تقسیم ہند کے بعد کانگریس کا جمعیت علماء ہند اور نیشنلسٹ علما کے ساتھ سلوک : محمد عبدہٗ

1
  • 156
    Shares

آغا شورش کاشمیری وہ مشہور ہستی ہیں جن سے مولانا آزاد کا ایک انٹرویو منسوب ہے۔ جس میں پاکستان کے بارے کچھ پیش گوئیاں ہیں اور آئے دن اس نٹرویو کو بنیاد بنا کر نظریہ پاکستان اور بانیان پاکستان بارے شکوک پیدا کیے جاتے ہیں۔ شورش کاشمیری نے تقسیم ہند بارے مولانا آزاد سے یہ انٹرویو مارچ اپریل 1946 میں لیا تھا۔ مولانا آزاد فروری 1958 اور شورش کاشمیری 1980 میں وفات پاگئے۔ یہ انٹرویو دونوں کی زندگی میں کہیں نظر نا آیا۔ اور 42 سال بعد اور شورش کاشمیری کی وفات کے 8 سال بعد 1988 میں “مولانا ابوالکلام آزاد” نامی کتاب میں شائع ہوا۔

محمد عبدہ

میرا آج کا موضوع وہ انٹرویو نہیں لیکن انٹرویو نگار آغا شورش کاشمیری کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب “بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل” ہے۔ جو 1972 میں شائع ہوئی تھی۔ کچھ تمھید کے بعد اپنے موضوع پر آتا ہوں۔ اس کتاب میں کچھ ایسی باتیں ہیں جن سے موجودہ نسل لاعلم ہے۔ جنہیں کانگریس کی سازشوں اور لیگ کی جدوجہد بارے کچھ پتہ نہیں ہے۔ جو نہیں جانتے کہ کانگریس کانگریسی علماء اور احراری علماء کا آپس میں کیا رشتہ تھا۔ تقسیم کے بعد کانگریس نے ان کانگریسی اور احراری علماء کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جس سے کانگریس کے ہندو لیڈروں کی تنگ نظری فرقہ وارانہ سوچ ہندو راج کو نافذ کرنے اور مسلمان کو غلام بناکر رکھنے کی سازشیں عام نظر آتی ہیں اور وہیں یہ بات آج تک تحقیق طلب ہے کہ کانگریس کی مسلم دشمنی کے باوجود کانگریس کے مسلمان لیڈر کیوں پاکستان مخالفت پر ڈٹے رہے۔ آغا شورش کاشمیری اپنی کتاب “بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل” لکھتے ہیں۔

میرٹھ کانگریس میں آچاریہ کر پلانی کا خطبہ انتہائی فرقہ وارانہ تھا۔ سردار پٹیل نے ہند فوج کے جنرل موہن سنگھ کو آمادہ کیا کہ وہ دیہات میں سکھوں و ہندوؤں کو منظم و مسلح کریں۔ موئن سنگھ نے ڈھلوں کو بھی ساتھ ملا لیا جس سے مسلمانوں پر منظم و مسلح حملوں کی نیو رکھی گئی۔ جن ہندو صوبوں میں کانگریس وزارتیں تھیں وہاں وزراء نے ہندوؤں کو اسلحے سے لیس کردیا۔ تمام ہندو آفیسر ہندوؤں کی پشت پر تھے۔ صفحہ 419-420۔ میں نے بہار کے وزیر خزانہ انوگر نارائین سے کہ کہ کیا لیگ کا یہ دعوی سچ ثابت نہیں ہورہا کہ ہندو مسلمانوں کو ہندستان سے مٹا دینا چاہتے ہیں۔ اور کانگریس کی آزادی کے معنی مسلمانوں کی غلامی کے ہیں۔ علاقہ وار فساد کی کمان ان لوگوں کے سپرد کی گئی ہے۔ کانگریسی سوشلسٹ ہونے کے باوجود غالی ہندو تھے۔ ان لوگوں کو بہت دن پہلے اس مقصد کیلے ٹریننگ دی گئی تھی۔ صفحات 436، 451، 452

اتفاق سے احراری لیڈر مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی جوکہ سخت لیگ مخالف تھے اور جن کا ایک جملہ بہت مشہور ہے کہ “دس ہزار جناح شوکت و جوہر نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان ہیں”۔ (چمنستان از ظفر علی خان صفحہ 165) کے ہاتھ چند کاغزات لگ گئے جس سے معلوم پڑتا تھا کہ فسادات کی جڑ کیا ہے۔ اسکے پس منظر میں کون لوگ ہیں۔ انگریز افسر کیا کررہے تھے۔ اس مواد میں آزاد ہند فوج کے جنرل موہن سنگھ اور جنرل ڈھلوں کے چند خط بھی شامل تھے۔ اسلحہ کی وصولی تقسیم و استعمال کی رسیدیں تک شامل تھیں لدھیانوی وہ تمام ثابت لیکر مولانا آزاد کے پاس دہلی گئے۔

مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور مولانا آزاد۔
مولانا نے سرد آہ بھری اور کہا

“مولوی صاحب یہ سب کچھ میرے علم میں تھا۔ اب تک جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناگزیر تھا۔ ہونے ہر تعجب نہیں نا ہوتا تو ضرور تعجب ہوتا۔ دن سبھی طرح کے نکل جاتے ہیں یہ بھی نکل جائیں گے۔ البتہ ایک چیز جو ثابت ہوگئی ہے وہ کچھ لوگوں کی دماغی تربیت ہے۔ میں ان لوگوں بارے کبھی خوش رائے نہیں رہا۔ میں نے انکی طبیعتوں کا شروع سے ہی اندازہ کرلیا تھا۔ اور مجھے یقین تھا یہ لوگ آخرکار ننگا ہوجائیں گے۔ سو انکے چہروں کی نقاب الٹ چکی ہے۔ اب ان حالات میں ان چیزوں کو ان لوگوں کے سامنے رکھنا گویا اپنی کمزوریوں کو جو پہلے ہی رسوا ہو چکی ہیں مزید رسوا کرنا ہے۔ توقف کیجئیے طوفانوں کی طرح یہ طوفان بھی تھم جائے گا”۔

مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور پنڈٹ نہرو۔
مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی وہاں سے اٹھ کر نہرو کے پاس گئے اور اپنی بپتا سنائی۔ ان سے کہا۔

“کیا اس دن کیلے ہم نے کانگریس کا ساتھ دیا کہ ہم اپنے گھروں میں نا رہ سکیں۔ لدھیانے میں جس مکان کو سب سے پہلے آتشزنی کیلے چنا گیا وہ میرا مکان تھا۔ ضلع کے حکام فسادیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ بلوائیوں کو خود کانگریس کے لیڈر دعوت دیتے ہیں۔ اور انکی راہنمائی کرتے ہیں۔ مسلمانوں کیلے لدھیانہ میں سانس لینا مشکل ہوگیا ہے۔ جنرل موئن سنگھ اور جنرل ڈھلوں آتشزنی لوٹ مار اور اجتماعی بلووں کی تربیت دے رہے ہیں۔ ہم نے اس دن کیلے آزادی کا سفر شروع کیا تھا۔ کہ اسکے زریعے سب سے پہلے ہمارے سینے میں خنجر جھونکا جائے گا”۔

نہرو سر جھکائے خاموشی سے سنتے رہے جب بات مکمل ہوگئی تو جواب میں کہا۔ “مولانا میرے پاس ندامت کے سوا کچھ نہیں۔ میں شرمندہ ہوں۔ انسان پاگل ہوگیا ہے۔ ہم پاگل ہوگئے ہیں۔ آپ ہمیں معاف کردیں۔

مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور گاندھی۔
مولانا لدھیانوی اگلے روز گاندھی سے ملنے چلے گئے۔ اور کہا۔

“مہاتما جی یہ ہے وہ سوراج (آزادی) جس کیلے آپ نے اٹھائیس یا انتیس سال لڑائی کی اور جس کیلے ہم سالہا سال جیل میں رہے۔ ہم نے مسلمانوں کی اجتماعی خواہش کو ٹھکرا دیا۔ کانگریس کے ہوگئے۔ اس کیلے قید و بند کی صعوبتوں کو لبیک کہا۔ گھر بار لٹایا بچوں کے مستقبل کو برباد کیا۔ آزادی آئی تو سب سے پہلے ہمارے گھر لوٹے گئے۔ گاندھی بھگتوں نے قاتلوں کی سرپرستی کی۔ عام مسلمانوں کو اس لئے سزا ملی کہ وہ لیگ کے حمایتی تھی۔ ہمیں اس لئے سزا دی گئی کہ ہم لیگ میں نہیں کانگریس کے ساتھ تھے۔ عبادت خانے بھی محفوظ نہیں رہے۔ انہیں اس طرح ڈھایا گیا گیا کیسے مسجدیں نہیں مذبح تھے۔

گاندھی جی سنا تو مسکرائے پھر قہقہہ لگا کر بولے۔

“مولوی صاحب مجھے افسوس ہے۔ لیکن میں آپ سے اتفاق نہیں کرسکتا۔ آپ نے ہمارے لیے قید کاٹی۔ غلط ہے۔ قید تو آپ نے دیش کی سوتنترا (آزادی) کیلے کاٹی ہے۔ اور اپنا گھر آپ نے موت کے خوف سے چھوڑا ہے۔ مسجدوں کی توہین کے زمہ دار آپ ہیں۔ اگر آپ وطن کیلے قید کاٹ سکتے ہیں تو کیا خانہ خدا کیلے مر نہیں سکتے تھے۔ ان کیلے مٹ جاتے۔ آپ نے مذہب کی روح کو نہیں سمجھا۔ آپ کو مرجانا چاہئے تھا مگر خدا کا گھر چھوڑنا نہیں چاہیے تھا۔

مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور سردار پٹیل۔
مولانا لدھیانوی وہاں سے اٹھ کر سردار پٹیل سے ملنے گئے وہ اپنی بیٹی کے ساتھ کوٹھی کے لان میں ٹہل رہے تھے۔ مولانا نے یہی رام کہانی سردار پٹیل کو سنائی۔ پٹیل کسی احساس یا تاثر کا اظہار کیے بغیر سنتے رہے تمام کاغذات لیکر اہنی بیٹی منی کو پکڑا دئیے اور کہا میں فرصت میں ان کاغذات کو دیکھوں گا۔ اور ہم نے یہ آزادی ہندوؤں کے بل پر مکمل کی ہے۔ ہندو عوام کی وجہ سے ہمیں یہ آزادی ملی ہے۔ اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ حصول آزادی کے بعد ہم ہندو عوام ہر گولی چلائیں۔ انہیں قتل کریں یا قتل ہوتا دیکھیں۔ یہ ناممکن ہے۔ ہم احرار لیڈر نہیں ہیں۔ کہ قربانی بھی دیں اور قوم سے گالیاں بھی کھائیں۔ اور سارے ملک میں تماشا ہوکر رہ جائیں۔ جس قوم نے ہمیں اقتدار دیا ہے اس قوم سے بدعہدی ہوگی بلکہ غداری کہ آزادی کے بعد اس جماعت کیلے ان پر گولی چلائیں جو آزادی کی دشمن رہی ہے۔ اور جس نے فساد کی نیو رکھی ہے۔ “بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل” صفحات 490 تا 494

کانگریس کا نظریہ صرف اور صرف ہندو راج اور مسلمان کو غلام بنانے کا تھا۔ اور اس کیلے کانگریس نے علماء کو پیسے دیکر خریدا، انہیں لیگ اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔

جمعئت علماء ہند کے روح رواں مولانا احمد سعید دہلوی نے دسمبر 1926 کی ایک تقریر میں ہندو کانگریس کے ایک قومی نظریے کی قلعی کھولتے اور ہندو راج قائم کرنے کے ہندو ارادوں کے بخئیے ادھیڑتے ہوئے کہا۔ “ان چند سالوں میں ہندؤں نے جو جو مظالم ڈھائے ہیں۔ جس جس بےدردی کے ساتھ مسلمانوں کے مذہب کی توہین کی ہے۔ اور باوجود مسلمانوں کی انتہائی خوشامد اور رواداری کے ہندوؤں نے مسلمانوں کے مطالبات کو جس طرح ٹھکرایا۔ اور ہندو لیڈروں نے بایں ہمہ ان مظالم اور خون ریزی پر نا صرف پردہ پوشی کی بلکہ حمایت کی۔ ان تمام باتوں نے ہندوؤں ہے اعتماد کو کھو دیا۔ اب مسلمان آنکھیں بند کرکے ہندوؤں کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں۔ ہندو اکثریت موجودہ ذہنیت کے ساتھ ہر گز اس قابل نہیں کہ اقلیت کو اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے۔ بہتر سے بہتر اور بھلی سے بھلی بات کو بھی سننا گوارا نہیں کرتا۔ اپنی ہنڈیا تو چھوڑتا نہیں غضب تو یہ ہے کہ جس ہنڈیا کا رخ ہماری طرف کو ہوتا ہے راستہ میں ہی اسے لپک لیتا ہے۔ بھلا ایسے موزی کو اگر سوراج (آزادی) مل گیا تو پڑوسیوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ سیاست ملیہ صفحہ 185 , 186

یہ تمام باتیں کیا اس بات کی گواہ نہیں کہ کانگریس کا نظریہ صرف اور صرف ہندو راج اور مسلمان کو غلام بنانے کا تھا۔ اور اس کیلے کانگریس نے علماء کو پیسے دیکر خریدا، انہیں لیگ اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔ جب تقسیم ہوگئی تو انہیں استعمال شدہ ٹشو کی طرح پھینک دیا۔ استعمال ہونے والے علماء چاہے کانگریس کے آلہ کار تھے یا احرار کے اکثر و بیشتر نے اس غلطی کا اعتراف کیا۔ کانگریس و ہندو کی مکاری پر افسوس کا اظہار کیا اور اس بات کو تسلیم کیا کہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت صرف ایک مسلم لیگ تھی۔ اور پاکستان کا بن جانا ہی سب سے بہتر حل تھا۔ لیکن آج کل کے دانشور جن کی ساری مفکری ایک انٹرویو اور ایک تقریر کے سہارے کھڑی ہے وہ نہ اس بات کو سمجھتے ہیں نا پڑھنے و تحقیق کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے اس سطحی علم کی بنا پر موجودہ نسل کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انکی نظر صرف کانگریسی و احراری علماء کے تقسیم سے پہلے عمل پر ہے اور انہی علماء کے تقسیم کے بعد کے اعترافات سے آنکھیں پھیر کر بیٹھے ہیں۔

کتاب کا لنک “بوئے گل نالہ دل دود چراغ محفل”

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. اگر صاحب تحریر کی ہر بات سچ مان لی جائے تب بھی پیسے دیکر حریدنا کہاں سے ثابت ہوا؟

Leave A Reply

%d bloggers like this: