….وہ گنہگار چلے گئے: طلحہ الیاس

0
  • 72
    Shares

نہ رہا جنونِ رُخِ وفا، یہ دار، یہ رسن کرو گے کیا
جنہیں جرمِ عشق پہ ناز تھا وہ گنہگار چلے گئے…

جو روح خدا کے حضور پیش ہوئی اب اُسکا اور کائنات کے مالک کا معاملہ..

کل سے محترمہ عاصمہ جہانگیر کی ناگہانی موت پر لکھنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں. حقیقت تو یہ ہے کہ دن بھر سے اس وقت رات کے پہر مختلف فکر کے حامل افراد کے بیانات پڑھ رہا تھا ان میں گالم گلوچ بھی تھی بے پناہ تکریم بھی, ہرزہ سرائی بھی تھی اور خطابات و قصیدہ جات بھی. سوچتا ہوں کیا عجیب بےحس معاشرہ ہے. وہ فکر, جو آج یہ تلقین کرتی پھر رہی ہے کہ مرنے والوں کی عزت و تکریم لازم ہے وہی فکر کل تک بہت سے مردوں پر لعنت ملامت اور اسقدر تلخ لکھ رہی تھی کہ نفرت قائم ہو جائے. دوسری جانب ایک اور نظریہ جو اپنے مقدس ارواح کو پوجنے کی حد تک بڑھا ہوا تھا وہ مرحومہ کا ذکر کرتے وقت انتہا سے زیادہ غیر اخلاق اور حیا باختہ الفاظ کا چناؤ کر رہا ہے.

احادیث کی جیّد ترین کتب بخاری شریف کی سب سے پہلی حدیث اسی حوالے سے ہے. حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا.

“إنَّما الأَعمالُ بالنِّيَّات, وإِنَّمَا لِكُلِّ امرئٍ مَا نَوَى”

“اعمال کا دارومدار نیتوں پر رکھ دیا گیا, اور ہر شخص اپنی نیت کے مطابق جزا پائے گا”

یہ انسان کی نیت ہی ہے جس نے ایک بھوکے کتے کو روزانہ روٹی ڈالنے والی عورت کو اسکے مرنے پہ جنت کی بشارت دلوائی اور یہ اخلاص و نیت ہی ہے جو ساری زندگی سجدہ گزاروں اور حاجیوں کی عبادات ریاکاری کی بناء پر انکے مونہوں پر پلٹا دینے کی وعید بھی سنا دیتی ہے. عاصمہ جہانگیر سب سے پہلے ایک انسان تھیں. ہمارا سب سے مقدم, بنیادی اور عظیم رشتہ.. انسان غلطی کرتا ہے, غلطی در غلطی کرتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت بھی آ جاتا ہے جو رب کی عطاء کردہ نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے. آپ ہم اس سے مبرا نہیں ہیں, ہم بھی اپنی ذات میں ایسے ہی کمزور اور ناقص ہیں.

سب سے پہلے ایک انسان, ایک عورت اور ایک ماں کا احترام کریں. ہزار نظریاتی اختلافات ہو جائیں, ہزار فِکری تقسیم ہو لیکن اس نازک وقت کچھ نہ کہیں. انکا معاملہ کائنات کے مالک کے آگے پیش ہے. وہ کائنات کا مالک, جو سب جانتا ہے, اعمال.. نیتیں.. اور ایک قرآنی آیت کے مطابق وہ ہلکا سا گمان بھی جو ہمارے دلوں میں بےانتہاء خاموشی کے ساتھ پنپتا ہے, جس کا ادراک ہماری ذات کے سوا کسی کو نہیں ہوتا. اس عظیم ذات کے آگے آپ, میں, ہم سب عاجز ہیں. بلند آواز اور ایڈوکیسی تو دور کی بات, اس ذات کے آگے اپنی صفائی بھی نہیں چل سکتی.

اپنی اقدار کا ثبوت دیجیئے. اس وقت وہ عمل کریں جو نبیِ مہربانﷺ ہم سب کو کسی کے انتقال پر تاکید فرما گئے. دعائے خیر کیجیئے, آگے کے مراحل کی آسانی کی دعا فرمائیں. اور اگر نبی کی سنت بھی آپکو قائل نہ کر سکے, تو خاموشی اختیار کیجیئے.

ہم اسقدر نادان ہیں کہ یہ بھی نہیں جانتے کے جو شخص اب پلٹ کر جواب بھی نہیں دے سکتا اسکو برا بھلا کہنا اسکے اعمال نامے میں مقدور بھر اضافے یا کمی کے بجائے ایک روز محض ہماری اپنی ہی تکلیف کا باعث بن جائے گا.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: