تیری آواز کے سائے…… حبیبہ طلعت

0
  • 60
    Shares

ہر شاعر رنگیں نوا کا ذوقِ جمال حسن و عشق اور فطرت کے حسین نظاروں سے خیال کشید کرتا ہے. نظاروں سے گھائل ہو کر تخیلات تراشتا ہے اور کلام کہتا ہے .مگر جب شاعر فیض ہوں تو یہ شاعری ایک منفرد لحن و آھنگ میں ڈھل جاتی ہے جس میں رومانوی، انقلابی، اور انسانیت دوستی کی منقش عکاسی کے ساتھ ساتھ اختراعی اظہار بھی ہے۔

وہ اختراع چاہے کلاسیکیت کو ایک جدید کلاسیکل روپ میں پیش کرنے کی ہو یا رومان کی آثر آفرینی کو انقلابی تصورات کے ساتھ کڑھت کر کے پورٹرے کرنے کی ہو، فیض کا جادو بیاں قلم اپنے منفرد آھنگ میں کلام کے ردھم کو پرونے میں مسحور کن ثابت ہوا.

نقش فریادی، دست صبا، زنداں نامہ، دست تہہ سنگ، سر وادیء سینا، شام شہر یاراں،، مرے دل مرے مسافر اور غبار ایام جیسے لازوال مجموعہء کلام میں کچھ عشق کیا کچھ کام کیا اور اسی کار ھنر کے ساتھ، جیتے جی مصروف رہنے والے فیض شاعر بے بدل نے، اپنی زندگی کے آدرش کے ساتھ اپنے تمام زمانی رجحانات کی عکاسی بھی کی ہے اور نہ صرف اپنے زمانے میں بلکہ آنے والے زمانوں پر ایک گہرا تاثر چھوڑ گئے ہیں.

فیض نے جب ابتدائی عمر میں عمومی حسن و عاشقی کے بیانات کو دلفریب سروں میں ڈھالا تب بھی قلم نے زرا لغزش نہ کی اور پھر جب فکر و فن کی پختگی پا کر کلام ایک تراشیدہ ہیرے کی سی تب و تاب دینے لگا تب بھی اپنے انداز کی بخوبی لاج رکھی. الفاظ و تراکیب، تشبیہات و استعارات کے استعمال میں کہیں بھی قلم کو بے محابا نہ چھوڑا۔
فضیل جعفری کا ایک رواں تبصرہ ہے کہ

” فیض کے اسلوب کا کمال یہ ہے کہ وہ بڑی سے بڑی بات اور گہرے سے گہرے تجزیے کو اس سیدھے سادھے لیکن لطیف انداز میں قاری کو منتقل کرتے ہیں کہ فنی نفاست میں کوئی کمی آتی ہے نہ تاثر میں.”

غالب کے بعد
اقبال نے جب اردو شاعری کو حسن و عشق کے روایتی چلن سے آزاد کیا اور کلام کو اپنے فلسفیانہ اظہار و ابلاغ کا ذریعہ بنایا تو ان کے بعد اس اسلوب کو فیض نے اس حسن و خوبی سے نبھایا کہ شاعری کی ہر جہت میں لازوال اظہاریئے رقم کئے. غزل ہے تو ایک بے مثال تغزل سے رقصاں ہے، نظم ہے تو اس کی ادائیگی میں وہ الفاظ و تراکیب تخلیق کی ہیں کہ جن سے کلام اپنے تمام تر مفہوم کے ساتھ قاری کی فہم میں جاگزیں ہو جاتا ہے.

اسی خوب صورت آھنگ کی وجہ سے جب بھی اس کلام کو پڑھا جائے ہر بار ایک نیا سرور حاصل ہوتا ہے.
اس حسین غزل کا تغزل ملاحظہ کیجئے۔ مطلع جتنا دلفریب ہے اتنا ہی دلگداز بھی:

چشم مے گوں زرا ادھر کر دے
دست قدرت کو بے اثر کر دے
تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخیِ مے کو تیز تر کر دے
جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاک دامن کو تا جگر کر دے
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے
لٹ رہی ہے مری متاعِ نیاز
کاش وہ اس طرف نظر کر دے
فیض تکمیل آرزو معلوم
ہو سکے تو یونہی بسر کر دے
(…نقش فریادی)

شاعری کا ابتدائی دور ہونے کے باوجود مختصر بحر کی اس غزل میں محبوب کی رعنائی کے آگے ہرچند گھٹنے ٹیکے گئے ہیں مگر ایک پروقار تمکنت بھی نمایاں ہے.جس نے فیض کو فیض کا منفرد آھنگ دیا ہے.
اب دیکھئے وقت نے کروٹ بدلی۔ فیض حیدر آباد جیل میں ہیں۔ وہاں کسی اجنبی خاتون کے ہاتھ عطر کا تحفہ ملا ہے تو ایک اجنبی مداح کے ہاتھ سےتحفہ پانے پر شاعر حسن و عشق نے کس قدر خوشبو ریز کلام لکھا۔

اے حبیب عنبر دست
———————
کسی کےدست عنایت نے کنج زنداں میں
کیا ہے آج عجب دلنواز بندوبست
مہک رہی ہے فضا زلف یار کی صورت
ہوا ہے گرمیِ خوشبو سے اس طرح سر مست
ابھی ابھی کوئی گزرا ہے گل بدن گویا
کہیں قریب سے، گیسو بدست، غنچہ بدست
لئے ہے بوئے رفاقت اگر ہوائے چمن
تو لاکھ پہرے بٹھائیں قفس پہ ظلم پرست
ہمیشہ سبز رہے گی وہ شاخ مہر و وفا
کہ جس کے ساتھ بندھی ہے دلوں کی فتح و شکست
یہ شعرِ حافظ ِشیراز، اے صبا! کہنا
ملے جو تجھ سے کہیں وہ حبیب عنبر دست
” خلل پزیر بود ہر بنا کہ می بینی
بجز بنائے محبت کہ خالی از خلل است”
(زنداں نامہ)

غم یار کا نشہ ہر شاعر کا ہی نہیں ہر تخلیق کار کی تخلیق کا جوہر ہوتا ہے۔ مگر فیض نے حسنِ یار، غمِ یار اور ہجر کی کربناک ساعتوں کو جب دشت تنہائی میں سمویا ہے تو گویا ایک اقلیم جواہر میں ڈھال دیا ہے. مترنم سلاست ہے، مدھر غنائیت ہے اور جاں سوز وحشت ہے جس کو دل نے اپنے اندر جذب کر کے بربط جاں پر ایک نیا نغمہ پیش کیا ہے۔

دشت تنہائی میں اے جان جہاں لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے، تیرے ہونٹوں کے سراب
دشت تنہائی میں دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں تیرے پہلو کے سمن اور گلاب

اس نظم کی دلکشی کو ایک حساس دل ہی جذب کر سکتا ہے جس نے خود تنہائی بھوگی ہو، کہ رفاقت تو ہر جاندار کی ضرورت ہے۔ مگر اتنی دلکش منظر نگاری ایک نہایت اعلی درجے کے فنکار کی پرکاری کا ہی کمال ہو سکتی ہے.

اب بات کریں گے ایک منفرد زاویے کی جو فیض کے ہاں ملتا ہے۔ لیکن اس سے قبل فراز کا یہ دلکش شعر ذہن میں رکھنا مناسب رہے گا.

غم دنیا بھی غم یار میں شامل کر لو
نشّہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

غم جاناں کے مارے کو، اسکے سوز عشق کو جو چیز ایک نیا سر عطا کرتی ہے وہ ہے غم زمانہ

میر غالب، اقبال، یہ تو ہیں ہی مملکت سخن کے بے تاج بادشاہ، جن سے عقیدت سبھی کو ہے. مگر جو بات فیض میں ہے وہ یہ کہ حسن و عشق کا دلفریب بیان اور جوانی کی گھاتیں اور ماتیں، جو سب کے کلام میں ہی ملتی ہیں،مگر فیض ___ان کے اشعار تنہا اور اداس شخص کا دل ایسے بہلاتے ہیں کہ وہ جو کرب سے نڈھال ہو،.دکھ اور یاس سے پژ مردہ ہو اسے ایک نئی امنگ اور نئے لگن ملتی ہے۔

نہ صرف ”دست صبا“ کی نظموں میں بلکہ فیض کی پوری شاعری میں عشق اور انقلاب دونوں آپس میں اس طرح گڈ مڈ ہوگئے ہیں کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل ہے۔ فی الحقیقت یہ دونوں باتیں ایک دوسرے کے لئے تفسیر اور تشریح بن گئی ہیں۔
بقول صفدر میر

”حقیقت یہ ہے کہ اس کی شاعری میں محبت اور انقلاب کو باہم مربوط کر دیا گیا ہے اور یہ صفت موجودہ دور میں کسی اور شاعر کے یہاں نہیں پائی جاتی۔“

دیوانگی، مستی، بھرے دل پہ وہ کچوکے لگتے ہیں کہ زخم رستے نہیں بلکہ دمساز بن کر ساتھ نبھاتے ہیں، دیوانے کو عشق کے سوز و ساز کے ساتھ انقلابی ویژن دیناسب کچھ لٹا کے بیٹھے ہوئے بندے کو، سب کچھ لٹا کے جینے کا حوصلہ اور امنگ دینا بس فیض کا ہی خاصہ ہے. کچھ اس طرح کہ دل بے قرار ہو جائے، دل مضطر اور مضطرب ہو جائے اور جیسے پھر سے عشق سے،عشق ہو جائے.

کہ یہ عشق ہی ہے جو کسی صنم پر بھی دل و جاں لٹانے کا حوصلہ دیتا ہے پھر یہ عشق ہی ہے جو کسی کاز کے لئے بھی متحرک رکھنے کے ساتھ ساتھ آمادہء پیکار رکھتا ہے.

کیوں نہ جہاں کا غم اپنا لیں
بعد میں تدبیریں سوچیں
بعد میں سکھ کے سپنے دیکھیں
سپنوں کی تعبیریں سوچیں

یہ ترقی پسندانہ رجحانات ان کے کلام میں نمایاں ہوتے گئے۔ اس میں بھی حساسیت اور سلاست اس طرز سے اپنا آھنگ بلند کرتی ہے کہ مرقعِ حسن و عشق کو بھی انفرادیت کے ساتھ صدا لگائی

مجھ سے پہلی محبت سی میرے محبوب نہ مانگ

حسن کی دلکشی سے رخ موڑ کر نظریے کی سنگینی کی طرف پابجولاں چلے. جس دیس میں لیلیٰ پر عاشق ہونے کی بھی بس شاعری کی حد تک اجازت ہو وہاں لیلائے وطن کی چاہت کا اقرار کچھ آسان نہیں تھا. شاعر نے اپنے تصورات کے مطابق وطن میں بہار دیکھنے کو، ہر تاریک تلازمے سے بے داغ سحر کا خواب دیکھنے کو ‘ دو عشق’ میں تسلیم کیا ہے

چاہا ہے اسی رنگ میں لیلائے وطن کو
تڑپا ہے اسی طور سے دل اس کی لگن میں
ڈھونڈی ہے یونہی شوق سے آسائشِ منزل
رخسار کے خم میں کبھی کاکل کی شکن میں

سوچ و فکر کے نئے بیانیے کی پاداش میں آسائشِ منزل کو تج کر، شورشِ بربط و نے جگاتے، طوق و دار کا موسم اوڑھے بازار میں پابجولاں چلے اور کہیں بھی تمہت عشق کو سرنگوں نہ ہونے دیا. کہ یہ بانکپن سجتا بھی انہیں پر ہے کہ جن کے دل عشق کی حدت سے دہکتے ہیں.

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا
تنہا نہیں لوٹی کبھی آواز جرس کی
خیریت جاں،راحت تن، صحت داماں
سب بھول گئیں مصلحتیں اہل ہوس کی
دو عشق
( دست صبا)

فیض نے محض الفاظ کے طوطا مینا نہیں اڑائے ان کا ہر لفظ، ہر ترکیب ہر مصرعہ اور ہر شعر گواہی ہے ان کے اپنے خون دل کی، اپنے کسب و اکتساب کی۔ تب ہی تو اس لحن فیض نے قاری کا دل مٹھی میں کیا.
خود کہتے ہیں

لب پہ حرفِ غزل دل میں قندیلِ غم
اپناغم تھا گواہی تیرے حُسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

حسن لیلی سے لیلائے وطن تک عشق کے سفر وحضر کو بیان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں بلکہ ناز ہے اپنے افکار کی سچائی پر۔ اس تلخ سچائی کو جن مدھر الفاظ و تراکیب، تشبیہات اور استعاروں میں پرو کر کلام کہا ہے وہ بھاری بھرکم نہیں ہیں بلکہ حد درجے سادہ، فطری اور دلکش ہیں کہ قاری اگر محض کلام کا اعتراف ہی کرے تو عمر بھر کہیں جا نہیں سکتا۔

جیسا کہ رقیب سے رقابت کے جلتے بھنتے تعلق کی جگہ ناز آفریں محبوب سے حسن و رعنائی کے راز و نیاز کیے . اسی کو محرم راز بنا کر وہ انوکھا لحن ایجاد کیا جس تک ہر کس و مہ کی کوئی دسترس نہیں ممکن.

زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے
تجھ پہ اٹھی ہیں وہ کھوئی ہوئی ساحر آنکھیں
تجھ کو معلوم ہے کیوں عمر گنوا دی ہم نے
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے
اتنے احسان کے گنواؤں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاؤں تو سمجھا نہ سکوں
نظم ؛ رقیب سے

شاعری نام ہے استعارے کا یہاں فیض کا تمام تر کلام جن استعاروں سے مزین ہے وہ ان کا اپنا اختراع کردہ اسلوب ہے. جو یاس، امید، تنہائی، یاد, حسن و عشق کے باب میں بھی فطرت کے مظاہر سے خوشہ چینی کرتا ہے اور جب بات ہوگی جہد مسلسل، انقلابی نظریات پر مبنی ان کے آدرش کی وہاں بھی جرم اور جیل سے جڑے معا ملات میں حسن و خوبی کے ساتھ جو جاندار استعارے تراشے ہیں وہ سب اتنے متاثر کن ہیں کہ لیفٹسٹ ہوں یا دائیں بازو کے اسلامسٹ، ہر جنس اور ہر عمر کے حساس دل کے لئے ان کا کلام دمساز بھی ہے اور مشعل راہ بھی . درحقیقت ان تمام امور پر فیض کے استعارے بزم خیال میں، تمام تر اثر آفرینی کے ساتھ متمکن ہیں.

یاد کا شبستاں جلانا ہو تو اس اختصار میں ڈوب ڈوب جائیے کہ

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے

……
محبوب یا محبوبہ مرقع تو ہے ہی تمام تر خوب صورت تشبیہات کا مگر اس کے آنے سے جو بہار آنی ہے، اس ماحول کی دلفریبی کی عکاسی تو بے داغ طور پر فیض کے پاس ہی ملے گی

رنگ پیراہن کا، خوشبو زلف لہرانے کا نام
موسم گل ہے تمہارے بام ہر آنے کا نام
دوستو اس چشم و لب کی کچھ کہو جس کے بغیر
گلستاں کی بات رنگیں ہے نہ میخانے کا نام
پھر نظر میں پھول مہکے، دل میں پھر شمعیں جلیں
پھر تصور نے لیا اس بزم میں جانے کا نام
(دست صبا)

شاعر کا تخیل قامت جانانہ کی منظر کشی میں اوج کمال کو چھو آتا ہے مگر شاعر کے ساتھ قاری جس انداز میں ماحول کے سحر میں قید ہو جاتا ہے اس کی سندرتا ہی الگ ہے….

دیکھیے، حسن کے بیان کو تلمیح کے ساتھ کیسی منفرد رعنائی دی ہے۔

یہ جفائے غم کا چارہ، وہ نجات دل کا عالم
تیرا حسن دست عیسی، تری یاد روئے مریم
تری دید سے سوا ہے ترے شوق میں بہاراں
وہ چمن جہاں گری ہے ترے گیسوؤں کی شبنم

…..

شرح فراق، مدح لب مشکبو کریں
غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں

…….

کھلے جو ایک دریچے میں آج حسن کے پھول
تو صبح جھوم کے گلزار ہوگئی یکسر
جہاں کہیں بھی گرا نور ان نگاہوں س
ہر ایک چیز طرح دار ہو گئی یکسر

اب بام پر آنے کا ایک فسوں خیز منظر اور بھی ہے۔ جب قامت جانانہ کے بارے میں محض انداز تکلم ہی ماحول سجا دے تو دیوانے کہاں جائیں۔

کس حرف پہ تو نے گوشہء لب، اے جان جہاں !غماز کیا
اعلان جنوں دل والوں نے اب کہ بہ ہزار انداز کیا
سو پیکاں تھے پیوست گلو، جب چھیڑی شوق کی لے ہم نے
سو تیر ترازو تھے دل میں، جب ہم نے رقص آغاز کیا
بے حرص و ہوا، بے خوف و خطر، اس ہاتھ پہ سر، اس کف پہ جگر
یوں کوئے صنم میں، وقت سفر، نظارہ ء بام ناز کیا

یہ آھنگ جب اظہار کی سنگلاخ قدغن میں محصور رہا تب بھی کہیں کمزور نہیں.پڑ سکا۔ ایک سے ایک انقلابی استعارے اور تراکیب لئےجوش و جزبہ سے دمکنے لگتا ہے

حذر کرو مرے تن سے یہ سم کا دریا ہے
حذر کرو مرا تن وہ چوب صحرا ہے
جسے جلاؤ تو صحن چمن میں دہکیں گے
بجائے سرو و سمن میری ہڈیوں کے ببول
اسے بکھیرا تو دشت و دمن میں بکھرے گی
بجائے مشک صبا، میری جان زار کی دھول
حذر کرو مرا دل لہو کا پیاسا ہے

بات کیجیے اس منفرد تخیل کی جو فطرت کے آفاقی مظاہر سے مزین تو ہے ہی، ذاتی تنہائی اور ساتھیوں پہ چھائی اداسی کو بھی اس انداز میں نظم کیا گیا ہے کہ سلاست اور نشتر کے استعمال نے درجہِ کمال کو چھو لیا ہے۔

شام
—-
اس طرح ہے کہ ہر اک پیڑ کوئی مندر ہے
کوئی اُجڑا ہوا، بےنور پرانا مندر
ڈھونڈتا ہے جو خرابی کے بہانے کب سے
چاک ہر بام، ہر اک در کا دمِ آخر ہے
آسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے
جسم پر راکھ ملے، ماتھے پہ سیندور ملے
سرنگوں بیٹھا ہے چُپ چاپ نہ جانے کب سے

اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے
جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام
دامن وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام
اب کبھی شام بُجھے گی نہ اندھیرا ہوگا
اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہوگا

آسماں آس لئے ہے کہ یہ جادو ٹوٹے
چپ کی زنجیر کٹے، وقت کا دامن چھوٹے
دے کوئی سنکھ دہائی، کوئی پائل بولے

کوئی بُت جاگے، کوئی سانولی گھونگٹ کھولے

باتیں تو ختم نہیں ہوں گی،مگر مضمون کو ختم کرتے ہوئے یہ تو کہنا ہی پڑے گا کہ زمانہ کتنی ہی کروٹیں بدلے، جو لوگ فیض آشنا ہیں، جب جب وہ شعر و سخن میں نرم گفتاری کے تمنائی ہوں گے تو فیض ان کے لیے ایک منارہءنور رہیں گے اور اس خوبصورت دل اور مسکراتے ہونٹوں والے شاعر بے بدل کی یاد ان کے دلوں کو گرماتی رہے گی۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: