پاکستان، قائدِاعظم اور ڈاکٹر مبارک علی کی تاریخ نویسی: محمد عارف گل

0
  • 70
    Shares

تاریخ پہلے سے رونما ہوئے واقعات، گزرے اشخاص اور نظریات کےبیان کا نام ہے اور اس بیان کا سارا مدار درست اسانید اور حوالجات پر رکھا جاتا ہے۔ ایک مؤرخ کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ بیانیے میں ایمانداری کو ملحوظ رکھے گا اور کسی نظریے یا شخص سے اتفاق و اختلاف کو تاریخی بیانیے میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ ہاں واقعات سے اخذِ نتائج میں وہ پوری طرح آزاد ہے۔ مگر ان خوش کن باتوں کے باوجود بہت کم مؤرخ ایسےملیں گے جو ان اصولوں پر کاربند رہے۔ ورنہ اخذِ نتائج کے ساتھ ساتھ تاریخ کا بیانیہ بھی پسند و ناپسند اور بغض و تعصب سے مبرا نہیں ہوتا۔

پاکستان اور قائدِاعظم کے حوالے سے لکھی جانی والی تاریخ بھی پسند و ناپسند اور موافقانہ و مخالفانہ بیانیے سے خالی نہیں۔ پچھلے دنوں اسی حوالے سے ایک بحث اخباروں کی زینت بنی رہی جس کی ابتداء ڈاکٹر مبارک علی کے ایک ٹی وی انٹرویو سے ہوئی۔ ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا یہ تھا کہ 23 مارچ 1940ء کی قراردار دراصل اس وقت کے وائسراۓ لارڈ لنتھگو کی مرضی اور برٹش گورنمنٹ کی منظوری سے آئی تھی جسے مسلم لیگ اور قائدِاعظم نے من وعن قبول اور منظور کرلیا۔ اسی طرح کی دلیل 1981 ءمیں ولی خان بھی دے چکے تھے جو اس وقت مستند حوالہ جات، صحیح دستاویزات اور درست ماخذ کے بوجھ تلے دب کر اپنی موت مرچکی چکی تھی۔ جب ہم نے ڈاکٹر مبارک علی کا ٹی وی کلپ سنا تو سمجھے کہ شاید ان کے ہاتھ کوئی نئی دستاویز لگی ہےجس بنیاد پر وہ اتنا بڑا دعویٰ کر رہے ہیں مگر بعد میں جب اخبارات میں ان کا وضاحتی بیان آیا تو پتا چلا کہ تمام تردلائل وہی ہیں۔ یہ کوئی ڈاکٹر مبارک علی کے ذہنِ نارسا کی نئی اپچ نہیں بلکہ ولی خان والا منوں دلائل تلے دفنایا وہی مردہ ہے جسے ڈاکٹر مبارک علی پھر سے زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ بھلا مردے بھی کبھی زندہ ہوۓ۔

انہی ابحاث کے دوران ڈاکٹر مبارک علی کے حق میں جناب اکمل گھمن صاحب کا طول طویل مضمون دانش ویب سائٹ کی زینت بنا۔ پہلی ہی قسط میں جب انہوں نے لکھا کہ پہلے ذرا قرارداد لاہور کے منظر اور پس منظر کا ایک جائزہ لیتے ہیں تو گمان گزرا کہ جو دستاویز ڈاکٹر مبارک علی کے ہاتھ نہیں لگیں، ان تک گھمن صاحب کی رسائی ہوگئی ہے۔
مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

اکمل گھمن صاحب کی چار طویل اقساط میں سے تقریبا” ڈھائی قسطیں زاہد چودھری اور حسن جعفر زیدی کی تاریخ پاکستان میں سےدیے گئے اقتباسات پرمشتمل ہیں اور ان کے بعد حاصل جملہ یہ تھا کہ

”قرارداد لاہور کے حوالے سے اتنی وضاحت و صراحت کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ڈاکٹر مبارک علی صاحب کا موقف کمزور ہے”

یہ سب لکھنے کے بعد لگے ہاتھوں اکمل گھمن حاصب مزید جرآت کا بھی مظاہرہ کر لیتے۔ جب انہوں نے زاہد چودھری اور حسن جعفر زیدی کی تاریخ پاکستان سے طویل اقتباس شاملِ تحریر کیے ہیں جس میں ولی خان کے مؤقف کا رد کیا گیا تھا تو ان اصحاب نے جو خطاب ولی خان کے متعلق استعمال کیاہے وہی ڈاکٹر مبارک علی پر بھی فٹ آتا ہے کیونکہ ڈاکٹر مبارک علی کے بھی وہی دلائل ہیں جو ولی خان کے تھے۔

اکمل گھمن صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر مبارک علی نے صرف اپنا مؤقف دیا ہے انہیں اس پر اصرار نہیں ہے۔ لیکن اگر ڈاکٹر مبارک علی کے تینوں بیانات کو تسلسل سے پڑھیں تو گھمن صاحب کے اس دعویٰ کی نفی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی نے ٹی وی پروگرام میں فرمایا۔

”پہلی بات اُسی قرارداد کے حوالے سے ہے۔ کچھ نئی چیزیں سامنے آئی ہیں ان کی روشنی میں اس قرارداد کو دیکھا جائے تو ایک دوسرا ہی خاکہ ہمارے سامنے آتا ہے۔اس قرارداد کے حوالے سے جو نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق اس قرارداد کے مسودے کو ہندوستان کے وائسرائے کی مرضی سے ڈرافٹ کیا گیا تھا اور اس کی منظوری برطانوی حکومت سے لی گئی تھی۔ اس مسودے کو قائد اعظم محمد علی جناح کو دکھا دیا گیا تھا۔ یہ مسودہ جب منٹو پارک لاہور کے اجلاس میں پیش ہونے کے لیے بہت دیر سے آیا تھا۔ عاشق حسین بٹالوی نے بیان کیا ہے اس قرارداد کافی البدیہہ ترجمہ (مولانا) ظفر علی خان نے کیا تھا ورنہ یہ قرارداد پہلے سے مسلم لیگ کے پاس ہوتی تو اس کا اردو ترجمہ بھی پہلے سے لکھ لیا جاتا۔ لہٰذا ایک خیال تو یہ ہے کہ یہ قرارداد برطانوی حکومت کی مرضی سے آئی ہے اور خاص وقت پہ آئی ہے۔ اس لیے اس کا ترجمہ بھی اُسی وقت کیا گیا”

پھر ”درجوابِ آں غزل” میں فرمایا۔

”جب ان کی ناکامیاں زیادہ بڑھیں تو پھر یوم جمہوریہ کو یوم پاکستان بنا کر لوگوں کو ایک بار پھر اپنی نام نہاد جدوجہد سے آگاہ کرنا شروع کر دیا۔ 1940ء کی ریزولوشن کے بارے میں کہانیاں بیان کی گئیں۔ 1940 ء کی ریزولوشن کی اصل داستان لارڈ لنتھگو تاریخی دستاویزات میں محفوظ ہیں ۔ انٹرنیٹ پر بھی یہ معلومات دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق انڈیا کے وائسرائے لارڈ لنتھونے یہ قرارداد چودھری محمد ظفر اللہ سے لکھوائی، جنھوں نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بعد میں یہ مسودہ قائد اعظم محمد علی جناح اور برطانوی حکومت کی توثیق کے بعد 23مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کے لاہور میں ہونے والے جلسہ عام میں پیش کیا گیا۔ چونکہ قرارداد کا مسودہ شملہ سے دیر سے پہنچا، اس لیے اس کا اردو ترجمہ فوری طور پر مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا کہ جب قرارداد کو انگریزی میں پیش کیا گیا تو حاضرین مجلس نے اسے ہاتھ اٹھا کر یا ہاں کہہ کر منظور کیا۔”

کیا یہ سب کچھ یہی ثابت نہیں کرتا کہ ڈاکٹر مبارک علی نہ صرف اپنی راۓ پر اصرار کر رہے ہیں بلکہ وہ اسےمنوانے پر بضد بھی ہیں۔
پھر یہ خلافِ واقعہ ہے کہ لارڈ لنتھگو تاریخی دستاویزات میں ایسا کوئی حوالہ ہے۔ دوسراچودھری محمد ظفر اللہ بھی 1981ء میں اپنے ایک بیان میں اس کی تردید کرچکے ہیں جو پاکستان ٹائمز کی 25 دسمبر کی اشاعت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے پاس نہ تو کوئی خفیہ دستاویز ہے اور نہ ہی کوئی مستند حوالہ،پھر بھی ڈاکٹر مبارک علی اور اس کے لواحقین کا اصرار ہے کہ ان کی بات مانی جاۓ۔ اور اگر مستند حوالوں سے ان کی تردید کی جاۓ تو یہ ان کی تنقیص اور ڈاکٹر مبارک علی کی شانِ اقدس میں گستاخی کے مترادف ہے۔

اس سلسلہ مضامین میں اکمل گھمن صاحب کا مقصد اگر ڈاکٹر مبارک علی کا تاریخی دفاع تھا تو وہ اس میں ناکام ہوئے اور انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ ڈاکٹر مبارک علی کا مؤقف کمزاور ہے۔ ہاں اگر ان کا مقصد اپنے صحافی پیٹی بھائیوں مجیب الرحمان شامی، سجاد میر، حامد میر اور ڈاکٹر صفدرمحمود وغیرہ سے کسی صحافتی چشمک کا حساب چکانا تھا تو پھر وہ اس میں کامیاب رہے۔ یہ حساب انہوں نے خوب چکایا اور سود سمیت چکایا۔

اکمل گھمن صاحب نے ڈاکٹر مبارک علی کی تردید کرنے والے تمام اصحاب کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جوکسی طرح بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے مجیب الرحمان شامی، سجاد میر، حامد میر اور ڈاکٹر صفدرمحمود وغیرہ پر تو جو تبصرے و تبرے کیے ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ
اسی دوران زاہد منیر عامر اور منیر احمد منیر کے کالم بھی چھپ گئے جن میں ڈاکٹر مبارک علی پر طعن و تشنیع کی گئی تھی۔

یہ تبصرہ سراسر علمی بددیانتی ہے۔ منیر احمد منیر کے چار کالم اور ڈاکٹر زاہدمنیر ازہر کے تین کالم پڑھ کر ایک عام فہم آدمی بھی نہیں کہ سکتا کہ انہوں نے ڈاکٹر مبارک علی پر کوئی طعن و تشنیع کی ہے۔ اس سارے قضیے میں یہی سات کالم تو دلیل، علمیت اور توزن کا بہترین نمونہ تھے۔ انہیں میں تو ڈاکٹر مبارک علی کی دلیل کا علمی رد تھا۔ شاید ان کا کوئی جواب نہ تو اکمل گھمن صاحب کے پاس تھا اور نہ ہی ڈاکٹر مبارک علی کے پاس اور جب ڈاکٹر مبارک علی نے اپنے اور اپنےموافقین و مخالفین کے کالموں کو کتابی صورت میں مرتب کیا تو ان سات میں سے ایک کالم کوبھی شامل ِ اشاعت نہیں کیا۔ اسے ہی کہتے ہیں دل میں چور۔جو دلیل آپ کا رد کرے اسے گول کرجاؤ۔

اہم بات یہ کہ جس زمانے میں یہی دعویٰ ولی خاں نے کیا تھاتو ظفراللہ خان کا انٹرویو لینے وارث میر صاحب کے ساتھ دوسرے آدمی منیر احمد منیر تھے جن کے پاس اس گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ آج بھی محفوظ ہےجس میں ظفراللہ خان نے کہا تھا کہ ولی خاں مجھے اس بات کا کریڈٹ کیوں دیتے ہیں جو میں نے کیا ہی نہیں۔

مارچ کے دن کی اہمیت کے حوالے سے بھی ایک وضاحت ضروری ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی نے فرمایا کہ چونکہ نیا نیا ملک بنا تھا اور ان کے پاس منانے کے لیے دن نہیں تھے اسی لیے جب 56ء کا آئین بنا ہے تو پھر 23 مارچ کی اہمیت ہوئی ہے۔ یہ بھی تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔ 23 مارچ کی اہمیت 56ء کے آئین کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ بلکہ56 ء کے آئین کےلیے 23 مارچ کا دن مخصوص کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے جب 54ء کےآئین کےنفاذ کا سوچا گیا تو اس کے لیے 25 دسمبر کادن طے ہوا تھا مگر بوجوہ اس کے نفاذ کی نوبت نہ آسکی۔ لٰہذا 25 دسمبر کی طرح 23 مارچ بھی مسلم لیگ کی تاریخ میں پہلے سے اہم چلی آرہی تھی۔ جس کا ثبوت قائدِ اعظم کی مطبوعہ تقاریر و بیانات اور مسلم لیگ کی تاریخ میں مل جاتا ہے۔ 1941 ء سے 1948ء تک ہر سال اس تاریخ کو قائدِاعظم کا کوئی بیان یا تقریر اخبارات میں موجود ہوتی تھی اور قائدِاعظم نے اسے ہمیشہ یومِ پاکستان ہی کہا ۔ پھر 1940 ء کے بعد 1947ء تک ہر سال یہ دن مسلم لیگ نے نہایت اہتمام کے ساتھ منایا۔

ہمارے سیاستدان بھی کمال ہیں جو گپ یا افواہ کی صورت اڑائےگئےجملوں کو جلسوں میں اس طرح دہراتے ہیں کہ عوام انہیں تاریخ کا درجہ دے دیتے ہیں۔ ایسے دو فرضی جملے قائدِاعظم سے منسوب چلے آرہے ہیں جنہیں ہمارے سیاستدان اور کچھ صحافی بار بار دہراتے رہتے ہیں۔ ایک یہ کہ میں نے پاکستان اپنے سیکٹری اور ٹائپ رائٹر کی مدد سے صاصل کیا اور دوسرا یہ کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔ ان دونوں جملوں کا قائدِاعظم سے انتساب غلط ہے مگر یار لوگ ہیں کہ ماننے ہی پہ نہیں آرہے۔ اوروں کو تو جانے دیجیے چند سال پیشتر ڈاکٹر مبارک علی نے بھی پہلے جملے کو سچ ثابت کر دکھانے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت بھی ایسی ہی کیفیت تھی جیسی 23 مارچ کے حوالے سے دیکھنے کو ملی۔ جواب در جوب اور طعن و تشنیع۔

میں چاہتا ہوں کہ اس پر بھی بات ہوجائے تاکہ پتہ چل سکے ڈاکٹر مبارک علی جو کہنے کو تو مؤرخ ہیں مگر جب تحریکِ پاکستان اور قائدِاعظم کو موضوع سخن بناتے ہیں تو وہ تاریخ نویسی کے سارے مسلمہ اصول بالائے طاق رکھ کر ایک پارٹی باز کی سطح پر اتر آتے اور پروپیگنڈہ باز کا روپ دھار لیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے قائدِاعظم سے منسوب یہ جملہ کہ میں نے پاکستان اپنے سیکٹری اور ٹائپ رائٹر کی مدد سے صاصل کیا، مطلوب الحسن سید صاحب کی کتاب کے حوالے سے بیان کیا تو اس کا جواب ڈاکٹر صفدر محمود نے یوں دیا۔

“اپنے دعویٰ کے حق میں انہوں (ڈاکٹر مبارک علی) نے جس کتاب کا ذکر کیا ہے اس کا نام ان کے بقول یہ ہے۔ The Sound of Fury; Political study of M.A.Jinnah  ڈاکٹر صاحب کے بیان کے مطابق یہ کتاب مطلوب الحسن سیدنے لکھی ہے اور اس کے صفحہ 347 پر ٹائپ رائٹر والا جملہ موجود ہے۔ سچی بات یہ ہے میں مبارک صاحب کو پڑھا لکھا اور فاضل مؤرخ سمجھتا ہوں۔ چنانچہ مجھے ان کے اس حوالے سے صدمہ بھی ہوا اور حیرت بھی کیونکہ قائدِاعظم کی ذات سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ مطلوب الحسن سید نے The Sound of Fury; Political study of M.A.Jinnah نام کی کوئی کتاب نہیں لکھی۔ مطلوب الحسن سید نے زندگی بھر ایک ہی کتاب لکھی جس کا نا م ہے ہے Muhammad Ali Jinnah; A Political study اس کا پہلا ایڈیشن 1945ء میں چھپا اور اضافہ شدہ ایڈیشن 1953ء میں۔ بعد میں یہی ایڈیشن بغیر کسی ترمیم کے 1962ء پھر 1970ء اور اب تک پاکستان سے اور ہندوستان سے چھپتا رہا۔ 1953ء والا ایڈیشن آج تک میرے پاس ہے، اس میں یہ فقرہ کہیں نہیں۔ اس کتاب کا ہندوستانی ایڈیشن میرے سامنے رکھا ہے جسے 1986ء میں انمول پنلی کیشنر نے شائع کیا ہےاس کتاب میں بھی یہ جملہ موجود نہیں۔معلوم ہوتا ہے مطلوب الحسن سیدکی کتاب کا کوئی تحریف شدہ اور پائریٹڈ ایڈیشن ڈاکٹر مبارک علی کے ہاتھ لگ گیا ہے”

ڈاکٹر صفدر محمود کے اس اقتباس سے ایک عام انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ

The Sound of Fury; Political study of M.A.Jinnah  1۔ نام کی کوئی کتاب مطلوب الحسن سیدنے نہیں لکھی۔
Muhammad Ali Jinnah; A Political study  2۔  ہی مطلوب الحسن سیدکی اصل کتاب کا نام ہے۔

3۔ 1953ء کے بعد اس میں کوئی رد و بدل مصنف نے نہیں کیا۔

4۔ ہندوستان سے 1986ء میں انمول پنلی کیشنر نے جو ایڈیشن شائع کیا اس میں بھی یہ جملہ موجود نہیں ہے۔

5- ڈاکٹر مبارک علی کے ہاتھ کوئی تحریف شدہ ایڈیشن لگا ہے تو یہ اور بات ہے۔

اس کے جواب میں جو کچھ ڈاکٹر مبارک علی نے فرمایا وہ ذرا پڑھ لیں۔وہ لکھتے ہیں۔” مطلوب الحسن سیدکی کتاب کے بارے میں ڈاکٹر صفدر محمودنے کہا کہ اول تو یہ کتاب ہے ہی نہیں۔ پھر کہا کہ شاید تحریف شدہ ایڈیشن ہے جو انڈیا سے شائع ہوا ہے۔ چونکہ انڈیا ہمارا دشمن و حریف ہے اس لیے وہاں سے آنے والی ہر چیز مخالفانہ ہوگی۔ شاید کسی نے یہ تحریف اس لیے کی ہے کہ میں ڈاکٹر صفدر محمودکو جواب دے سکوں۔”

اب قارئین ہی فیصلہ کریں کہ ڈاکٹر صفدر محمودنے کیا کہا اور ڈاکٹر مبارک علی نے اسے کس طرح توڑمروڑ کر پیش کیا۔
اس مضمن میں جب میں نے تفصیلی تحقیق کی پتہ یہی چلا کہ واقعی میں یہ تحریف اس لیے کی گئی ہے تاکہ ڈاکٹر مبارک علی اسے ثبوت کے طور پر پیش کرسکیں۔ تلاشِ بسیار کے بعد مجھے مطلوب الحسن سیدکی کتاب کے تین پاکستانی ایڈیشن 1953ء، 1962ء اور 1970 ء والےمل گئے۔ اسی طرح ہندوستان کا 1986ء والا انمول پنلی کیشنرکا

ایڈیشن بھی نیٹ سے مل گیا۔ ان سب میں یہ جملہ موجود نہیں ہے اور کتاب کا نام بھی
ہے۔ پھر اکبر پبلشنگ ہاؤس نیو دہلی کی مطلوب الحسن سیدکی کتاب نیٹ سے ملی جس پرنام Muhammad Ali Jinnah; A Political study لکھا ہوا ہے اور اس میں یہ جملہ موجود ہے۔ The Sound of Fury; Political study of M.A.Jinnah
ڈاکٹر مبارک علی ایک مؤرخ ہیں، وہ حوالے اور سند کی اہمیت سے خوب واقف ہیں۔ کیا یہ ان کی ذمہ داری نہ بنتی تھی کہ وہ پہلے کھوج لگا لیتے کہ مطلوب الحسن سیدکی کتاب کا اصل نام کیا ہے،کب کب چھپی کس نے چھاپی اور کوئی ردوبدل تو نہیں ہوا۔ مگر ان کی بلا سے انہیں تو قائدِاعظم کے خلاف حوالہ چاہیئے تھا وہ چاہے کسی تحریف شدہ کتاب سے کیوں نہ ملے۔

اس بات کا رد تو اس انٹرویو سے ہوجاتا ہے جو ایک 14 اگست 1947 ء کو نیویارک ٹائمز کے نمائندہ خصوصی کے جواب میں کہا تھا، جب اس نے بڑھ کر بابائے قوم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور وفور عقیدت سے ان کا ہاتھ زور سے دبا کر بے ساختہ پکار اٹھا۔ قائد اعظم میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آخر کار آپ نے پاکستان لے ہی لیا۔ قائد اعظم نے یہ جملہ سن کر امریکی صحافی کا ہاتھ جھٹک دیا اور اپنے مخصوص لہجے میں جواب دیا۔ ’’میں نے اکیلے پاکستان حاصل نہیں کیا۔ پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں میرا، ایک روپے میں صرف دو آنے حصہ تھا۔” اس بعد بھی یا رلوگوں کی گپوں اور کھسر پھسر میں کی گئی باتوں کو تاریخ بنا لیں تو پھر یہ بدقسمتی ہی کہلائے گی۔

قارئین محترم چاہے 23 مارچ ہو یا قائدِاعظم سے منسوب ٹائپ رائٹر والہ جملہ ہر دو نوں بار ڈاکٹر مبارک علی نے محرف شدہ حوالوں، مسخ شدہ حقائق اور فرضی و سنی سنائی باتوں پر دلیل قائم کی اور ایک خوش کن عمارت بنانا چاہی مگر انہیں علم ہوناچاہیے کہ ایسی ہوائی عمارتیں اصل حقائق کے سامنے زمیں بوس ہوجاتی ہیں۔ اب اگر ڈاکٹر صاحب ایسی بودی اور کمزور دلیلیں لائیں گے تو ان پر تنقید بھی ہوگی اور ان کی دلیل کا رد بھی۔ پھر ان کو اور ان کےلوحقین و متعلقین کو سیخ پا ہونے اور شوروغوغا کرنی کی بجائے ذرا اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہیئے۔ ورنہ بقول ڈاکٹر خرم علی شفیق ہم بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ”ڈاکٹر مبارک علی نےتاریخ لکھی تو بہت ہے مگر پڑھی کم”

آخر میں میں دونوں کتب اصل اور تحریف شدہ کے اس پیراگرف کا عکس دینا ضروری سمجھتا ہوں جن سے اپ خود موزنہ کر سکتے ہیں۔
اصل کتابMuhammad Ali Jinnah; A Political study

تحریف شدہ کتاب


ڈاکٹر مبارک علی کا دفاع کرنے والے تما م اصحاب کا سب سے بڑا مخمصہ یہ ہے کہ وہ نفسِ مضمون پربات کرنے یا ڈاکٹر مباک کے دلائل کا دفاع کرنے کی بجائے، اسی بات کی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب کی تنقیص کی گئی ہے۔ یا فلاں تو مورخ نہیں ہے۔ یعنی ڈاکٹر صاحب کے پاس ڈاکٹری کی ڈگری ہے وہ جس کی گردن پہ چاہیں چھری پھیر دیں ان سے دستاویزی ثبوت کوئی نہ مانگے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: