لکھنؤ کی شام —- لالہ صحرائی

0
  • 77
    Shares

لالہ جی امید ہے آپ بخیریت ہوں گے، پاکستان میں لائٹ جاتی ہے نہ پانی کا مسئلہ، امن و امان کی صورتحال بھی اعلٰی ہے، ہمارے ہاں خیالستان میں مت پوچھیے کیسی گزر رہی ہے، ہر وقت کی ہڑبونگ سے تنگ آکے دسمبر کی چھٹیوں میں ہم دونوں لکھنو جا نکلے تھے۔

اردوئے معلیٰ کا دبستان، ادب کا گہوارہ لکھنؤ، آپ نے تو سنا ہی ہوگا، سننے کے علاوہ آپ کر بھی کیا سکتے ہیں، جمی کے ساتھ ایک مشورے سے طے پایا تھا کہ ہمیں بھی کچھ ادب آداب سیکھ لینے چاہئیں شائد خیالستان میں کبھی تمیز یا تہذیب کا دور دورہ آجائے تو یہی ادب آداب ہمارے کام آجائیں گے، تہذیب اچھے سے آگئی تو یہ بھی ممکن ہے ہم دونوں کوئی این جی او بناکر تہذیب و تمدن پر کوئی کام بھی شروع کر دیں۔

ہم ائیرپورٹ سے باہر نکلے تو ایک بندے نے چار قدم میری طرف بڑھائے، قریب آکے کورنش بجا لایا اور آداب کہا، پہلے تو میں سمجھا وہ کسی اور کے مغالطے میں آن چپکا ہے، پھر سمجھ آئی، اس نے بطور خاص ہمیں ہی ٹارگیٹ کیا ہے، ساتھ ہی اس نے دریافت کیا، امید ہے حضور کا سفر اچھا گزرا ہوگا؟

جمی نے کہا، جی بلکل اچھا گزرا تھا اور یہ بات الوداعی سلام کرنے والی فضائی میزبان کے استفسار پر ہم اسے بتا کے آئے ہیں پھر ایگزٹ پر دوبارہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے بھائی؟

انجان گویا ہوا، حضور، وہ تو محکمۂ ہوابازی کی الوداعی حجت تھی، ہم بسلسلہ روزگارِ خویش اک نئی ابتدا کر رہے ہیں، ہم آپ کو علم و ادب کے اس تاریخی شہر میں تہہِ دل سے خوش آمدید کہتے ہیں……

اس کی بات سن کے کم از اتنا سکون تو ہوگیا تھا کہ ہم صحیح جگہ پہنچ گئے ہیں، ورنہ چوہدری چرن سنگھ ائرپورٹ کا نام سن سن کے جمی بار بار کہتا تھا ککو یہ ہمیں امرتسر کے کسی کھیت میں نہ اتار دیں، اوپر سے ہمیں چرنا بھی کچھ نہیں آتا۔

اس نے اپنی پی۔کیپ اتار کے سر کو تھوڑا سا خم دیا تو اس کی وردی کا جائزہ لیتے ہوئے جمی بولا:

اچھا تو گویا آپ ویلکم ان بورڈ کہنے آئے ہیں، کیا ہمیں دوبارہ جہاز میں بیٹھنا ہوگا؟

اجی قبلہ، نور مطلق، خندہ پیشانی، مکارم نورانی، مہمانِ گرامی بارِ دگر جہاز میں جائیں آپ کے دشمن، ہم پدمابھوشن وجیتا سرکاری شوفر حضرت شدن میاں مرحوم کے لخت جگر تو اپنی فرنگ شاہی موٹر لئے شہر دلداراں کی سیر دلپزیر و نظارۂ دیدہ و دل آویز یا آپ کے جنت نشان دولت کدے تک درپیش سفری خدمات کیلئے صمیم قلب کیساتھ چشم براہ ہیں….

یہ فرنگ شاہی موٹر کیا ہے ککو؟ حمیدہ آپا کی کتاب میں تو ایسا کوئی لفظ نہیں دیکھا۔

انجان نے پھر سے اپنی لغت کا شاور کھول دیا، حضور موٹرکار تو ایک استعارہ ہے ویسے ہم آپ کو سر آنکھوں پہ بٹھا کے جہاں کا آپ حکم صادر کریں گے وہاں لے جائیں گے، خاکسار کو اپنی قیام گاہ یا منزل مقصود کے بارے میں کچھ مطلع فرمائیے۔

جمی کو اس بات کی اب سمجھ آئی جو میں فوراً ہی بھانپ گیا تھا، اوہ اچھا یعنی آپ ہمیں ٹیکسی رائڈ آفر کر رہے ہیں، تو کتنے پیسے لیں گے آپ؟

اس بندے کو جمی ہی صحیح طرح سے ڈیل کر سکتا تھا کیونکہ پچھلے دس دن میں وہ حمیدہ لکھنوی ثم کُلورکوٹی کی کتاب “بانگ دریا” تقریباً تقریباً رٹ چکا تھا، آپ خوامخواہ کہتے تھے جمی کبھی ہمارے درمیان رچ بس نہیں سکتا حالانکہ جب سر پہ پڑے تو وہ سب کچھ مینیج کر لیتا ہے۔

انجان خوش آمدیدی پھر سے بولا، حضور محبت کو پیسوں میں تول کے اور ہماری امپالا کو ٹیکسی گردان کے ہمیں شرمندہ مت کیجئے، بندہ حقیر پرتقصیر اس روسیاہی کا متحمل نہیں ہوسکتا، یہ تو ایک رسمِ دنیا ہے اصل مدعا تو اس شہر دلدادگان میں نو آوردگان، پسرانِ ذیشان کی خدمت کرنا مقصودِ فدوی ٹھہرا ہے، حضورانِ اقدس کی سیوا کرنا اگر ہماری قسمت میں لکھا ہو تو ہم آپ کے بلہارے جائیں گے۔

پیسوں میں نہ تولیں، یعنی آپ پیسے نہیں لیں گے؟ جمی نے پوچھا۔

حضور کیوں نہیں لیں گے مگر پیسے کہہ کے کبھی نہیں لیں گے، آپ کی محبتوں کا غازہ سمجھ کے جو آپ دیں گے رکھ لیں گے۔

وہی تو جاننا چاہ رہا ہوں بھیا، اس محبت کا مول تول کیا ادا کرنا پڑے گا؟

قبلہء من نور مبین آپ….
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے فوراً ٹوک دیا کہ دیکھئے بھائی صاحب آپ ہم سے بڑے ہیں، ہمیں قبلہ وبلہ کہہ کر شرمندہ نہ کریں، سیدھی سیدھی بات کیجئے۔

کہنے لگا، حضور آپ ناگوار خاطر کیوں لیتے ہیں، آپ ہم سے چھوٹے ہی سہی، اپنے عزیزجاں، گوہر نشاں کو ہم اپنے شانوں پر نہیں بٹھائیں گے تو کیا دشمن کو بٹھائیں گے، بس آپ ارشاد فرمائیے کہ اس مہر تاباں اور اس مہتاب جاودانی کی میزبانی کا شرف کس خوش قسمت بندۂ جاوید کو حاصل ہو رہا ہے اور ان کا جائے مستقر کیا ہے، ہم بسرور چشم آپ کو ان کے دولت کدے پر لیجائیں گے۔

جمی نے کہا، ککو اب کٹ شارٹ کرو، بانگ دریا تھیلے میں ہے، تھیلا سوٹ کیس میں اور سوٹ کیس لاکڈ ہے، زبانی جو کچھ یاد تھا وہ سب ختم ہو چکا، ویسے بھی یہ پُرش جتنا حاوی ہو ریا ہے اسے دیکھ کر مقابلے کی بجائے اب واقعی ہمیں تہذیب سیکھنے کی نیت باندھ لینی چاہئے۔

میں نے کہا، ٹھیک ہے بھائی، بات دراصل یہ ہے کہ ہمیں کچھ تہذیب سیکھنی ہے، سنا ہے اہل حکم، نوابین، راجے مہاراجے، رسالدار، صوبیدار، سب اپنے بچوں کو لکھنؤ کی بائیوں کے پاس علم و ادب سیکھنے کو بھیجا کرتے تھے لیکن پتا نہیں کیا ہوا کہ ہماری باری کسی کو یہ خیال تک نہ آیا بلکہ آج تک کسی نے جھوٹے منہ بھی یہ نہ کہا کہ اے بدتمیزو سدھر جاؤ ورنہ تمھیں کسی بائی کے ہاں چھوڑنا پڑے گا، حالانکہ اسی شوق میں بدتمیزیوں پہ بدتمیزیاں کی ہیں کہ شائد کسی کا ضمیر جاگ جائے پر کتھوں؟

وہ عارضی میزبان پھر سے حرف نوا ہوا، تو حضور اب جان غیور کی شرح آرزو اور مدعاءِ حزن کیا ہے…؟

ارے بھائی کسی تمیزدار بائی کے کوٹھے پر لے چلو اور کیا آرزو ہو سکتی ہے، جمی نے پٹاک سے سمجھایا۔

اس نے کہا، دیکھئے حضور گہوارۂ ادب کو یوں کھلے بندوں کوٹھا کہنا خلاف تہذیب ٹھہرتا ہے، تاہم اپنے گرانقدر مہمانانِ عزت نشاں کو ہم ادب سرائے امیرن بائی کے ہاں لئے چلتے ہیں، یقینا آپ کی شعلہ جولانیوں کو امیرن بائی ہی حسنِ تسکین بہم پہنچا سکتی ہیں، اس خدمت پر آپ ہمیں سو ڈالر بطور یادگارِ ملاقات مرحمت کیجئے گا تاکہ بندۂ حقیر تادیر حضور کی سخاوت کی داد دیتا رہے، لیکن خیال کیجئے گا اسے معاوضہ کہہ کر ہماری الفت کی توہین مت کیجئے گا۔

لالہ جی، گاڑی اس کے پاس بہت اچھی تھی، پرانے دور کی آرام دہ اور کشادہ امپالا میں بیٹھ کر جمی نے آنکھیں موند لیں، اس شوفر کے ابا بھی شوفر تھے جسے سرکاری خدمات پر پدمابھوشن ایوارڈ ملا تھا، جمی آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا اور میں سوچ رہا تھا، اب تک جتنی تہذیبی کاروائی ہوئی ہے اس سے تو یہی پتا چلتا ہے کہ تہذیب اس واردات کا نام ہے کہ اگلے کو اس حساب سے مانجھا لگاؤ کہ وہ اس پر ممنون بھی دکھائی دے یا اسے رگڑا لگا کے ممنون ہونے پر راغب کرنا ہی حسن تہذیب ہے بلکہ چیزوں کو ان کے اصلی نام سے مت پکارو یا اصلی نام اور تہذیبی معنی کے درمیان لفظی چابکدستی سے پُرکاری کرکے اتنا لمبا فاصلہ ڈال دو کہ کسی کو سمجھ ہی نہ آئے، یہ پیار تھا یا بزنس۔

امیرن بائی کی ادب سرائے پر پہنچ کر جمی نے اسے تیس ڈالر تھمائے اور کہا، یہ لو بھائی تادیر یاد رکھنے کی بجائے دوحصے کم یاد کرلینا تاکہ آپ کے پاس اپنے کام کاج کیلئے بھی کچھ وقت بچ جائے، لیکن ہمیں یقین ہے کہ آپ اتنے میں بھی ہمیں تادیر ہی یاد رکھو گے۔

پدمابھوشن وجیتا شوفر کا صاحبزادہ ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ آداب کرکے چل دیا، جمی نے کہا یہ ہوتا ہے کم پیسوں کی وجہ سے بلا کورنش کئے گونگا آداب اور ہم ہنستے ہوئے مہمان خانے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔

امیرن بائی واقعی منجھی ہوئی اور زمانہ ساز خاتون تھی، ہمارے عالمِ شوق پر اسے کافی خوشی ہوئی، رات کو دیر تک تہذیب کے بدلتے ہوئے دھاروں پر روشنی ڈالتی رہی، اس کے خیال سے تہذیب دو حصوں کا مجموعہ ہے، ایک علم و ادب اور دوسرا وضع داری، یہ دونوں ایکدوسرے کے بغیر نامکمل ہیں لیکن اب زمانہ بہت بدل گیا ہے، نئے انداز در آئے ہیں، پہلے جیسی وضعداری دم توڑتی جا رہی ہے، ایسے میں جب آپ جیسے نوجوان اہل ذوق ملتے ہیں تو دل بلیوں اچھلتا ہے۔

پھر اس نے مرزا ہادی رسوا کے امراؤ جان ادا سے لیکر فیض آباد، دکن، دہلی، میرٹھ، نینیتال، اودھ اور نہ جانے کہاں کہاں گھمایا، اس نے ہمیں انجان سمجھ کے مرزا رفیع سودا، میرحسن دہلوی، میر حیدر علی حیراں، میری تقی میر، قلندر بخش جرأت، میر انشاءاللہ خان انشاء، غلام ہمدانی مصحفی، امام بخش ناسخ، آتش، شوق، رند، دیاشنکر، مرثیہ میں میرانیس، مرزا دبیر اور آخری دور کے شعراء حسرت موہانی، نظم طباطبائی، صفی لکھنوی پر جو روشنی ڈالنی تھی وہ تو ڈالی پھر لگے ہاتھ ناسخ، آتش اور مصحفی کے زیر اثر کچھ ایسے لوگوں کے تذکرے بھی کئے جو واقعی ہمارے لئے نئے تھے، لیکن وہ سمجھ رہی تھی شائد ہم کلی طور پر اناڑی ہیں، حالانکہ اپنے سخن کے اعتبار سے یہ اساتذہ ہمارے ہاں بھی معروف ہیں۔

ایک بار تو جمی بھی کہہ اٹھا، یار وہ حمیدہ آپا کی “بانگ دریا” ان کی اتنی لمبی بانگ آگے تو کچھ بھی نہیں، میں نے اسے جب تسلی دی کہ اسے تمہید طولانی در بحر معانی کہتے ہیں، بس آگے آگے دیکھئے کہ ہوتا ہے کیا، تو وہ خاموش ہونے کے ساتھ ساتھ لکھنؤ کا اثر قرار دے کے پہلی بار مجھ سے مرعوب بھی ہوگیا۔

جمی کا تو، لالہ جی، آپ کو پتا ہی ہے جب کیڑے نکالنے پہ آتا ہے تو خواہ کوئی اس پہ آئی۔لو۔یو کے تین حروف بھیجنے والی ہی کیوں نہ ہو اس میں سے بھی پانچ کیڑے برآمد کر دیتا ہے، اسی لئے تہذیب کی وضع داریاں اسے ایکدم لڑ سی گئی تھیں۔

پہلے دن امیرن بائی کے متعلق جمی کے خیالات بہت اچھے تھے، اس نے بانگ دریا میں گہرا غوطہ لگا کے بتایا، ایسی ماہر ہستی کو ادب میں طبیب حاذق کہتے ہیں، اگلی شام کو اس نے شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کے کہا، یار کسی طرح اس میں سے امی ہٹاؤ یا رن ہٹاؤ، ایک ساتھ امیرن کہنا مجھے بہت آکورڈ لگتا ہے، پھر شام کی نشست کے بعد کہنے لگا، یار میری مانو تو یہ پوری عورت ہی ہٹاؤ ورنہ یاد رکھو تمہاری کلائی کے ساتھ پان کی گتھلی بندھی ہوگی اور تم راہگیروں کو بھی آداب آداب کرتے نظر آؤ گے، جمی کی بات سن کے ایک لمحے کیلئے تو میں بھی سہم سا گیا پھر رات بھر سوچنے کی مہلت لیکر اپنے بیڈ پر دراز ہو گیا۔

اگلی رات دیوان خانے میں بیٹھا یہ راگ الاپنے لگا، یار ککو، میری مانو تو اس ڈکشنری نما عورت کے چکر سے نکل لو، اس سے تو اچھا تھا حمیدہ لکھنوی ثم کُلورکوٹی کو اتنے پیسے دے کر ہم لکھنوی آداب پر اپنے لئے ایک ضخیم سی کتاب لکھوا لیتے، یہ کوئی دبستان ادب نہیں یہ تو مجھے نرا دَبّ۔استان ہی لگتا ہے، فقط دو دنوں میں اس خاتون نے پکا کے رکھ دیا ہے۔

لالہ جی، امیرن بائی کے ساتھ جمی کا پہلا میچ اس وقت پڑا جب محترمہ نے بغرض تعلیم آنے والے بچے کھچے نوابوں کے چند بچوں سے ہمارا تعارف کروایا، ہر ایک کے ساتھ عجیب لمبے لمبے القابات و خطابات اوپر سے زبان و بیان کے تکلفات کا تڑکا، جمی کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ بہت چڑ رہا ہے، جب سب کا تعارف ہو چکا تو اس نے اٹھ کے ارشاد فرمایا، ہائے ایوری بوڈی، دس از جمی اینڈ ہی از کوکو اینڈ وی آر جسٹ فائن۔

اتنا روکھا سا تعارف سن کر سب حضرات ایکدوسرے کی طرف دیکھنے لگے، امیرن بائی بھی قدرے حیران تھی، جمی نے صورتحال کا ادراک کرکے اپنی طرف سے ریزولیوشن پیش کی مگر وہ ایک نیا اسپارک ثابت ہوئی، کہنے لگا، پلیز کیری آن آنٹی، بٹ ٹو دی پوائنٹ پلیز…!

دوسرا میچ تب پڑا جب جمی نے کہا، یہ سب لڑکوں کو ہی ادب کیوں سیکھنا ہوتا ہے، کیا لڑکیوں کو اس کی ضرورت نہیں؟ امیرن بائی نے قدرے تلخ نوائی سے کہا، صاحب عالم آپ صنف نازک کو ساتھ لے آتے تو ہم بلاتفریق ان کی خدمت میں بھی پیش پیش ہوتے، میرا خیال تھا جمی بھڑک اٹھے گا مگر اس کے جواب سے یوں لگا جیسے وہ سوچ سمجھ کر تیر چلا رہا ہے، شائد حمیدہ آپا کی کتاب کا اثر تھا۔

جمی نے کہا، نہیں آنٹی، آپ کا یہ سوال قبل از وقت ہے، پہلے آپ میرے سوال کا جواب عطا کیجئے، چلیں میں خود ہی گوش گزار کئے دیتا ہوں، اگر لڑکیوں کو ضرورت نہیں تو میں کیوں لاتا اور اگر ضرورت ہے تو یہ سب کیوں نہیں لائے…؟

جمی کی بات سن کے سب کو تپش چڑھ گئی، ایک نوابزادے بولے، عزیزم آپ حد سے بڑھ رہے ہیں، آپ کی گستاخیاں ہماری سماعتوں پر گراں نہیں سوہانِ روح بھی ثابت ہو رہی ہیں، واللہ ہمارے قلب میں بال آگیا تو قبلۂ عالم حضور والد گرامی سے عرض پرداز ہوکے ہم آپ کو ڈی۔پورٹ بھی کراسکتے ہی‍ں، ایک دوسرے نوابزادے نے گرہ لگائی، اتالیق کے حضور زبان درازی سوئے ادب ہے، با ادب با نصیب بے، ادب بے نصیب، شائد آپ نے یہ مقولہ نہیں سنا۔

یہ کہانی کا ٹرننگ پوائینٹ تھا اور جمی کیلئے برننگ پوائینٹ، جمی نے اٹھ کر نہایت تواضع کے ساتھ جھک کر آداب کیا اور کہا، خوب ارشاد ہے، آپ بڑے ہوکر ہندی فلموں کی ہدائیتکاری کیجئے گا، ممبئی کے کسی ڈان جیسا تخلیقی ذہن پایا ہے آپ نے، کئی لوگوں نے زیرلب مسکرانے کی کوشش کی لیکن مجموعی طور پر انہیں جمی کی جسارت پسند نہیں تھی، اس ماحول کو دیکھتے ہوئے جمی بھی کھل کے میدان میں آگیا۔

پھر اس نے امیرن بائی کو جھک کے آداب کیا اور کہا، آج ہم اسی روشن دماغ، عالی ظرف اور میر مجلس نوجوان کے نقطے پر بات کریں، تو جینٹلمین بات کچھ یوں کہ…

نقطے وقطے گئے بھاڑ میں، لالہ جی مجھے تو حیرت یہ تھی کہ اتنی سلیس اردو جمی ایسے جم کے کیسے بولنے لگا ہے۔

جمی نے کہا، صاحبان ذی فہم میں اپنے فاضل عزیز کے ساتھ بلکل متفق ہوں، اتالیق کا مقام معاشرے میں سب سے اوپر ہونا چاہئے، جس تہذیب میں استاد کا مقام دگرگوں ہو اس تہذیب کے وارثوں کی عقل پر میں خندہ زن نہیں، امیرن بائی ہماری استاد اس لئے ہیں کہ وہ علم و تہذیب میں معتبر ہیں، انہیں معتبر اس معاشرے نے گردانا ہے جبھی اشرافیہ کے بچے ان سے آداب سیکھنے کیلئے جمع ہیں، بدلے میں آپ نے انہیں کیا دیا؟

کچھ پیسے اور ایک بدنام زمانہ بازاری مرتبہ جس میں یہ گھنگھرو باندھ کے ناچتی یا غزل سرا رہی ہیں، آج بھی ہمیں تعلیم دینے کے بعد یہ شام کو دربار لگائیں گی جہاں ڈانسنگ فلور ان کی تربیت یافتہ نازنینوں کے پاؤں چوم چوم کے ادھ موا ہو رہے گا، اور آپ سکون سے گاؤ تکیے پر ٹیک لگائے انہیں دادِ فن سے دادِ عیش تک ہرچیز سے نواز رہے ہوں گے، یہی کچھ سہہ کے امیرن بائی اس مقام تک پہنچی ہیں، یہ ادب ہے یا تہذیب، قدر ہے یا وضعداری جو بھی ہے قسم سے یہ اہتمام، جسٹ فار دی سیک آف یور میجسٹی، ایک فریب کے سوا کچھ بھی نہیں۔

جمی کا اگلا وار بڑا زوردار تھا، کہنے لگا، اردو ادب کی کتھا میں یہ بھی لکھا ہے کہ لکھنو میں دولت کی ریل پیل تھی ہر طرح کی فارغ البالی تھی، لوگ جابجا شعر و ادب اور جنسی مشقوں میں مگن تھے اور بالا خانوں کی بالادستی اور کثرت شوق کے کارن مرد تقریباً ناکارہ ہو چکے تھے، قبلہ نوابزادہ صاحب اب آپ ہی اس گرہ کو کھولئے کہ ان مردوں نے اپنی جوانی کہاں برباد کی تھی، گہوارۂ ادب کی بائیوں کیساتھ جنہیں آپ قابل ادب گردانتے ہیں یا کوئی اور ذریعۂ جنسی آسودگی بھی یہاں موجود تھا۔

یہ سن کے نوابزادے میں کاٹو تو لہو نہیں تھا، مجھے بھی یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ نچلا طبقہ تمدن میں نہ سہی علمی حیثیت میں وقیع اور بڑے طبقے کا ہم پلہ ہو تو یہ کریڈیبلٹی ہو سکتی ہے مگر یہ کسی معاشرے کی علمی تہذیب کا معیار کیسے ہو سکتا ہے کہ جس طبقے کو اشرافیہ جیسی توقیر حاصل نہیں وہی طبقہ ان کی تہذیب اور تمدن کا سالار ہو، اس پر جمی کا پوائینٹ ایک علیحدہ تازیانہ تھا۔

امیرن بائی نے پچھلی رات اپنے دست شفقت سے خوان کی رکابی میری سامنے سجائی تھی، اس لئے میری ہمدردیاں انہی کے ساتھ تھیں، اس میں گہرا اثر ان خوشبؤوں کا بھی تھا جو میرے کندھے سے ٹکرانے والے ان کی ردا کے پلو سے اٹھ رہی تھیں، اچانک مجھے آپ کی وہ بات یاد آگئی کہ پیشہ انسان کی پہچان نہیں ہوتا، انسان مجبوری میں کچھ بھی کر لیتا ہے، اصل پہچان اس کی ذاتی قابلیت ہوتی ہے، آپ کے اس جملے کا امیرن بائی نے بہت لطف اٹھایا تھا۔

لیکن اس جمی منحوس نے اس ماحول کو طوائف العلمی کا نام دیا اس پر مستزاد یہ کہ، لالہ جی یہاں مستزاد صحیح ہے یا طرہ لگانا چاہئے؟ خیر جیسے صحیح ہو ویسے پڑھ لیجئے گا، تو اس پر مستزاد بٹا طرہ یہ کہ اگر طوائفیں علم و ادب کی وارث ہیں تو اشرافیہ کس چیز کی وارث ہے، اگر وہ طوائفوں کی وارث تھی تو بھی عجیب بات ہے، جمی کا کہنا تھا کہ tuwife سے استاد کا کام لینا اور پھر استاد سے tuwife کا کام لینا بھی عجیب سی دو رنگی تہذیب ہے، دانشمندی کا تو خیر کوئی علاقہ اس بات کیساتھ ہے ہی نہیں۔

بس لالہ جی، کیا بتاؤں، اس جمی کمبخت نے اس مجلس کو کچھ ایسے سمرائز کیا کہ، آنٹی بی رئیلِسٹک، لفظوں کے پیچ و خم سکھانے کی بجائے ہمیں وہ آداب سکھائیں جو بچیوں پر لٹو ہونے اور انہیں امپریس کرنے کیلئے نوابین کے صاحبزادگان کو سکھائے جاتے تھے، صاف الفاظ میں عرض کروں تو آداب مجرا بینی سکھائیں پلیز، بس اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

ادب سرائے کے مہمان خانے سے سامان لپیٹ کے ہم حیات ریجینسی ہوٹل منتقل ہوگئے، اور نئے اتالیق کی تلاش شروع کردی۔

بلبلِ ہزار داستاں کمپاؤنڈ میں چند ایک دارالتہذیب کی خبریں ملیں، نیچے پھول والوں کی دکانیں تھیں، تہذیبی اصول کے مطابق ایک دکاندار نے، خلفِ شدن میاں مرحوم پدمابھوشن وجیتا شوفر جیسی، وضع داری کے طریقۂ واردات کے تحت ہمیں دو گلدستے پیش کئے اور پچاس ڈالر بطور یادگاری نذرانے کے عوض سب سے اچھے تہذیب خانے کا پتا بھی بتا دیا۔

پھول والے نے جب دوسری بار کہا حضور آپ کے اس مایۂ بے کراں کو سربستہ خزانۂ محبت کی عنائیت گردان کے ہم قلبِ مسرور کے نہاں خانے سے سراپا ممنونیت ہیں تو یہ تکرار سن کر بانگ دریا جمی کے سر کو پھر سے چڑھ گئی، تہذیب کو بانگ دریا میں غوطہ زن کرکے جمی پھڑک اٹھا، ابے او بھائی میاں، یہ سکہ رائج الوقت مایۂ بے کراں انجام کار جب آپ نے اپنی زنبیل حسرت نما کی زیبائش بنانے ہی بنانے ہیں تو ہمیں پکا کیوں رہے ہو بھائی؟ خاموشی سے رکھ لو، ہم لکھنوی نژاد نہیں جو تکلفات کا اتنا کشٹ اٹھائیں گے، ویسے بھی دو بُوکےز اور ایک ایڈریس کے تین ہزار کچھ زیادہ ہی لے لئے آپ سرکارِ بالا شان نے۔

اسپر مسمی مذکور جانِ رنجور نے نوٹ مٹھی میں بھینچ کر کھٹ سے ہاتھ پیچھے کرلیا اور پھر نظریں بچاتے ہوئے دونوں ہاتھ سفید پائجامے سے زرا سا اوپر اپنی سیاہ فام واسکٹ کی جیب میں رکھ لئے۔

جمی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، لگتا تھا جمی کی اس بکواس سے بازیچۂ گل کی تہذیبی کاروائی کو کافی صدمہ لگا تھا تاہم وہ دکاندار ابھی بھی اس کام کو گلفروشی کی بجائے کسی تاویل سے گلپاشی کا نام ہی دینا چاہتا تھا مگر جمی کے آگے اس کا بس چلنے والا تھا نہ چل سکا، اسلئے گلفروش کا منہ کافی دیر تک ادھ کھلا رہا اور اس کی آنکھوں پر خفت کا ہلکا ہلکا سا بوجھ بھی صاف دکھائی دے رہا تھا۔

بازیچۂ گل والے گلپاش، بقول جمی کے گلفروش، کا بتایا ہوا دارالتہذیب دوسری منزل پر واقع تھا، دروازے پر تازہ پھولوں کی نفیس سجاوٹ اور ایک طرف قصر نین لکھا ہوا تھا، خادمہ نے خوش دلی سے کہا آئیے حضور، تشریف رکھئے، نینا بائی ابھی تیار ہو رہی ہیں آپ قبل از وقت تشریف لے آئے ہیں اسلئے تھوڑی سی انتظار کی زحمت اٹھانی پڑے گی۔

ہائے تجھے بصد شوق جوبن کے کھلنے کا انتظار
مگر کچھ وقت تو لگتا ہے چشمے کو ابلنے میں

آپ نون غنہ سے جواب سوچئے جب تک ہم مشروبات میزبانی کا اہتمام کرکے حاضر خدمت ہوتے ہیں، کچھ اس طرح کی کاروائی کرکے یہ خادمہ ہمیں ایک نئی پسوڑی میں ڈال کر چلی گئی لیکن مشروب سے پہلے چھن چھن کرتی پازیب کے ساتھ نینا بائی کیا آئی دیوان خانے میں جیسے بوئے بہار پھیل گئی، یہی جملہ میں نے نینا سے کہہ دیا تو وہ اور بھی کھل اٹھی، مسکراتے ہوئے اس نے کہا، آپ کو انتظار کی زحمت سے بچانے کیلئے ہماری خادمہ ضرور کوئی شعر ڈھونڈنے کا کہہ گئی ہوگئی، چلئے ہم آپ کی مشکل آسان کئے دیتے ہیں۔

نم آنکھوں میں تیرتا ہے بہرِ زرخیزی
چشم بینا کرے ہے نمی کی سیرابی

واہ، جمی نے پھر کہا، واہ، لیکن ہم تو نوں غنہ کے چکر میں مار گئے، اردو سے عدم واقفیت کی انتہا، لیکن وقت گزرنے کا واقعی پتا نہیں چلا اور شعر بھی ہاتھ نہیں آیا ورنہ یہ واہ واہ اسوقت آپ کے لبوں پہ ہوتی، ویسے انتظار کٹوانے کی ادا جانفزا تھی، ہمیں وقعی مزا آیا۔

ایک ایک مسکراہٹ دونوں کو ہدیہ کرنے کے بعد نینا بائی نے شرح صدر یوں کیا، اجی صاحب، بدیہی طور پر ن اور ں میں کوئی خاص فرق نہیں، ن اسم نکرہ و معرفہ کے اول میں مستعمل ہوتا ہے اور ں آخر میں، چلیئے اس بات کو رہنے دیتے ہیں ہم اپنی بات کیوں نہ کریں، لفظوں کے پیچ و خم اور ہیں، جذبات کے پیچ و خم…کچھ اور ہیں۔

کچھ اور ہیں، کہنے سے پہلے جس ادا سے اس نے آنکھیں بند کرکے کھولی تھیں وہ آدھا ککو تو اسی وقت لے ڈوبیں، اس پر جب میں نے گرہ لگائی کہ زلفوں کے پیچ و خم بھی کچھ اور ہیں، تو نینا بائی نے اپنی زلفوں سے کھیلتے ہوئے خوب داد دی، اس کی یہ ادا بھی نرالی تھی، بقیہ آدھا ککو اس ادا میں گُھل گیا۔

نینا بائی میں وہ سب کچھ تھا جو ایک خوبصورت، نازوانداز سے بھرپور بائی میں ہونا چاہئے، علم و ہنر، ادب آداب، رکھ رکھاؤ وغیرہ، مجھے جو اچھا لگا وہ اس کی انگلیوں میں سونے کے چھلے تھے، ہر انگلی کی آلٹرنیٹ پور میں ایک ایک طلائی چھلا اور درمیانی انگلیوں میں بہت نفیس قیمتی انگوٹھیاں تھیں۔

جمی کے چہرے پر چھائی ہوئی گھٹا سے لگتا تھا اس کے سر پہ حمیدہ آپا کا افسانہ گھوم رہا ہے، ابھی یہ “کویلے دتی ہوئی بانگ” سامنے لا دے گا، لیکن جمی کے پیچ و خم واضع ہونے سے پہلے نینا بائی نے خود ہی پوچھ لیا، کہیئے حضور آپ کے قریۂ جاں کو نینا کے کون کون سے رنگ و بو سے مہکایا جائے، بلبل ہزار داستاں کی داستاں سرائے میں لکھنؤ کی شام کے فسوں کو یادگار بنانے کیلئے نینا ہر ہنر جانتی ہے بلکہ آپ کو اس شام کی پہنائیوں میں مدت تک مدہوش رکھنے کیلئے ہم اپنی جاں سے بھی گزر جائیں گے، شائد کوئی اچھا ماحول بننے ہی والا تھا کہ جمی نے پھر ادبی پأنی مار دی۔

فرمانے لگا، بائی جی، دراصل تہذیب کے معاملے میں ہم ایک شائستہ خاتون سے ملنے کے متقاضی ہیں جس میں پیار ہو، تہذیب ہو، اپنائیت ہو، نظروں میں قدرتی حیا اور اپنا پن ہو، یہ ساری باتیں اس کمینے نے آپا حمیدہ سابق لکھنوی حال کُلورکوٹی کے افسانے “کویلے دتی ہوئی بانگ” سے یاد کی تھیں۔

نینا بائی کسی شش وپنج میں مبتلا ہوکر چند لمحے ہمیں تکتی رہی، ہم سمجھ رہے تھے شائد وہ الفاظ تلاش کر رہی ہے کہ خاطر جمع رکھئے حضور، ہماری الفت کے جام آپ کی نگاہِ انتخاب اور من کی ہر پیاس کا بھرم رکھیں گے لیکن اس نے ہمت جمع کرکے کہا، صاحب عالم، دراصل جس شائستہ خاتون کی آپ کو تلاش ہے، ان کا پورا نام شائستہ لکھنوی ہے اور وہ اوپر کی منزل پر فروکش ہیں، ہماری خادمہ آپ کو ان سے ملوا آتی ہے۔

الوداعی مسکراہٹ بکھیر کے نینا بائی قدرے دل شکستہ عالم میں اندر چلی گئی، ہمیں اوپر چھوڑنے کی ہدایت کے ساتھ کچھ دبی سی آواز میں اس نے خادمہ سے یہ بھی کہا تھا، مجھے تخلیہ درکار ہے، واپسی پر بتیاں گل کر دیجئے گا آج ہمارے ہاں دیوان نہیں لگے گا۔

شائستہ لکھنوی کا حسن دیکھ کے جمی کے تو طوطے اڑگئے، براہ کرم اسے اُڑ گئے مت پڑھئے گا، جمی نے اپنی آواز و آہنگ میں بھرپور تہذیب لاتے ہوئے کہا، دیکھئے محترمہ، تہذیب برطرف، میرے گمان کے مطابق ان ہونٹوں کی شیرینی واقعی لاجواب ہے مگر چکھنے سے میرے اس گمان کو عین الیقین کی منزل مل جائے گی، امید ہے اس سلسلے میں بھی آپ خندہ ہونٹوں سے پیش آئیں گی کیونکہ آپ کا یہ فرض ہے اور ہم کمبختوں کا یہ شوق ہے، جمی کی اس گفتار کے پیچھے بھی حمیدہ آپا کی کتاب کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔

میں نے سرگوشی میں جمی کو سمجھانے کی کوشش کی، ابے سالے یہ ٹیوٹر ہے، کچھ گڑبڑ نہ ہوجائے مگر اس اڑیل کا مسئلہ تو آپ کو پتا ہی ہے جب کبھی اٹک جاتا ہے تو پھر ڈیرہ اسماعیل خان سمیت کہیں نہیں رکتا، نان اسٹاپ اٹک ہی جاتا ہے، اس نے جوابی سرگوشی میں کہا کہ بس ایہو کڑی لینی اے بھئی ایہو کڑی لینی اے۔

اوپر سے حرامپائی یہ کہ اسے ایمپریس کرنے کیلئے لب شیریں لکھ کے گوگل پہ سرچ دے ماری، سویٹ ڈش کی دس پندرہ ریسیپیز کراس کرنے کے بعد جب کچھ اشعار تک رسائی ملی تو شعر بھی وہ نکالے جن کا مطلب جاننے والے ایک صدی پہلے اپنا اخروی حساب کتاب بھی دے کے فنا ہو چکے ہیں، خیر گوگل ٹرانسلیٹر زندہ باد، وہ شعر کچھ یوں تھا۔

اندر غزلِ خویش نہاں خواہم گفت
تا برلب تو بوسہ زنم خوبش خواں

ٹرانسلیٹر سے بھی کچھ پلے نہ پڑا کہ شاعر کہنا کیا چاہتا ہے لیکن دو باتوں کی پکی تسلی ہوگئی تھی، ایک یہ کہ شعر ادبی ہے، کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا، دوسری یہ کہ لب اور بوسے کا کوئی رشتہ بیان ہوا ہے اور یہی رشتہ قائم کرنا جمی کو مقصود تھا، ارادہ میرا بھی یہی تھا لیکن ایک بندہ فی الحال ایسا ہونا چاہئے تھا جو بیچ بچاؤ کرا سکے لہذا میں نے صبر کرلیا، ویسے بھی نینا کی اداسی میرے دل میں پھانس بن کے اٹک گئی تھی۔

کچھ ہی دیر میں شائستہ کی جمی کیساتھ گاڑھی چھننے لگی تو میں نے بھی گڈ بائے کہہ کے قصرِ نین کا رخ کر لیا۔

اگلی شام نینابائی نے بڑے شاندار ڈنر کا اہتمام کیا تھا، جمی اور شائستہ بھی ساتھ تھے، کھانے کے بعد شعروسخن کی بڑی گہری محفل جمی، مرعوبیت کے باعث جو قصہ امیرن بائی کے سامنے نہ چھیڑ سکے، وہ حسرت یہاں پوری کرنے کیلئے میں نے چھانٹ چھانٹ کے دبستانِ لکھنؤ کی رکاکت و ابتذال نگاری کو پیش کیا، میرا خیال تھا کہ مرزا شوق کی بہار عشق جیسی مثنویوں پر بات آئی تو طوہاًوکرہاً ہی سہی مگر یہ ہار مان لیں گی کہ دبستان دہلی کی نفاست کے مقابل سوقیانہ ثقاہت یہاں موجود ہے۔

مگر وہ دونوں بھی اس میدان کی شہسوار نکلیں، ونہوں نے میرے حوالوں کو معاملہ بندی، نسائیت اور ریختی سے متعلق قرار دیا جو لکھنوی تہذیب کے بانی نواب شجاع الدولہ کے پرتعیش عہد کا شاخسانہ اور دبستانِ لکھنؤ کا پہلا حصہ ہے، پھر اپنے دفاع میں مدحت و مرثیہ گوئی، سماجی و جنگی ادب اور فطری منظر کشی پر مبنی ذخیرے کو بحسن قرینہ پیش کیا، استعارے، تشبیہات، قافیہ پیمائی اور شعری معنویت پر بھی ڈٹی رہیں اور مجھے یہ بات ماننا پڑی کہ میرانیس، مرزا دبیر اور محسن کاکوروی نے دبستانِ لکھنو کو واقعی ایک باوقار موڑ دیا تھا بلکہ اپنے دبستان کے دامن سے کافی داغ بھی دھو ڈالے تھے، بالخصوص مدحتِ توحید و رسالت میں محسن کا کلام ندرتِ خیال اور کمال شیفتگی کا آئینہ دار ہے۔

بڑا کانٹے دار مقابلہ تھا، خود کو ہارتے ہوئے دیکھ کر ایک بار پھر میں نے انشاء، امانت، رند اور ناسخ کے سینے پر کہے ہوئے اشعار بارش کی کن من کی طرح یکے بعد دیگرے پھینکنے شروع کئے تو ایک طرح کی جل تھل سی ہوگئی، مجھے اب یقین ہو چلا تھا کہ میں نے تقریباً محفل لوٹ لی ہے مگر عین اسی وقت نینا نے یہ شعر بطور ترپ کا پتا ڈال دیا:

دو پستانش بہم چوں قبہ نور … حبابے خاستہ از سحر کافور

اس نے کہا چلیں آپ انہیں ادب نہیں مانتے تو جامی پر اکتفا کرلیں، شعر پورا تو سمجھ نہیں آیا مگر کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ نینا نے میرا کام اتار دیا ہے، ساتھ ہی شائستہ نے آتش کا برمحل استعمال کرکے لاجواب کر دیا۔

فریبِ حُسن سے گبرو مسلماں کا چلن بگڑا
خدا کی یاد بھولا شیخ، بُت سے برہمن بگڑا

لگے مُنہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

اگلی دعوت شائستہ کے ہاں تھی، مگر کہنے کو اب تقریباً کچھ نہیں بچا تھا، جمی نے زبان و بیان پہ کافی محنت کی تھی مگر اس معاملے میں کورا ہی تھا کہ میری کچھ مدد کرتا، پھر بھی میں نے دوسرا راؤنڈ کھیلنےکا فیصلہ کرلیا تھا۔

اب کے میں نے موضوع تکلف اور تصنع کو چنا جو لکھنوی ادب اور معاشرت کا خاصہ تھا، مگر حیرت انگیز طور پہ اس معاملے میں وہ مجھ سے متفق ہوگئیں، ان کا ماننا تھا کہ تصنع کا غلاف نہ ہو تو ان کے فن کا خریدار کوئی نہ رہے، یہ زبان و بیان اور وضعداری پر دسترس کا ہی طنطنہ تھا جو لکھنوی تہذیب میں طوائف اور رقاصہ کو بالادستی دلوا گیا ورنہ ایسی رائیگانی ہوتی کہ الامان۔

لالہ جی، میں یہ سمجھتا ہوں کہ، تہذیب انسانی رویے کو کسی نظم میں پرونے کا نام تھا مگر انسان کبھی بھی اسے متوازن نہ رکھ سکا، کہیں اس نے فطری اپنائیت سے اس قدر پسپائی اختیار کی کہ تکلفات میں کھو کر انسان سے فاصلہ پیدا کر بیٹھا، اور کہیں اس نے اتنا تجاوز کیا کہ ملمع سازی سے انسان کا استحصال کرنے پر اتر آیا۔

بے تکلفی انسان کا شخصی رعب اور اجناس کی قیمت گرا دیتی ہے لیکن تکلف اور تصنع انسان اور جنس کو دوسروں پر امتیاز دلوا دیتا ہے، ایک طرف وہ پرتکلف الفاظ و آہنگ سے ممتاز ہو جاتا ہے تو دوسری طرف تصنع کی آمیزش سے اپنی جنس کی قیمت بڑھا لیتا ہے۔

جہاں انسان دس ڈالر کی مٹی چار رنگوں سے مزین کرکے آرٹ کے نام پہ ہزار ڈالر کا مجسمہ بیچ سکتا ہے وہاں ٹیکسی ڈرائیور، گلفروش اور طوائف کے کام کی ارزانی کو سہارا دینے کیلئے تہذیب کا غلاف اوڑھانا بھی ضروری ہو جاتا ہے، تہذیبی تکلفات اور تصنع کی آمیزیش تاجر اور خدمت گزار دونوں طبقوں کی اجناس کو ایک اضافی قدر مہیا کرتے ہیں لیکن اس مصنوعی غبارے میں ہوا بھرتے بھرتے انسان بہرحال ایکدوسرے سے کوسوں دور چلے جاتے ہیں۔

ساری تہذیب پر یہی دو رنگے غلاف ہیں، ہر چیز ایک پرفریب قرینے سے ڈھک دی گئی ہے، جس سے چیزوں کی قیمت انسان سے زیادہ اور جذبات کی قیمت چیزوں سے کمتر ہو جاتی ہے، پھر توازن برقرار رکھنے کیلئے سب کو ایک جیسا رویہ ہی اختیار کرنا پڑتا ہے۔

لالہ جی، یہ تہذیب آج بھی نہیں بدلی، پہلے زبان و بیان، وضعداری اور تصنع سے اپنے دام میں لیا جاتا تھا، آج کی دنیا میں یہی کام برانڈڈ لائف اسٹائل انجام دیتا ہے، برانڈڈ وئیرز کیساتھ جب ہم کسی سے ملتے ہی‍ں، پھر گاڑی کی چابی، پھر آئیفون، پھر ڈیجیٹل نوٹ بک اس کے سامنے میز پہ رکھ کے حال احوال پوچھتے ہیں تو سامنے والے کو تخمینہ لگانے میں آسانی ہو جاتی ہے کہ ہمارا تعلق ایک ہی تہذیب سے ہے اور ہم ایک دوسرے کے کام کی چیز ہیں، اسٹیٹس کا دکھاوا لین دین میں انسان کی بارگین پوزیشن مضبوط کر دیتا ہے، رواں تہذیب نے وہ قدیم زبان و بیان کھو دیا ہے، اب یہ لائف اسٹائل کے ذریعے سے مخاطب ہوا کرے گی اور اسی لب و لہجے میں کلام کیا کرے گی۔

لکھنؤ کے ادبی ذخیرے میں امیرن بائی کے طبقے کا کوئی حصہ نہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ تہذیب کے اس رخ پر قبضہ اس نے محض اپنی ارزانی سے بچنے کیلئے کیا تھا یا پھر اس کے ہاتھ میں تہذیب دینے کا مطلب اس بازار کا مزاج تعیش پسند اشرافیہ کے حسب ذوق کرنے کے سوا کچھ نہ تھا۔

بلبل ہزار داستاں کے بالاخانوں کی تہذیب سے لیکر تہذیب نو کے متمدن کانفرنس ہالوں تک حقوق نسواں کیلئے بجنے والی تالیوں کے پیچھے اب بھی اشرافیہ کی وہی ایک سوچ کار فرما ہے جو نسائیت کو اپنے ہم مزاج رکھنا چاہتی ہے، یہ اشراف عورت کے ہاتھ میں اختیار کوئی نہیں دیتے لیکن اسے ہی سرخیل بنا کے چلتے ہیں، یہ عورت کو چارہ بنا کر اسی کا ہی شکار کرتے ہیں اور اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ وہ شکار ہے یا شکاری، وہ کسی تہذیب کی امین ہے یا اس کی خوراک ہے۔

تہذیب کی یہ پرتکلف ادائیں تصنع پسند سماج کو مثاتر ضرور کرتی ہیں مگر اس بے باکی کا بدل نہیں جو دلوں کو قریب لاتے لاتے ایکدوسرے میں مدغم کر دیتی ہے، تہذیب نینا بائی کے حسن کو کچن کی ہوا لینے اور مہمان کے سامنے جھاڑو لگانے کی اجازت نہیں دیتی، مگر یہ کیا تھا کہ وہ مجھے لیپ ٹاپ پہ جھکا دیکھ کے میرے ارد گرد کھٹاک پٹاک شروع کر دیتی تھی، کبھی جھاڑو لگانے چل پڑتی، پھر جھاڑو لہرا کر کہتی اے لڑکے سامنے سے ہٹ جاؤ ورنہ کچرے کے ساتھ ہی سمیٹ دوں گی، یہ کیا تھا جب وہ کلائی مروڑنے کا بدلہ لینے کیلئے دانتوں سے کاٹنے کو پیچھے بھاگتی تھی، تہذیب ایک بائی کے حسن کو ایسی اٹھکیلیوں کی اجازت کہاں دیتی ہے، وہ تو کہتی ہے حضور کا دل لذتِ کام ودہن پر مائل ہو تو بندی خوانِ نعمت چنوانے کی اجازت چاہتی ہے، مگر یہ کیا تھا، جب وہ کہتی کہ اے لڑکے اب تم چپ چاپ میرے ساتھ برتن اٹھوا کے دھلوا دو تو تمہارے لئے اچھا ہوگا۔

جمی کہتا ہے، میں نے پہلی بار کوئی کچن اندر سے دیکھا ہے، وہ شائستہ کو لہسن چھیل چھیل کے دیتا اور ہاتھوں میں بسی لہسن کی بو شائستہ کو زبردستی سنگھایا کرتا تھا اور وہ بدلے کی آگ میں جمی کے پاس بیٹھ کے پیاز کاٹنے لگتی تھی۔

بس اور کیا بتاؤں لالہ جی، وہ جو کبھی اپنے رنگ روپ کی بچت کیلئے بلاضرورت باہر قدم نہیں رکھتی تھیں وہ چھوٹے امام باڑے سے بڑے امام باڑے تک، نواب آصف الدولہ کے رومی دروازے سے حضرت گنج تک، نواب اودھ کے چٹھر محل سے بیگم اودھ کے حضرت محل تک، مارٹینر کالج سے امبیدکر پارک تک، لکھنؤ میوزیم، زُوو، اور برٹش ریزیڈنسی جیسے درجنوں آثار تک ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے کہاں کہاں ہمارے ساتھ نہیں گھومیں، دس دنوں میں انہوں نے ایک بھی دیوانِ عام نہیں لگایا، کیسے کیسے کھانے کھلائے اور کیا کیا خوبصورت غزلیں سنائیں، سارے رکھ رکھاؤ بالائے طاق رکھ کے ہم نے ان کے سازندوں کیساتھ بھی تاش کی درجنوں بازیاں لگائی تھیں۔

لالہ جی، بورڈنگ، لاجنگ اور شاپنگ سمیت اس ٹرپ کا کل خرچہ اکیس ہزار ڈالر کے قریب ہو گیا تھا، امیرن بائی نے ایک ہفتے کی ٹیوشن فیس کا چار ہزار ڈالر، مٹھائی و نذرانۂ عقیدت کہہ کے، ایڈوانس میں لے لیا تھا، بس وہی چار ہزار ڈالر بہت چبھ رہے ہیں باقی سب ہم نے اپنی مرضی سے اڑائے تھے اور حاصل وصول بھی کچھ نہیں ہوا۔

چھوٹے سرکار کا منطقی سوز دروں کہتا ہے کہ ہم اگر امیرن بائی کے ہاں رہ لیتے تو فقط چار ہزار ڈالر میں واپسی پر ہمارے ساتھ پرتکلف الفاظ کا ایک جم غفیر اور وضعداری کا ایک خاص انداز ہوتا لیکن سی۔آف کرنیوالا کوئی نہ ہوتا، دوسری طرف اتنے پیسے خرچ کرکے بھی ہمارے پلے وہ کچھ تو نہیں تھا البتہ ڈیپارچر کے وقت، لکھنو کی شام، کا بہت سی اداس و نم آلود آنکھوں کیساتھ ہمیں الوداع کہنا بھلائے نہیں بھولتا۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: