ہے۔ (یہ عجب چیلنج ہے کہ انفرادیت اور سیاست کی دو انتہاؤں کو بیک وقت برقرار رکھا جائے)۔

میکس ویبر جیسا فلسفی “ذمہ داری اور آزادی” (وہ بھی قائدین کے لیے)،دونوں، کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ جب جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل نے شامی مہاجرین کےلیے آزادانہ رائے کے ساتھ فیصلے کیے ہیں تو اسے مغربی فکر میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے ماوراء قرار دیا گیا۔ (درحقیقت اسے آمرانہ اقدامات کا الزام دیا گیا ہے)۔ حالانکہ عالمی پیمانوں سے یہ انتہائی ذمہ دارانہ فیصلے ہیں۔ مرکل کو میکس ویبر کے خیالات کا پیرو مانا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود کہ اس نے عالمی تناظر میں ویبر کے اقدامات کو جاری کیا، اسکے باوجود اسے غیرمہ دار کہا جاتا ہے [3]۔ اب سوال یہ ہے کہ کون آزادی چاہتا ہے، کس کے لیے اور کتنی؟ اس کے عین بالمقابل کون ذمہ دار بنتا ہے، کس کے لیے کس قدر اور کب؟ کون عالمی پیمانوں میں ذمہ دار تو مقامی پیمانوں میں آزادخیال و آمر یا غیر ذمہ دار؟ شاید آپ کیلئے یہ سوالات غیر ضروری ہوں لیکن فیصلہ سازوں کیلئے یہ اہم ہوتے ہیں۔ جب مسلمان باہر کی دنیا قرار دیئے جائیں، حتیٰ کہ شامی مہاجرین بھی۔۔۔ جنھیں مغرب کی عاید کردہ جنگ میں وسائل فراہم کرکے دھکیلا گیا ہے۔۔۔ تب ذمہ داری و غیر ذمہ داری اور اجتماعیت و آزادی کی بحث بڑی حقیقی ہوجاتی ہے۔ یہ اس لئے کہ اس سے لاکھوں نہیں کروڑوں انسان براہِ راست اور بیک وقت متاثر ہورہے ہوتے ہیں۔

میری موجودہ تحریر کا ایک پس منظر یہ ہے کہ اس صورتحال سے اسلامی معاشروں اور اداروں کیلئے برآمد ہونے والے عواقب و نتائج کو پرکھاجائے۔ خدشہ یہ ہے کہ کسی بھی غلط بنیاد کو اپنا کر اسلامی معاشرے کے اہم گروہوں اور اداروں کو غیر مؤثر بنادیا جائیگا۔ اس سے قبل کمیونسٹ ممالک میں اسلامی اداروں کا مکمل خاتمہ کردیا گیا تھا۔ آج کی حکومتیں امریکہ اورعالمی اداروں کے ایماء پر اسلامی اداروں کو غیر مؤثر بنائے رکھنے میں کامیاب ہیں۔ اس سے اسلامی روایات اور یوں اسلامی معاشروں کی جڑ ہی کٹ گئی ہے۔ معاشرے تو قائم ہی روایات پر ہوتے ہیں۔ اب جنھیں اسلامی بنیادوں پر کام کرنا ہے، وہ یا تو ہتھیار اٹھائیں اور تمام حکومتی و عالمی ڈھانچے سے جنگ کریں یا ختم ہوجائیں۔ یہ دونوں غیر ضروری نتائج ہیں۔ تہذیب کے انداز جنگ کے سوا بھی ہوتے ہیں بلکہ ایسے ہی ہونے چاہییں۔ لیکن اسلامی گروہوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرنے والے ڈائیلاگ کو واحد حل تصور نہیں کرتے۔

پسِ منظر سے اگر ہم واپس موجودہ قصے کی جانب آئیں تو موجودہ صوتحال میں عالمی ادارہ محنت کو فریقِ ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے جائزہ لینا پڑاہے۔ اس کے مطابق کپاس جمع کرنے کیلئے 2015 میں تقریبا 28 لاکھ افراد شامل تھے۔ ان میں تین اقسام کے رضاکار کارکن تھے۔ 1) آزادنہ رائے کےساتھ کپاس چننے والے، 2) سماجی دباؤ اور دوستوں کے اصرار پر رضاکارانہ کام کرنے والے اور 3) ایک کم تعداد جو باس یا یونیورسٹی ریکٹر کے حکم پر مجبور ہوکر کام کررہی تھی۔ آئی ایل او کے مطابق، مذبذب رضاکاران ایک تہائی ہوسکتے ہیں۔ دراصل یہ سب مسلسل جھوٹ کا حصہ ہے۔ کمیونسٹ معاشرے سباٹنک اور واسکریسنک (ہفتہ و اتوار) مناتے آرہے ہیں۔ یہ روایت بعد ازاں حکومتی سطح پر اپنا لی گئی۔ پہلا سباٹنک 1929 میں بالشیوک نے قازان تا ماسکو ٹرین بناتے ہوئے منایا تھا۔ ازبکستان چونکہ اسلامی تہذیب کی کچھ خصوصیات بھی رکھتا ہے۔ اس لئے اسے حشر کی مقامی روایت کے تحت انجام دیا گیا۔ یہ بھی گوش گزار کرنا ضروری ہے کہ آئی ایل او 1919 میں اقوامِ متحدہ سے بھی قبل قائم کیاگیا تھا۔ اسکی روایات کہیں زیادہ گہری ہیں۔

حشر جیسی مقامی روایت کے تحت کئے گئے رضاکارانہ اجتماعی کام معاشرے کیلئے اہم ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہ روایت کچھ علاقوں میں اپنائی جارہی ہے۔ ہزارہ کے علاقوں میں اس پر خاص طور پر کام کیا جاتا ہے۔ رضاکارانہ کام ویے بھی اہم ہوتے ہیں۔ معاشرے انھیں جاری رکھنے کے لیےبڑے پاپڑ بیلتے ہیں۔ مسلم معاشرے میں بھی یہ کام جاری رکھنے کے لیے خاصی تگ و دو کی جاتی ہے۔ رضاکاری میں صرف سرمایہ داروں نے ہی قابلِ ذکر کام سرانجام نہیں دیے دوسرے معاشرے بھی اس پر کام کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کمیونسٹ معاشرے نے تو اسے اجتماعی مزاج بنانے کے لیے قانون کی بنیاد ہی بنا ڈالا تھا۔ حشر جیسی روایات معاشرے کے مختلف طبقات کو جوڑتی اور سماجی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کمیونسٹ معاشرے پر رضاکارانہ محنت کو الزام کے طور پر مسلط کرنا سرمایہ دارانہ معاشرے کا سب سے نامناسب حربہ ہے۔ اگر سرمایہ دارانہ معاشرہ اس انداز میں انسانوں کو اپنے اجتماعی کام سرانجام دینے پر تیار نہیں کرسکا، تو اسے کمیونسٹ معاشرے پر ایسا الزام لگانا نہیں چاہیے۔ 28 لاکھ افراد صرف ایک فصل کے لیے ایک ملک میں نیم کمیونسٹ نیم جمہوری اور نیم اسلامی حکومت کے تحت ہرسال زراعت جیسے بنیادی انسانی کام پر بلامعاوضہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں۔ کیا کسی دوسرے ملک میں ایسا کیا جاسکا؟ جنہوں نے اس عظیم محنت کے لیےبندوبست کیا اور ماحول ترتیب دیا، کیا وہ انعام کے حقدار نہیں؟ کیا موجودہ ڈرامے کے بعد، جسے انسانی حقوق کے اداروں نے رچایا، رضاکارانہ خدمت کو جاری رکھاجاسکے گا؟ بہت مشکل۔ اقوامِ متحدہ کے رضاکار ادارے (یو این والنٹیئر) کو اس پر اقدام کرنا چاہیے۔ کیا مشرقی یورپ میں ایسا کیاجاسکا؟ ہرگز نہیں۔ ایک رسالے کی تحقیق کے مطابق “مشرقی یورپ میں سے رومانیہ اور بلغاریہ جیسے ممالک میں رضاکارانہ خدمت کو کمیونزم کے اختتام کے بعد سے بڑھایا نہیں جاسکا”۔[4]

چین اور ویتنام میں رضاکارانہ کام کی شرح 60٪ سے زائد ہے۔ یہ امریکہ کے برابر جابنتے ہیں۔ اس کی وجہ میوصک اور ولسن (2008) کی تحقیق کے مطابق سوشلسٹ حکومتوں کا لیاگیا زبردستی کا کام تھا۔ محقق کے مطابق انسان ایک دفعہ رضاکارانہ کام کے عادی ہوجائیں تو تادیر اس کام کو جاری رکھتے ہیں۔ لیکن مشرقی یورپ جہاں سے سوشلزم کا بسترمکمل طور پر لپیٹ دیا گیا، وہاں اس ضروری انسانی روایت کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔ جمہوریت ہر مسئلے کا حل نہیں۔ یہی میوصک اور ولسن بھی کہتے ہیں کہ شہری آزادی اور رضاکاری میں کوئی براہِ راست تعلق نہیں [7]۔ گیسکن و سمتھ (1997) کا کہنا ہے کہ فلاحی ریاست اور رضاکارانہ کاموں میں بھی کوئی براہِ راست نسبت نہیں۔ مراد یہ کہ فلاحی ریاست جہاں حکومت ہی تمام معاملات سنبھالتی ہے، وہاں چونکہ عوامی خدمات کی عوام کی جانب سے ضرورت ہی نہیں ہوتی، اس لیے وہاں رضاکارانہ کام ہونے ہی نہیں چاہییں۔ لیکن عملا ایسا نہیں۔ سویڈن اور ڈنمارک وغیرہ میں لوگ پھر بھی رضاکارانہ کام کرتے ہیں۔ ایسے ہی لنڈ سٹرام اور سویڈبرگ بھی کہتے ہیں کہ سویڈن میں عوامی خدمت ان کے تمدنی اداروں کی وجہ سے جاری ہے۔ مراد یہ کہ ایسی عادات معاشروں کی سماجی بنیادوں میں شامل ہیں۔ سماجی سائنسدانوں نے معاشرتی عادات کے تحت رضاکارانہ سرگرمیوں میں لوگوں کی شمولیت کے دو اہم اسباب بتائے ہیں۔ 1) آمدنی کے لحاظ سے امیر اور زیادہ سماجی و انسانی وسائل رکھنے والے سماجی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ایسے لوگ رضاکار تنظیموں کے لیے زیادہ پرکشش ہوتے ہیں۔ 2) وہ لوگ جن کی عادات و اقدار میں خدمت شامل ہے۔ سماجی خدمت ایسے لوگوں کا ثقافتی یا تہذیبی ورثہ ہوتی ہے۔

چین اور ویتنام میں رضاکارانہ کام کی شرح 60٪ سے زائد ہے۔ یہ امریکہ کے برابر جابنتے ہیں۔ اس کی وجہ میوصک اور ولسن (2008) کی تحقیق کے مطابق سوشلسٹ حکومتوں کا لیاگیا زبردستی کا کام تھا۔ محقق کے مطابق انسان ایک دفعہ رضاکارانہ کام کے عادی ہوجائیں تو تادیر اس کام کو جاری رکھتے ہیں۔  لیکن مشرقی یورپ جہاں سے سوشلزم کا بسترمکمل طور پر لپیٹ دیا گیا، وہاں اس ضروری انسانی روایت کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی خدمت بنیادی روایتوں میں سے ہے۔ ایسی روایت کو جاری رکھنا بڑا اہم فریضہ ہے۔ جن علاقوں اور قبائل میں یہ روایتیں کسی نہ کسی طرح سے موجود ہیں، وہ ستائش کے مستحق ہیں۔ لیکن ایسی روایتوں پر حملہ نامناسب ہے۔ ایسا حملہ کرنے والوں کا سماجی احتساب ضروری ہے۔ سماجی احتساب نہ بھی ہو تو بھی کچھ نہ کچھ حدود ضرور متعین کرنا ہونگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اساتذہ، طلبہ، ڈاکٹر اور یونیوسٹی کے ملازمین رضاکارانہ اجتماعی کام پر طلب نہیں کئے جاسکتے؟ کمیونزم کو مطعون کرنے کے لئے ہمارے پاس مختلف طریقے موجود ہیں جن میں سے خدا سے انکار اور مذہب سے اختلاف زیادہ اہم ہیں۔ لیکن جبری محنت کا الزام بڑا ہی افسوسناک ہے۔ اس پر فیصلہ سازوں کو سوچنا ہوگا۔ انسانی معاشرے اجتماعی فرائض کی انجام دہی سے بھاگ جاتےہیں۔ اسی سے عیاش پرستی کے شکار معاشرے پیدا ہوتے ہیں۔ جہاں ایک فرد کی دولت آدھی دنیا کو خریدسکتی ہے لیکن ایسے افراد کو دنیا کے غموں اور دکھوں کا کچھ علم نہیں ہوتا۔ وہ دردِ دل نہیں رکھتے۔ انہیں کسی کی بھوک کا غم نہیں ہوتا۔ اس لے معاشروں کو حالات کا جبر اجتماعی کام پر مجبور کرتا ہے۔ لیکن اگر اجتماعی حالات کا اندازہ کرتے ہوئے حکمران اجتماعی محنت کی جانب بلائیں تو معاشرے کو تیار ہونا چاہیے۔ بھلے حکمرانوں کی درخواست کی حدود متعین کردی جائیں لیکن ایسا کرنا ضروری ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ لوگ رضاکارانہ کام پر تیار نہیں ہوتے۔

پاکستان میں ایک طویل مدت کے بعد ریل کی پٹڑیاں بچھائی جارہی ہیں۔ میٹرو بس اور سی پیک جیسے عظیم منصوبے جاری ہیں۔ یہ تاریخی اقدامات ہیں۔ اس سے قبل لاہور اسلام آباد موٹروے کے علاوہ پپشاور اسلام آباد موٹروے بھی بنائی گئی۔ لیکن کسی گروہ کو توفیق نہ ہوئی کہ رضاکارانہ محنت کے لیے لوگوں کو منظم کرے۔ یہ ایک سانحہ ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں مارکس اور لینن کے نام پر چالیس سال تک اودھم مچتا رہا، وہاں اس اجتماعی کام کو فرض سمجھ کر ایک دن بھی ادا نہیں کیا گیا۔ باقی تو چھوڑیے پاکستان ریلوے جس میں بڑی بڑی تمام ریلوے یونینیں موجود ہیں وہاں سے بھی ریل کی بازیابی اور ترقی کے لیے ایک دن کے رضاکارانہ کام پر کسی کو نہیں بھیجا جاسکا۔ اس لحاظ سے یہ عالمی سانحہ بھی ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں روایات ایک دن میں نہیں بنائی جاتیں۔ پہلی ریلوے لائن جسے 1853 میں سلطان سندھ اور صاحب نامی انجنوں کیساتھ شروع کیاگیا، اسے قریب 165 سال ہونے کو آئے ہیں۔ ریلوے ایک روایت اور ایک تہذیب ہے۔ اس روایت کے احیا کو اس قدر معمولی سمجھنا افسوسناک ہے۔ اسے قومی اثاثہ سمجھ کر رضاکارانہ محنت کے ساتھ شروع کرنا چاہیے تھا۔ لیکن قومی یکجہتی نابود ہوچکی اور نمود و نمائش یا ذاتی اغراض کا سیلاب آچکا ہے۔ پہلے پہل یہ رویہ امیر طبقات میں تھا۔ ڈاکٹر، انجینئر، وڈیرے اور سرمایہ دار اس کے عادی تھے۔ لیکن اب ہر کس و ناکس اس کا رسیا ہے۔ ایسے میں اگر سنتے ہیں کہ کوئی اجتماعی رضاکارانہ کام ہؤا یا اس کے لیے سرکاری حکمنامہ جاری کیاگیا، تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ تبدیلی کے دباؤ، خاص طور پر منفی تبدیلی کے دباؤ، معاشروں کو مسلسل توڑتے رہتے ہیں۔ کچھ اندر سے اور کچھ باہر سے۔ باہر کا دباؤ معاشرتی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہ دباؤ معاشرے کے حقیقی تصور سے انکاری ہوجاتا ہے۔ عالمی دباؤ اعتدال پسند اصولوں کا تابع نہیں ہوتا کیونکہ بہت سے ادارے بہت سے دباؤ بڑھاتے اور گھٹاتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات یہ دباؤ بڑے ناجائز اور نادرست بھی ہوتے ہیں۔ بیرونی دباؤ انتہائی مشکل وقت پر بڑھادیاجاتا ہے۔ ایسے دباؤ پر کسی عالمی ادارے کا احتساب نہیں کیاجاسکتا۔ قوم اپنی کامیابی یا ناکامی کی خود ذمہ دار ہوتی ہے۔ آخری وقت پر عالمی ادارے غائب ہوجاتے ہیں یا ان کے عہدیدار اور پالیسیاں بدل جاتی ہیں۔ جس سے انھیں اپنا چہرہ بچانے میں بڑی مدد ملتی ہے لیکن مقامی کارکن کہیں نہیں بھاگ سکتے۔ انھیں کٹہرے میں جواب دینا ہوتا ہے جہاں سیاسی مفادات اہم ہوتے ہیں۔ اس پر ایک مزید تحقیق کا تبصرہ قابلِ داد ہے۔ “بعد از کمونسٹ تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ سماجی نظام متاثر ہوا ہے۔ اقتصادی اور سیاسی تبدیلیاں واضح ہیں۔ لیکن تبدیلیاں سماجی ڈھانچے اور سماجی اقدار کی تبدیلیوں کے ماتحت ہیں جن پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ نئے سیاسی اداروں (جماعتوں، پارلیمان، انتخابات وغیرہ) کے ساتھ ساتھ اقتصادی ادارے (نجی کاروبار، بینکوں، مارکیٹوں، اسٹاک ایکسچینج وغیرہ) مؤثر کام نہیں کر سکتے جب تک تمدنی حصہ داروں کی معاونت کا فقدان ہو۔ مشرقی یورپ اور مغربی معاشروں میں جن معاملات پر بڑا فرق تاحال موجود ہے ان میں شراکتی اقدار کی کمی، جمہوریت اور حکومتوں پر بے اعتباری، کاروباری صلاحیت کی کمی، ذمہ داری کا احساس، خودمختاری، اور انفرادی منصوبہ بندی شامل ہیں” [5]۔ مغربی تحقیقاتی ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کمیونسٹ دور میں رضاکارانہ کام نہیں تھا یا جعلی اور زبردستی تھا۔ جبکہ مغربی یورپ میں رضاکاری حقیقی اور اصلی ہونے کے علاوہ مشرقی یورپ سے بہت زیادہ ہے۔ لیکن یہ دعویٰ محلِ نظر ہونا چاہیے کیونکہ یہ خود ستائی ہے۔ کوئی غیرجانبدار (شاید اسلامی) محقق ہی اس پر درست تبصرہ کرسکتا ہے۔

مجھے کمیونسٹ معاشروں سے کچھ نہیں لینا۔ میرامسئلہ یہ ہے کہ اگر کل کلاں کوئی اسلامی حکومت یا خلافت قائم ہوگئی تب بھی یہی ادارے چند چھوٹی مثالوں کو بنیاد بنا کر تمام اجتماعی نظام کو برباد کرکے رکھدیں گے۔ یہ اقدام حشر، رضاکاری یا ایسی ہی کسی اعلیٰ ترین روایت کے خلاف جرم ہوگا۔ حکومتوں اور معاشروں کو ناکام کرنے میں عالمی اداروں کا تجربہ بہت بڑھ چکا ہے۔ کیا رضاکاری کی کوئی ایک عدالت موجود ہے جس میں ایسے جرائم کے خلاف مقدمہ قائم کیاجاسکے؟ کیاکسی بہتر روایت کی کوئی ایک بھی عالمی عدالت موجود ہے؟ یہ صورتحال سماجی روایات اور عدل کی بنیادوں کے خلاف ہے۔ کمیونزم کے خاتمے کیساتھ ہی دنیا نے اجتماعی رضاکاری سے جان ہی چھڑا لی ہے۔ رضاکاروں کو کئی ایک بھی انعام نہیں دیا جاسکا۔

آئیے تیسری جانب میڈیا کا کردار بھی دیکھتے ہیں۔ التوز ایک تجزیاتی ویب سائیٹ ہے [6]۔ اس کا الزام ہے کہ عالمی ادارہ محنت آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ہی عالمی بنک اور عالمی ادارہ محنت پر مختلف منفی تبصرے کیے گئے ہیں۔ ساتھ میں حکومت اور گورنر کا کردار بھی منفی دکھایا گیا ہے۔ کچھ میڈیا ویب گاہیں رضاکارانہ کام میں معاون تنظیمات کو بھی ملزم گردانتی ہیں۔ اس مہم سے یہ اندازہ ہوسکتا ہے کہ انسانی حقوق کا ساتھ دیا جارہا ہے۔ میڈیا آزادی پسند اور آزادی اظہار کا بنیادی فریق ہے، اس لیے ایسا کردار لازم ہے۔ لیکن درحقیقت میڈیا کی حقیقی ذمہ داری قومی تعمیر و ترقی بھی ہے۔ آزادی اظہار کا ایسا انداز اختیار کیاجائے کہ جس سے قومی ترقی میں ضروری کردار ادا کیاجاسکے۔ موجودہ معاملے میں میڈیا کو مہمات چلانا چاہیئں تھیں جس سے اجتماعی رضاکارانہ خدمت کے لیےعوامی رائے عامہ کو منظم کیاجاتا۔ آزادانہ رائے کےساتھ کام پر جانے والوں کی تعداد بڑھائی جاتی۔ ایسی تنظیموں کی مزید مدد کی جاتی جو کمیونسٹ دور کے بعد رضاکارانہ کاموں میں شمولیت کے لیے عوام کو ساتھ لےکر چلتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کسی نے علما کی رائے حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کیا اس صورت حال پر اسلام خاموش ہے؟ دراصل اسلام کو اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔ ادارے علما کو مشکل کا باعث سمجھتے ہیں حالانکہ صورت حال اس کے برعکس ہے۔ علما عملی اور ضروری مشورہ دیتے ہیں۔ مساجد و مدارس بنیادی فرائض کی بجاآوری میں ممد و معاون ہوتے ہیں۔ لیکن ہم بروقت مشورہ لینے کی بجائے آخری وقت پر علما سے دعا کروا کر کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ مذہب سے اصولی ہدایات حاصل کرنا ہوتی ہیں۔

جب ایسی صورتحال پیدا ہو تو نئے ادارے اور نئی روایات یا روایات کیلئے نئی حدود کا آغاز کیا جاتا ہے۔ کیا اس صورتحال میں ہمیں منصفانہ انداز کے لیے کسی نئے ادارے، عدالت یاعہدے کی ضرورت پڑے گی یا یہ ادارے آپس میں لڑتے رہیں گے؟

جب ایسی صورتحال پیدا ہو تو نئے ادارے اور نئی روایات یا روایات کیلئے نئی حدود کا آغاز کیا جاتا ہے۔ کیا اس صورتحال میں ہمیں منصفانہ انداز کے لیے کسی نئے ادارے، عدالت یاعہدے کی ضرورت پڑے گی یا یہ ادارے آپس میں لڑتے رہیں گے؟ عام طور پر ایسے معاملات کو وقت کے ساتھ ساتھ خود سے ٹھنڈا ہونے کے لیے چھوڑ دیاجاتا ہے تاآنکہ یہ خود سے دوبارہ ابھر آئیں۔ گورنر جس نے احکامات جاری کیے، وہ اس پر خاموش ہوجائے گا۔ دوبارہ سے احکامات جاری نہیں کرے گا۔ اگر اس نے پھر سے احکامات جاری کیے تو اس کے خلاف مزید شدت کی مہم چلائی جائے گی۔ حکمران رضاکارانہ مہمات سے توبہ تائب ہوجائیں گے۔ اس سے رضاکارانہ روایات اور تنظیمات کو نقصان ہوگا۔

کیا “اجتماعی خدمت کا فلسفہ” غلط ہے یا اس کا “حکومتی احکامات” کے ذریعے سرانجام دینا غلط ہے؟ کیا طلبہ، اساتذہ، اطباء اور نوکری کرنے والے نجی یا حکومتی افراد خود سے یا کسی کے حکم سے رضاکارانہ خدمت سرانجام دیں گے؟ کیا یہ اجتماعی طور پر اتنی ہی یا اس سے زیادہ ہوگی جس قدر کمیونسٹ دور میں تھی؟ کیا انسانی حقوق کی تنظیمیں رضاکارانہ کام کے لیے کسی کو ویسے ہی تیار کرسکیں گی؟ اس ضمن میں انسانی حقوق کے نام پرملنے والی سہولیات کا فائدہ ہوگا یا نقصان؟ کیا معاشرہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے دست بردار ہورہا ہے یا انھیں بہترین انداز سے ادا کرنے کی جانب سفر کررہا ہے؟ یہ تمام مستقبل کے سوالات ہیں جن کا جواب معاشرتی طرزِ عمل سے دیا جائے گا۔ لیکن اس پر اداروں کا کیا کردار ہوگا؟ کیا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی قرارداد منظور کرے گی تو انسانی حقوق اور ترقی کے مابین فیصلہ ہوگا؟ کیا اسلام سے ثالثی مانگی جائے گی؟ کیا مارکس و لینن کی آواز کو اہمیت دیتے ہوئے کام کیا جائے گا؟ یا صرف موجودہ حکومت کو اٹھا کر پھینکنے سے مسئلہ حل ہوجائے گا؟

اس معاملے کا حقیقی حل سوچنے کی ضرورت ہے۔ دراصل وسیع ترین تناطر میں، یہ مہم مسلم ممالک میں مغربیت کا سیلاب ہے۔ مسلم ممالک میں آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کی ذمہ داری ہے کہ مغربی روایات کا جائزہ لے۔ ان کے بڑھنے یا کم ہونے پر نظر رکھے اور مغربیت کو فروغ دینے  والے اداروں کو اجتماعی قراردادوں کے ذریعے سے روکے۔ یہ کام کوئی ایک حکومت یا چھوٹا ادارہ نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے امت کے اجتماعی اداروں کو متحرک ہونا ہوگا۔

ایسے میں اسلامی قانونِ رضاکاری کی بھی ضرورت پڑے گی تاکہ رضاکاری کے درست اور مناسب انداز و اطوار کو اختیار کیاجاسکے۔ اگر ایسا قرار واقعی درست تناظر میں کرلیاگیا تو اسلامی معاشرے میں کمیونسٹ یا مغربی جمہوری رضاکاری کے نام پرسرنگ لگانا مشکل ہوجائے گا۔ اس سے تہذیبی تحفظ حاصل کیا جاسکے گا۔ موجودہ دور میں یہ ایک نیا چیلنج ہے۔ اس صوتحال میں میرا سوال یہ ہے کہ ازبکستان میں مغربی تحریک چلائے جانے سے قبل قاہرہ کے اسلامی حقوق کے چارٹر کے تحت تنظیمیں رجسٹر کیوں نہیں ہوئیں۔ وہ چارٹر جس میں کتاب و سنت اور شریعت کے پابند انسانی حقوق کا ذکر ہے، اسے روبہ عمل کیوں نہیں لایا گیا؟ کیا تہذیبوں کو اصولوں پر استوار کرکے جائز اور پرامن جدوجہد مشکل ہے؟ اس کی بجائے جنگ و جدل کو آزمانا ضروری ہے؟ آج جب حافظ سعید صاحب کے جائز اور خدمتی منصوبہ جات پر پابندی عاید کی گئی ہے تو یہ سوال مزید اہم ہوگیا ہے۔ کیا مغربی روایات کو مغرب ہی کے تناظر میں تسلیم کیاجائے گا یا ان کا اسلامی و معاشرتی یا اجتماعی پہلو بھی اجاگر کیاجاسکتا ہے؟ کیا مغرب کے فلسفی اور ان کے متبعین اسلام یا کسی دوسرے اصولیاتی ضابطے کے تحت ہونے والی جدوجہد کی اجازت دے پائیں گے؟

اگر سنٹرل ایشیاء کے نازک ترین معاشرے میں جہاں کمیونزم اور جمہوریت آپس میں گتھم گتھا ہیں، اسلامی روایات اور اداروں کا بروقت اور درست تناظر میں اجراء نہ کیا گیا تو شاید یہ معاشرہ ایک نئی جنگ یا بدنظمی کا شکار ہوجائے۔ یاد رہے کہ جب تک اسلام نے کمیونزم کو افغانستان میں شکست نہیں دی تب تک مغربی جنگ باز و فلسفی یا انتظامیت و صنعتی پیداوار کے آزادی پسند ماہرین 1917 سے 1989 تک کسی طرح کامیاب نہیں ہوئے۔ اب بھی یوکرائن میں کریمیا کی جنگ کے نتائج مغربی ممالک کے حق میں ہرگز نہیں۔ کمیونزم کے بھلے ہارے ہوئے جن کیساتھ دوبارہ براہِ راست ٹکر لینے کی کوشش کی گئی تو نتیجہ وہی ہوسکتا ہے کہ کمیونسٹ دوبارہ یورپ کے قلب تک جاپہنچیں۔ اسلامی اصولوں کے بغیر جس نے بھی مزدور طبقات کے ساتھ مالک و نوکر کا سا معاملہ کیا تو بڑی بے طور شکست کھاسکتا ہے۔ انھیں بچانے والے بھی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ اسلام کے اعتدال پسند رویے کو آزمانے کی بجائے منافع اور اکثریت حاصل کرنے کے حیوانی جذبے کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہوسکتے۔ لیکن مغربی ادارے قاہرہ کے اسلامی چارٹر کو ردی کی ٹوکری کے سوا کہیں نہیں دیکھتے۔ شاید پاکستان کے انسانی حقوق کے چیمپئین بھی ایسا ہی سمجھتے ہوں کیونکہ طرزِ عمل سے تو یہی نتیجہ ہے۔ ہماری پارلیمان کی خاموشی بڑی گہری ہوگئی ہے۔ یہی تو مشکل ہے کہ اسلامی پالیسی کی اساسی تشکیل میں اس قدر لیت و لعل کیا گیا ہے کہ کسی کو اصولی جہات کا درس بھی نہیں دیاجاسکتا۔ پاکستان جیسے ملک کو اسلام کے تحت عملی ترجیحات قائم کرنا تھیں۔ لیکن یہاں انفرادی آزادی پسندی کے بے اعتدال جذبے کو متحرک کیا جارہا ہے۔ کم از کم بے عملی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ جب معاشرہ اسلامی اصولوں پر کام نہیں کرتا تو کچھ نہیں کرتا۔ واقعتا پاکستان نے اس میدان میں کچھ بھی نہیں کیا۔ اب اس معاملے میں کمیونسٹ یا مغربی، کسی کو بھی سمجھانا مشکل ہے۔ اس سے سنٹرل ایشیاء کے معاشرے دوبارہ مذبذب ہوجائیں گے یا سرمایہ داری کی گود میں جاگریں گے۔ 1988 کے بعد سے پاکستانیوں کی خاموشی نے دنیا میں دوبارہ جنگ کے بادل تان دئیے ہیں۔ اپنے کردار کی اہمیت سے انکار خطرناک ہے۔ لیکن کردار ادا کرنے کے بعد انسانوں کی امیدیں بڑھادینا اور اس کے بعد بیٹھ رہنا خطرناک ہوتا ہے۔ مسلم دنیا کو اپناکردار درست طور پر ادا کرنا ہوگا۔ وگرنہ غیر فعالیت مزید نقصان دہ ہوگی۔

میں نے کوشش کی ہے کہ انسانی حقوق، ترقی اور اجتماعی خدمت جیسی اہم روایات کا موجودہ دور کے بین التہذیب و بین الممالک عمل پر ایک موازنہ پیش کروں۔ یہ واضح کروں کہ یہ تینوں کس طرح سے ایک دوجے کے خلاف مورچہ بند ہیں اور ان کا پسِ منظر انسانیت کے لیے کیسے اہم ہے۔ لیکن اس تمام توضیح کے باوجود اگر قارئین یہ فیصلہ کریں کہ انسانی حقوق کے کارکن مغربی انداز میں سنٹرل ایشیاء کے اندر درست کام کر رہے ہیں تو میں فریڈم یونائیٹڈ کی پٹیشن پر دستخط کردونگا۔ شاید انسانی حقوق کے کارکنوں کا مؤقف اس تناظر میں درست ہو۔ اسلام اور کمیونزم دونوں ہنوز غلط ہوں اور ترقی کیلئے کام کرنے والے عالمی بنک اور عالمی ادارہ محنت بالکل ہی غلط مؤقف اختیار کیے ہوئے ہوں۔ شاید دنیا میں آجکل کچھ بھی ممکن ہے۔


[1] http://fergana.mobi/en/news/3069

[2] Linda McClain. Rights and Responsibility. Duke University.  https://scholarship.law.duke.edu/cgi/viewcontent.cgi?article=3247&context=dlj. Also look at Richard Wellen. Dilemmas In Liberal Democratic Thought Since Max Weber. http://www.yorku.ca/rwellen/wellen_weber_book.pdf

[3] Giulia Bistagnino. 2016. EU Vision. http://www.euvisions.eu/weberian-angela-merkel/

[4] Ágota SILLÓ. The Development of Volunteering in PostCommunist Societies. A Review. .Acta Univ. Sapientiae, Social Analysis, 6, 1 (2016) 93–110

[5] Bogdan & Mălina Voicu. Sociologica.  Senior researchers, The Research Institute for Quality of Life, Romanian Academy of Sciences, Bucharest. http://www.iccv.ro/valori/texte/04.Bogdan&Malina%20Voicu.pdf

[6] http://eltuz.com/en/news/684/

[7] Concise Encyclopedia of Comparative Sociology. P 184

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اسلام کے اعتدال پسند رویے کو آزمانے کی بجائے منافع اور اکثریت حاصل کرنے کے حیوانی جذبے کے نتائج کبھی اچھے نہیں ہوسکتے

Leave A Reply

%d bloggers like this: