فاٹا پر اچھل کود غیر آئینی بے معنی اور ملک دشمن ایجنڈہ ہے: محمد عبدہ

0
  • 63
    Shares

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کرنے کی سب سے بڑی مخالفت امریکہ کی طرف سے سامنے آ رہی ہے۔ امریکہ ایسا نہیں چاہتا کیونکہ صوبائی حکومت کی عملداری تھانہ سے محلہ لیول تک پولیس کا نظام ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک پہنچ جائے گا اور بلدیات کا مربوط نظام فاٹا کو بدل کر رکھ دے گا۔ فاٹا کی حیثیت تبدیل ہونے سے امریکہ کو اپنے مقاصد کیلے استعمال کرنے پر مشکل اور اس کے بہت سارے خفیہ آپریشن بےنقاب ہو جائیں گے۔ امریکہ کا واحد مقصد فاٹا پر بدامنی جاری رکھنا ہے تاکہ افغانستان میں وہ اپنا مشن جاری رکھ سکے۔ جب تک افغانستان میں امریکی افواج موجود ہیں امریکہ ہر حال میں فاٹا کو پختونخواہ میں ضم ہونے سے روکنا چاہتا ہے۔ اور اس کیلے وہ میڈیا صحافی اور سیاستدانوں پر پیسہ کا بھر پور استعمال کر رہا ہے۔ ایسا کھیل ماضی میں بھی کھیلا جاتا رہا ہے جب تقسیم کے وقت پاکستان دشمن عناصر نے سرحدی صوبے کو پاکستان میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کی اور کانگریس نے نیشنلسٹ پارٹیوں پر دل کھول کر پیسہ لٹایا تھا۔

فوج کا بھی موقف ہے کہ آپریشن کی کامیابی کے بعد فوجیوں کی بڑی تعداد کے ساتھ وہ ہمیشہ فاٹا میں نہیں بیٹھ سکتی۔ حکومت آگے بڑھے اور انتظامی ادارے قائم کرکے اپنی رٹ بحال کرے۔ فاٹا میں پے درپے فوجی آپریشن کے بعد امن و امان کی صورتحال بہت حد تک پاکستان کے کنٹرول میں آچکی ہے۔ اور دہشتگردی کے تمام نیٹ ورک توڑ دئیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضرب عضب کی بعد سے دہشت گردی کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں وہ فاٹا کی بجائے ڈائریکٹ افغانستان سے کنٹرول ہورہے ہیں۔

حالیہ پارلیمنٹ اجلاس میں ایک رات پہلے تک ایف سی آر کے خاتمے اور فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام سے متعلق (فاٹا اصلاحات) بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں 16ویں نمبر پر شامل تھا لیکن اسمبلی میں پیش کرتے وقت ایجنڈے سے نکال دیا گیا۔

جنہوں نے فاٹا کو کبھی دل سے پاکستان کا حصہ تسلیم نہیں کیا اور ڈیورنڈ لائن پر ہمیشہ افغانستان کے موقف پر دلیلیں دی ہیں آج وہ فاٹا کو پاکستان کا علیحدہ صوبہ بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں تو یہ بات جتنی مضحکہ خیز ہے اتنی سادہ نہیں ہے۔

ایجنڈے سے نکالنے پر فاٹا اراکین کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا جب کہ اسپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کرتے ہوئے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
اس دوران ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے ایوان کو بتایا کہ بعض تکنیکی وجوہات کے باعث یہ بل ایجنڈے سے نکالا گیا ہے جو آئندہ دو سے چار دنوں میں دوبارہ ایجنڈے میں شامل کر کے ایوان میں پیش کر دیا جائے گا۔

جبکہ زرائع کے مطابق یہ تبدیلی فضل الرحمان کی دھمکی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
فضل الرحمان نے وفاقی وزیر سفیران اور فاٹا کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر بلوچ کو دھمکی آمیز فون کال کرکے کہا ہے اگر فاٹا کو پختون خواہ میں شامل کیا گیا تو ہم حکومتی اتحاد سے نکل جائیں گے۔ اب اس بات پر کسی کو حیرانگی نہیں ہونی چاہئے کہ امریکہ اور فضل الرحمان فاٹا انضمام کے خلاف کیوں ہیں۔ اور دونوں کا ایک ہی ایجنڈا کیوں ہے۔ اور کیا اب بھی کسی کو شک ہے فضل الرحمان کس کے اشارے پر مخالفت کررہا ہے۔ اس کی ڈور کون ہلا رہا ہے۔
اگر فاٹا کے حالیہ مسئلے کو قانون و آئین کی نظر سے دیکھا جائے تو پھر بھی مخالفین کا نظریہ بےبنیاد اور انتشار پسندی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

سوال فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنانا یا پختون خواہ میں ضم کرنا نہیں ہے بلکہ موجودہ حیثیت برقرار رکھنا یا ضم کرنا ہے۔ سینیٹ کی کمیٹی میں علیحدہ صوبہ موضوع بحث ہی نہیں ہے تو عوام میں اس پر شور مچانے کا کیا مقصد ہے۔
سبحان تیری قدرت ہے کہ جنہوں نے فاٹا کو کبھی دل سے پاکستان کا حصہ تسلیم نہیں کیا اور ڈیورنڈ لائن پر ہمیشہ افغانستان کے موقف پر دلیلیں دی ہیں آج وہ فاٹا کو پاکستان کا علیحدہ صوبہ بنانے کی جدوجہد کررہے ہیں تو یہ بات جتنی مضحکہ خیز ہے اتنی سادہ نہیں ہے۔ علیحدہ صوبے کا سوال کہاں سے اور کیوں آیا ہے اور علیحدہ صوبہ بناکر وہاں کونسا کھیل رچانے کا پلان ہے اس پر تحقیق ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: فاٹا اِصلاحات : خدشات اورتجاویز

فاٹا انضمام کے بعد آئینی طور پر خیبر پختون خواہ پاکستان کا دوسرا بڑا اور مضبوط صوبہ بن جائے گا۔ اسکی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت بنانا کوئی قانون یا بل پاس کرنا مشکل ہوگا۔ شائد کچھ عناصر فاٹا عوام کو مرکزی دھارے میں اتنا اہم مقام ملنے سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔
جو پارٹیاں علیحدہ صوبے کے حق میں شور ڈال رہی ہیں کیا کبھی غور کیا ہے ان پارٹیوں کی فاٹا ایشو پر سینٹ یا سینٹ کی فاٹا کمیٹی میں کارکردگی کیا ہے۔

آئینی طور پر فاٹا پر بات کرنے کا سب سے زیادہ حق صدر اور فاٹا کے سینیٹر و پارلیمنٹیرین کا ہے۔ جبکہ کچھ لوگ کہتے ہیں انہیں کوئی حق نہیں ہے اگر انہیں حق نہیں ہے تو پھر بات کرنے والے وہ لوگ کون ہوتے ہیں۔
جو فاٹا پر ریفرنڈم کروانے کا شوق رکھتے ہیں ان سے درخواست ہے عوام میں شور مچانے کی بجائے پارلیمنٹ کے زریعے ریفرنڈم کی شق کو آئین کا حصہ بنانے کی کوشش کریں۔

جب ہم فاٹا کے سب سے بڑے ہمدرد اور سب سے زیادہ شور مچانے والے فضل الرحمان کی حقیقت دیکھتے ہیں تو بڑی حیرانگی ہوتی ہے کیونکہ فضل الرحمان کی جماعت کے پاس فاٹا کی 12 میں سے صرف ایک سیٹ این اے 42 ہے جس میں اسکا امیدوار صرف 3468 ووٹ لیکر جیتا ہوا ہے۔ دوسرے نمبر کے امیدوار کی ووٹ 3066 ہیں یعنی صرف 400 ووٹ کے معمولی فرق سے جیتا ہے۔ جبکہ فضل الرحمان کے امیدوار فاٹا کے باقی تمام حلقوں سے بری طرح ہارے ہوئے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جیتنے والی اس سیٹ پر 3468 ووٹ فاٹا سے جیتنے والے تمام امیدواروں کے مقابلے میں کم ہیں۔

یاد رکھیں آج یا کل جلد یا بدیر فاٹا نے پختون خواہ میں شامل ہونا ہے جس بارے آئینی قانونی انتظامی معاشی تمام معاملات طے ہوچکے ہیں اور اب تیاریاں جاری ہیں۔ جس دن انتظام مکمل ہوگئے عمل ہوجائے گا۔ اور اگلے عام الیکشن میں فاٹا سے ایم پی اے کی سیٹوں پر بھی الیکشن لڑا جائے گا اور عام الیکشن کے فوراً بعد بلدیاتی الیکشن بھی ہونے جارہے ہیں۔

آخری بات۔ فاٹا پر جو دو سیاسی پارٹیاں علیحدہ صوبے کی آواز اٹھا رہی ہیں ان کا موقف اصولی یا آئینی سے زیادہ تحریک انصاف کی مخالفت ہے۔ تحریک انصاف نے ضم کے حق میں بات کی تو وہ مخالفت میں علیحدہ صوبے پر ڈٹ گئے اگر تحریک انصاف نے علیحدہ صوبے کی بات کی ہوتی تو یہ سب ضم کے حق میں ہلکان ہورہے ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں: قبائلی علاقے اور قومی دھارا۔ راو جاوید

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: