اے خدا وند! تو ’عاصمہ جہانگیر‘ کو مصلوب کردے: فواد رضا

0
  • 151
    Shares

معروف وکیل اور انسانی حقوق کی رہنما عاصمہ جہانگیر اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئیں۔ وہ کیا رخصت ہوئیں نجانے ظلم و ستم کا شکار کتنے ہی مظلوم بھی یتیم ہوگئے۔ ابھی پرسوں ہی تو انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک غریب عورت کا مقدمہ مفت لڑنے کی درخواست دائر کی تھی ‘ ان کی وفات سے وہ مظلوم اپنا مقدمہ بن لڑے ہی ہار گئی۔

ایک جانب تو پاکستان کا روشن خیال اور ترقی پسند طبقہ ہے جو کہ ان کے یکایک انتقال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کررہا ہے تو دوسری جانب ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو ’خس کم جہاں پاک ‘اور ’پاکستان ایک اور بھارتی ایجنٹ سے پاک ہوگیا ‘، وغیرہ وغیرہ قسم کے خیالات کا اظہار کررہا ہے۔

دائیں بازو کے نظریات کے حامل صحافی فیض اللہ خان نے ان کے انتقال پر اپنی فیس بک وال پر لکھا ہے کہ ’اسلامی نظام و قوانین سے متعلق ان کے نظریات کے بڑے حصے سے ہمیشہ اختلاف رہا لیکن اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جتنی مؤثر اور توانا آواز اس عورت کی تھی شاید اچھے اچھے مرد ویسی جرآت نہ دکھا سکیں۔ بہادر عورت تھی، بھلے سے مخالف صف میں تھی‘‘۔ مخالفت ہو لیکن جس کا جو کام ہے اسے تسلیم تو کیا جائے۔

عاصمہ جہانگیر کو پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی سب سے توانا آواز تصور کیا جاتا تھا۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء سے لے کر نواز شریف کی تیسری مدت تک کون سی ایسی حکومت نہ تھی جسے انہوں نے اپنے اصولوں کی بنا پر چیلنج نہ کیا ہو۔ وہ بہادر خاتون اپنی ذات میں ایک ایسی سورما تھیں جن کے بارے میں مریم نواز کو بھی لکھنا پڑا کہ ہ ’’جمہوریت‘ انسانی حقوق اور جبری تسلط کے خلاف مزاحمت کی جنگ کی اہم سپاہی آج نہیں رہیں۔ یہ سب کے لیے عظیم نقصان ہے‘‘۔ یاد رہے کہ عاصمہ جہانگیر مریم نواز کے والد کے روحانی مرشد جنرل ضیا کے خلاف بھی صف آرا ء رہی ہیں اور مسلم لیگ ن کی حکومت کی پالیسیوں کی بھی انتہائی سخت ناقد رہی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں سنہ 70 کے بعد ہر دہائی میں جوان ہونے والی ہر نسل نے اپنے سیاسی اور مذہبی رحجانات کے پیمانے پر تولنے کی کوشش کی ہے‘ جب ملک میں آمریت کا غلبہ تھا’ اس وقت نوجوان عاصمہ جیلانی آستینیں چڑھا کر عدالت گئیں اور آمریت کو غیر آئینی فعل قراردلایا‘ اس فیصلے کی نظیر آج تک عاصمہ جہانگیر کیس کے نام سے دی جاتی ہے۔ اسی کیس کے سبب ذوالفقار بھٹو کو سول مارشل لا ء ختم کرنا پڑا اور ملک میں آئین سازی کا دور شروع ہوا۔

ضیا الحق جیسے آمر کے دور میں جب بڑے بڑے مردِ میدان دم سادھے گھروں میں بیٹھے تھے ‘ عاصمہ جہانگیر سڑکوں پر تھیں اور جمہوریت کی بحالی کی جنگ لڑرہی تھیں‘ یہ وہ وقت تھا جب نصرت بھٹو پیپلز پارٹی کا محاذ سنبھالے ہوئے تھیں اور بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے دن گزاررہی تھیں۔ ایسے میں عاصمہ جہانگیر جیسی خاتون جن کے پاس کوئی قابل ِ ذکرسیاسی سپورٹ بھی نہ تھی۔ ضیا کے سامنے صف آرا ء ہونا کسی دیوانگی سے کم نہیں تھا۔

یکساں جمہوری نظریات کے سبب بے نظیر بھٹو سے بے مثال ہم آہنگی رکھنے والی عاصمہ 1996 میں حدود آرڈیننس کے سبب اپنی ہی سہیلی کے خلاف صف آراء ہوگئیں اور ان کی حکومت اس اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔ جب ملک میں ہر کوئی جنرل پرویز مشرف کے لال مسجد آپریشن کے قصیدے پڑھ رہا تھا‘ عاصمہ جہانگیر نے اس آپریشن میں کی گئی انصافی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد کو غدا ر کہا گیا تو انہیں پورے ملک میں کوئی وکیل میسر نہیں تھا ‘ سوائے عاصمہ جہانگیر کے۔ اور یہ وہی عاصمہ جہانگیر تھیں جو ماضی میں ایم کیو ایم کے غیر سیاسی رویوں کے سبب ان پر تنقید کرتی رہیں تھیں اوران کی جانب سے کردار کشی کا بھی شکار رہی تھیں۔

ملٹری کورٹس کا قیام عمل میں آیا تو کئی ایسے لوگوں کی آواز بن گئیں جو ان کے خیال میں بے گناہ تھے۔ اس وقت انہیں ایک بار پھر غدارِ وطن کا کہا گیا لیکن راؤ انوار کے واقعے نے ثابت کیا کہ تفتیش کے نظام میں سنگین سقم موجو د ہیں جن کی وجہ سے بے گناہوں کو سزا ملنے کے امکان بڑھ گئے ہیں۔

عاصمہ غدارِو طن قرار پائیں اور اس میں کوئی اچھنبے کی بات بھی نہیں تھی کہ جس ملک میں منٹو کو دیوانہ اور فیض کو غدا ر کہا گیا ہو ‘ وہاں عاصمہ جہانگیر جیسی کمزور عورت کو کچھ بھی قرار دینا کیا مشکل کام تھا۔ حبیب جالب نے شاید بے نظیر بھٹو کے لیے کہا تھا کہ ’ڈرتے تھے بندوقوں والے۔۔ ایک نہتی لڑکی سے‘‘۔ عاصمہ جہانگیر اس شعر کی تمام عمر عملی تصویر بنی رہیں۔ فوجی آمر ہو یا جمہوری لباس میں آمرانہ طرزِ عمل‘ انہوں نے ہر اس فعل کو چیلنج کیا جس سے انسانیت کی اقدار پر حرف آتا ہو۔ اور اس کے لیے انہوں اپنے پرائے ہر کسی کے خلاف قانونی جنگ لڑی اور سرخ رو رہیں۔

دائیں بازو کےوہ افراد جو یہ سمجھتے ہیں کہ خس کم جہاں پاک ‘ وہ بھی ایک بات اچھی طرح جان لیں کہ عاصمہ صرف الطاف حسین‘ زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین اور ان جیسے دوسروں کے لیے امید کی کرن نہیں تھیں ‘ بلکہ وہ بھی جو ابھی کل تک اسلام آباد میں بیٹھے انصاف مانگ رہے تھے۔ انہیں بھی امید تھی کہ کبھی نہ کبھی عاصمہ جہانگیر کے لاپتہ افراد سے متعلق کیس پر فیصلہ آئے گا اور ان کے پیاروں کی واپسی کی امید روشن ہوگی۔ آپ جسے خس کہہ رہے ہیں‘ اس کے سامنے اس ملک میں طاقت کے تمام مراکز خس و خاشاک سے کچھ زیادہ نہ تھے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ملک کے کچلے ہوئے اور محروم طبقے کو خبر ہی نہیں ہے کہ اگر انسانی حقوق کے لیے قائم ادارے اس ملک میں ان کے لیے آواز اٹھاتے ہیں‘ تو ان کی بنیاد رکھنے والی یہی عاصمہ جہانگیر تھی جو منٹو کی دیوانگی اور فیض کی فرزانگی کی امین تھی۔ آج پاکستان میں وکالت کا باب بند نہیں ہوا‘ آج پاکستان میں انسانی حقوق اور صنفی مساوات کی تحریکیں دم توڑ گئیں ہیں‘ اے کاش کہ دونوں جہانوں کا خداوند عاصمہ کے ان جرائم کی پاداش میں مصلوب کردے کہ آئندہ اس ملک میں کوئی محبِ وطن غدار کہلانے کے دکھ سے نہ گزرے۔

مملکتِ خداداد پاکستان کے سماجی مسائل آئے روز گھمبیر ہوتے چلے جارہے ہیں‘ عاصمہ جہانگیر اس غلط سمت کی جانب جاتے سماج کو درست سمت دکھانے کا استعارہ تھیں۔۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے سماجی امراض کے حکیم جون ایلیاء نے کہا ہے کہ:

مظلوم حسرتوں کے سہاروں کا ساتھ دو
باہر نکل کے سینہ فگاروں کا ساتھ دو

اک معرکہ بہار و خزاں میں ہے ان دنوں
سب کچھ نثار کر کے بہاروں کا ساتھ دو

بیدار رہ کے آخرِ شب کے حصار میں
خورشید کے جریدہ نگاروں کا ساتھ دو

روشن گروں نے خوں سے جلائی ہیں مشعلیں
ان مشعلوں کے سرخ اشاروں کا ساتھ دو

یاروں کا اک ہجوم چلا ہے کفن بدوش
ہے آج روزِ واقعہ، یاروں کا ساتھ دو

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: