تصوف ——– محمد انور عباسی

0
  • 25
    Shares

(نوٹ) زیر نظر مقالے میں تصوّف کی حمایت یا تردید میں کچھ کہنے سے گریز کیا گیا ہے۔احتیاط کی گئی ہے کہ اس میں صرف وہی عقائد بیان کئے جائیں جسے اہلِ تصوف نے اپنی کتابوں میں تصریحاً لکھا ہے۔)

ایک اجمالی تعارف
ہر مذہب، ہر قوم، ہر ملک اور ہر دور کے تصوف کا طریق کار ایک ہی رہا ہے، یعنی عشق۔ اگر خدا محبوب ہے اور انسان محب ہے تو لا محالہ محبوب کے حصول کا طریقہ محبت (عشق) ہی قرار پا سکتا ہے۔ ( تاریخِ تصوف، ص ۹،: سلیم چشتی) دوسرے الفاظ میں تصوف کا کسی خاص مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ اس امر کے باوجود ہمارے ہاں تصوف کو اسلام سے نتھی کر دیا جاتا ہے۔صرف محبت اور عشق کے الفاظ پر ہی غور کر لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ مترادف الفاظ نہیں جس طرح تصوف میں بیان کئے جاتے ہیں۔ یہاں یہ ذہن میں رہے کہ قرآن میں لفظ محبت تو ہے لیکن عشق کا لفظ ہمیں کہیں نظر نہیں آتا اگرچہ یہ بھی عربی زبان کا لفظ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تصوف روحانی دریافتوں کا مذہب ہے جس کی بنیاد اس تصور پر قائم ہے کہ انسان کے لیے باطنی طور پر خدا کا براہ راست تجربہ کرنا ممکن ہے۔ اس بات کو سادہ لفظوں میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ تصوف زندگی کو غیر جسمانی سطح پر دریافت کرنے کی کوشش کا نام ہے قطع نظر اس سے کہ اس تجربہ سے خود آگہی و خدا شناسی حاصل ہوتی ہے یا اپنی بے خبری کی بھی خود کو خبر نہیں ہوتی۔ لُغوی اعتبار سے تصوف اور صوفی کی اصل ’’صوف‘‘ ہے لیکن اس سے ملتی جلتی آواز والے بعض دوسرے الفاظ جیسے ’’صفہ‘‘ اور ’’صفا‘‘ سے بھی صوفی کو مشتق بتایا جاتا ہے۔ صوف اہلِ تصوف کا پسندیدہ لباس رہا ہے۔

صفہ مسجدِ نبوی میں ایک چبوترہ ہے جس پر بعض صحابہ کرامؓ بیٹھ کر دنیوی زندگی سے کٹ کر دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ جو لوگ تصوف کو ’’صفا‘‘ سے مشتق مانتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ یونانی لفظ ’’صوفیا‘‘ سے آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں عقل اور دانش۔

شیخ ابو نصر سراج طوسیؒ فرماتے ہیں کہ انبیاء و صدیقین اسی لباس میں رہتے تھے۔شیخ شہاب الدین سہروردیؒ کا بیان ہے کہ ہمیشہ سے زاہدین و عابدین اور صالحین و متقین کو صوف کا لباس مرغوب رہا ہے۔ (عوارف المعارف، ص ۳۴)۔ شیخ علی ہجویریؒ نے صوف پوشی کو صوفیوں کا شعار بتایا ہے اور اسے سنتِ رسول سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے رسول ﷺ کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ صوف کا لباس پہنو، اپنے دلوں میں ایمان کی حلاوت پائوگے۔ اسی طرح شیخ سہروردی ؒ نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے حوالہ سے ایک حدیث بیان کی ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ہم کلامی کا شرف بخشا اس روز آپ ؑ صوف کا جبہ پہنے ہوئے تھے۔’’صفہ‘‘ اور ’’صفا‘‘ سے تصوف مشتق کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس کا تعلق اصحابِ صفہ سے جا ملتا ہے۔ صفہ مسجدِ نبوی میں ایک چبوترہ ہے جس پر بعض صحابہ کرامؓ بیٹھ کر دنیوی زندگی سے کٹ کر دینی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ جو لوگ تصوف کو ’’صفا‘‘ سے مشتق مانتے ہیں ان کا خیال ہے کہ یہ یونانی لفظ ’’صوفیا‘‘ سے آیا ہے۔ اس کے معنی ہیں عقل اور دانش۔ بنیادی طور پر یہ لفظ فلسفہ (Philosophy)کے مفہوم میں شامل ہے۔

اصول تصوف میں یکسانیت
تصوف کوئی دینِ اسلام ہی میں نہیں دکھائی دیتا بلکہ یہ بھی مذہب کی طرح عالمگیر تصور ہے۔ اس کے اصول و مبادی ہر قوم میں یکساں رہے ہیں۔ اس کی وجہ سلیم چشتی یہ بتاتے ہیں کہ: ’’ہر صوفی در اصل عاشق ہوتا ہے اس لیے ہر قوم اور ہر ملک کے تصوف کا دارومدار عشق و محبت ہی پر ہے۔ فرق جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری اوضاع و رسوم میں ہے۔۔۔الغرض صوفی خواہ ہندو ہو یا مسلمان، مقصود دونوں کا ایک ہی ہے، مگر ان کے عقائد ِ مذہبی، شعائر ِ مذہبی اور رسومِ مذہبی میں اختلاف کی وجہ سے دونوں کے مزاج فرق ضرور پیدا ہوجاتا ہے ‘‘ (تاریخِ تصوف،ص ۱۰)۔تصوف کی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو اس کی بنیاد دو اہم مشترک اصولوں پر قائم ملے گی۔ پہلا اصول یہ ہے کہ ہر انسان براہ راست خدا سے ہم کلام ہو سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ بالآخر انسانی نفس کا فنا فی اللہ ہوجانا۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کائنات میں ایک حقیقتِ مطلقہ یعنی خالقِ کائنات ہے۔ انسانی نفس ترقی کر کے اس کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس کو فنا یا وصال کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ یہ ساری کیفیات جذبات کی طرح ہر لحاظ سے ذاتی اور انفرادی ہوتی ہیں۔جب کوئی تجربہ ذاتی اور انفرادی ہو تو اس کو دوسرا کوئی نہ سمجھ سکتا ہے نہ محسوس کر سکتا ہے۔

ہندی افکار
۱۔ مقصدِ حیات برہمن (خدا) کو پانا ہے۔ یعنی اس ذاتی اتصال پیدا کرنا ہے۔ اس کیفیت کو بذریعہ الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ واصل ہو کر دیکھ لو سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔ ( ایضاً، ص ۲۵)۲۔ اپنشدوں میں بنیادی طور پر عقیدہ توحید (وحدۃ الوجود) کی تشریح کی گئی ہے۔ یعنی لا موجود الا اللہ کہ حقیقی معنوں میں ایشور (اللہ) کے سوا کوئی شے موجود نہیں ہے۔ یہ کائنات ایشور کا خیال ہے۔(ایضاً،ص۲۶) ۳۔ وحدت الوجود کا مطلب ہی یہ ہے کہ خدا ہر شے میں پوشیدہ ہے اور ہر شے میں جلوہ گر ہے اور ہر شے میں ظاہر ہو رہا ہے۔(ص،۲۵)۔سادہ الفاظ میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس مادّی کائنات میں کوئی چیز اپنا وجود نہیں رکھتی۔ یہ مادّہ جو ہمیں دکھائی دیتا ہے، یہ زمین، یہ پہاڑ، یہ دریا اور سمندریہ کھیت اور کھلیان، یہ امیروفقیر، بادشاہ و عوام،یہ چلتی پھرتی موٹر کاریں، ریل گاڑیاں، ہوائی جہاز اور خلائی شٹل حقیقت میں سب خدا ہی ہیں۔ یعنی خدا ہر چیز ہے اور ہر چیز خدا۔

یونانی افکار
۱۔ فلوطین کے فلسفے کی بنیاد وحدتِ وجود پر ہے۔ (ایضاً،ص، ۷۶)۲۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم وحدت اور خیر کے تصورات بھی اس سے منسوب نہیں کر سکتے کیونکہ ان سے بھی اِس کی ذات کی تحدید لازم آتی ہے۔ (ایضاً،ص ۷۷)۳۔ وہ تمام صفات اور تعریفات سے بالا تر ہے۔ جب ہم اس سے تمام صفات کی نفی کر دیں تو وہ کسی حد تک قرینِ عقل ہو سکتا ہے۔(ایضاً،ص ۷۶۔۷۷)

اسلامی افکارِ تصوف
اسلام میں بھی یہ افکار تقریباً ان ہی الفاظ میں ملتے ہیں۔ تفصیل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خطیب بغدادی کی تاریخ سے چند جملے نقل کریں گے جس سے معلوم ہو گا کہ تصوف کسی خاص مذہب سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ یہ کچھ الگ ہی سلسلہ ہے۔ خطیب بغدادی فرماتے ہیں: ’’پاک ہے اس کی ذات جس نے اپنے ناسوت کو لاہوت کا روشن بھید بنا کر ظاہر کیا۔ پھر وہ اپنی مخلوق میں کھانے پینے والوں کی شکل میں آشکارا ہوا۔ یہاں تک کہ اس کو اس کی مخلوق نے اس طرح دیکھا جیسا ایک دیکھنے والا دوسرے کو دیکھتا ہے‘‘۔ یہی بات منصور حلّاج نے اپنے ان اشعار میں بیان کی ہے: ؎ کفرت بدین اللہ والکفر واجب  لدی و عندالمسلمین قبیح۔ یعنی میں نے اللہ کے دین کا انکار کیا اور میرے نزدیک یہ انکار (کفر) واجب ہے، اگرچہ مسلمانوں کے نزدیک یہ بہت برا ہے۔  اسی لئے ابن عربی نے فصوص الحکم میں لکھا کہ ’’فرعون کو ایک طرح سے حق تھا کہ کہے ’انا ربکم الاعلی‘ کیونکہ فرعون ذاتِ حق سے جدا نہ تھا اگرچہ اس کی صورت فرعون کی سی تھی‘‘۔ دوسرے الفاظ میں فرعون اور خدا دراصل ایک ہی سکے دو رُخ ہیں۔

اصطلاحاتِ تصوف
اسلام نے قرآن و سنت میں واضح طور پر کچھ اصطلاحات تعارف کروائی ہیںجو اپنا خاص مفہوم رکھتی ہیں مثلاً دعا، توکّل، مجاہدہ، تزکیہِ نفس، ذکر و مراقبہ وغیرہ۔ اسلام جو مفہوم عطا کرتا ہے، اس پر گفتگو اس وقت موضوع سے خارج ہے۔ تصوف جو مفہوم عطا کرتا ہے وہ مختصر الفاظ میں درج ذیل ہے:

تزکیہ نفس
مجاہدہ سے اصل غرض تزکیہ نفس ہے۔ نفس چونکہ جمہور صوفیہ کے نزدیک منبعِ شر ہے اس لئے نفس کشی ہی دراصل تزکیہ نفس ہے اور مجاہدہ در حقیقت وہ ذریعہ ہے جس سے تزکیہ نفس حاصل ہوتا ہے۔ صفاتِ نفس کی تعبیر کے لئے شیخ ہجویریؒ نے ھوی کا لفظ استعمال کیا ہے اور اسے انسان کی سرشت میں شامل بتایا ہے۔ ان کے خیال میں اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہوائے لذت و شہوت اور دوسرے ہوائے جاہ و ریاست۔ ان دونوں کو ختم کرنا ضروری ہے۔فطری خواہشات اور طبعی میلانات کو اہلِ تصوف نے ہوائے نفس کا نام دیا ہے۔ چنانچہ چالیس چالیس دن تک ترکِ طعام کو اس خیال سے لازم ٹھہرایا ہے کہ اس سے پہلے بھوک لگتی ہی نہیں اور اگر اس درمیان میں کھانے کی طلب ہو تو اسے حرص اور غرور طبع پر محمول کیا ہے۔ امام غزالیؒ نے ایک بہت ہی بنیادی بات یہ کہی ہے کہ ’’اس کی تمام تر سبیل یہ ہے کہ نفس جس چیز کی بھی خواہش کرے اور جدھر بھی مائل ہو ان سب کے معاملہ میں مخالفانہ روش اختیار کی جائے‘‘۔ (احیاء علوم الدین، سوم،ص ۲۵)۔یہی علاج بالضد تزکیہ نفس کا حصول ہے جس کی تفصیل درج ذیل سطور میں کی گئی ہے۔

دعا
رسالہ القشیریہ میں ارشاد ہوتا ہے: ’’ الفقیر ھوالذی لا یکون لہ الی اللہ حاجۃ‘‘۔ یعنی فقیر ایسی ہستی ہے جسے اللہ کی کوئی ضرورت لاحق نہیں ہوتی۔ اس کی تشریح و تاویل شیخ سہروردیؒنے اس طرح کی ہے کہ :’’خدا کی نگہبانی کا اسے علم ہے۔ عرض حاجت کی ضرورت اس لیے نہیں سمجھتا کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے حال سے باخبر ہے، چنانچہ سوال کو درمیان میں فضول سمجھتا ہے۔ ایک دوسرے بزرگ کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے انتقال کے وقت ایک مرید نے ین کی مغفرت اور جنت میں جانے کی دعا کی تو انہوں نے نظر اٹھائی اور فرمایا،’کیا واہیات خرافات بک رہے ہو۔ تیس برس سے مجھے کہا جا رہاہے کہ یہ دیکھو بہشت ہے، پسند کرتے ہو؟ مگر ہم نے نظر اٹھا کر بھی ادھر نہیں دیکھا، یہ بھی کوئی دعا میں دعا ہے‘‘؟

توکّل
۱۔ترکِ تدبیر اور نفیِ اختیار: حضرت ذوالنون مصریؒ فرماتے ہیں کہ توکّل نام ہے ترکِ تدبیر اور اپنے اختیار و قوت سے باہر نکل جانے کا۔ اس کی اصل حقیقت فقروفاقہ ہے۔۲۔ توکّل کا تقاضا ہے کہ کوئی زادسفر نہ ہو۔ اس کی تائید کرتے ہوئے امام غزالیؒ لکھتے ہیں: ’’بغیر زادِ سفر کے صحرا میں نکلنا توکّل کے اعلیٰ مقامات میں سے ہے،اسی لیے خواص ایسا کرتے تھے۔ اس کے لیے دو شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ ایک ہفتہ تک ترکِ طعام پر قدرت ہو،دوسرے ضرورت پڑنے پر گھاس کھا سکتا ہو‘‘۔ (احیاء علوم الدین)۳۔ اسباب کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ: ’’اسے تلاش کرنے کی ذمہ داری ہمارے اوپر نہیں ڈالی گئی اور نہ ہمیں اس کی ضرورت ہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روزی کمانے یا اس کے لئے کوئی ذریعہ اختیار کرنے کی شرط عائد کئے بغیر اس کی مطلق ضمانت لے لی ہے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا۔ پھر یہ بات کیوں کر صحیح ہو سکتی ہے کہ وہ بندہ کو اس چیز کی تلاش و طلب پر مامور کرے جس کے حصول کی جگہ ہی اسے معلوم نہیں، کیونکہ اس بات کو کوئی نہیں جانتا کہ اسے کس درجہ سے اور کہاں سے رزق ملے گا‘‘۔۴۔ حضرت جنید بغدادیؒ سے کچھ لوگوں نے پوچھا کہ ہم اپنا رزق کہاں تلاش کریں؟ فرمایا اگر تمہیں اس کی جگہ معلوم ہے تو وہاں تلاش کرو۔ انہوں نے کہا کیا ہم اللہ تعالیٰ سے مانگیں؟ فرمایا اگر یہ سمجھتے ہو کہ اس نے تمہیں بھلا دیا ہے تو اسے ضرور یاد دلائو۔ لوگوں نے پھوچا پھر کیا کریں؟ ارشاد دہوا،ترکِ تدبیر۔

مجاہدہ
توکّل (ترکِ تدبیر، ترکِ اسباب، ترکِ اختیار) ان تینوں چیزوں کے ترک کے لئے ایک صوفی کی کوششِ حیات مجاہدہ کہلاتی ہے۔ظاہر ہے کہ اس دنیا میں ان چیزوں کو ترک کرنا کچھ آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے بڑی جدوجہد اور مسلسل ریاضت درکار ہے۔ امام قشیریؒ مجاہدہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ مجاہدہ کی اصل اور اس کی بقا نفس کو اس کی مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے علیحدہ کرنے اور خواہشات کی خلاف ورزی پر ہمہ وقت اسے ابھارنے پر ہے‘‘۔نفس کی مرغوبات بلکہ ضروریاتِ زندگی میں سب سے مقدم چیز غذا ہے۔ خوردونوش کے معاملہ میں صوفیائے کرام کا جو رویّہ رہا ہے اس کا کسی قدر اندازہ ان کے معمولات سے لگایا جا سکتا ہے۔ اکثر وبیشتر یہ حضرات چالیس دن تک کھانے سے پرہیز کرتے تھے۔ حضرت سہل بن عبداللہ ؒ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ستر دن تک کھانے سے باز رہتے تھے۔ شیخ ہجویریؒ نے دو بزرکوں کے متعلق اپنا چشم دید واقعہ نقل کیا ہے جو اسی دن سے بھوکے تھے اور نماز باجماعت ادا کر رہے تھے۔ بعض صوفیہ کے یہاں ترکِ طعام کی مدت اس سے بھی زیادہ طویل رہی ہے۔ ابو عقال المغربی کے بارے میں صوفیہ کے ہاں مشہور ہے کہ انھوں نے چار یا سات سال تک کھانے کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ اسی طرح عیسیٰ بن نجم کے متعلق روایت ہے کہ انھوں نے سترہ سال تک نہ کچھ کھایا،نہ پیا اور نہ سوئے۔صرف کھانے کی بات نہیں،صوفیہ کرام ان تمام چیزوں کو اپنے حق میں مضر سمجھتے ہیں جن سے ان کی ریاضت میں ذرا بھی خلل پڑنے کا اندیشہ ہو۔ چونکہ اس لحاظ سے عائلی زندگی ان کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی تھی اس لئے انھوں نے تجرد کو اپنا شعار بنایا،جیسا کہ شیخ ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ طریقت کی بنیاد تجرد پر رکھی گئی ہے۔

نکاح میں دو برائیاں ہیں، ایک یہ غیر اللہ کا دل میں خیال پیدا ہونا اور دوسرے یہ کہ جسم کا لذتِ نفس میں مشغول ہونا۔ ان ہی وجوہ سے نکاح کو تصوف کی روحانی زندگی کے لئے سب سے خطرناک سمجھا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض صوفیہ نکاح کے بعد بھی اپنی بیویوں سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ ابراہیم خواصؒ ایک بزرگ کے بارے میں جن کی زیارت کو وہ خود گئے تھے، فرماتے ہیں کہ انھیں ان کا گھر انتہائی پاکیزہ لگا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ بزرگ اپنے پینسٹھ سالہ ازدواجی زندگی میں ایک بار بھی اپنی بیوی سے نہیں ملے تھے، اور دونوں گھر کے دو مختلف گوشوں میں بالکل غیروں کی طرح رہ رہے تھے!حضرت بختیار کاکیؒ کے متعلق روایت ہے کہ ان کی شادی کے ابتدائی دنوں میں ایک شخص کو رسولﷺ نے خواب میں ان تک یہ پیغام پہنچانے کی ہدایت کی کہ جو تحفہ وہ پہلے بھیجا کرتے تھے وہ تین راتوں سے نہیں پہنچ رہا۔وہ تحفہ یہ تھا کہ حضرت کاکیؒ روزانہ تین ہزار درود شریف پڑھ کر سویا کرتے تھے جس میں ان کی نئی نئی شادی کی وجہ سے رکاوٹ پیدا ہوگئی تھی۔ رسول اکرم ﷺ کا یہ پیغام سننے کے بعد انھوں نے فوراً اپنی بیوی کو طلاق دے کر فارغ کر دیا۔ تصوف کی پوری عمارت چونکہ نفس کی مخالفت پر قائم ہے اس لئے اس مذہب میں تمام دنیاوی خواہشات کی خواہش ازدواج کو ختم کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے ان چیزوں کو ترک کرنا بھی لازم ہے جن سے یہ خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جسمانی مطالبات اور فطری خواہشات کے کچلنے میں تعذیبِ نفس کے جن مراحل سے ایک صوفی کو گزرنا پڑتا ہے ان کو دیکھئے:

۱۔ حضرت دائود طائیؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں نمک کھانے کی خواہش ہوئی تو انھوں نے مرتے دم تک کوئی نمکین چیز نہیں کھائی۔۲۔ حضرت شبلیؒکے بارے میں روایت ہے کہ وہ نیندکو دور کرنے کے لئے اپنی آنکھوں میں نمک ڈالا کرتے تھے۔۳۔ شیخ ابو طالب مکیؒ نے ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ وہ تیس برس تک اپنے منہ میں کنکریاں بھرے رہے تاکہ انھیں رہنے کی عادت پڑ جائے۔۴۔ کردی صوفی سلسلہ میں روایت ہے کہ ان کے جسم کے کسی حصہ میں کیڑے پڑ گئے تھے، جب کوئی کیڑا زمین میں گر جاتا وہ اسے اٹھا کر اسی جگہ رکھ دیا کرتے۔۵۔ امام قشیریؒ نے ایک صاحبِ کشف بزرگ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے جسم سے بھڑیں لپٹی رہتی تھیں اور وہ ان کی نیش زنی کو اپنے حق میں بہتر سمجھتے ہوئے انھیں خود سے دفع نہیں کرتے تھے۔۶۔ شیخ ہجویریؒ کا بیان ہے کہ انھوں نے ایک بڑے فاضل بزرگ کو دیکھا جو بیس سال سے مسلسل کھڑے ہوئے تھے، صرف نماز میں تشہد کے لئے بیٹھتے تھے۔ ۷۔ صوان بن سلیمؒ جاڑوں میں زمین پر لیٹتے تھے تاکہ انھیں ٹھنڈک لگے اور گرمیوں میں گھر کے اندر لیٹتے تھے تاکہ گرمی لگے اور وہ سو نہ سکیں۔۸۔ حضرت جنیدبغدادیؒ کا بیان ہے کہ انھوں نے سریؒ سے زیادہ کسی کو عبادت گزار نہیں دیکھا۔ وہ اٹھانوے برس تک زندہ رہے اور سوائے مرض الموت کے کبھی لیٹے نہیں دیکھے گئے۔ ۹۔ میرخورد نے چشتی سلسلہ کے ایک بزرگ خواجہ ابو محمدؒ کو مجاہدہ کے انتہائی درجہ پر فائز بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ اپنے مکان کے ایک گہرے کنویں میں الٹے لٹک کر عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ ۱۰۔ شیخ فرید الدین گنج شکرؒ کے بارے میں شیخ عبدالحق دہلویؒ تحریر فرماتے ہیں کہ اوچہ کی ایک مسجد کے کنویں میں انھوں نے بھی چلہِ معکوس کھینچا تھا۔ (چلہِ معکوس چالیس دنوں تک الٹے لٹک کر وظیفہ پڑھنے کو کہتے ہیں۔) ان سخت ریاضتوں کا خود کو عادی بنانے کے لئے بعض شیوخ اپنے ابتداء اارادت میں رات رات بھر سر کے بل کھڑے رہنے کی مشق کیا کرتے تھے۔ ۱۱۔ مجاہدہ نفس کو تصوف میں جہاد اکبر کہتے ہیں کیوں کہ اس راہ میں نفس انسان کا سب سے بڑا دشمن ہے اور جو سب سے بڑا دشمن ہو اس کے خلاف جہاد لازماً جہادِ اکبر ہی کہلائے گا۔ شیخ سہروردیؒ نے خانقاہی زندگی گزارنے والوں کی فضیلت قرآن کی آیت ’’وجاھدوا فی اللہ حق جھادہ ‘‘سے یہ استدلال کیا ہے کہ خانقاہ میں رہنے والا چونکہ نفس کا مجاہد ہوتا ہے اور مجاہدہ نفس ہی جہاد اکبر ہے اس لئے فی الواقع وہی حق جہاد ادا کرنے والا ہے۔

ذکر و مراقبہ
ذکر جلی: یک ضربی و دو ضربی (سلسلہِ قادریہ): اسم اللہ کو قلب و حلق کے زسر سے پورے شدو مد کے ساتھ بلندآواز سے ادا کرے۔ پھر ٹھہر جائے، یہاں تک کہ اس کی سانس ٹکھانے آجائے۔ پھر بار بار اسی طرح کرے۔ (سلسلہ نقشبندیہ) شاہ ولی اللہؒ اس کا طریقہ یہ بتاتے ہیں : لفظ ’’اللہ‘‘ کو اپنے ناف سے پورے شد کے ساتھ نکالے اور اس کو اوپر کھینچے یہاں تک کہ دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے۔ سانس روک کر تدریجاً اس کی مقدار بڑھاتا جائے۔ بعض نقشبندی تو ایک سانس میں اس کو ہزار بار کہتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کہتے ہیں کہ میں نے خود ایک عورت کو جو والد صاحب کی مرید تھی دیکھا کہ وہ ایک سانس میں اسمِ ذات کو ہزار بار کہہ لیتی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

مشاہدہِ حق
مشاہدہِ اہلِ تصوف کی زندگی ہے۔ اسی کے لئے وہ مجاہدات کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور دنیا سے کنارہ کش ہو کر اپنے وجود تک سے غافل ہو جاتے ہیں۔ شیخ ہجویریؒ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کا دوست مودودات سے آنکھیں پھیر لیتا ہے تو لا محالہ دل سے اللہ کو دیکھ لیتا ہے۔ بھوک اور بیداری سے ہی قلب میں یہ قوت پیدا ہوتی ہے، اس لئے ان کے ذریعہ ہی مجاہدہ نفس کیا جاتا ہے۔

علمِ باطن
شیخ ہجویری ؒ فرماتے ہیںکہ شریعت حکم میں حقیقت سے مختلف ہے۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ دونوں کے درمیان بہت سے فرق ہیں۔ اس فرق کو امام قشیریؒ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’ شریعت نام ہے التزامِ عبودیت کے حکم اور حقیقت مشاہدہ ربوبیت کو کہتے ہیں۔ چنانچہ شریعت یہ ہے کہ تم اس کی عبادت کرو اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا مشاہدہ کرو۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں۔’’اللہ تک پہنچانے والے راستے دو قسم کے ہیں۔ ایک قسم تو وہ ہے جس کو وحی الہی اور تعلیماتِ انبیاء نے تلقین فرمائی اور دوسری قسم وہ ہے جسے الہام اور معار ف اولیاء نے تلقین کیا ہے۔ دوسری جگہ فرماتے ہیں: ’’ خدا رسیدگی کے دو راستے ہیں، ایک راستہ تو وہ ہے جو نبی کے واسطہ سے خلق تک پہنچا۔ دوسرا وہ ہے جو اللہ اور اس کے بندہ کے دمیان ہے۔ اصلاً اس طریقہ میں کوئی بھی درمیانی واسطہ نہیں ہے‘‘۔ یہ بے واسطہ الہامی طریقہ پیغمبرانہ طریقہ کے بالعکس بڑے دعووں کا حامل رہا ہے۔ مثلاً حضرت بایزید بسطامیؒ اپنے علم ِ بے واسطہ کے متعلق فرماتے ہیں: ’’اخذتم علمکم عن میت و اخذنا علمنا عن الحی الذی لا یموت‘‘، یعنی تم نے اپنا علم مُردوں سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم اس ہستی سے حاصل کیا ہے جو زندہ ہے اور جس کو کبھی موت نہ آئے گی۔ الرسالہ القشیریہ میں لکھا ہے کہ: ’’بندہ جب معرفت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اپنی طرف سے اس کے دل میں بات ڈالتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے تا کہ اس میں غیر خدا کی جانب سے کوئی بات القا نہ ہو‘‘۔ اس علمِ باطن کی بدولت ایک صوفی علمِ غیب کی کن بلندیوں تک پہنچ جاتا ہے اس کا اندازہ حضرت شبلیؒ کے اس قول سے لگائیں۔

آپ فرماتے ہیں: ’’ کسی تاریک رات میں سخت چٹان پر اگر کوئی سیاہ چیونٹی رینگے اور میں اس سے واقف یا باخبر نہ ہوں تو یہ کہوں گا کہ میرے ساتھ دھوکا کیا گیا ہے‘‘۔ شاہ ولی اللہؒ اپنے بڑے چچا حضرت ابوالرضا محمدؒ کے وسعتِ علم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انھوں نے ایک خادم کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا : ’’بخدا اگر زمین کے نچلے طبق میں ایک چیونٹی ہو اور اس کے دل میں سو خیالات آئیںتو اس کے نناوے خیالات کو میں جانتا ہوں اور حق تعالیٰ سو کے سو جانتا ہے‘‘۔ اسی طرح ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ: ’’حضور اکرمﷺ نے جبریلؑ سے علمِ باطن کے بارے میں پوچھا، انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ میرے اور میرے احباء و اولیاء و اصفیاء کے درمیان ایک راز ہے جسے میں ان کے دلوں میں ڈالتا ہوں۔ اس پر نہ کوئی مقرب فرشتہ مطلع ہو سکتا ہے اور نہ کوئی نبی یا رسول‘‘۔ علمِ باطن کے اس سلسلے کو حضرت علیؓ تک پہنچایا جاتا ہے۔ حضرت علیؓ سے ایک قول منسوب ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ رسول اکرمﷺ نے مجھے ستر قسم کے علوم سکھائے جنھیں میرے علاوہ کوئی دوسرا نہیں جانتا۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ ؒ فرماتے ہیں کہ ’’تمام صوفیہ کا نسلاًً بعد نسلِِ اس بات پر اتفاق چلا آتا ہے کہ طریقت کے سارے سلسلے حضرت علیؓ کی طرف راجع ہیں‘‘۔ محی الدین ابن عربی جنھیں شیخِ اکبر کہہ کر پکارا جاتا ہے، اور جنھیں سلسلہِ تصوف میں سند کی حیثیت حاصل ہے، اپنی مشہور فصوص الحکم میں لکھتے ہیں: ’’ جس مقام سے نبی لیتے تھے اسی مقام سے انسانِ کامل، صاحب الزماں، غوث اور قطب لیتے ہیں۔ صاحبِ کشف اللہ تعالیٰ سے لینے کے طریقے سے واقف ہونے کی بدولت خاتم النبیین کے موافق ہے۔ ان کا اللہ تعالیٰ سے لینا عین رسول اللہ کا لینا ہے‘‘۔

تصوّرِ شیخ
تصوف میں تصوّرِ شیخ کے خاص آداب مقرر ہیں۔ ان کے متعلق خاص عقائد رکھنا ضروری ہیں۔ شیخ ابو نصر سراج طوسیؒ نے اس کے بنیادی شرائط میں سے بتایا ہے کہ مرید کو اوّل مرحلہ میں اپنے سارے علم و عقل کو فراموش کر دینا چاہیے اور شیخ جو کچھ بتائے اسے قبول کرنا چاہیے اس کے بغیر شیخ کے صحبت کا خیال دل میں لانا عظیم غلطی ہوگی۔ یہ اس وجہ سے کہ سچا مرید بقول حضرت جنید بغدادیؒ وہ ہے جو علماء کے علم سے بے نیاز ہو اور بخلاف لُغت، تصوف میں مرید اسے کہتے ہیں جس کا اپنا کوئی ارادہ نہ ہو۔ شیخ کی کوئی بات بظاہر کتنی ہی غلط کیوں نہ دکھائی دیتی ہو مرید کو اس کا یقین ہونا چاہیے کہ شیخ کے پاس اس کی صحت کے لئے کوئی قطعی دلیل ضرور ہو گی۔ ( عوارف المعارف،اول، ص ۵۳)۔ شیخ ابو سعید ابولخیرؒ کے متعلق روایت ہے کہ وہ گھوڑے پر سوار کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں ایک مرید ملا جس نے ان کے زانو پر بوسہ دیا۔ شیخ نے کہا اور نیچے تو اس نے ان کے پائوں کا بوسہ لیا۔ شیخ نے کہا اور نیچے تو اس نے گھوڑے کے زانو کو بوسہ دیا۔ شیخ نے حکم دیا کہ اور نیچھے تو مرید نے گھوڑے کے سم کو بوسہ لیا۔ شیخ کہا اور نیچے تو مرید زمین پر سر بسجود ہوا۔ شیخ نے فرمایا کہ اس سے تیرا مرتبہ بلند تر ہوا۔ شبلیؒ کے بارے میں کہا جاتا ہے انھوں نے ایک شخص سے بیعت کے لئے یہ شرط رکھی کہ وہ کلمہ شریف: لاالہ الا اللہ محمد درسول اللہ کہنے کے بجائے ان کے نام کا کلمہ پڑھے۔

چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ (عوارف المعارف،اول،ص ۵۵)۔ بیعت کے لئے اپنے نام کا کلمہ پڑھوانے کی توجیہ یہ بتا ئی جاتی ہے کہ اس سے مرید کے حسنِ اعتقاد اور صدق اور صدق ارادت کا امتحان لینا مقصود ہوتا ہے۔مولانا اشرف علی تھانویؒ کے ایک مرید نے انھیں اپنے ایک خواب کے متعلق لکھا کہ: ’’ میں نے رات خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ ہر چند کلمہ تشہد صحیح صحیح ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ہر بار ہوتا یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کے بعد اشرف علی رسول اللہ منہ سے نکل جاتا ہے‘‘۔مولانا نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا کہ: ’’ تم کو مجھ سے غایت محبت ہے اور یہ سب کچھ اسی کا نتیجہ اور ثمرہ ہے‘‘۔ یہ تو خیر خواب کی بات تھی۔ بیدار ہونے کے بعد اسی مرید نے کلمہ شریف کی غلطی کے تدارک میں درود شریف پڑھنے کی جو کوشش کی تو زبان سے ’’اللھم صلی علی سیدنا و نبینا و مولانا اشرف علی‘‘ کے الفاظ ہی نکلے۔ مولانا نے اسے مرید کے لئے تسلی کی بات بتائی کہ وہ ان کے جیسے متبع سنت کی طرف راجع ہے۔ شیخ سے عقیدت اور وابستگی اس کی نصرت و معیت کی ضامن سمجھی جاتی ہے۔ مرید جہاں اور جس حال میں ہو شیخ باطنی طور پر اس کی نگرانی کر رہا ہوتا ہے۔

زمان و مکان کے فاصلے اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتے۔ حضرت شبلیؒ کے معتقدمین ایک روز جب ان کے پاس سے اٹھ کر جانے لگے تو انھوں نے ان کی طرف رخ کر کے کہا: ’’جائو میں تمہارے ساتھ ہوں تم جہاں کہیں بھی ہو، تم میری نگرانی اور پاسبانی میں ہو‘‘۔ شیخ عبدالقادرجیلانیؒ فرماتے ہیں: ’’میرے ساتھیوں،مریدوں اور چاہنے والوں میں سے جو بھی قیامت تک اپنے سواری پر سے لغزش کھائے گا میں اسے تھام لوں گا‘‘۔ حضرت سہل بن عبداللہؒ کہا کرتے تھے کہ میں روز الست ہی سے اپنے شاگردوں کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اس وقت کون میری دائیں جانب تھا اور کون بائیں جانب۔ اس وقت سے جب وہ پشتِ آدم میں تھے آج تک میں ان کا مربی رہا ہوں اور وہ کبھی مجھ سے دور نہیں رہے‘‘۔ تصورِ شیخ کا لازمی نتیجہ مریدوں کی عام معافی ہوتا ہے۔ ایک مشہور روایت کے مطابق شیخ ابو نصر سراجؒ نے وفات سے قبل فرمایا کہ’’جس میت کو میرے مزار کے سامنے سے لے کر نکلیں گے اس کی مغفرت ہو جائے گی‘‘۔ چنانچہ طوس میں یہ دستور رہا ہے کہ ہر جنازہ کو پہلے آپ کے مزار پر لاتے تھے۔ شیخ کے ساتھ عقیدت کا ایک حیرت انگیز واقعہ خواجہ عثمان ہارونیؒ کے ایک مرید کا ہے۔ فرشتوں نے جب اسے عذاب دینا چاہا تو وہ آڑے آگئے۔فرشتوں نے ان کو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا کہ وہ آپ کا سچا مرید نہ تھا بلکہ آپ کے راستہ سے ہٹا ہوا تھا۔ خواجہؒ نے فرمایا صحیح ہے لیکن تھا تو میرا مرید اور مجھ سے وابستہ۔ چنانچہ اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ خواجہ عثمانؒ کے مرید سے تعرض نہ کریں۔

تصوف میں نظریہِ شفاعت کی وسعت و عمومیت، اس کی ارزانی اور مشائخ کے لئے اس کے استحقاق کا کچھ اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ حضرت نظام الدینؒ نے ہر کس و ناکس سے بیعت لینے کی ایک خاص وجہ یہ بتائی کہ ان کے شیخ حضرت فریدالدین گنج شکرؒ نے انھیں اطمینان دلایا ہے کہ ان کے مریدوں کو اپنے ہمراہ لئے بغیر خود بھی جنت میں قدم نہ رکھیں گے۔ مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادیؒ کی زندگی کے آخری لمحات کا ارشاد ہے کہ: ’’سلف میں ایسے ایسے اولیاء گزرے ہیں کہ جو کلمہ گو دور سے ان کی زیارت کر کے چلا گیا اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ بعض ایسے گزرے ہیں جس پر انھوں نے ایک نظر ڈال دی وہ ولی ہو گیا‘‘۔ یہ سن کر بعض حاضرین نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرمﷺ کو بھی ایسا ہی کیا ہے تو اس پر کوئی جواب نہ دیا۔

رجال الغیب
کائنات کا نظم و نسق سنبھالنے کے لئے تصوف میں رجال الغیب کا عقیدہ ملتا ہے۔ مشہور ہے کہ اس عالم کون و مکان میں ہر وقت تین سو تیرہ اشخاص ایسے رہتے ہیں جو نجباء کے نام سے مشہور ہیں۔ پھر ان میں سے ستر کو نقباء کہا جاتا ہے۔ پھر ان میں سے چالیس ابدال کے درجے پر پہنچتے ہیں۔ ان میں سے سات کو قطب کا درجہ دیا جاتا ہے۔( بعض کا خیال ہے کہ ان میں سے سات اوتاد کا درجہ حاصل پاتے ہیں) ان میں سے چار اوتاد (بعض کے نزدیک سات) کے درجہ پر فائز ہوتے ہیں اور ان میں سے ایک غوث کا اعلی مقام حاصل کرتا ہے۔ یہ ہمیشہ مکہ مکرمہ میں ہوتا ہے۔ جب اہلِ زمین پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے یا رزق کی تنگی ہوتی ہے یا کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں تو وہ ان تین سو تیرہ کی طرف رجوع کرتے ہیںاور ان کے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرتے ہیں۔یہ ان فریادوں اور حاجتوں کو اپنے میں سے منتخب شدہ ستر نقباء ( یا بعض کے نزدیک چالیس ابدال)کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

عرش سے لے کر فرش تک تمام مخلوق پر خداوند کریم اسے تصرف عگا کرتا ہے اور تمام اولیاء قطب،اخیار، نجیب، نقیب، ابدال، اوتاد وغیرہ کو اس غوث کی خدمت و اطاعت کا ارشاد ہوتا ہے، ان کا عزل و نصب، ترقی اور تنزل محض اس کھے تصرف میں ہوتا ہے۔

پھر یہ سات اوتاد کے سامنے حاضر ہوتے ہیں جو اپنے میں سے منتخب ہستی کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیںجس کانام غوث ہے۔ تمام دنیا میں ایک ہی غوث ہوتا ہے، دو نہیں ہو سکتے۔ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے برابر ہوتا ہے اور اس کی قدرت اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کم نہیں ہوتی۔ان بزرگوں کے فرائضِ منصبی اس طرح بیان کئے جاتے ہیں۔’’ سید احمد کبیرؒ نے شیخ عبداللہ مطریؒ سے استفسار کیا کہ فرمائے، افراد، ابدال،غوث، قطب وغیرہ کے مدارج میں کیا فرق ہے اور ان کی تعداد کس قدر ہوا کرتی ہے؟ شیخ نے فرمایا،بھائی جان ہر ایک زمانہ میں دنیا بھر کا غوث صرف ایک ہوتا ہے۔ عرش سے لے کر فرش تک تمام مخلوق پر خداوند کریم اسے تصرف عگا کرتا ہے اور تمام اولیاء قطب،اخیار، نجیب، نقیب، ابدال، اوتاد وغیرہ کو اس غوث کی خدمت و اطاعت کا ارشاد ہوتا ہے، ان کا عزل و نصب، ترقی اور تنزل محض اس کھے تصرف میں ہوتا ہے۔ غوث زماںان کی تعلیم و ارشاد میں کوتاہی نہیں کرتا اور یہ سب موخرالذکر بزرگوار اسی سے شریعت و طریقت اور ’حقیقت‘ کا علم حاصل کرتے ہیں۔ اسی غوث کی وجہ سے تمام برکات اور رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ نظامِ کائنات اسی غوث کے دم قدم سے‘‘( تذکرہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی، ص۔۱۹۔۲۰)کائنات کا ذرّہ ذرّہ ان کے تابع ہے ان میں سب سے کم تر درجہ کا ولی بارہ میل کے دائرہ میں مختارِ کل ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ چڑیا کا انڈا ھی اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہوتا۔ اسے نمک کی وہ مقدار بھی معلوم ہوتی ہے جو عورت سالن پکانے میں استعمال کرتی ہے۔ حضرت عبدالقادر جیلانیؒ غوث تھے۔ انھیں قطب بھی کہا جاتا ہے۔ بعض حضرت بختیار کاکیؒ کو بھی قطب کا درجہ دیتے ہیں۔

ممتاز صوفیہ کی فہرست
دوسری صدی ہجری: حضرت ابراہیم بن اودہمؒ ۱۶۲ھ، رابعہ بصریؒ اور حضرت حسن بصریؒ۱۸۵ھتیسری صدی ہجری: حضرت معروف کرخیؒ ۲۰۶ھ، حضرت ذوالنون مصریؒ ۲۴۵ھ، حضرت سری سقطیؒ ۲۵۹، حضرت بایزید بسطامیؒ ۲۶۱ھ، حضرت جنید بغدادیؒ ۲۹۸ھ، حضرت سہیل بن عبداللہ تستریؒ ۲۸۳ھچوتھی صدی ہجری: حضرت ابوبکر شبلیؒ ۳۳۴ھ، حضرت ابوالقاسم قشیریؒ،حضرت ابواسحق ابراہیم بن شعبانؒ ۳۴۸ھ، منصور حلاج ۳۰۹ھپانچویں صدی ہجری: حضرت علی ہجویریؒ ۴۶۵ھچھٹی صدی ہجری: حضرت امام غزالیؒ ۵۰۵ھ، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ۵۶۱ھ، حضرت شیخ فریدالدین عطارؒ ۵۷۲ھساتویں صدی ہجری: حضرت حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ ۶۳۳ھ، حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ ۶۳۸ھ،حضرت خواجہ فریدالدین گنج شکرؒ ۶۷۰ھآٹھویں صدی ہجری : حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءؒ ۷۲۵ھدسویں،گیارویں صدی ہجری: حضرت خواجہ باقی باللہ ۱۰۱۲ھ، حضرت مجدد الف ثانیؒ ۱۰۳۴ھبارھویں صدی ہجری: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ۱۱۷۶ھ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: