ہندستان میں مسلمان کیوں ختم نہیں ہوسکے؟ محمد عبدہ

0
  • 71
    Shares

ہندستان میں سوامی دیانند جی کے بیان کے بعد سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے کہ ہندستان میں مسلمان ختم کیوں نہیں ہوسکے اور کیسے ختم کیے جاسکتے تھے۔ سوامی دیانند جی نے فرمایا کہ

“بھارت وید دھرم کا وطن ہے اور بھارت کو واپس ویدوں کی طرف جانا ہے اور یہاں بسنے والوں کو ویدی دھرم کے رنگ میں خود کو رنگنا ہو گا۔آر ایس ایس کے بل راج مدھوک نے اظہارِ افسوس کیا کہ ہندو قوم نے ایک ہزار سال پہلے محمد ص کا بت بنا کر مسجد مندر منڈی بازار وغیرہ میں کیوں نہ سجا دیا۔ (نقل کفر کفر باشد) مسلمان اپنے پیغمبر کو پوجنے آتے تو ان کے دلوں سے ہمارے بتوں کی نفرت بھی نکل جاتی اور وہ دو چار صدیوں میں ہمیں میں گم ہو جاتے جس طرح بدھ مت والے ہو گئے۔ہم نے مہاتما بدھ کو اوتار مان لیا اور ان کا بت اپنے بتوں میں شامل کر لیا۔ہمارے لاکھوں بتوں میں ایک بت کا اضافہ ہو گیا مگر بدھ مت والے کہیں کے نہ رہے”۔

پروفیسر بینی پرشاد نے لکھا تھا کہ

“مسلمان ابھی تک اپنی انفرادی ہستی قائم رکھے ہوئے ہیں’ان سے پہلے یہاں آنے والے گروہ اور قومیں ہندو معاشرے میں مدغم ہو گئے۔ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ مسلمانوں پر عیاں ہے کہ وہ بھارت کو ترکی’ایران اور مصر کی طرح اسلامی رنگ نہیں دے سکے جس کی سب سے بڑی وجہ مغل بادشاہ جلال الدین اکبر تھا جس نے ہندومت کوہندوستان سے مٹنے سے بچایا وگرنہ اس وقت اورنگزیب کی حکومت ہوتی تو آج ہندوستان کانقشہ بالکل مختلف ہوتا”۔

سرل مودک نے کہا کہ

“مسلمان بھی دیگر غیر ہندو اقوام کی طرح ہندوؤں کی محبت کے باعث ہندوؤں میں ضم ہوجائیں گے ’یعنی نابود ہوجائیں گے۔

ڈاکٹر رادھا کشنن نے کہا ہے۔

“ہندودھرم نے بدھ مت کوبھائیوں کی طرح بغل گیرہوکرختم کردیا”۔

’سوامی دھرم تیرتھ جی مہاراج نے ارشاد کیا۔

“ڈاکٹررادھاکشنن کچھ بھی ارشاد فرمائیں حقیقت یہ ہے کہ برہمنی ہندوؤں نے بدھوں کوقتل کیا ان کے گھرگرائے ان کے جانور ہلاک کئے ان کی فصلوں کو آگ لگا دی ان کی اکثریت کوعلاقہ بدرکردیا۔

شیام پرشاد مکرجی نے قراردادِ پاکستان کے پیش اور پاس ہونے سے تقریباً ایک برس بعد دیاکھیان دیا۔

“تقسیم کے آوازے ادھر ادھر سے سن رہا ہوں’اگر پاکستان بن گیا تو ہم اسے باقی نہیں رہنے دیں گے۔”

وہ مسلمان جو ہندو کو ہر میدان میں کارفرما دیکھ رہے تھے وہ بخوبی جان گئے کہ ہندو اپنے معاشرے میں کسی غیرہندو معاشرے یا سوسائٹی کوایک متحرک عنصر کی طرح موجود نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے ہندوستان میں آکر یہاں کے اصلی باشندوں کوتہس نہس کردیا۔ قطعاً اچھوت بلکہ چنڈال بنا کر رکھ دیا۔ بدھ مت اور جین مت کے پیروؤں کو نابود کردیا۔ بدھ مت والوں نے تقریباً 800 سال بھارت کے کبھی بیشتر اور کبھی کمتر حصے پر حکومت کی مگر جب برہمنی نظام دوبارہ مسلط ہوا تو بدھ مت والوں کو ختم کر دیا گیا۔ وہ کروڑوں تھے مگر محو محض ہوکر رہ گئے۔ وہ آج بھی چین میں ہیں جاپان میں ہیں ویت نام کمبوڈیا سری لنکا اور برما میں ہیں مگر وہاں نہیں ہیں جوان کااصلی وطن تھا۔ جہاں انہوں نے صدیوں حکومت کی تھی۔ جہاں کا عوامی مذہب بدھ دھرم بن گیا تھا۔

لیکن ہمارے علماء کی اکثریت کو اس بات کا علم نہ تھا اور نہ ہی اس سے غرض۔ وہ کہتے تھے پہلے انگریز کو نکالو بعد میں ہندو سے نمٹ لیں گے لیکن ہندو شناس اہلِ نظر اور امت کے مستقبل کو ہندو ذہن کے آئینے میں دیکھ لینے والے اہلِ اخلاص نے رفتہ رفتہ یہ طے کر لیا کہ ہندو اگر دو محاذوں پر لڑ رہا ہے ‘یعنی انگریزوں کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف تو ہمیں بھی دونوں محاذوں پر یعنی انگریزوں اور ہندوؤں کے خلاف لڑنا ہو گا۔ ہندو بھی اتنا دشمن ہے جتنا انگریز۔ لہندا یہ اہتمام ابھی سے شروع ہو جانا چاہئے کہ جب انگریز جائے تو ہندو قوم مسلمانوں کو من حیث الامت مغلوب نہ کر لے۔ چنانچہ علامہ اقبال اور مولانا حسرت موہانی نے بہت پہلے یہ امر واضح کر دیا ‘پھر مولانا محمد علی جوہر کانگرس سے جدا ہوگئے۔ شوکت علی بھی مولانا ظفر علی بھی مولوی تمیز الدین بھی سردار عبدالرب نشتر بھی خان عبدالقیوم بھی اور مولانا محمد اکرم بھی۔وعلیٰ ہذاالقیاس قائد اعظم تو ١٩٢٣ء میں کانگرس کو پہچان کر الگ ہوگئے تھے۔

علمائے دین کی بھاری اکثریت اتنی سی بات کو نہ سمجھ سکی چلیں یونہی سہی البتہ آج کے پاکستانی عوام یہ پوچھنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ ہندو کی ہاں میں ہاں ملانے والے لہندا انگریزی جمہوریت کے متوالے علمائے دین نے جب یہ دیکھا کہ امت کی بھاری اکثریت نے تحریکِ پاکستان کو اپنا لیا ہے تو کیا اپنی جمہوریت پسندی کے اصول کی روشنی میں ان کو مسلمانانِ بر عظیم کی مرضی قبول کر لینی چاہئے تھی یا نہیں۔

آج بھی ان علماء کا وہی گروہ پر شکوہ اور اسی طرح دیوبند کے باہر کے دین پسند حلقوں کے وابستگان’جو ہر نظام پر خواہ وہ نظام شوریٰ ہی کیوں نہ ہو مغربی جمہوریت کو ترجیح دیتے ہیں مسلمانانِ بر عظیم کے اس واضح جمہوری فیصلے کو قبول کرنے پر کیوں تیار نہیں۔
اگر علماء کی سیاست ہارتی ہے تو پھر ان کو ہرانے والی جمہوریت مرددو۔

ہندو گانٹھ کا پکا تھا کہ وہ اپنی ہر پارٹی ہر گروہ اور ہر پلیٹ فارم پر ہندو تھا۔ ہندؤوں میں کیمونسٹ بھی تھے مگر ہندو مفادات کے باب میں وہ بھی فقط ہندو تھے ہندؤوں میں رائے بہادر اور سر بھی تھے مگر وہ بھی اپنی قومی امنگوں سے ہم آہنگ تھے خود ان کی اپنی قوم نے ان کو ہندو جاتی کے مفادات کا دشمن کبھی نہ جانا وہاں کانگرس اور مہا سبھائی معناً ایک تھے۔ وہ سارے لیڈر قوم کے مشترک لیڈر تھے وہ مشرک تھے مگر عملاً وحدت پسند ادھر مسلمان موحد تھے مگر تفرقہ ہی تفرق۔

لہذا عملاً مشرک (قرآن نے امت میں تفرقہ پیدا کرنے والوں کو مشرک قرار دیا ہے)۔ تحریکِ پاکستان پھیل کر فقط مسلم لیگ ہی کا مسئلہ نہیں رہ گئی تھی تاہم ہمارے علماء کبار کی بھاری اکثریت کو اس میں مسلمانوں کا مفاد نہیں بلکہ فساد نظر آتا تھا ایسا کیوں تھا۔

جناح کی سیاسی بصیرت کو سلام پیش کرنا چاہئے جس نے ہندو کی مکاری عیاری کو بھانپ کر جدوجہد شروع کی۔ جناب زیڈ اے شیخ اور محمد رؤف کی انگریزی تصنیف ”قائداعظم اور اسلامی دنیا” میں کچھ کلمات درج ہیں جو قائد اعظم نے مصر کے اکابرکی خدمت میں ارشاد فرمائے تھے۔

دسمبر 1946 میں انگلستان سے لوٹتے وقت قائد اعظم مصر میں چند روز کیلئے رک گئے تھے۔ لیاقت علی خان بھی ہمراہ تھے۔مصر میں وہ موتمر عالم اسلامی کے اجلاس میں شرکت کرنے اور مصر کے اہلِ سیاست و اہلِ صحافت کو تحریکِ پاکستان کے مطالب مقاصداور مفادات سے آگاہ کرنے کیلئے گئے تھے۔

قائد اعظم نے وزیراعظم مصر نقراشی پاشا اور سابق وزیراعظم اور وفد پارٹی کے قائد نحاش پاشا کی ضیافتوں میں شرکت کی اور اہلِ صحافت کی دعوتوں میں بھی۔اے کاش قائد اعظم کے وہ سارے بیانات کوئی اکھٹے کر سکتا جو عربی اور انگریزی اخبارات میں ان دنوں شائع ہوئے۔ دسمبر کے نصف آخر کے مصری انگلستانی اخبارات اور ہندوستان کے خصوصاً ڈان اخبار کے تراشے ملاحظہ فرمائیں جو آج بھی برٹش لائبریری میں محفوظ ہیں۔

والپرٹ اور زیڈ اے شیخ وغیرہ نے جو لکھا اس میں قائد اعظم کا اس امر پر زور تھا کہ۔

“تم مصر والے بلکہ سارے مشرقِ وسطیٰ والے اس بات سے واقف نہیں ہو کہ کہ انگریز کے جانے کے بعد جو مملکت انگریزی استعمار کی وارث بنے گی وہ کتنی بڑی اور طاقتور ہو گی،تم لوگ ایک نئی مصیبت میں مبتلا ہو جاؤ گے’’ تمہاری نہر سویز آج انگریز کے اشارہً ابرو پر کھلتی اور بند ہوتی ہے تو کل ہندو مملکت کا حکم نافذ ہو گا ہاں اگر ہم وہاں پاکستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو پھر ہندو مملکت کی توجہ کا مرکز ہم ہونگے تم عیش کرنا۔اس لئے یہ امر ذہن نشین رہے کہ ہم ہندوستان میں فقط وہیں کے مسلمانوں کی جنگِ آزادی نہیں لڑ رہے ہیں۔ ہم ہندو کی اجتماعی نفسیات کو سمجھتے اور جانتے ہیں۔ وہ غیر ہندو عناصر کو اپنے معاشرے میں زندہ نہیں رہنے دیتے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اگر ہم وہاں ہار گئے تو ہم نہ صرف ازروئے تمدن مٹا دیئے جائیں گے بلکہ ازروئے دین بھی نابود ہو جائیں گے۔ اور اگر ہم وہاں مٹ گئے تو ہمارے ارد گرد کے مسلمان ممالک بھی مشرقِ وسطیٰ سمیت برباد ہو جائیں گے۔آپ صفحہ ہستی سے محو ہو جائیں گے۔
لہندا یاد رکھیں کہ اگر ہم ڈوبیں گے تو اکھٹے تیریں گے تو اکھٹے۔”

سخت گیر ہندو سرل مودک نے اپنی کتاب تقدیر ہند Indian Destiny میں داراشکوہ کو آزاد خیال اور سیکولر ذہن کا مالک اور اورنگ زیب کو تنگ دل اور متعصب شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے دور میں داراشکوہ کا جانشین ابوالکلام آزاد ہے اور اورنگ زیب کا جانشین مسٹر جناح ہے۔
وہی داراشکوہ جس کے بارے میں حضرت علامہ اقبال نے فرمایا تھا۔
تخم الحادے کہ اکبر پرورید بار دیگر در دل دارا ومید۔
(الحاد کا بیج جو اکبر نے بویا تھا وہ دوبارہ داراشکوہ کے دل میں پھوٹ پڑا)۔
یعنی اس کتاب میں سیکولر ذہن کا جانشین جس شخص کو بتایا گیا تھا وہ امام الہند خطیب الہند ہے اور متعصب تنگ دل مسلمان جسے بتایا گیا وہ مسٹر جناح ہے“۔

بہت سوں کو یاد ہوگا جب علامہ شبیر احمدعثمانی نے قائداعظم کے جنازے کے موقع پر ارشاد فرمائے۔

“قائداعظم محمد علی جناح حضرت اورنگزیب عالمگیر کے بعد برعظیم کے سب سے بڑے مسلمان تھے”۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: