اردو : ایک زندہ زبان —— انوار احمد

0
  • 5
    Shares

افسوس کہ سیاست اور نفرت نے زبان کا بھی بٹوارہ کردیا۔۔۔ دراصل ہندی اور اردو ایک ہی زبان ہیں فرق صرف رسم الخط کا ہے۔ ہندی کا دیوناگری اور اردو کا رسم الخط فارسی ہے۔ ہندی میں سنسکرت اور اردو میں عربی, فارسی, ترکی اور بہت سی دوسری زبانوں کے الفاظ شامل ہیں لیکن سنسکرت بھی اسی طرع اس میں شامل ہیں۔۔۔۔۔
میں احسان مند ہوں ہندوستانی سنیما کا کہ اسکی بدولت آج ہندوستان میں تمام تر ریاستی کوششوں کے باوجود اردو آج بھی زندہ ہے اور رہیگی۔ ہندی فلموں کے گانے خاص طور پر مکمل اردو میں ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔

اردو ایک زندہ زبان ہے اور کبھی ختم نہیں ہوسکتی اس میں جتنی معنویت ہے کسی اور زبان میں کم ہے مثلا انگریزی میں ہر رشتہ “انکل” ہے جبکہ اردو میں چچا, پھوپھا,خالو ,ماموں اور تایا کے لیئے الگ الگ نام ہیں اسی طرع انگریزی میں آنٹی کوئی واضح رشتہ نہیں جبکہ اردو میں ہر رشتہ واضح ہے جیسے کہ خالہ, پھوپھی, ممانی, چچی, تائی۔۔۔

ایک مثال اور۔۔ دیکھیں کتنی جدت اور واضح ہے۔۔۔ کپڑوں کا پڑا ڈھیر گٹھر ذرا چھوٹا ہوا تو گٹھری اور چھوٹا ہوا تو گٹھریا اور کم ہوا تو پوٹلی اور کم ہوا تو پٹلیہ۔۔۔ ہے ایسی کوئی مثال انگریزی ہیں لیکن ہم اور ہمارے بچے اپنی زبان سے شرمندہ ہیں اور بولتے ہوئے شرماتے ہیں۔ میں نے اکثر والدین کو فخریہ کہتے سنا ہے کہ ہمارے بچے کو اردو نہیں آتی یا اردو کی گنتی نہیں آتی وغیرہ۔

کیا آج تک کسی انگریز یا دوسری زبان بولنے والوں کو کبھی کہتے سنا ہے کہ اسے یا سکے بچوں کو انکی ماں بولی نہیں آتی۔

ایک بات واضح ہے کہ اگر کسی قوم کو گمراہ اور برباد کرنا ہو تو اس سے اسکی زبان چھین لو اسکی شناخت خود ختم ہوجائیگی۔۔ زبان کے جاتے ہی اس بچے سے اسکا ورثہ اسکی ثقافت, دین اور تاریخ سب اجنبی ہوجاتے ہیں جبکہ دوسری زبان تہزیب اور معاشرے اپنانے کے باوجود بھی وہ وہاں ہمیشہ اجنبی ہی رہتا ہے نتیجتاً وہ ایک دوہری شخصیت اور احساس کمتری کا مریض بن جاتا ہے۔ اسکا اظہار بظاہر وہ اپنے دوسرے رشتوں میں احساس برتری کی بھونڈی شکل میں پیش کرتا ہے۔۔ درحقیقت یہ شدید احساس کمتری کا مظاہرہ ہوتا ہے۔۔

ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ انگریزی سائنس اور علوم کی زبان ہے لہذا اسکا سیکھنا اور بولنا ضروری ہے۔۔۔ تو کیا جاپانیوں, جرمن, فرانس اور دوسری قوموں نے اپنی زبان میں رہتے ہوئے ترقی نہیں کی۔۔۔۔ کسی بھی دوسری زبان کو سیکھنا بہت اچھا ہے لیکن میرے نزدیک اپنی زبان سے دور رہنا اور اس سے نا بلد رہنا ایک گناہ سے کم نہیں۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: