بانو آپا، عاصمہ صاحبہ اور گنجے فرشتے : لالہ صحرائی

4
  • 1K
    Shares

سیانے کہہ گئے ہیں:

دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے
اک دن سجنا وی مر جانا

بلاشبہ محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ ہماری دشمن نہ تھیں، وہ اس سماج کا انسان دوست چہرہ تھا، آپ ان کی فضیلت میں جو کچھ بھی کہنا چاہیں ہمیں اسے سے مفر نہیں، اور یہ موقع ہمارے لئے کسی خوشی کا مقام بھی ہرگز نہیں ہے بلکہ اس سوگوار منظر نامے میں ہم آپ کیساتھ اظہار تعزیت اور مرحومہ کیلئے عافیت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

مگر اس موقع پر چہار سو پھیلے ہوئے اختلافی پہلو پر کچھ کہنا ریکارڈ کی درستی کیلئے بہت ضروری ہے، امید ہے کہ اس گفتگو کی ضرورت اور اسکا حق بجانب ہونا ضرور آپ کی سمجھ میں آجائے گا۔

مکرر عرض کر دوں کہ میرا موضوع گفتگو عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی شخصیت نہیں بلکہ اختلافی رویوں کو دیکھنے کا زاویہ نظر ہے۔
مجھے یہ کہنے دیجئے کہ آج ایک نظریاتی طبقے میں چہار سو غم کا ماحول ہے۔

اور مجھے یہ بھی کہنے دیجئے کہ:
آج اس طبقے پہ رنج و الم کی گھٹا چھائی ہے جس نے بانو قدسیہ کی تدفین کے موقع پر اپنی زبان درازی کا کوڑا بنا کے ہم جیسوں پہ خوب برسایا تھا۔

آج اس طبقے سے اسٹیبلشمنٹ کے سامنے مزاحمت بننے والی ایک بڑی علامت رخصت ہوئی جو طبقہ برٹش اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑے ہونیوالے ٹیپو سلطان کو احمق اور سراج الدولہ کو زنانِ بازاری کا رسیا کہنے میں بے باکی اختیار کرتا ہے۔

آج اس طبقے کو غم سے علاقہ ہے جو پینٹاگون ایسٹیبلشمنٹ کی افغان پورہ اور ملحقہ علاقوں پر بیس سالہ ڈرون حملوں کی تباہ کاریوں کو حق بجانب اور غزنوی کے صرف سترہ حملوں کو انسانیت سوز قرار دیتا ہے۔

آج وہاں صف ماتم بچھی ہے جہاں سے ابن قاسم پر وادیٔ مہران کی تہذیب کو تاخت و تاراج کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے اور اسی وادی پر یونین جیک لہرانے والوں کو انسانیت کے علمبردار سمجھا جاتا ہے۔

آج وہ طبقہ رنجور ہے جو علامہ اقبال کو بعد از مرگ غبی، مہلک خواب آور اور سفیلیسز کا مریض قرار دینے اور عطیہ فیضی کیساتھ ان کے جنسی سکینڈل گھڑنے میں بھی حد درجہ بے باک واقع ہوا ہے۔

آج ان کے ہاں ایک ماتم Funneral  درپیش ہے جو نسیم حجازی پر زبان درازی کو سوئے ادب و سخن نہیں سمجھتے، بلکہ احتجاج کرنے پر دوبارہ وہی جسارت کرتے ہیں، مکرر احتجاج کرنے پر اپنی اسی شقاوتِ قلبی کو سہہ بار دہرا دیتے ہیں۔

انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے تو ہماری خانقاہیں جابجا اسی وصف سے متصف رہی ہیں جن پر سکہ بند زہر کا لیبل لگا کے ہنسنا بھی یہ لوگ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان میں بھی انسانیت کے علمبردار اور فوت شدگان ہی مدفون ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ساری بوقلمونیاں اس طبقے نے بعد از مرگ ہی ان لوگوں پر کی ہیں جو ان کے معاصر ہیں نہ ان کے ایسے نظریاتی مدمقابل کہ جن سے اس طبقے کی بقا کو کوئی خطرہ درپیش ہو۔

ان کی جسارتوں کا یہ بیان ان کی قلمی دریدہ دہنی کا بین ثبوت ہے جو اپنے افکار کے آڑے آنے والے ہر صاحب فکر کو خش و خاشاک کی طرح اڑا کے رکھ دینا چاہتے ہیں۔

اسلام اور اہل اسلام کو کبھی بھی اعلیٰ ظرف دشمن میسر نہیں آیا۔

بیت اللہ میں ہر کوئی اپنی نوعیت کی عبادت کر سکتا تھا مگر جب پیغمبر علیہ السلام بیت اللہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ کرنے جاتے تو مکہ کے سیکولر سردار ان پر اوجھڑی کی چادر بچھوا دیا کرتے تھے، بلال اقدسؓ کو تپتی ریت پر بچھا کر ہاتھوں پر پتھر بھی انہوں نے ہی رکھوائے تھے، ان نظریاتی مخالفین کی بہت طویل دست درازیاں گنوائی جا سکتی ہیں۔

پھر انہی سیکولر سرداروں کو، جو خود تو اسلامسٹوں کو کسی رعایت کا مستحق نہ سمجھتے تھے لیکن، اپنے لئے امان مانگنے پر اسی بیت اللہ شریف میں اسلامسٹوں نے انہیں امان بھی دے دی، اسلامسٹوں کے سوا یہ حوصلہ بھی کسی اور میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔

یہ بھی ہماری ہی روایت رہی ہے کہ میدان حرب و ضرب میں دشمنوں پر قہر بن کے ٹوٹتے تھے مگر ان کی لاشیں ادب و احترام سے اٹھوا دیا کرتے تھے، دشمن منہ پہ تھوک دے تو اسے مارنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی اس کے سینے پر سے اتر جایا کرتے تھے، دشمن کے ہاتھ سے تلوار جاتی رہے تو پہلے اسے تلوار اٹھانے کا موقع دیا کرتے تھے۔

دوسری طرف یہ ہمارے دشمنوں کا کردار تھا جو ایوبی صاحبؒ کی قبر کو ٹھڈے مار کے کہا کرتے تھے، لو اب اٹھ کے زرا چھڑا لو اپنا بیت المقدس۔

یہ بھی ہمارے منتظمین کی روایت رہی ہے کہ وہ اپنے مخالف کے جان و مال کا بھی تحفظ کیا کرتے تھے اور رچرڈ شیر دل جیسے گھڑسوار جنگجو ہمارے حاجیوں کے قافلے لوٹا کرتے تھے۔

نسیم حجازی کے گھوڑے تو ہر کور چشم کو نظر آجاتے ہیں مگر صلیبی گھوڑوں کی بات یہی لوگ اپنی مٹھی میں دبا لیتے ہیں۔

یہ ہم ہی تھے جو اپنی عبادت گاہوں اور خانقاہوں میں دشمن کو بھی پناہ دیتے تھے اور یہ ہمارے دشمن تھے جو خوارج کے ہاتھوں ابن صباح اور لارنس آف عریبیہ جیسی تنظیمیں بنا کے ہمارے عبادت خانے مسمار کرواتے رہے ہیں اور یہی کھلواڑ ابھی تک جاری ہے۔

اعلیٰ ظرف دشمن کبھی ہمیں بھی نہیں ملا، نہ ملا ہے اور آگے بھی امید نہیں، ہمارا مقابلہ ہمیشہ دوغلی ذہنیت کے ساتھ ہی رہا اس کے باوجود صرف منافق کی نشانیاں بتانے پر اکتفا کیا گیا، ان کے چہروں سے نقاب نہیں الٹا، اس سے زیادہ رحمت اور کسی کو کیا چاہئے۔

اس پر یہ کہ ہمیشہ ہمیں دو محاذوں پر لڑنا پڑا، ایک طرف کم ظرف دشمن اور دوسری طرف ہمارے اپنے نادان دوست، آج بھی ہم اسی صورتحال سے دوچار ہیں۔

مدت ہوئی کہ عالم اسلام ایسے نادان دوستوں کو خوارج کہہ کے اپنی صفوں سے نکال چکے ہیں، مگر جیسے قادیانی یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ایسے ہی خوارج بھی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے، یہ دونوں عالم اسلام کا حصہ رہنے پر بضد رہتے ہیں۔
ہمارے اعلان لا تعلقی کے باوجود تشدد پسند اور دہشت گرد سوچ و عمل کو جبراً عالم اسلام کیساتھ جوڑا جاتا ہے اور یہ خدمت ہمارا مدمقابل روشن خیال طبقہ ہی انجام دیتا ہے۔

آپ ہمارے مذہب سے غلطیاں نکال سکتے ہیں، ہمارے مذہبی آثار سے ٹھٹھہ مذاق کر سکتے ہیں، ہماری مذہبی شخصیات اور ادبی مشاہیر کا مذاق اڑا سکتے ہیں اور خود اپنے نظریاتی مشاہیر پر زرا سی تنقید بھی برداشت نہیں کر سکتے، ایں چہ بوالعجبیست۔
انسانیت کے تو کسی مذہب میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ لینے کے باٹ اور ہوں اور دینے کے باٹ اور ہوں۔

اپنی ان حرکتوں کیلئے اب یہ انسایت کا لبادہ اوڑھنا چھوڑیئے اور اپنا چانکیہ والا جانگیہ پہن لیجئے، ہمیں اب اس ذہنیت کی خوب سمجھ آگئی ہے۔

آپ کے مشاہیر نے خود کو لادین مگر انسانیت کا علمبردار کہا، اسی ایجنڈے کے تحت لادینوں کی حمایت میں یہ مسلمانوں پر مدر آف آل بومب گرانے والوں کے حق میں ہمارے سامنے بھی آئے اور بار بار آئے اس کے باوجود ہم نے نہ صرف ان کے جنازے پڑھے اور پڑھائے بلکہ ان کیلئے دعائے مغفرت بھی کی، کل کا جنازہ بھی مسلمانوں نے ہی پڑھا اور پڑھایا تھا۔

اب آپ کیساتھ جو مسئلہ کھڑا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ:

خود کو لادین قرار دے کر یا مذہب مخالف سیکولر قوتوں کے حامی قرار دے کر جب آپ بعد از وفات اپنے رہنماؤں کیلئے دعائے مغفرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں تو کچھ کم ہمت یا کم فہم نوجوانوں کا چڑ جانا ایک فطری اور لازمی سی بات ہے۔

یہ بات اپنے پلے سے تو کوئی نہیں کہتا بلکہ یہ بات مذہب کے اندر موجود ہے کہ جنت کا مژدہ صرف ان لوگوں کو سنایا گیا ہے جو ایمان اور ایمان بالغیب کی ضروریات پر پورا اترتے ہوں، جب اس ضرورت پر مسلمان پورا اترتا ہوا دکھائی نہ دے تو یہ جذباتی طبقہ اس مسلمان کو بھی اس نعمت سے محروم ہونے کا سزاوار سمجھتا ہے، اس صورت میں لادینوں کیلئے کوئی کہاں سے گنجائش نکال کے دے، مگر ہم آج یہ خدمت بھی انجام دے دیتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہر پختہ فکر مسلم طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ گنہگاروں کو حتٰی الامکان ہر ممکن گنجائش دئے بغیر خود سرکارِ بالا شان و ارفع صفات کا اپنے اوپر لازم کیا ہوا حقِ رحمت مکمل نہیں ہوتا اسلئے اس ذاتِ رحیم نے یہ بھی کہہ دیا کہ جس کے دل میں رتی برابر بھی ایمان ہو گا تو اسے وہ جنت عطا کر دے گا۔

جب تک ہم اس رحیم و کریم کی اس شان کریمی پر ایمان نہ لے آئیں اس وقت تک تو ہمارا اپنا ایمان بھی مکمل نہیں ہوتا اسلئے ہمیں زبان درازی کرنے یا قسیم النار و الفردوس بننے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ بات ہمارے جذباتی لوگوں کو بھی خوب سمجھ لینی چاہئے۔

واپس آتے ہیں موضوع پر
پہلے بانو آپا کی تدفین کا حال سنیئے:

بانو قدسیہ کی میت ابھی ہمارے سامنے پڑی تھی اور آپ نے ان کے ادبی و علمی رتبے کو چیلنج کر دیا تھا، جب ہم ہفتہ سوگ منا رہے تھے تو آپ کے ہاں ہفتہ نجات چل رہا تھا، جب ہم ایصال ثواب کیلئے تلاوت کر رہے تھے تو آپ راجہ گدھ کی قرات کر رہے تھے تاکہ چھانٹ چھانٹ کر ایسی لائنیں اچھالی جائیں جو بانو قدسیہ کے ادبی، فنی، ذاتی اور علمی قد کاٹھ کا پرتو ہماری عوام کے ذہنوں سے اتار پھینکیں۔

ایسے متعدد مضامین کے خلاف ہمارے احتجاج پر آپ نے منٹو کی زبان میں ہمیں جو شٹ اپ کال دی تھی، آج اس کا عکس دکھانا نہ صرف برمحل ہے بلکہ ریکارڈ کی درستی کیلئے لازم بھی ہے، ایک نظر اسے بھی دیکھ لیجئے کہ یہ ایک معتبر روشن خیال مفکر کی پوسٹ کا عکس ہے۔

بانو قدسیہ اور منٹو کے گنجے فرشتے:

دنیا سے چلے جانے پر رعایتوں کے تقاضوں اور سماجی دباؤ پر منٹو کے مضمون “گنجے فرشتے” سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

“انہوں نے مجھے یقین دلایا ہے کہ دنیا کے ہر مہذب ملک اور ہر مہذب سماج میں یہ اصول مروج ہے کہ مرنے کے بعد خواہ دشمن ہی کیوں نہ ہو، اسے اچھے الفاظ کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے صرف محاسن بیان کئے جاتے ہیں اور عیوب پر پردہ ڈالا جاتا ہے۔ ویسے میں ایسی دنیا پر، ایسے مہذب ملک پر، ایسے مہذب سماج پر ہزار لعنت بھیجتا ہوں جہاں یہ اصول مروج ہو کہ مرنے کے بعد ہر شخص کا کردار اور تشخص لانڈری میں بھیج دیا جائے، جہاں سے وہ دھل دھلا کر آئے اور رحمتہ اللہ علیہ کی کھونٹی پر لٹکا دیا جائے۔”

بحوالہ “گنجے فرشتے”، از منٹو نما، صفحہ 230، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور۔

یہ کسی جاہل کا نہیں بلکہ کلاس ون اہل علم کا رویہ بانو آپا کی تدفین پر تھا۔

اب آتے ہیں محترمہ عاصمہ جہانگیر کی طرف:

اس سانحے پر اہل مذہب کی طرف سے کوئی ایک آواز ایسی نہیں اٹھی جو اس اندوہناک ماحول میں سمع خراشی کی حیثیت رکھتی ہو بلکہ ہمارے ہاں سے عاصم اللہ بخش صاحب، مکرمی ژاں سارتر، عامر خاکوانی صاحب اور کئی دوسرے صاحبان شعور نے نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا ہے بلکہ اپنے جذباتی حلقوں کو بھی واضح انداز میں سمجھانے کی کوشش کی کہ اس موقع پر مرحومہ کیلئے بدگوئی کرنا ہماری روایت نہیں بلکہ پست ذہنی کا مظاہرہ ہے۔

میرا اپنا موقف بھی یہی ہے جو ان معتبر دوستوں کا ہے، اس تکرار کیساتھ کہ اسلامسٹ طبقے سے جو نامناسب آوازیں آپ دیکھ رہے ہیں وہ کم فہم لوگوں کی طرف سے ہیں، ان میں ایک بھی جید شخصیت شامل نہیں۔

لیکن جب آپ کی طرف سے ہمارے مشاہیر پر رکیک حملہ کیا جاتا ہے تو اس میں نہ صرف آپ کے چوٹی کے کالم نگار اور ایڈیٹرز ملوث ہوتے ہیں بلکہ صف اول کی علمی شخصیات بھی انہیں شہہ دے رہی ہوتی ہیں، آپ اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں۔۔۔۔۔

اب فیصلہ آپ کرلیجئے کہ آپ کی اہل علم شخصیات کو ہمارے جاہلوں کی سطح پر اترنے کی ادا کیوں پھبتی ہے، اور اس حرکت سے وہ بونے کیوں نہیں ثابت ہوتے، اب جو ڈانگ آپ اسلامسٹوں کے پیچھے اٹھائے پھرتے ہیں وہی ایک بار زرا اپنی منجی تھلے بھی پھیر لیں تو آئیندہ کیلئے باہمی گفتگو کا ماحول اور بھی سازگار ہو جائے گا۔

علامہ اقبال نے کہا تھا خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے، تاکہ تم حقیقت احوال اور دوسروں کی پوزیشن کا ادراک کر سکو۔

آج آپ کے ہاں صف ماتم بچھی ہے تو ہم آپ کے دکھ کو سمجھ سکتے ہیں اسلئے کہ ہم اس بات سے آشنا ہیں کہ کسی غمگین ماحول میں استہزاء کرنا دل فگاروں کے دکھ کو دوچند کر دیتا ہے کیونکہ یہی سب کچھ ہم نے آپ کے ہاتھوں سے بھگتا ہوا ہے، ثبوت اوپر چسپاں کر دیا گیا ہے۔

اس بات کا احساس اب آپ کو بھی ہو جانا چاہئے کہ آپ کی طرف سے بھی ایسے مواقع پر ایسے ہی تیر ہماری طرف آتے رہے ہیں جو ہمارے لئے بھی تکلیف کا باعث تھے۔

لاسٹ بٹ ناٹ دی لیسٹ:

اس موقع پر ہم سنجیدہ فکر اسلامسٹ محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کیلئے صدق دل سے دعا گو ہیں کہ رب کریم ان کی لغزشوں سے صَرف نظر فرمائے اور اپنی شانِ کریمی سے انہیں اپنی رحمت کے دائرے میں شامل فرمائے، یہ دعا ہر ایک بچھڑنے والے کا حق ہے اور یہ حق ہر مسلمان کہلانے والے کو ہمارے دین نے بخشا ہے۔

ہماری اس دعا پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں، اسلئے کہ ہم اپنے دین کی تعلیمات سے سرتابی کی مجال نہیں رکھتے، نہ ہی روشن خیالوں کی طرح مرحومین کے حق میں ہم کسی منٹو کے منشور کے قائل ہیں، نہ ایسے موقع پر منٹو کا حوالہ دینے والے یا اس کے پیروکاروں کے قائل ہیں، اور نہ ہی ہم منٹو سے مرعوب ہونے والوں سے مرعوب ہوتے ہیں۔

اب آخری گزارش یہ ہے کہ:

آپ نے عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے افکار کو آگے لیکر چلنا ہے، ان کی تعلیمات کو زندہ رکھنا ہے، اس بات کا آپ کو پورا حق حاصل ہے، ہمیں اس بات پر کوئی اعتراض بھی نہیں۔

لیکن ہم بھی کچھ شعور رکھتے ہیں، سماجیات پر اسلامسٹوں کا بھی ایک منشور واضح ہے کہ معاشرے کیلئے کونسی چیز اچھی ہے اور کونسی چیز زہر ہلاہل، اسلئے نظریات کا فرق اور ٹکراؤ ہمیشہ موجود رہے گا۔

یہ ٹکراؤ ذاتی نہیں بلکہ نظریاتی ہے، آپ کو اپنے مشاہیر کے نظریات کی ترویج کا حق ہے تو یہی حق ہمارے لئے بھی آپ کو ماننا پڑے گا، ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ آپ منٹو کے الفاظ میں موسیٰ بن نصیر سے لیکر بانو قدسیہ تک ہمارے مرحومین پر تو بلاتکلف ہزار لعنت بھیجیں یا اپنے فن تحریر سے رکاکت پر مبنی استہزاء قلمبند کریں اور ہمارے جذباتی نوجوانوں کے ایسے ہی اپنے جیسے ردعمل پر انہیں بھونکنے والے کتے قرار دیں۔

مجھ جیسے مصلحت پسند اور نظریاتی ٹکراؤ کو ادبی دائرے میں رکھنے والے تو ان جذباتی نوجوانوں کو غیر مہذب قرار دے چکے ہیں لیکن آپ کو بھی یہ سوچنا چاہئے کہ ان کی بے باکی کے پس پردہ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ آپ کی روشن خیالی میں چھپی چانکیائی ذہنیت کو ہم صلح جو لوگوں سے زیادہ اچھی طرح سے جان چکے ہوں۔

آپ کے روشن خیال میں ان کم فہم یا جذباتی نوجوانوں کو بھونکنے والے کتے کہنا اگر جائز ہے تو زرا لگے ہاتھوں یہ بھی واضح کر دیں کہ منٹو کی زبان میں ہمارے مرحومین پر لعنت بھیجنے والے اپنے طبقے کے ادیبوں، سکالرز اور ایڈیٹرز کو آپ کونسا نام دینا پسند کریں گے۔

انہیں ہم سے ہے وفا کی امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

قصہ مختصر یہ کہ:
ہمیں نسیم حجازی کے گھوڑے اور منٹو کے گنجے فرشتے پڑھانے والوں کیلئے اب بیک فٹ پہ چلے جانا ہی مناسب ہے ورنہ ہمارے پاس قلم جیسی چیز شلواروں میں ناڑہ ڈالنے کیلئے نہیں رکھی، ہم بھی پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے، جیسے آج کر کے دکھا دی ہے۔

یار سلامت صحبت باقی۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

4 تبصرے

  1. محمد ارشد علی on

    آپ ہمارے مذہب سے غلطیاں نکال سکتے ہیں، ہمارے مذہبی آثار سے ٹھٹھہ مذاق کر سکتے ہیں، ہماری مذہبی شخصیات اور ادبی مشاہیر کا مذاق اڑا سکتے ہیں اور خود اپنے نظریاتی مشاہیر پر زرا سی تنقید بھی برداشت نہیں کر سکتے، ایں چہ بوالعجبیست۔

    اللہ پاک سلامت رکھیں آپ کو سر. میرے دل کی آواز

  2. ایک عرصہ ہوا کہ لبرلز سیکولرز کی جانب سے یہئ رویہ روا رکھا گیا جسکی نشاندہی آپ نے اپنے مضمون میں کی ہے ۔ان کی جانب سے ہمیشہ اعتراض اور طنز کے تیر برساۓ گۓ اور بیچارے اسلامسٹوں کا ردِعمل ہمیشہ apologetic اور defensive رہا آپ نے درست کیا کہ سامنے سے آ کر ان کو آیئنہ دکھایا ۔میں نے اکثر لبرلز اور سیکولرز کو تھُڑدِلا اور کم ظرف پایا جو اپنے اورپر معمولی سی تنقید بھی برداشت نہیں کر سکتے ۔اس ساری ہڑبونگ میں اس جیسی ہی کسی تحریر کی ضرورت تھی ۔بہیت عمدہ اور ہدیئہ تبریک!!

  3. اللہ آپ کے عمل کو کشادگی، ذہن رسا کو تازگی اور قلم کو آمادگی دئیے رکھے، یا لالہ صحرائی! کہ آپ عجب صحرائی ہیں۔ جو عین جسم و جان لوٹ لیتے صحرا میں ابر بن کے برسے ہیں۔ ابر بھی وہ کہ جو عین بقدرِ سیرابئ زمیں ہو۔کم نہ زیادہ! اب اس سے زیادہ کیا کہا جائے کہ یہ تحریر اس پورے تناظر کے لیے حرفِ فرقان بھی ہے، کلمہ فیصل بھی، اور مکالمے کے پورے تناظر کے محیط بھی۔ ٹیپ کا مصرع یہ ہے کہ اسلام اور اہل اسلام کو کبھی اللہ ظرف دشمن نصیب نہ ہو سکا۔ بخدا! سیرت کے سبق اور اسلام کے سنہری اصول اگر ہمیں روک نہ لیتے تو ہم انھیں بتاتے درد کہتے کسے ہیں، اور جواب ہوتا کیا ہے۔ یہ اس لیے خوش قسمت ہیں کہ اصول نہیں رکھتے۔ اور ان کے مقابل ہم الحمدللہ۔، نازاں ہیں کہ ایسوں کے ستم کے مقابل بھی کچھ اصول رکھتے ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: