عاصمہ جہانگیر, نجم سیٹھی اور اہل مذہب: اللہ ہی جانے کون بشر ہے؟ شکیل ترابی

1
  • 562
    Shares

کوئی عاصمہ جہانگیر کو احمدی قرار دے رہا ہے، کوئی بھارتی ایجنٹ تو کوئی غدار وطن۔
سماجی رابطوں کے صفحات پر ہر ایک منصف بن کر بغیر ثبوت کے جو من میں آر ہا کہے جارہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ وہ غدار تھیں، بھارت سے رقوم لیتی تھیں تو جس قانون نے کلبھوشن پر قانون کو متحرک کر دیا۔ عاصمہ کے معاملے میں ملکی قانون و ادارے کہاں تھے؟

اللہ غریق رحمت کرے، راوی جناب صفدر چوہدری (سابق سیکریٹری اطلاعات جماعت اسلامی) کی کہ ایک روز اپنی روایتی مسکراہٹ لبوں پر بکھیرتے ہوئے بتانے لگے:

نواز شریف کے سابقہ دور حکومت میں سیف الرحمان نے جعلی مقدمہ قائم کر کے نجم سیٹھی کو پابند سلاسل کر دیا، اُن کے میگزیں “فرائیڈے ٹائمز” کے پریس کو سِیل کردیا۔
نجم سیٹھی۔۔۔ لبرل آدمی، جماعت اسلامی کے کُھلے ناقِد۔
مگر جماعت کے مرنجانِ مرنج اور محبتیں بکھیرنے والے امیر قاضی حیسن احمد نے جماعت کے سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم کے زریعے اُنکی اہلیہ جگنو محسن کو پیشکش کی کہ اگرچہ ہمارے ہاں رنگین طباعت کا اہتمام نہیں، آپ کی آزمائش میں ہم نہ صرف آپ کیساتھ ہیں بلکہ آپ چاہیں تو آپکا میگزین جماعت کے طباعتی مرکز سے چھپ سکتا ہے۔
جگنو نے یہ پیشکش قبول کی اور انکا میگزین چھپتا رہا۔ رہائی کے بعد جگنو، نجم سیٹھی کو لیکر جماعت کے مرکز منصورہ پہنچ گئیں۔

کچھ دیر بعد قاضی صاحب کی پریس کانفرنس تھی۔ دار الضیافہ میں دونوں میاں بیوی نے اپنے ماضی کی جماعت دشمنی کے پیشِ نظر جھجک اور شرمندگی سے قاضی صاحب کی محبت اور تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ جگنو بولیں قاضی صاحب ہمیں ایک اور نازک معاملے میں آپ کی حمایت درکار ہے۔ قاضی صاحب نے مشفق لہجے میں کہا فرمائیے۔
جگنو گویا ہوئیں، نجم سیٹھی احمدی یا قادیانی نہیں مگر ہماری آزادانہ سوچ کی مخالفت کرتے ہوئے بعض لوگ یہ گھٹیا الزام ان پر لگاتے ہیں۔ قاضی صاحب آپ ہماری مدد کیجئے۔
قاضی صاحب نے کہا سیٹھی صاحب کلمہ طیبہ پڑھئیے، سیٹھی نے حکم بجا لایا۔ قاضی صاحب نے پوچھا آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر ایمان رکھتے ہیں؟
نجم سیٹھی نے اثبات میں جواب دیا۔ قاضی صاحب کے حکم پر سیٹھی نے یہ عمل دہرایا۔
محبت کے پیکر قاضی حسین احمد نے سیٹھی کا ہاتھ پکڑا، پریس کانفرنس کے ہال میں داخل ہوئے۔
حاضرین مجلس سے السلام علیکم کے بعد استفسار کیا آپ ان کو جانتے ہیں؟
سب نے کہا یہ نجم سیٹھی ہیں۔ قاضی صاحب نے مجلس میں جناب نجم سیٹھی کو کلمہ طیبہ پڑھنے اور حضور صلعم کے نبیِ آخر الزماں کا ایک مرتبہ پھر اقرار کا کہا۔ سیٹھی کے اقرار کے بعد قاضی صاحب نے کہا کے کسی آزاد خیال مسلمان کو احمدی وغیرہ قرار دینا بہتان ِعظیم ہے، اِلا یہ کہ کسی کا عمل کوئی اور بات ثابت کرتا ہو۔

صفدر چوہدری مرحوم کی اس روایت کو میں نے کسی اور موقعے پر بیان کرنا تھا مگر عاصمہ جہانگیر کی موت اور دعائے مغفرت بارے سوشل میڈیا پہ میری ایک تحریر پہ بعض مخلص اور کچھ تنگ نظر و تنگ ذہن لوگوں نے جس ردِ عمل کا اظہار کیا اس سوچ پر اناللە و انا الیە راجعون پڑھتا ہوں۔

شکیل ترابی

بھائیو اور بہنو۔۔۔ میں نے عاصمہ کو مجاہدہ اور نہ ہی شہیدہ اسلام قرار دیا ہے۔
وہ انسانی لغزشوں اور اپنے آزاد خیال نظریےکے باوجود ہمیشہ استعماری قوتوں کے سامنے جرات مندی سے کھڑی رہیں۔
ظالم جابر یحییٰ ہو یا ضیا و پرویزمشرف۔ مقابلے میں نواز شریف ہو یا انکی ذاتی دوست بے نظیر۔۔۔۔ وہ غیر عادلانہ اقدام پر انکے سامنے برہنہ تلوار ثابت ہوئیں۔ جسٹس افتخار کی بحالی کی تحریک میں پیش پیش رہیں مگر بحالی کے بعد عدالتی جبر افتخار دکھائیں یا ثاقب نثار۔۔۔۔ عاصمہ پوری دیانت داری و بے باکی کیساتھ کھڑی رہیں۔

میری تحریر پر ایسے ’’مجاہدین‘‘ تبصرے فرما رہے ہیں جو میرے وقت آزمائش میں شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا گئے تھے۔
مجھ پر جناب حامد میر کی ایک رٹ پر پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں خفیہ فنڈز سے پیسے لینے کا الزام لگایا گیا۔ جس پر میں نے سب سے پہلے سپریم کورٹ میں وزارت اطلاعات پر دعویٰ کیا۔ عاصمہ کی بیٹی منیزے جہانگیر بھی ان میں شامل تھی جس نے خفیہ فنڈ سے رقم نہ لی مگر الزام کا شکار ہو گئیں۔ عاصمہ نے اپنی بیٹی کے لئے جسٹس ریٹائیرڈ طارق صاحب سے دعویٰ کروایا۔ کچھ صحافیوں کی طرف سے عاصمہ جہانگیر پیش ہوئیں۔ مرحومہ نے مجھے پیشکش کی کہ بغیر فیس کے آپ کا مقدمہ بھی لڑ سکتی ہوں۔ میں نے شکریے کیساتھ معذرت کرلی۔ مگر عدل کے سب سے بڑے ایوان کی عمارت میں، میری سٹی گُم ہو گئی کہ ایک خاص پس منظر کی حامل خاتون مجھ جیسے کُھلے ڈُلے ’’مولوی صحافی‘‘ کا مقدمہ لڑنے پر کیسے آمادہ ہوئیں؟ دل و دماغ سے آواز آئی اللہ جس کو توفیق بخش دے۔

دوسری طرف میرے ذاتی نہیں بلکہ ادارے کے ایک مقدمے پر اسلامی انقلاب کے نعرے لگانے والے نے خاصی بڑی رقم اینٹھ لی۔ دماغ نے پھر جواب دیا جن سے ہدایت چھین لی جائے وہ ایسے ہی ہوتے ہیں۔

عمل کی دنیا کچھ اور ہی ہے بھائیو۔ ہرایک کا معاملہ اسکی نیت کے مطابق اس کا رب کرے گا۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. Nasir Mehmood Malik on

    بہت ہی عمدہ اور ہمیشہ کی طرح متوازن تحریر

    شکیل بھائی اللہ آپ کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سائے میں رکھے، آمین ثم آمین

Leave A Reply

%d bloggers like this: