ویلنٹائن ڈے اور ہمارا معاشرہ: محمد عمیر

0
  • 181
    Shares

یہ طبقہ اشرافیہ کی عیاشی، اونچی سوسائٹی اور پوش کلچر کے چونچلے ہیں چند سال قبل تک ایک خاص طبقے کا فرد اسکی زد میں تھا پر اب مغربی تہذیب کی بیہودگی اور بےحیائی کا یہ سیلاب مشرقی ساحلوں پر اسطرح امڈ آیا ہے کہ ہر خاص و عام روز اول سے اسکی تیاریوں اور مبارکبادوں میں مستغرق دکھائ دیتا ہے. یہی نہیں مغرب کے ٹکڑوں کے پروردہ ٹی وی چینلز بھی باقاعدہ اسکی تشہیر کا اہم زریعہ ثابت ہوتے ہیں جوکہ نسل نو کی حیات سے بےپرواہ ہوکر بےحیائی کا ایسا کھیل رچائے ہوئے ہیں کہ شیطان بھی اپنی پناہ مانگے-

یہ تہوار انتہائی تیزی سے ہمارے ملک میں پھیل رہا ہے. چونکہ طبقہ اشرافیہ کو تو ایسی عیاشی کا بہانہ چاہیے اس لیے ایسی عیاش محافل کا انعقاد کرتے ہیں جس میں موسیقی، محفل رقص و سرور میں محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی خواہشات کا لوہا منوایا جائے لہذا خوشی خوشی عشق فرمانے کا کارنامہ انجام دیتے ہوئے “کم عمری میں بلوغت کا کریڈٹ” اپنے سر کرتے ہیں اور اسکو نہ منانے والے پرلے درجے کے پسماندہ اور دقیانوس کہتے ہیں –

ہمارے تعلیمی اداروں میں باقاعدگی سے اسکا درس دیا جاتا ہے اور ہمارے لیے یہی المیہ ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں اور انمیں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات مغربی تہذیب کے دلدل میں پھنستے ہوئے شعور جیسی صفت کو پست پشت ڈال کر آکسفورڈ اور کیمرج یونیورسٹیوں کے طلباء کی تقلید میں ہر وہ کام کرنے کی خوشی محسوس کرتے ہیں جس میں بےحیائی و بےشرمی کا عنصر ہوتا ہے چونکہ یورپ کی نقالی کو فخر سمجھا جاتا ہے اس لیے اس پر انہیں نہ تو کوئ ندامت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئ شرمندگی اور افسوس اس بات کا ہے کہ نسل نو اپنی تہذیب سے بیگانہ ہوتی جارہی ہے –

ہماری اکثریت کو عشرہ مبشرہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنھم کے نام تک یاد نہیں جبکہ اس کے برعکس دنیا بھر کے کرکٹر سنگرز اور اپنی پسندیدہ سیلیبرٹی کا نام حفظ ہونگے اور اپنی تہذیب کو اپنانے کے بجائے مغرب کی تہذہب کو ترجیح دینگے حالانکہ یہ اصول ہیکہ اپنی تہذیب و تمدن کو ترک کردینا اور اغیار کی تہذیب کو اپنانا ترقی نہیں بلکہ تنزلی ہے –

یہ دن منانا گناہ ہے اور اس دن سے منسلک ہونے والے اجتماعات اور تقاریب میں شمولیت بھی گناہ ہے مسلمانوں کو ایسی محافل سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ یہ شعائر سلام کے منافی ہے اور شعائر السلام کی توہین عذاب الہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے. السلام نے جن ایام کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے انمیں خصوصیت کے ساتھ عیدین، خلفاء راشدین کے ایام قابل زکر ہیں پر بدقسمتی سے سیکولر اذہان کی حامل شخصیات اور نام نہاد ترقی پسندیت کے قائل افراد اور یہود و ہنود کے پروردہ این جی اوز اور میڈیا اس قسم کی محافل کے فروغ میں سرگرم ہے –

ویلنٹائن ڈے منانے کا مطلب مشرک رومی و عیسائیوں کی مشابہت اختیار کرنا ہے. رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: “جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ انہیں میں سے ہے-“( ترمذی) کوئ نہیں جانتا کہ ویلنٹائن ڈے پر نکاح کے بندھن سے قطع نظر ایک آزاد اور رومانوی قسم کی محبت کا اظہار کیا جاتا ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کے آزادانہ ملاپ اور کارڈز کا تبادلہ اور غیر اخلاقی حرکات کا نتیجہ زنا اور بداخلاقی کی صورت میں نکلتا ہے جبکہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم نے نے جو معاشرہ قائم کیا اس کی بنیاد حیا پر رکھی جس میں زنا کرنا ہی نہیں اسکے اسباب بھی پھیلانا جرم تھا. اب ایسا لگتا ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کے یہ امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے تو فرما دیا “جب تم حیا نہ رہے تو تمہارا جو جی چاہے کرو-“( بخاری)

آج ویلنٹائن ڈے پر جو کچھ ہو رہا ہے وہ سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہیں کیونکہ اس دور میں ویلنٹائن ڈے منانے کا مقصد ایمان اور کفر کی تمیز کے بغیر تمام لوگوں کے درمیان محبت قائم کرنا ہے جو نوجوان ملت کے لیے بڑی رسوائی اور حلاقت ہے –

اکبر الی آبادی بھی کیا خوب کہہ گئے:

خواہشِ زر میں نئی تہذیب کے پیرو بنے
وہ نہ ہاتھ آیا مگر گنجِ معائب ہو گئے
بوسے ہی تک ہم تو پہنچے تھے رہِ تہذیب میں
کھائی وہ منہ کی کہ اب اس سے بھی تائب ہوگئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: